• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَ‌بِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرٌ‌ ﴿٧﴾
ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوبارہ زندہ نہ کیے جائیں گے۔ (۱) آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (۲) پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے (۳) اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے۔ (٤)
۷۔۱ یعنی یہ عقیدہ کہ قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے، یہ کافروں کا محض گمان ہے، جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں۔ زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔
۷۔۲ قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورۂ یونس: ۵۳ اور دوسرا مقام سورۂ سبا: ۳ ہے۔
۷۔۳ یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرے گا؟ اس لیے تاکہ وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔ کیونکہ دنیا میں ہم دیکھتے کہ یہ جزا مکمل شکل میں بالعموم نہیں ملتی۔ نیک کو نہ بد کو۔ اب اگر قیامت والے دن بھی مکمل جزا کا اہتمام نہ ہو تو دنیا ایک کھلنڈرے کا کھیل اور فعل عبث ہی قرار پائے گی، جب کہ اللہ کی ذات ایسی باتوں سے بہت بلند ہے۔ اس کا تو کوئی فعل عبث نہیں، چہ جائیکہ جن و انس کی تخلیق کو بے مقصد اور ایک کھیل سمجھ لیا جائے۔ (تَعَالَى اللهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا)
٧۔٤ یہ دوبارہ زندگی، انسانوں کو کتنی ہی مشکل یا مستبعد نظر آتی ہو، لیکن اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَالنُّورِ‌ الَّذِي أَنزَلْنَا ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‌ ﴿٨﴾
سو تم اللہ پر اور اس کے رسول پر (١) اور اس نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ (۲) اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے۔
٨۔١ فَآمِنُوا میں فافصیحہ ہے جو شرط مقدر پر دلالت کرتی ہے۔ أَيْ: إِذَا كَانَ الأَمْرُ هَكَذَا فَصَدِّقُوا بِاللهِ یعنی جب معاملہ اس طرح ہے جو بیان ہوا، تو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی تصدیق کرو۔
٨۔۲ آپ ﷺ کے ساتھ نازل ہونے والا یہ نور قرآن مجید ہے جس سے گمراہی کی تاریکیاں چھٹتی ہیں اور ایمان کی روشنی پھیلتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ‌ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٩﴾
جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن (۱) جمع کرے گا وہی دن ہے ہار جیت کا (۲) اور جو شخص اللہ پر ایمان لا کر نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
۹۔۱ قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول و آخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے۔ فرشتہ پکارے گا تو سب اس کی آواز سنیں گے، ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچ جائے گی، کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ﴾ (هود: ۱۰۳) ”وہ دن جس میں سب لوگ جمع کیے جائیں گے اور وہ، وہ دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے“۔ ﴿قُلْ إِنَّ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ﴾ (الواقعہ: ۴۹-۵۰)
٩۔۲ یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطل پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہو گی کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے اور وہاں ان گھروں کے بھی وہ مالک بن جائیں گے جو جہنمیوں کے لیے تھے۔ اگر وہ جہنم میں جانے والے کام نہ کرتے۔ اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے میں آئے گی جو جہنم میں داخل ہوں گے، جنہوں نے خیر کو شر سے، عمدہ چیز کو ردی سے اور نعمتوں کو عذاب سے بدل لیا۔ غبن کے معنی نقصان اور خسارے کے بھی ہیں، یعنی نقصان کا دن۔ اس دن کافروں کو تو خسارے کا احساس ہو گا ہی۔ اہل ایمان کو بھی اس اعتبار سے خسارے کا احساس ہو گا کہ انہوں نے اور زیادہ نیکیاں کر کے مزید درجات کیوں نہ حاصل کیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ‌ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ‌ ﴿١٠﴾
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری ّآیتوں کو جھٹلایا وہی (سب) جہنمی ہیں (جو) جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿١١﴾
کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی، (١) جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے (۲) اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
١١۔١ یعنی اس کی تقدیر اور مشیت سے ہی اس کا ظہور ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کے نزول کا سبب کفار کا یہ قول ہے۔ کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو دنیا کی مصیبتیں انہیں نہ پہنچتیں۔ (فتح القدیر)
۱۱۔۲ یعنی وہ جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ پہنچا ہے۔ اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہی پہنچا ہے، پس وہ صبر اور رضا بالقضا کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ابن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں، اس کے دل میں یقین راسخ کر دیتا ہے جس سے وہ جان لیتا ہے کہ اس کو پہنچنے والی چیز اس سے چوک نہیں سکتی اور جو اس سے چوک جانے والی ہے، وہ اسے پہنچ نہیں سکتی۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَ‌سُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٢﴾
(لوگو) اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمے صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ (١)
١٢۔١ یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١٣﴾
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل رکھنا چاہیے۔ (۱)
۱۳۔۱ یعنی تمام معاملات اسی کو سونپیں، اسی پر اعتماد کریں اور صرف اسی سے دعا و التجا کریں، کیونکہ اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے ہی نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُ‌وهُمْ ۚ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُ‌وا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٤﴾
اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں (١) پس ان سے ہوشیار رہنا (٢) اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ (٣)
١٤۔١ یعنی جو تمہیں عمل صالح اور اطاعت الٰہی سے روکیں، سمجھ لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں، دشمن ہیں۔
١٤۔٢ یعنی ان کے پیچھے لگنے سے بچو۔ بلکہ انہیں اپنے پیچھے لگاؤ تاکہ وہ بھی اطاعت الٰہی اختیار کریں، نہ کہ تم ان کے پیچھے لگ کر اپنی عاقبت خراب کر لو۔
١٤۔٣ اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مکے میں مسلمان ہونے والے بعض مسلمانوں نے مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ اس وقت ہجرت کا حکم نہایت تاکید کے ساتھ دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے بیوی بچے آڑے آگئے اور انہوں نے انہیں ہجرت نہیں کرنے دی۔ پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گئے تو دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں نے دین میں بہت زیادہ سمجھ حاصل کر لی ہے تو انہیں اپنے بیوی بچوں پر غصہ آیا، جنہوں نے انہیں ہجرت سے روکے رکھا تھا، چنانچہ انہوں نے ان کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ اللہ نے اس میں انہیں معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی تلقین فرمائی۔ (سنن الترمذی، تفسير سورة التغابن)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّـهُ عِندَهُ أَجْرٌ‌ عَظِيمٌ ﴿١٥﴾
تمہارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں۔ (۱) اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے۔ (۲)
۱۵۔۱ جو تمہیں کسب حرام پر اکساتے اور اللہ کے حقوق ادا کرنے سے روکتے ہیں، پس اس آزمائش میں تم اسی وقت سرخ رو ہو سکتے ہو، جب تم اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرو۔ مطلب یہ ہوا کہ مال و اولاد جہاں اللہ کی نعمت ہیں، وہاں یہ انسان کی آزمائش کا ذریعہ بھی ہیں۔ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا اطاعت گزار کون ہے اور نافرمان کون؟
١٥۔۲ یعنی اس شخص کے لیے جو مال واولاد کی محبت کے مقابلے میں اللہ کی اطاعت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی معصیت سے اجتناب کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرً‌ا لِّأَنفُسِكُمْ ۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٦﴾
پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ (١) اور اللہ کی راہ میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے ليے بہتر ہے (۲) اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے۔
١٦۔١ یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی باتوں کو توجہ اور غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اس لیے کہ صرف سن لینا بے فائدہ ہے، جب تک عمل نہ ہو۔
١٦۔۲ خَيْرًا أَيْ: إِنْفَاقًا خَيْرًا، (يَكُن الإِنْفَاقُ خَيْرًا) انفاق عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں کو شامل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن تُقْرِ‌ضُوا اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ شَكُورٌ‌ حَلِيمٌ ﴿١٧﴾
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو گے) (١) تو وہ اسے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ (٢) اللہ بڑا قدردان اور بڑا برد بار ہے۔ (٣)
١٧۔١ یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔
١٧۔٢ یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔
١٧۔٣ وہ اپنے اطاعت گزاروں کو أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً اجر و ثواب سے نوازتا ہے اور معصیت کاروں کا فوری مواخذہ نہیں فرماتا۔
 
Top