• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَإِذَا قَضَىٰ أَمْرً‌ا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿٦٨﴾
وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے، (١) پھر وہ جب کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف کہتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے۔ (۲)
٦٨۔١ زندہ کرنا اور مارنا، اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ ایک بے جان نطفے کو مختلف اطوار سے گزار کر ایک زندہ انسان کے روپ میں ڈھال دیتا ہے۔ اور پھر ایک وقت مقرر کے بعد اس زندہ انسان کو مار کر موت کی وادیوں میں سلا دیتا ہے۔
٦٨۔٢ اس کی قدرت کا یہ حال ہے کہ اس کے لفظ كن (ہوجا) سے وہ چیز معرض وجود میں آجاتی ہے، جس کا وہ ارادہ کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّـهِ أَنَّىٰ يُصْرَ‌فُونَ ﴿٦٩﴾
کیا تو نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، (١) وہ کہاں پھیر دئیے جاتے ہیں۔ (٢)
٦٩۔١ انکار وتکذیب کے لیے یا اس کے رد وابطال کے لیے۔
٦٩۔٢ یعنی ظہور دلائل اور وضوح حق کے باوجود وہ کسی طرح حق کو نہیں مانتے۔ یہ تعجب کا اظہار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ كَذَّبُوا بِالْكِتَابِ وَبِمَا أَرْ‌سَلْنَا بِهِ رُ‌سُلَنَا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿٧٠﴾
جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا انہیں ابھی ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی۔

إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ ﴿٧١﴾
جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجریں ہوں گی گھسیٹے جائیں گے۔ (١)
٧١۔١ یہ وہ نقشہ ہے جو جہنم میں ان مکذبین کا ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ‌ يُسْجَرُ‌ونَ ﴿٧٢﴾
کھولتے ہوئے پانی میں اور پھر جہنم کی آگ میں جلائے جائیں گے۔ (١)
۷۲۔۱ مجاہد اور مقاتل کا قول ہے کہ ان کے ذریعے سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی، یعنی یہ لوگ اس کا ایندھن بنے ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِ‌كُونَ ﴿٧٣﴾
پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جنہیں تم شریک کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟

مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا بَل لَّمْ نَكُن نَّدْعُو مِن قَبْلُ شَيْئًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّـهُ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٧٤﴾
جو اللہ کے سوا تھے (١) وہ کہیں گے کہ وہ تو ہم سے بہک گئے (٢) بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو بھی پکارتے ہی نہ تھے۔ (٣) اللہ تعالیٰ کافروں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے۔ (٤)
٧٤۔١ کیا وہ آج تمہاری مدد کر سکتے ہیں؟
٧٤۔٢ یعنی پتہ نہیں، کہاں چلے گئے ہیں، وہ ہماری مدد کیا کریں گے؟
٧٤۔٣ اقرار کرنے کے بعد، پھر ان کی عبادت کا ہی انکار کردیں گے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ (الأنعام: ۲۳) ”اللہ کی قسم! ہم تو کسی کی شریک ٹھہراتے ہی نہیں تھے“۔ کہتے ہیں کہ یہ بتوں کے وجود اور ان کی عبادت کا انکار نہیں ہے بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی عبادت باطل تھی کیونکہ وہاں ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہے جو سن سکتی تھیں، نہ دیکھ سکتی تھیں اور نقصان پہنچا سکتی تھیں نہ نفع۔ (فتح القدیر) اور اس کا دوسرا معنی واضح ہے اور یہ کہ وہ شرک کا سرے سے انکار ہی کریں گے۔
٧٤۔٤ یعنی ان مکذبین ہی کی طرح، اللہ تعالیٰ کافروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلسل تکذیب اور کفر، یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے انسانوں کے دل سیاہ اور زنگ آلودہ ہو جاتے ہیں اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے قبول حق کی توفیق سے محروم ہو جاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكُم بِمَا كُنتُمْ تَفْرَ‌حُونَ فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَ‌حُونَ ﴿٧٥﴾
یہ بدلہ ہے اس چیز کا جو تم زمین میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے۔ اور (بے جا) اتراتے پھرتے تھے۔
۷٥۔۱ یعنی تمہاری یہ گمراہی اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم کفر و تکذیب اور فسق و فجور میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ان پر تم خوش ہوتے اور اتراتے تھے۔ اترانے میں مزید خوشی کا اظہار ہے جو تکبر کو مستلزم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِ‌ينَ ﴿٧٦﴾
(اب آؤ) جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے (اس کے) دروازوں میں داخل ہو جاؤ، کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والوں کی۔ (١)
٧٦۔١ یہ جہنم پر مقرر فرشتے، اہل جہنم کو کہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاصْبِرْ‌ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۚ فَإِمَّا نُرِ‌يَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْ‌جَعُونَ ﴿٧٧﴾
پس آپ صبر کریں اللہ کا وعدہ قطعًا سچا ہے، (١) انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم آپ کو دکھائیں (۲) یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، ان کا لوٹایا جانا تو ہماری ہی طرف ہے۔ (۳)
٧٧۔١ کہ ہم کافروں سے انتقام لیں گے۔ یہ وعدہ جلدی بھی پورا ہو سکتا ہے یعنی دنیا میں ہی ہم ان کی گرفت کر لیں یا حسب مشیت الٰہی تاخیر بھی ہو سکتی ہے، یعنی قیامت والے دن ہم انہیں سزا دیں۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ یہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔
٧٧۔۲ یعنی آپ کی زندگی میں ان کو مبتلائے عذاب کر دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اللہ نے کافروں سے انتقام لے کر مسلمانوں کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا، جنگ بدرمیں ستر کافر مارے گئے، آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہو گیا اور پھر نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی پورا جزیرۂ عرب مسلمانوں کے زیر نگیں آ گیا۔
٧٧۔۳ یعنی اگر کافر دنیوی مواخذہ و عذاب سے بچ بھی گئے تو آخر جائیں گے کہاں؟ آخر میرے پاس ہی آئیں گے، جہاں ان کے لیے سخت عذاب تیار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلًا مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُم مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ۗ وَمَا كَانَ لِرَ‌سُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ‌ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ ﴿٧٨﴾
یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے (١) اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزہ اللہ کی اجازت کے بغیر لا سکے (۲) پھر جس وقت اللہ کا حکم آئے گا (۳) حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا (٤) اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں رہ جائیں گے۔
٧٨۔١ اور یہ تعداد میں، بہ نسبت ان کے جن کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ بہت زیادہ ہیں۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں تو صرف پچیس، انبیا و رسل کا ذکر اور ان کی قوموں کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔
٧٨۔٢ آیت سے مراد یہاں معجزہ اور خرق عادت واقعہ ہے، جو پیغمبر کی صداقت پر دلالت کرے۔ کفار، پیغمبروں سے مطالبے کرتے رہے کہ ہمیں فلاں فلاں چیز دکھاؤ ، جیسے خود نبی کریم ﷺ سے کفار مکہ نے کئی چیزوں کا مطالبہ کیا، جس کی تفصیل سورۂ بنی اسرائیل ۹۰-۹۳ میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ نہیں تھا۔ کہ وہ اپنی قوموں کے مطالبے پر ان کو کوئی معجزہ صادر کر کے دکھلا دے۔ یہ صرف ہمارے اختیار میں تھا، بعض نبیوں کو تو ابتدا ہی سے معجزے دے دیئے گئے تھے۔ بعض قوموں کو ان کے مطالبے پرمعجزہ دکھلایا گیا اور بعض کو مطالبے کے باوجود نہیں دکھلایا گیا۔ ہماری مشیت کے مطابق اس کا فیصلہ ہوتا تھا۔ کسی نبی کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ جب چاہتا، معجزہ صادر کر کے دکھلا دیتا۔ اس سے ان لوگوں کی واضح تردید ہوتی ہے، جو بعض اولیا کی طرف یہ باتیں منسوب کرتے ہیں کہ وہ جب چاہتے ہیں اور جس طرح چاہتے، خرق عادت امور (کرامات) کا اظہار کر دیتے تھے۔ جیسے شیخ عبد القادر جیلانی کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں ہیں، جب اللہ نے پیغمبروں کو یہ اختیار نہیں دیا، جن کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے، اس کی ضرورت بھی تھی تو کسی ولی کو یہ اختیار کیونکر مل سکتا ہے؟ بالخصوص جب کہ ولی کو اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کیونکہ نبی کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے، اس لیے معجزہ ان کی ضرورت تھی۔ لیکن اللہ کی حکمت و مشیت اس کی مقتضی نہ تھی، اس لیے یہ قوت کسی نبی کو نہیں دی گئی۔ ولی کی ولایت پر ایمان رکھنا ضروری نہیں ہے، اس لیے انہیں معجزے اور کرامات کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ یہ اختیار بلا ضرورت کیوں عطا کر سکتا ہے؟
‏٧٨۔۳ یعنی دنیا یا آخرت میں جب ان کے عذاب کا وقت معین آ جائے گا۔
٧٨۔٤ یعنی ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اہل حق کو نجات اور اہل باطل کو عذاب۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَنْعَامَ لِتَرْ‌كَبُوا مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ﴿٧٩﴾
اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے (۱) جن میں سے بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو۔ (۲)
٧٩۔١ اللہ تعالیٰ اپنی ان گنت نعمتوں میں سے بعض نعمتوں کا تذکرہ فرما رہا ہے چوپائے سے مراد اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ہے، یہ نر، مادہ مل کر آٹھ ہیں جیساکہ سورۃ الانعام: ۱۴۳-۱۴۴ میں ہے۔
٧٩۔۲ یہ سواری کے کام میں بھی آتے ہیں، ان کا دودھ بھی پیا جاتا ہے، (جیسے بکری، گائے اور اوٹنی کا دودھ) ان کا گوشت انسان کی مرغوب ترین غذا ہے اور باربرادری کا کام بھی ان سے لیا جاتا ہے۔
 
Top