- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٨﴾
ہم ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے (١) ہاں اگر وہ یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کر لیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانئے، (٢) تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا۔
٨۔١ قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و عبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ ربوبیت (الہٰ واحد) کے تقاضوں کو صحیح طریقے سے وہی سمجھ سکتا اور انہیں ادا کر سکتا ہے جو والدین کی اطاعت و خدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہمی قربت کا نتیجہ اور اس کی تربیت و پرداخت، ان کی غایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ اس لیے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہیے۔ وہ یقیناً خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحید و عبادت کے تقاضوں کی ادائیگی سے بھی قاصر رہے گا۔ اسی لیے احادیث میں بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ایک حدیث میں والدین کی رضا مندی کو اللہ کی رضا اور ان کی ناراضی کو رب کی ناراضی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
٨۔٢ یعنی والدین اگر شرک کا حکم دیں (اور اسی میں دیگر معاصی کا حکم بھی شامل ہے) اور اس کے لیے خاص کوشش بھی کریں۔ (جیسا کہ مجاہدہ کے لفظ سے واضح ہے) تو ان کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ [لا طَاعَةَ لأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى] (مسند أحمد ۵ /۶۶ والصحيحة للألباني، نمبر ۱۷۹) ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں“۔ اس آیت کی شان نزول میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کا واقعہ آتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے پر ان کی والدہ نے کہا کہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے یا پھر تو محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کر دے، بالآخر یہ اپنی والدہ کو زبردستی منہ کھول کر کھلاتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحيح مسلم، ترمذي، تفسير سورة العنكبوت)
ہم ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے (١) ہاں اگر وہ یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کر لیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانئے، (٢) تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا۔
٨۔١ قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و عبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ ربوبیت (الہٰ واحد) کے تقاضوں کو صحیح طریقے سے وہی سمجھ سکتا اور انہیں ادا کر سکتا ہے جو والدین کی اطاعت و خدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہمی قربت کا نتیجہ اور اس کی تربیت و پرداخت، ان کی غایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ اس لیے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہیے۔ وہ یقیناً خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحید و عبادت کے تقاضوں کی ادائیگی سے بھی قاصر رہے گا۔ اسی لیے احادیث میں بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ایک حدیث میں والدین کی رضا مندی کو اللہ کی رضا اور ان کی ناراضی کو رب کی ناراضی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
٨۔٢ یعنی والدین اگر شرک کا حکم دیں (اور اسی میں دیگر معاصی کا حکم بھی شامل ہے) اور اس کے لیے خاص کوشش بھی کریں۔ (جیسا کہ مجاہدہ کے لفظ سے واضح ہے) تو ان کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ [لا طَاعَةَ لأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى] (مسند أحمد ۵ /۶۶ والصحيحة للألباني، نمبر ۱۷۹) ”اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں“۔ اس آیت کی شان نزول میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کا واقعہ آتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے پر ان کی والدہ نے کہا کہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے یا پھر تو محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کر دے، بالآخر یہ اپنی والدہ کو زبردستی منہ کھول کر کھلاتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحيح مسلم، ترمذي، تفسير سورة العنكبوت)