• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ ﴿٣﴾
کہ تم اللہ کی عبادت کرو (١) اور اسی سے ڈرو (٢) اور میرا کہنا مانو۔ (٣)
٢۔١ اور شرک چھوڑ دو، صرف اسی ایک کی عبادت کرو۔
٢۔٢ اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا سکتے ہو۔
٢۔٣ یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں، اس میں میری اطاعت کرو، اس لیے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْ‌كُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ‌ ۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٤﴾
تو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ وقت مقرہ تک چھوڑ دے گا۔ (۱) یقیناً اللہ کا وعدہ جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا (٢) کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی۔ (٣)
٤۔۱ اس کے معنی یہ کیے گیے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے، اس کو مؤخر کرکے تمہیں مزید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کر دے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ چنانچہ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اطاعت، نیکی اور صلۂ رحمی سے عمر میں حقیقتاً اضافہ ہوتا ہے۔ حدیث میں بھی ہے: صِلَةُ الرَّحِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ (صلۂ رحمی، اضافہ عمر کا باعث ہے) (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں، تاخیر کا مطلب برکت ہے، ایمان سے عمر میں برکت ہو گی۔ ایمان نہیں لاؤ گے تو اس برکت سے محروم رہو گے۔
٤۔٢ بلکہ لا محالہ واقع ہو کر رہنا ہے، اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان و اطاعت کا راستہ فورا اپنا لو، تاخیر میں خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آجاؤ۔
٤۔٣ یعنی اگر تمہیں علم ہوتا تو تم اسے اپنانے میں جلدی کرتے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں یا اگر تم یہ بات جانتے ہوتے کہ اللہ کا عذاب جب آجاتا ہے تو ٹلتا نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ رَ‌بِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارً‌ا ﴿٥﴾
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے۔ (١)
٥۔١ یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَ‌ارً‌ا ﴿٦﴾
مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ (١)
٦۔١ یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہو گئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ‌ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّ‌وا وَاسْتَكْبَرُ‌وا اسْتِكْبَارً‌ا ﴿٧﴾
میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا (١) انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں (٢) اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا (٣) اور اڑ گئے (٤) اور پھر بڑا تکبر کیا۔ (٥)
٧۔١ یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔
٧۔٢ تاکہ میری آواز سن سکیں۔
٧۔٣ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال لیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں۔ یہ ان کی طرف سے شدت عداوت کا اور وعظ و نصیحت سے بے نیازی کا اظہار ہے۔ بعض کہتے ہیں، اپنے کو کپڑوں سے ڈھانک لینے کا مقصد یہ تھا کہ پیغمبر ان کو پہچان نہ سکے اور انہیں قبولیت دعوت کے لیے مجبور نہ کرے۔
٧۔٤ یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔
٧۔٥ قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارً‌ا ﴿٨﴾
پھر میں نے انہیں بآواز بلند بلایا۔

ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَ‌رْ‌تُ لَهُمْ إِسْرَ‌ارً‌ا ﴿٩﴾
اور بیشک میں نے ان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی۔ (١)
٩۔١ یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں بھی انہیں دعوت دی اور گھروں میں فرداً فرداً بھی تیرا پیغام پہنچایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُ‌وا رَ‌بَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارً‌ا ﴿١٠﴾
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (١) (اور معافی مانگو) وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ (٢)
١٠۔١ یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنا لو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔
١٠۔٢ وہ توبہ کرنے والوں کے لیے بڑا رحیم و غفار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُرْ‌سِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَ‌ارً‌ا ﴿١١﴾
وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا۔ (١)
١١۔١ بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورہ نوح علیہ السلام کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لیے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں، جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر) حضرت حسن بصری کے متعلق مروی ہے کہ ان سے آکر کسی نے قحط سالی کی شکایت کی تو انہوں نے اسے استغفار کی تلقین کی، کسی دوسرے شخص نے فقر و فاقہ کی شکایت کی، اسے بھی انہوں نے یہی نسخہ بتلایا۔ ایک اور شخص نے اپنے باغ کے خشک ہونے کا شکوہ کیا، اسے بھی فرمایا، استغفار کر۔ ایک شخص نے کہا، میرے گھر اولاد نہیں ہوتی، اسے بھی کہا اپنے رب سے استغفار کر۔ کسی نے جب ان سے کہا کہ آپ نے استغفار ہی کی تلقین کیوں کی؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت کر کے فرمایا، کہ میں نے اپنے پاس سے یہ بات نہیں کی، یہ وہ نسخہ ہے جو ان سب باتوں کے لیے اللہ نے بتلایا ہے۔ (السیر التفاسیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارً‌ا ﴿١٢﴾
اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا۔ (۱)
۱۲۔۱ یعنی ایمان و طاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ہی نہیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال و دولت اور بیٹوں کی کثرت سے بھی نوازے جاؤ گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّا لَكُمْ لَا تَرْ‌جُونَ لِلَّـهِ وَقَارً‌ا ﴿١٣﴾
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ (۱)
۱۳۔۱ وقار، توقیر سے ہے بمعنی عظمت اور رجا، خوف کے معنی میں ہے، یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے، تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔
 
Top