- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلَّا سَلَامًا ۖ وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا ﴿٦٢﴾
وہ لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں (١) گے، ان کے لیے وہاں صبح شام ان کا رزق ہو گا۔ (٢)
٦٢۔١ یعنی فرشتے بھی انہیں ہر طرف سے سلام کریں گے اور اہل جنت بھی آپس میں ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کیا کریں گے۔
٦٢۔٢ امام احمد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ جنت میں رات اور دن نہیں ہوں گے، صرف اجالا ہی اجالا اور روشنی ہی روشنی ہو گی۔ حدیث میں ہے۔ جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی، وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ رینٹ اور نہ بول و براز۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا بخور، خوشبودار (لکڑی) ہو گی۔ ان کا پسینہ کستوری (کی طرح) ہو گا۔ ہر جنتی کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی پنڈلیوں کا گودا ان کے گوشت کے پیچھے نظر آئے گا، ان کے حسن و جمال کی وجہ سے۔ ان میں باہم بغض اور اختلاف نہیں ہو گا، ان کے دل، ایک دل کی طرح ہوں گے، صبح شام اللہ کی تسبیح کریں گے (صحيح بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء في صفة الجنة وإنها مخلوقة ومسلم، كتاب الجنة، باب في صفات الجنة وأهلها)
وہ لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں (١) گے، ان کے لیے وہاں صبح شام ان کا رزق ہو گا۔ (٢)
٦٢۔١ یعنی فرشتے بھی انہیں ہر طرف سے سلام کریں گے اور اہل جنت بھی آپس میں ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کیا کریں گے۔
٦٢۔٢ امام احمد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ جنت میں رات اور دن نہیں ہوں گے، صرف اجالا ہی اجالا اور روشنی ہی روشنی ہو گی۔ حدیث میں ہے۔ جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی، وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ رینٹ اور نہ بول و براز۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کا بخور، خوشبودار (لکڑی) ہو گی۔ ان کا پسینہ کستوری (کی طرح) ہو گا۔ ہر جنتی کی دو بیویاں ہوں گی، ان کی پنڈلیوں کا گودا ان کے گوشت کے پیچھے نظر آئے گا، ان کے حسن و جمال کی وجہ سے۔ ان میں باہم بغض اور اختلاف نہیں ہو گا، ان کے دل، ایک دل کی طرح ہوں گے، صبح شام اللہ کی تسبیح کریں گے (صحيح بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء في صفة الجنة وإنها مخلوقة ومسلم، كتاب الجنة، باب في صفات الجنة وأهلها)