• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّنُخْرِ‌جَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا ﴿١٥﴾
تاکہ اس سے اناج اور سبزہ اگائیں۔

وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ﴿١٦﴾
اور گھنے باغ (بھی اگائیں) (١)
١٦۔١ أَلْفَافًا شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا ﴿١٧﴾
بیشک فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے۔
١٧-۱ یعنی اولین اور آخرین سب کے جمع ہونے اور وعدے کا دن۔ اسے فیصلے کا دن اس لیے کہا کہ اس دن جمع ہونے کا مقصد ہی تمام انسانوں کا ان کے اعمال کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔

يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ‌ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا ﴿١٨﴾
جس دن کہ صور پھونکا جائے گا۔ پھر تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔ (١)
١٨۔١ بعض نے اس کا مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہر امت اپنے رسول کے ساتھ میدان محشر میں آئے گی۔ یہ دوسرا نفخہ ہو گا، جس میں سب لوگ قبروں سے زندہ اٹھ کر نکل آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا، جس سے انسان کھیتی کی طرح اگ آئے گا۔ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کے۔ اسی سے قیامت والے دن تمام مخلوقات کی دوبارہ ترکیب ہو گی۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۂ عم)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا ﴿١٩﴾
اور آسمان کھول دیا جائے گا پھر اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے۔ (١)
١٩۔١ یعنی فرشتوں کے نزول کے لیے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَسُيِّرَ‌تِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَ‌ابًا ﴿٢٠﴾
اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وہ سراب ہو جائیں گے۔ (١)
٢٠۔١ سَرَابٌ، وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو۔ پہاڑ بھی سراب کی طرح صرف دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔ اور اس کے بعد بالکل ہی معدوم ہو جائیں گے، ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ قرآن میں پہاڑوں کی مختلف حالتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا ﴿فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً﴾» (الحاقہ: ۱۴) ۲- وہ دھنی ہوئی روئی کی طرح ہو جائیں گے۔ ﴿كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ﴾ (القارعہ: ۵) ۳- وہ گرد و غبار ہو جائیں گے۔ ﴿فَكَانَتْ هَبَاءً مُنْبَثًّا﴾(الواقعہ: ۶)۔ ۴- ان کو اڑا دیا جائے گا ﴿يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا﴾ (طہ: ۱۰۵) اور پانچویں حالت یہ ہے کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔ یعنی لا شَيْءَ جیسا کہ اس مقام پر ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْ‌صَادًا ﴿٢١﴾
بیشک دوزخ گھات میں ہے۔ (١)
٢١۔١ گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً اس پر حملہ کر دیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لیے گھات لگائے بیٹھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّلطَّاغِينَ مَآبًا ﴿٢٢﴾
سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے۔

لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا ﴿٢٣﴾
اس میں وہ مدتوں تک پڑے رہیں گے۔
٢٣-۱ أَحْقَابٌ ، حُقُبٌ کی جمع ہے، بمعنی زمانہ۔ مراد ابد اور ہمیشگی ہے۔ ابد الاباد تک وہ جہنم میں ہی رہیں گے۔ یہ سزا کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔

لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْ‌دًا وَلَا شَرَ‌ابًا ﴿٢٤﴾
نہ کبھی اس میں خنکی کا مزہ چکھیں گے، نہ پانی کا۔

إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا ﴿٢٥﴾
سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیپ کے۔ (١)
٢٥-۱ جو جہنمیوں کے جسموں سے نکلے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جَزَاءً وِفَاقًا ﴿٢٦﴾
(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا۔ (١)
٢٦۔١ یعنی یہ سزا ان کے اعمال کے مطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْ‌جُونَ حِسَابًا ﴿٢٧﴾
انہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی۔
٢٧-۱ یہ پہلے جملے کی تعلیل ہے۔ یعنی وہ مذکورہ سزا کے اس لیے مستحق قرار پائے کہ عقیدۂ بعث بعد الموت کے وہ قائل ہی نہیں تھے کہ حساب کتاب کی وہ امید رکھتے۔

وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا ﴿٢٨﴾
اور بے باکی سے ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے۔

وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا ﴿٢٩﴾
ہم نے ہر ایک چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے۔ (١)
٢٩۔١ یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ﴾ (يس: ۱۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ﴿٣٠﴾
اب تم (اپنے کیے کا) مزہ چکھو ہم تمہارا عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے۔
٣٠-۱ عذاب بڑھانے کا مطلب ہے کہ اب یہ عذاب دائمی ہے۔ جب ان کے چمڑے گل جائیں گے تو دوسرے بدل دیئے جائیں گے۔ (النساء:56) جب آگ بجھنے لگے گی، تو پھر بھڑکا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل: ۹۷)

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ﴿٣١﴾
یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لیے کامیابی ہے۔
٣١-۱ اہل شقاوت کے تذکرے کے بعد، یہ اہل سعادت کا تذکرہ اور ان نعمتوں کا بیان ہے جن سے حیات اخروی میں وہ بہرہ ور ہوں گے۔ یہ کامیابی اور نعمتیں انہیں تقویٰ کی بدولت حاصل ہوں گی۔ تقویٰ، ایمان و اطاعت کے تقاضوں کی تکمیل کا نام ہے، خوش قسمت ہیں وہ لوگ، جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ اور عمل صالح کا اہتمام کرتے ہیں۔ جَعَلَنَا اللهُ مِنْهُمْ۔

حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ﴿٣٢﴾
باغات ہیں اور انگور ہیں۔
٣٢-۱ یہ مفازاً سے بدل ہے۔

وَكَوَاعِبَ أَتْرَ‌ابًا ﴿٣٣﴾
اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں۔ (١)
٣٣۔١ كَوَاعِبَ كَاعِبةٌ کی جمع ہے، یہ كَعْبٌ (ٹخنہ) سے ہے، جس طرح ٹخنہ ابھرا ہوا ہوتا ہے، ان کی چھاتیوں میں بھی ایسا ہی ابھار ہو گا، جو ان کے حسن و جمال کا ایک مظہر ہے۔ أَتْرَابٌ ہم عمر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَأْسًا دِهَاقًا ﴿٣٤﴾
اور چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں۔
٣٤-۱ دِهَاقًا، بھرے ہوئے، یا لگاتار، ایک کے بعد ایک۔ یا صاف شفاف۔ كَأْسٌ، ایسے جام کو کہتے ہیں جو لبالب بھرا ہوا ہو۔

لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ﴿٣٥﴾
وہاں نہ تو وہ بیہودہ باتیں سنیں گے اور نہ ہی جھوٹیں باتیں سنیں گے۔ (١)
٣٥۔١ یعنی کوئی بے فائدہ اور بے ہودہ بات وہاں نہیں ہو گی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔
 
Top