• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوا عَلَيْهَا حَاجَةً فِي صُدُورِ‌كُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ ﴿٨٠﴾
اور بھی تمہارے لیے ان میں بہت سے نفع ہیں (١) اور تاکہ اپنے سینوں میں چھپی ہوئی حاجتوں کو انہی پر سواری کرکے تم حاصل کر لو اور ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو۔ (۲)
٨٠۔١ جیسے ان سب کے اون اور بالوں سے اور ان کی کھالوں سے کئی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے دودھ سے گھی، مکھن، پنیر وغیرہ بھی بنتی ہیں۔
٨٠۔١ ان سے مراد بچے اور عورتیں ہیں جنہیں ہودج سمیت اونٹ وغیرہ پر بٹھا دیا جاتا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُرِ‌يكُمْ آيَاتِهِ فَأَيَّ آيَاتِ اللَّـهِ تُنكِرُ‌ونَ ﴿٨١﴾
اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا جا رہا ہے، (۱) پس تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا منکر بنتے رہو گے۔ (۲)
۸۱۔۱ جو اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ نشانیاں آفاق میں ہی نہیں تمہارے نفسوں کے اندر بھی ہیں۔
۸۱۔۲ یعنی یہ اتنی واضح، عام اور کثیر ہیں جن کا کوئی منکر انکار کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ یہ استفہام انکار کے لیے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَيَنظُرُ‌وا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَكْثَرَ‌ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَآثَارً‌ا فِي الْأَرْ‌ضِ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿٨٢﴾
کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلوں کا انجام نہیں دیکھا؟ (١) جو ان سے تعداد میں زیادہ تھے قوت میں سخت اور زمین میں بہت ساری یادگاریں چھوڑی تھیں، (۲) ان کے کیے کاموں نے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا۔ (۳)
٨٢۔١ یعنی جن قوموں نے اللہ کی نافرمانی اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی، یہ ان کی بستیوں کے آثار اور کھنڈرات تو دیکھیں جو ان کے علاقوں میں ہی ہیں کہ ان کا کیا انجام ہوا؟
٨٢۔۲ یعنی عمارتوں، کارخانوں اور کھیتیوں کی شکل میں، ان کے کھنڈرات واضح کرتے ہیں کہ وہ کاریگری کے میدان میں بھی تم سے بڑھ کر تھے۔
٨٢۔۳ فَمَا أَغْنَى میں مَا استفہامیہ بھی ہو سکتا ہے اور نافیہ بھی۔ نافیہ کا مفہوم تو ترجمے سے واضح ہے۔ کہ استفہامیہ کی رو سے مطلب ہو گا۔ ان کو کیا فائدہ پہنچایا؟ مطلب وہی ہے کہ ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہیں آئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُ‌سُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِ‌حُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ﴿٨٣﴾
پس جب کبھی ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر اترانے لگے، (١) بالآخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وہی ان پر الٹ پڑی۔
٨٣۔١ علم سے مراد ان کے خود ساختہ مزعومات، توہمات، شبہات اور باطل دعوے ہیں۔ انہیں علم سے بطور استہزا تعبیر فرمایا وہ چونکہ انہیں علمی دلائل سمجھتے تھے، ان کے خیال کے مطابق ایسا کہا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی باتوں کے مقابلے میں یہ اپنے مزعومات و توہمات پر اتراتے اور فخر کرتے رہے۔ یا علم سے مراد دنیوی باتوں کا علم ہے، یہ احکام و فرائض الٰہی کے مقابلے میں انہی کو ترجیح دیتے رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا رَ‌أَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْ‌نَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِ‌كِينَ ﴿٨٤﴾
ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان لائے اور جن جن کو ہم اس کا شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا۔

فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَ‌أَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ‌ هُنَالِكَ الْكَافِرُ‌ونَ ﴿٨٥﴾
لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا۔ اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آرہا ہے (۱) اور اس جگہ کافر خراب و خستہ ہوئے۔ (۲)
۸٥۔۱ یعنی اللہ کا یہ معمول چلا آرہا ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد توبہ اور ایمان مقبول نہیں۔ یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
۸٥۔۲ یعنی معاینہ عذاب کے بعد ان پر واضح ہو گیا کہ اب سوائے خسارے اور ہلاکت کے ہمارے مقدر میں کچھ نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة حم السجدۃ

(سورة السجدۃ مکی ہے اور اس میں چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں۔)
اس سورت کا دوسرا نام فُصِّلَت ہے۔ اس کی شان نزول کی روایات میں بتلایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش نے باہم مشورہ کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیروکاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے، ہمیں اس کے سد باب کے لیے ضرور کچھ کرنا چاہیے چنانچہ انہوں نے اپنے میں سے سب سے زیادہ بلیغ و فصیح آدمی "عتبہ بن ربیعہ" کا انتخاب کیا تاکہ وہ آپ ﷺ سے گفتگو کرے چنانچہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں گیا اور آپ ﷺ پر عربوں میں انتشار و افتراق پیدا کرنے کا الزام عائد کر کے پیشکش کی کہ اس نئی دعوت سے اگر آپ ﷺ کا مقصد مال و دولت کا حصول ہے، تو وہ ہم جمع کیے دیتے ہیں، قیادت و سیادت منوانا چاہتے ہیں تو آپ ﷺ کو ہم اپنا لیڈر اور سردار مان لیتے ہیں، کسی حسین عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو ایک نہیں ایسی دس عورتوں کا انتظام ہم کر دیتے ہیں اور اگر آپ ﷺ پر آسیب کا اثر ہے جس کے تحت آپ ﷺ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تو ہم اپنے خرچ پر آپ ﷺ کا علاج کرا دیتے ہیں آپ ﷺ نے اس کی تمام باتیں سن کر اس سورت کی تلاوت اس کے سامنے فرما‏ئی، جس سے وہ بڑا متاثر ہوا۔ اس نے واپس جا کر سرداران قریش کو بتلایا کہ وہ جو چیز پیش کرتا ہے وہ جادو اور کہانت ہے نہ شعر و شاعری۔ مطلب اس کا آپ ﷺ کی دعوت پر سرداران قریش کو غور و فکر کی دعوت دینا تھا۔ لیکن وہ غور و فکر کیا کرتے؟ الٹا عتبہ پر الزام لگا دیا کہ تو بھی اس کے سحر کا اسیر ہو گیا ہے۔ یہ روایات مختلف انداز سے اہل سیر و تفسیر نے بیان کی ہیں۔ امام ابن کثیر اور امام شوکانی نے بھی انہیں نقل کیا ہے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں "یہ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قریش کا اجتماع ضرور ہوا، انہوں نے عتبہ کو گفتگو کے لیے بھیجا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سورت کا ابتدا‏ئی حصہ سنایا"۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حم ﴿١﴾ تَنزِيلٌ مِّنَ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ ﴿٢﴾
حم ۔ اتاری ہوئی ہے بڑے مہربان بہت رحم والے کی طرف سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٣﴾
ایسی کتاب جس کی آیتوں کی واضح تفصیل کی گئی ہے، (١) (اس حال میں کہ) قرآن عربی زبان میں ہے (٢) اس قوم کے لیے جو جانتی ہے۔ (٣)
٣۔١ یعنی کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ یا طاعات کیا ہیں اور معاصی کیا؟ یا ثواب والے کام کون سے ہیں اور عقاب والے کون سے؟
٣۔٢ یہ حال ہے یعنی اس کے الفاظ عربی ہیں، جن کے معانی مفصل اور واضح ہیں۔
٣۔٣ یعنی جو عربی زبان، اس کے معانی و مفاہیم اور اس کے اسرار و اسلوب کو جانتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَشِيرً‌ا وَنَذِيرً‌ا فَأَعْرَ‌ضَ أَكْثَرُ‌هُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ ﴿٤﴾
خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا (١) ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں۔ (٢)
٤۔١ ایمان اور اعمال صالحہ کے حاملین کو کامیابی اور جنت کی خوش خبری سنانے والا اور مشرکین و مکذبین کو عذاب نار سے ڈرانے والا۔
٤۔٢ یعنی غور و فکر اور تدبر و تعقل کی نیت سے نہیں سنتے کہ جس سے انہیں فائدہ ہو۔ اسی لیے ان کی اکثریت ہدایت سے محروم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا قُلُوبُنَا فِي أَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ وَفِي آذَانِنَا وَقْرٌ‌ وَمِن بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ إِنَّنَا عَامِلُونَ ﴿٥﴾
اور انہوں نے کہا کہ تو جس کی طرف ہمیں بلا رہا ہے ہمارے دل تو اس سے پردے میں ہیں (١) اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے (٢) اور ہم میں اور تجھ میں ایک حجاب ہے، اچھا تو اب اپنا کام کیے جا ہم بھی یقیناً کام کرنے والے ہیں۔ (٣)
٥۔١ أَكِنَّةً، كِنَانٌ کی جمع ہے۔ پردہ۔ یعنی ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں کہ ہم تیری توحید و ایمان کی دعوت کو سمجھ سکیں۔
٥۔٢ وَقْرٌ کے اصل معنی بوجھ کے ہیں، یہاں مراد بہرا پن ہے، جو حق کے سننے میں مانع تھا۔
٥۔٣ یعنی ہمارے اور تیرے درمیان ایسا پردہ حائل ہے کہ تو جو کہتا ہے، وہ سن نہیں سکتے اور جو کرتا ہے اسے دیکھ نہیں سکتے۔ اس لیے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم تجھے تیرے حال پر چھوڑ دیں، تو ہمارے دین پر عمل نہیں کرتا، ہم تیرے دین پر عمل نہیں کر سکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ‌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُ‌وهُ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِ‌كِينَ ﴿٦﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ میں تم ہی جیسا انسان ہوں مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے (۱) سو تم اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اس سے گناہوں کی معافی چاہو، اور ان مشرکوں کے لیے (بڑی ہی) خرابی ہے۔
٦۔۱ یعنی میرے اور تمہارے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے۔ بجز وحی الٰہی کے پھر یہ بعد و حجاب کیوں؟ علاوہ ازیں میں جو دعوت توحید پیش کر رہا ہوں، وہ بھی ایسی نہیں کہ عقل و فہم میں نہ آ سکے، پھر اس سے اعراض کیوں؟
 
Top