• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُل لِّمَنِ الْأَرْ‌ضُ وَمَن فِيهَا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٨٤﴾
پوچھئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟

سَيَقُولُونَ لِلَّـهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٨٥﴾
فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔

قُلْ مَن رَّ‌بُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَ‌بُّ الْعَرْ‌شِ الْعَظِيمِ ﴿٨٦﴾
دریافت کیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟

سَيَقُولُونَ لِلَّـهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿٨٧﴾
وہ لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟ (١)
٨٧۔١ یعنی جب تمہیں تسلیم ہے کہ زمین کا اور اس میں موجود تمام اشیا کا خالق بھی ایک اللہ ہی ہے آسمان اور عرش عظیم کا مالک بھی وہی ہے، تو پھر تمہیں یہ تسلیم کرنے میں تامل کیوں ہے کہ عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک اللہ ہے، پھر تم اس کی وحدانیت کو تسلیم کر کے اس کے عذاب سے بچنے کا اہتمام کیوں نہیں کرتے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ مَن بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ‌ وَلَا يُجَارُ‌ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٨٨﴾
پوچھئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتا ہے (١) اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا، (٢) اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟
٨٨۔١ یعنی جس کی وہ حفاظت کرنا چاہے اور اسے اپنی پناہ میں لے لے، کیا اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے؟
٨٨۔٢ یعنی جس کو وہ نقصان پہنچانا چاہے، کیا کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی ہے کہ وہ اسے نقصان سے بچا لے اور اللہ کے مقابلے میں اپنی پناہ میں لے لے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَيَقُولُونَ لِلَّـهِ ۚ قُلْ فَأَنَّىٰ تُسْحَرُ‌ونَ ﴿٨٩﴾
یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے پھر تم کدھر جادو کر دیئے جاتے ہو؟ (١)
٩٨۔١ یعنی پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اس اعتراف اور علم کے باوجود تم دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو؟ قرآن کریم کی اس صراحت سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اس کی خالقیت و مالکیت اور رزاقیت کے منکر نہیں تھے بلکہ وہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے، انہیں صرف توحید الوہیت سے انکار تھا۔ یعنی عبادت صرف ایک اللہ کی نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اس لئے نہیں کہ آسمان و زمین کی تخلیق یا اس کی تدبیر میں کوئی اور بھی شریک ہے بلکہ صرف اور صرف اس مغالطے کی بنا پر کہ یہ بھی اللہ کے نیک بندے تھے، ان کو بھی اللہ نے اختیارات دے رکھے ہیں اور ہم ان کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ یہی مغالطہ آج کل کے مردہ پرست اہل بدعت کو ہے جس کی بنیاد پر وہ فوت شدگان کو مدد کے لئے پکارتے، ان کے نام کی نذر نیاز دیتے اور ان کو اللہ کی عبادت میں شریک گردانتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ میں نے کسی فوت شدہ بزرگ، ولی یا نبی کو اختیارات دے رکھے ہیں، تم ان کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرو، یا انہیں مدد کے لئے پکارو، یا ان کے نام کی نذر نیاز دو۔ اسی لئے اللہ نے آگے فرمایا کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا۔ یعنی یہ اچھی طرح واضح کر دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ اگر اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کر رہے ہیں، تو اس لئے نہیں کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے، نہیں، بلکہ محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اور آبا پرستی کی وجہ سے اس شرک کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ورنہ حقیقت میں یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ اس کا کوئی شریک اگر ایسا ہوتا، تو ہر شریک اپنے حصے کی مخلوق کا انتظام اپنی مرضی سے کرتا اور ہر ایک شریک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ اور جب ایسا نہیں ہے اور نظام کائنات میں ایسی کشاکشی نہیں ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے، جو مشرکین اس کی بابت باور کراتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ أَتَيْنَاهُم بِالْحَقِّ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿٩٠﴾
حق یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا ہے اور یہ بیشک جھوٹے ہیں۔

مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿٩١﴾
نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔ جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بے نیاز) ہے۔

عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ ﴿٩٢﴾
وہ غائب حاضر کا جاننے والا ہے اور جو شرک یہ کرتے ہیں اس سے بالا تر ہے۔

قُل رَّ‌بِّ إِمَّا تُرِ‌يَنِّي مَا يُوعَدُونَ ﴿٩٣﴾
آپ دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! اگر تو مجھے وہ دکھائے جس کا وعدہ انہیں دیا جا رہا ہے۔

رَ‌بِّ فَلَا تَجْعَلْنِي فِي الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿٩٤﴾
تو اے رب! تو مجھے ان ظالموں کے گروہ میں نہ کرنا۔ (١)
٩٤۔١ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ دعا فرماتے تھے "وإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي إِلَيكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ" (ترمذی تفسیر سورۃ ص و مسند احمد، جل۵ ص۲۴۳) ”اے اللہ جب تو کسی قوم پر آزمائش یا عذاب بھیجنے کا فیصلہ کرے تو اس سے پہلے پہلے مجھے دنیا سے اٹھا لے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّا عَلَىٰ أَن نُّرِ‌يَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقَادِرُ‌ونَ ﴿٩٥﴾
ہم جو کچھ وعدے انہیں دے رہے ہیں سب آپ کو دکھا دینے پر یقیناً قادر ہیں۔

ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ ﴿٩٦﴾
برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی والا ہو، (١) جو کچھ بیان کرتے ہیں ہم بخوبی واقف ہیں۔
٩٦۔١ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا "برائی ایسے طریقے سے دور کرو جو اچھا ہو، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا دشمن بھی، تمہارا گہرا دوست بن جائے گا"۔ حٰم السجدہ (٢٤۔٣٥)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقُل رَّ‌بِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ ﴿٩٧﴾
اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (١)
٩٧۔١ چنانچہ نبی ﷺ شیطان سے اس طرح پناہ مانگتے "أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنَ هَمْزِهِ وِنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ" (أبو داود، كتاب الصلاة، باب ما يستفتح الصلاة من الدعاء، ترمذی ، باب ما يقول عند افتتاح الصلاة)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَعُوذُ بِكَ رَ‌بِّ أَن يَحْضُرُ‌ونِ ﴿٩٨﴾
اور اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس آ جائیں۔ (١)
٩٨۔١ اسی لیے نبی ﷺ نے تاکید فرمائی کہ ہر اہم کام کی ابتدا اللہ کے نام سے کرو یعنی بسم اللہ پڑھ کر۔ کیوں کہ اللہ کی یاد، شیطان کو دور کرنے والی چیز ہے۔ اسی لئے آپ یہ دعا بھی مانگتے تھے "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ وَمِنَ الْغَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَن يَّتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ" (أبو داود، كتاب الوتر، باب في الاستعاذة) رات کو گھبراہٹ میں آپ یہ دعا بھی پڑھتے تھے "باسْمِ اللهِ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَةِ مِنْ غَضَبِه، وَعِقَابِه، وَمِنْ شَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ" (مسند أحمد ۲/۱۸۱ أبو داود كتاب الطب، باب كيف الرقى - ترمذی، أبواب الدعوات)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَ‌بِّ ارْ‌جِعُونِ ﴿٩٩﴾
یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے۔

لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَ‌كْتُ ۚ كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَ‌ائِهِم بَرْ‌زَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿١٠٠﴾
کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں، (١) ہرگز ایسا نہیں ہو گا، (٢) یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے، (٣) ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک۔ (٤)
١٠٠۔١ یہ آرزو، ہر کافر موت کے وقت، دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت، بارگاہ الٰہی میں قیام کے وقت اور جہنم میں دھکیل دیئے جانے کے وقت کرتا ہے اور کرے گا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ قرآن کریم میں اس مضمون کو متعدد، جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ منافقون: ۱۰-۱۱، ابراھیم: ۴۴، اعراف: ۵۳، السجدة: ۱۲، الانعام: ۲۷-۲۸، الشوریٰ: ۲۴، المؤمن: ۱۱-۱۲، فاطر: ۳۷ وغیرها من الآیات۔
١٠٠۔٢ کَلَّا، ڈانٹ ڈپٹ کے لئے ہے یعنی ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے۔
١٠٠۔٣ اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ایسی بات ہے کہ جو ہر کافر نزع (جان کنی) کے وقت کہتا ہے۔ دوسرے معنی ہیں کہ یہ صرف بات ہی بات ہے عمل نہیں، اگر انہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو ان کا یہ قول، قول ہی رہے گا عمل اصلاح کی توفیق انہیں پھر نصیب نہیں ہو گی۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ﴾ (الأنعام: ۲۸) ”اگر انہیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تو یہ پھر وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا“۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کافر کی اس آرزو میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے، دنیا میں اپنے خاندان اور قبیلے کے پاس جانے کی آرزو نہیں کرے گا، بلکہ عمل صالح کے لئے دنیا میں آنے کی آرزو کرے گا۔ اس لئے زندگی کے لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمل صلاح کر لئے جائیں تاکہ کل قیامت کو یہ آرزو کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے (ابن کثیر)
١٠٠۔٤ دو چیزوں کے درمیان حجاب اور آڑ کو برزخ کہا جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان جو وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ مرنے کے بعد انسان کا تعلق دنیا کی زندگی سے ختم ہو جاتا ہے اور آخرت کی زندگی کا آغاز اس وقت ہو گا جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ درمیان کی زندگی ہے۔ انسان کا وجود جہاں بھی اور جس شکل میں بھی ہو گا۔ بظاہر وہ مٹی میں مل کر مٹی بن چکا ہو گا، یا راکھ بنا کر ہواؤں میں اڑا دیا یا دریاؤں میں بہا دیا ہو گا یا کسی جانور کی خوراک بن گیا ہو گا، مگر اللہ تعالیٰ سب کو ایک نیا وجود عطا فرما کر میدان محشر میں جمع فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ‌ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ ﴿١٠١﴾
پس جب کہ صور پھونک دیا جائے گا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے، نہ آپس کی پوچھ گچھ (١)
١٠١۔١ محشر کی ہولناکیوں کی وجہ سے ابتداءََ ایسا ہو گا۔ بعد میں وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی اور ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی کریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٠٢﴾
جن کی ترازو کا پلہ بھاری ہو گیا وہ تو نجات والے ہو گئے۔

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُ‌وا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ ﴿١٠٣﴾
اور جن کے ترازو کا پلہ ہلکا ہو گیا یہ ہیں وہ جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا جو ہمیشہ جہنم واصل ہوئے۔

تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ‌ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ ﴿١٠٤﴾
ان کے چہروں کو آگ جھلستی رہے گی (١) اور وہ وہاں بد شکل بنے ہوئے ہوں گے۔ (٢)
١٠٤۔١ چہرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ یہ انسانی وجود کا سب سے اہم اور اشرف حصہ ہے، ورنہ جہنم کی آگ تو پورے جسم کو ہی محیط ہو گی۔
١٠٤۔٢ کَلَح کے معنی ہوتے ہیں ہونٹ سکڑ کر دانت ظاہر ہو جائیں۔ ہونٹ گویا دانتوں کا لباس ہیں، جب یہ جہنم کی آگ سے سمٹ اور سکڑ جائیں گے تو دانت ظاہر ہو جائیں گے، جس سے انسان کی صورت بدشکل اور ڈراؤنی ہو جائے گی۔
 
Top