• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تَرْ‌جُفُ الرَّ‌اجِفَةُ ﴿٦﴾
جس دن کاپنے والی کانپے گی۔ (١)
٦۔١ یہ نفخۂ اولیٰ ہے جسے نفخۂ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَتْبَعُهَا الرَّ‌ادِفَةُ ﴿٧﴾
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی۔ (١)
٧۔١ یہ دوسرا نفخہ ہو گا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہو گا۔ اسے رَادِفَةٌ اس لیے کہا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہو گا۔ یعنی نفخۂ ثانیہ، نفخۂ اولیٰ کا ردیف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ ﴿٨﴾
(بہت سے) دل اس دن دھڑ کتے ہوں گے۔ (١)
٨۔١ قیامت کے اہوال اور شدائد سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَبْصَارُ‌هَا خَاشِعَةٌ ﴿٩﴾
جس کی نگاہیں نیچی ہوں گی۔ (١)
٩۔١ یعنی أَبْصَارُ أَصْحَابِهَا، ایسے دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی (مجرموں کی طرح) جھکی ہوئی ہوں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْ‌دُودُونَ فِي الْحَافِرَ‌ةِ ﴿١٠﴾
کہتے ہیں کہ کیا پہلی کی سی حالت کی طرف لوٹائے جائیں گے؟ (١)
١٠۔١ حَافِرَةٌ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ یہ منکرین قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گے جس طرح مرنے سے پیشتر تھے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَ‌ةً ﴿١١﴾
کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے؟ (١)
١١۔١ یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کر دیئے جائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّ‌ةٌ خَاسِرَ‌ةٌ ﴿١٢﴾
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان دہ ہے۔ (١)
١٢۔١ یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں، پھر تو دوبارہ زندگی ہمارے لیے سخت نقصان دہ ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَ‌ةٌ وَاحِدَةٌ ﴿١٣﴾
(معلوم ہونا چاہیے) وہ تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے۔

فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَ‌ةِ ﴿١٤﴾
کہ (جس کے ظاہر ہوتے ہی) وہ ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے۔ (١)
١٤۔١ سَاهِرَةٌ سے مراد زمین کی سطح یعنی میدان ہے۔ سطح زمین کو سَاهِرَةٌ اس لیے کہا گیا ہے کہ تمام جانداروں کا سونا اور بیدار ہونا، اسی زمین پر ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ چٹیل میدانوں اور صحراوں میں خوف کی وجہ سے انسان کی نیند اڑ جاتی ہے اور وہاں بیدار رہتا ہے، اس لیے سَاهِرَةٌ کہا جاتا ہے۔ (فتح القدیر) بہرحال یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ﴿١٥﴾
کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟

إِذْ نَادَاهُ رَ‌بُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٦﴾
جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا۔ (١)
١٦۔١ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ عليہ السلام مدین سے واپسی پر آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ عليہ السلام سے کلام فرمایا، جیسا کہ اس کی تفصیل سورۂ طہ کے آغاز میں گزری، طُوَى اسی جگہ کا نام ہے، ہم کلامی کا مطلب نبوت و رسالت سے نوازنا ہے۔ یعنی موسیٰ عليہ السلام آگ لینے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں رسالت عطا فرما دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ﴿١٧﴾
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے۔ (١)
١٧۔١ یعنی کفر و معصیت اور تکبر میں حد سے تجاوز کر گیا ہے۔
 
Top