• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ فَأْتُوا بِكِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ هُوَ أَهْدَىٰ مِنْهُمَا أَتَّبِعْهُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٤٩﴾
کہہ دے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو میں اسی کی پیروی کروں گا۔ (١)
٤٩۔١ یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ قرآن مجید اور تورات دونوں جادو ہیں، تو تم کوئی اور کتاب الٰہی پیش کر دو، جو ان سے زیادہ ہدایت والی ہو، میں اس کی پیروی کر لوں گا۔ کیونکہ میں تو ہدایت کا طالب اور پیرو ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ‌ هُدًى مِّنَ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿٥٠﴾
پھر اگر یہ تیری نہ مانیں (١) تو تو یقین کر لے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو (۲) بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (۳)
٥٠۔١ یعنی قرآن و تورات سے زیادہ ہدایت والی کتاب پیش نہ کر سکیں اور یقینا نہیں کر سکیں گے۔
٥٠۔٢ یعنی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کی پیروی کرنا یہ سب سے بڑی گمراہی ہے اور اس لحاظ سے یہ قریش مکہ سب سے بڑے گمراہ ہیں جو ایسی حرکت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٥١﴾
اور ہم برابر پے در پے لوگوں کے لیے اپنا کلام بھیجتے رہے (۱) تاکہ وہ نصیحت حاصل کر لیں۔ (۲)
۵۱۔۱ یعنی ایک رسول کے بعد دوسرا رسول، ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب ہم بھیجتے رہے اور اس طرح مسلسل، لگاتار ہم اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے۔
۵۱۔۲ مقصد اس سے یہ تھا کہ لوگ پچھلے لوگوں کے انجام سے ڈر کر اور ہماری باتوں سے نصیحت حاصل کر کے ایمان لے آئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٢﴾
جس کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنایت فرمائی وہ تو اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
٥٢۔١ اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو مسلمان ہو گئے تھے، جیسے عبد اللہ بن سلام رضی الله عنہ وغیرہ۔ یا وہ عیسائی ہیں جو حبشہ سے نبی ﷺ کی خدمت میں آئے تھے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر مسلمان ہو گئے تھے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ ﴿٥٣﴾
اور جب اس کی آیتیں ان کے پاس پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں۔ (۱)
۵۳۔۱ یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جسے قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور میں اللہ کے پیغمبروں نے جس دین کی دعوت دی، وہ اسلام ہی تھا او ر ان نبیوں کی دعوت پر ایمان لانے والے مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ یہود یا نصاریٰ وغیرہ کی اصطلاحیں لوگوں کی اپنی خود ساختہ ہیں جو بعد میں ایجاد ہوئیں۔ اسی اعتبار سے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے والے اہل کتاب (یہود یا عیسائیوں) نے کہا کہ ہم تو پہلے سے ہی مسلمان چلے آرہے ہیں۔ یعنی سابقہ انبیا کے پیروکار اور ان پر ایمان رکھنے والے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَ‌هُم مَّرَّ‌تَيْنِ بِمَا صَبَرُ‌وا وَيَدْرَ‌ءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٥٤﴾
یہ اپنے کیے ہوئے صبر کے بدلے دوہرا اجر دیئے جائیں گے۔ (۱) یہ نیکی سے بدی کو ٹال دیتے ہیں (۲) اور ہم نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے دیتے رہتے ہیں۔
۵٤۔۱ صَبْرٌ سے مراد ہر قسم کے حالات میں انبیاء اور کتاب الٰہی پر ایمان اور اس پر ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے۔ پہلی کتاب آئی تو اس پر، اس کے بعد دوسری پر ایمان رکھا۔ پہلے نبی پر ایمان لائے، اس کے بعد دوسرا نبی آ گیا تو اس پر ایمان لائے۔ ان کے لیے دوہرا اجر ہے، حدیث میں بھی ان کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا، تین آدمیوں کے لیے دوہرا اجر ہے، ان میں ایک وہ اہل کتاب ہے جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا اور پھر مجھ پر ایمان لے آیا۔ (صحيح بخاری، كتاب العلم، باب تعليم الرجل أمته وأهله- مسلم، كتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا)
۵٤۔۲ یعنی برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے، بلکہ معاف کر دیتے اور درگزر سے کام لیتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَ‌ضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ ﴿٥٥﴾
اور جب بیہودہ بات (١) کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے عمل تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، (٢) ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے۔
۵۵۔۱ یہاں لغو سے مراد وہ سب و شتم اور دین کے ساتھ استہزا ہے جو مشرکین کرتے تھے۔
٥٥۔٢ یہ سلام، سلام تحیہ نہیں بلکہ سلام متارکہ ہے یعنی ہم تم جیسے جاہلوں سے بحث اور گفتگو کے روادار ہی نہیں۔ جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں، جاہلوں کو دور ہی سے سلام ، ظاہر ہے سلام سے مراد ترک مخاطبت ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿٥٦﴾
آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔ (١)
٥٦۔١ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی، جب نبی ﷺ کے ہمدرد اور غم گسار چچا جناب ابو طالب کا انتقال ہونے لگا تو آپ ﷺ نے کوشش فرمائی کہ چچا اپنی زبان سے ایک مرتبہ ’’لا إِلَهَ إِلا اللهُ‘‘ کہہ دیں تاکہ قیامت والے دن میں اللہ سے ان کی مغفرت کی سفارش کر سکوں۔ لیکن وہاں دوسرے روسائے قریش کی موجودگی کی وجہ سے ابو طالب قبول ایمان کی سعادت سے محروم رہے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گیا۔ نبی ﷺ کو اس بات کا بڑا قلق اور صدمہ تھا۔ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر نبی ﷺ پر واضح کیا کہ آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت اور رہنمائی ہے۔ لیکن ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ ہمارا کام ہے، ہدایت اسے ہی ملے گی جسے ہم ہدایت سے نوازنا چاہیں نہ کہ اسے جسے آپ ہدایت پر دیکھنا پسند کریں۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة القصص- مسلم، كتاب الإيمان، باب أول الإيمان- قول لا إله إلا الله)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْ‌ضِنَا ۚ أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَ‌مًا آمِنًا يُجْبَىٰ إِلَيْهِ ثَمَرَ‌اتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّ‌زْقًا مِّن لَّدُنَّا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٥٧﴾
کہنے لگے اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر ہدایت کے تابعدار بن جائیں تو ہم تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں، (١) کیا ہم نے انہیں امن و امان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی؟ (٢) جہاں تمام چیزوں کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس بطور رزق کے ہیں، (٣) لیکن ان میں سے اکثر کچھ نہیں جانتے۔
۵۷۔۱ یعنی ہم جہاں ہیں، وہاں ہمیں رہنے نہ دیا جائے گا اور ہمیں اذیتوں سے یا مخالفین سے جنگ و پیکار سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ بعض کفار نے ایمان نہ لانے کا عذر پیش کیا۔ اللہ نے جواب دیا۔
٥٧۔٢ یعنی ان کا یہ عذر غیر معقول ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو، جس میں یہ رہتے ہیں، امن والا بنایا ہے۔ جب یہ شہر ان کے کفر وشرک کی حالت میں ان کے لیے امن کی جگہ ہے تو کیا اسلام قبول کر لینے کے بعد وہ ان کے لیے امن کی جگہ نہیں رہے گا؟
٥٧۔٣ یہ مکے کی وہ خصوصیت ہے جس کا مشاہدہ لاکھوں حاجی اور عمرہ کرنے والے ہر سال کرتے ہیں کہ مکے میں پیداوار نہ ہونے کے باوجود نہایت فراوانی سے ہر قسم کا پھل بلکہ دنیا بھر کا سامان ملتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْ‌يَةٍ بَطِرَ‌تْ مَعِيشَتَهَا ۖ فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَن مِّن بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِ‌ثِينَ ﴿٥٨﴾
اور ہم نے بہت سی وہ بستیاں تباہ کر دیں جو اپنی عیش و عشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہائش کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں (١) اور ہم ہی ہیں آخر سب کچھ کے وارث۔ (٢)
٥٨۔١ یہ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر اللہ کی ناشکری کرنے اور سرکشی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟ آج ان کی بیشتر آبادیاں کھنڈر بنی ہوئی ہیں یا صرف صفحات تاریخ پر ان کا نام رہ گیا ہے۔ اور اب آتے جاتے مسافر ہی ان میں کچھ دیر کے لیےسستا لیں تو سستا لیں، ان کی نحوست کی وجہ سے کوئی بھی ان میں مستقل رہنا پسند نہیں کرتا۔
٥٨۔٢ یعنی ان میں سے تو کوئی بھی باقی نہ رہا جو ان کے مکانوں اور مال و دولت کا وارث ہوتا۔
 
Top