• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے۔ (١)
١٨۔١ یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسند کرتا ہے جس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہوجا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ فَتَخْشَىٰ ﴿١٩﴾
اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راہ دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے۔ (١)
١٩۔١ یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لیے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَرَ‌اهُ الْآيَةَ الْكُبْرَ‌ىٰ ﴿٢٠﴾
پس اسے بڑی نشانی دکھائی۔ (١)
٢٠۔١ یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کیے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ﴿٢١﴾
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔

ثُمَّ أَدْبَرَ‌ يَسْعَىٰ ﴿٢٢﴾
پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے۔ (١)
٢٢۔١ یعنی اس نے ایمان و اطاعت سے اعراض ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلائے اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چنانچہ جادوگروں کو جمع کر کے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کرایا، تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَحَشَرَ‌ فَنَادَىٰ ﴿٢٣﴾
پھر سب کو جمع کر کے پکارا۔ (١)
٢٣-۱ اپنی قوم کو، یا قتال و محاربہ کے لیے اپنے لشکروں کو، یا جادوگروں کو مقابلے کے لیے جمع کیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ربوبیت اعلیٰ کا علان کیا۔

فَقَالَ أَنَا رَ‌بُّكُمُ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٤﴾
تم سب کا رب میں ہی ہوں۔

فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ ﴿٢٥﴾
تو (سب سے بلند و بالا) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کر لیا۔ (١)
٢٥۔١ یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے متمردین کے لیے نشان عبرت بنا دیا اور قیامت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَ‌ةً لِّمَن يَخْشَىٰ ﴿٢٦﴾
بیشک اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔ (١)
٢٦۔١ اس میں نبی ﷺ کے لیے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا ﴿٢٧﴾
کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا؟ (١) اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا۔
٢٧۔١ یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود زجر و توبیخ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لیے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔ کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آسمان کے بنانے سے زیادہ مشکل ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رَ‌فَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا ﴿٢٨﴾
اسکی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ (١)
٢٨۔١ بعض نے سَمْكٌ کے معنی چھت بھی کیے ہیں، ٹھیک ٹھاک کرنے کا مطلب، اسے ایسی شکل و صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَ‌جَ ضُحَاهَا ﴿٢٩﴾
اسکی رات کو تاریک بنایا اور اسکے دن کو نکالا۔
٢٩-۱ أَغْطَشَ أَظْلَمَ أَخْرَجَ کا مطلب أَبْرَز اور نَهَارَهَا کی جگہ ضُحَاهَا، اس لیے کہا کہ چاشت کا وقت سب سے اچھا اور عمدہ ہے۔ مطلب ہے کہ دن کو سورج کے ذریعے سے روشن بنایا۔

وَالْأَرْ‌ضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا ﴿٣٠﴾
اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا۔
٣٠-۱ یہ حم السجدۃ:۹ میں گزر چکا ہے کہ خَلَقَ ( پیدائش) اور چیز ہے اور دَحَى (ہموار کرنا) اور چیز ہے۔ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلی ہوئی لیکن اس کو ہموار آسمان کی پیدائش کے بعد کیا گیا ہے اور یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے۔ اور ہموار کرنے یا پھیلانے کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کے قابل بنانے کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ نے ان کا اہتمام فرمایا، مثلاً زمین سے پانی نکالا، اس میں چارہ اور خوراک پیدا کی، پہاڑوں کو میخوں کی طرح مضبوط گاڑ دیا تاکہ زمین نہ ہلے۔ جیسا کہ یہاں بھی آگے یہی بیان ہے۔

أَخْرَ‌جَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْ‌عَاهَا ﴿٣١﴾
اس میں سے پانی اور چارہ نکالا۔

وَالْجِبَالَ أَرْ‌سَاهَا ﴿٣٢﴾
اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑھ دیا۔

مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ﴿٣٣﴾
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہیں۔

فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَ‌ىٰ ﴿٣٤﴾
پس جب وہ بڑی آفت (قیامت) آ جائے گی۔

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ‌ الْإِنسَانُ مَا سَعَىٰ ﴿٣٥﴾
جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا۔

وَبُرِّ‌زَتِ الْجَحِيمُ لِمَن يَرَ‌ىٰ ﴿٣٦﴾
اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی۔
٣٦-۱ یعنی کافروں کے سامنے کر دی جائے گی تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اب ان کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں ہی اسے دیکھیں گے، مومن اسے دیکھ کر اللہ کا شکر کریں گے کہ اس نے ایمان اور اعمال صالحہ کی بدولت انہیں اس سے بچا لیا، اور کافر، جو پہلے ہی خوف و دہشت میں مبتلا ہوں گے، اسے دیکھ کر انکے غم و حسرت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ﴿٣٧﴾
تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہو گی)۔ (١)
٣٧۔١ یعنی کفر و معصیت میں حد سے تجاوز کیا ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآثَرَ‌ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿٣٨﴾
اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی (ہو گی)۔

فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ﴿٣٩﴾
(اس کا) ٹھکانا جہنم ہی ہے۔
٣٩-۱ اس کےعلاوہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہو گا۔ جہاں وہ اس سے بچ کر پناہ لے لے۔

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَ‌بِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٤٠﴾
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے (١) سے ڈرتا رہا ہو گا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہو گا۔ (۲)
٤٠۔١ کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا، اس لیے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔
٤٠۔۲ یعنی نفس کو ان معاصی اور محارم کے ارتکاب سے روکتا رہا ہو جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا تھا۔
 
Top