• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ سِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَانظُرُ‌وا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّـهُ يُنشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَ‌ةَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٢٠﴾
کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی (١) کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءََ پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
٢٠۔١ یعنی آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیاں دیکھو زمین پر غور کرو، کس طرح اسے بچھایا، اس میں پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر بنائے، اسی سے انواع و اقسام کی روزیاں اور پھل پیدا کیے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ انہیں بنایا گیا ہے اور ان کا کوئی بنانے والا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَيَرْ‌حَمُ مَن يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ ﴿٢١﴾
جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے، سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (١)
٢١۔١ یعنی وہی اصل حاکم اور متصرف ہے، اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ تاہم اس کا عذاب یا رحمت، یوں ہی الل ٹپ نہیں ہو گی، بلکہ ان اصولوں کے مطابق ہو گی جو اسنے اس کے لیے طے کر رکھے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ‌ ﴿٢٢﴾
تم نہ تو زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکتے ہو نہ آسمان میں، اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار۔

وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِآيَاتِ اللَّـهِ وَلِقَائِهِ أُولَـٰئِكَ يَئِسُوا مِن رَّ‌حْمَتِي وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٣﴾
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وہ میری رحمت سے نا امید ہو جائیں (١) اور ان لیے دردناک عذاب ہے۔
٢٣۔١ اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفیض ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائشیں اور مال و دولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾ (الأعراف: ۱۵۶) ”میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے“۔ لیکن آخرت چونکہ دارالجزا ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہو گا، اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہو گی، جیسے عمل کیے ہوں گے، اسی کی جزا اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بے لاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک و بد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الٰہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے، دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو ان کی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہو گی۔ جسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے ہی منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے یعنی ان کے حصے میں رحمت الٰہی نہیں آئے گی۔ سورۂ اعراف میں ان کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ ﴿فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ﴾ (الأعراف: ۱۵۶) ”میں یہ رحمت (آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّ‌قُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّـهُ مِنَ النَّارِ‌ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿٢٤﴾
ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اس مار ڈالو یا اسے جلا دو (١) آخرش اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا، (٢) اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے تو بہت سی نشانیاں ہیں۔
٢٤۔١ ان آیات سے قبل حضرت ابراہیم عليہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا تھا، اب پھر اس کا بقیہ بیان کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ کی توحید اور اس کی قدرت و طاقت کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سب حضرت ابراہیم عليہ السلام ہی کے وعظ کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے توحید و معاد کے اثبات میں دلائل دیئے ہیں، جن کا کوئی جواب جب ان کی قوم سے نہیں بنا تو انہوں نے اس کا جواب ظلم و تشدد کی اس کارروائی سے دیا، جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اسے قتل کر دو یا جلا ڈالو۔ چنانچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کرکے حضرت ابراہیم عليہ السلام کو منجنیق کے ذریعے سے اس میں پھینک دیا۔
٢٤۔٢ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو گلزار کی صورت میں بدل کر اپنے بندے کو بچا لیا، جیسا کہ سورہ انبیاء میں گزرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ‌ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ‌ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِ‌ينَ ﴿٢٥﴾
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیاوی دوستی کی بنا ٹھہرا لی ہے، (١) تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے۔ (٢) اور تمہارا سب کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہو گا۔
٢٥۔١ یعنی یہ تمہارے قومی بت ہیں جو تمہاری اجتماعیت اور آپس کی دوستی کی بنیاد ہیں۔ اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو تمہاری قومیت اور دوستی کا شیرازہ بکھر جائے گا۔
٢٥۔٢ یعنی قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار اور دوستی کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تابع، متبوع کو ملامت اور متبوع، تابع سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٢٦﴾
پس ابراہیم (علیہ السلام) پر لوط (علیہ السلام) ایمان لائے (١) اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہو۔ (٢) وہ بڑا ہی غالب اور حکیم ہے۔
٢٦۔١ حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے برادر زاد تھے، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے، بعد میں ان کو بھی 'سدوم' کے علاقے میں نبی بنا کر بھیجا گیا۔
٢٦۔٢ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا اور بعض کے نزدیک حضرت لوط علیہ السلام نے۔ اور بعض کہتے ہیں دونوں نے ہجرت کی۔ یعنی جب ابراہیم علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے لوط علیہ السلام کے لیے اپنے علاقے 'کوثی' میں، جو حران کی طرف جاتے ہوئے کوفے کی ایک بستی تھی، اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہو گئی تو وہاں سے ہجرت کر کے شام کے علاقے میں چلے گئے۔ تیسری، ان کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ سارہ تھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّ‌يَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَ‌هُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَ‌ةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٢٧﴾
اور ہم نے انہیں (ابراہیم کو) اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں ہی کر دی (١) اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ثواب دیا (۲) اور آخرت میں تو وہ صالح لوگوں میں سے ہے۔ (۳)
٢٧۔١ یعنی حضرت اسحاق عليہ السلام سے یعقوب عليہ السلام ہوئے، جن سے بنی اسرائیل کی نسل چلی اور انہی میں سارے انبیا ہوئے، اور کتابیں آئیں۔ آخر میں حضرت نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم عليہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل عليہ السلام کی نسل سے نبی ہوئے اور آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوا۔
۲۷۔۲ اس اجر سے مراد رزق دنیا بھی ہے اور ذکر خیر بھی۔ یعنی دنیا میں ہر مذہب کے لوگ (عیسائی، یہودی وغیرہ حتیٰ کہ مشرکیں بھی) حضرت ابراہیم عليہ السلام کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی کے پیرو، ان کے ہاں وہ محترم کیوں نہ ہوں گے؟
٢٧۔۳ یعنی آخرت میں بھی وہ بلند درجات کے حامل اور زمرہ صالحین میں ہوں گے۔ اسی مضمون کو دوسرے مقام پراس طرح بیان فرمایا ﴿وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴾ (سورة النحل: ۱۲۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ ﴿٢٨﴾
اور لوط (علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم بدکاری پر اتر آئے ہو (١) جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا۔
٢٨۔١ اس بدکاری سے مراد وہی لواطت ہے جس کا ارتکاب قوم لوط (عليہ السلام) نے ہی سب سے پہلے کیا، جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّ‌جَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ‌ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّـهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿٢٩﴾
کیا تم مردوں کے پاس بد فعلی کے لیے آتے ہو (١) اور راستے بند کرتے ہو (٢) اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو؟ (۳) اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا بس (٤) جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ۔
٢٩۔١ یعنی تمہاری شہوت پرستی اس انتہا کو پہنچ گئی ہے کہ اس کے لیے طبعی طریقے تمہارے لیے ناکافی ہو گئے ہیں اور غیر طبعی طریقہ تم نے اختیار کر لیا ہے۔ جنسی شہوت کی تسکین کے لیے طبعی طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں سے مباشرت کی صورت میں رکھا ہے۔ اسے چھوڑ کر اس کام کے لیے مردوں کی دبر استعمال کرنا غیر فطری اور غیر طبعی طریقہ ہے۔
٢٩۔٢ اس کے ایک معنی تو یہ کیے گئے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں، نو واردوں اور گزرنے والوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر تم ان سے بے حیائی کا کام کرتے ہو، جس سے لوگوں کے لیے راستوں سے گزرنا مشکل ہو گیا اور لوگ گھروں میں بیٹھے رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ دوسرے معنی ہیں کہ تم آنے جانے والوں کو لوٹ لیتے اور قتل کر دیتے ہو یا ازراہ شرارت انہیں کنکریاں مارتے ہو۔ تیسرے معنی کیے گئے ہیں کہ سرراہ ہی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جس سے وہاں سے گزرتے ہوئے لوگ شرم محسوس کرتے ہیں۔ ان تمام صورتوں سے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ کسی ایک خاص سبب کی تعیین تو مشکل ہے تاہم وہ ایسا کام ضرور کرتے تھے، جس سے عملاً راستہ بند ہو جاتا تھا۔ قطع طریق کے ایک معنی قطع نسل کے بھی کیے گئے ہیں۔ یعنی عورتوں کی شرم گاہوں کو استعمال کرنے کے بجائے مردوں کی دبر استعمال کرکے تم اپنی نسل بھی منقطع کرنے میں لگے ہوئے ہو۔ (فتح القدیر)
۲۹۔۲ یہ بے حیائی کیا تھی؟ اس میں بھی مختلف اقوال ہیں، مثلاً لوگوں کو کنکریاں مارنا، اجنبی مسافر کا استہزا و استخفاف، مجلسوں میں پاد مارنا، ایک دوسرے کے سامنے اغلام بازی، شطرنج وغیرہ قسم کی قمار بازی، رنگے ہوئے کپڑے پہننا، وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں (کوئی بعید نہیں کہ وہ یہ تمام ہی منکرات کرتے رہے ہوں)۔
۲۹۔۳ حضرت لوط عليہ السلام نے جب انہیں ان منکرات سے منع کیا تو اس کے جواب میں کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ رَ‌بِّ انصُرْ‌نِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ ﴿٣٠﴾
حضرت لوط (علیہ السلام) نے دعا کی (١) کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما۔
٣٠۔١ یعنی جب حضرت لوط (عليہ السلام) قوم کی اصلاح سے ناامید ہو گئے تو اللہ سے مدد کی دعا فرمائی۔
 
Top