• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فَضَرْ‌بَ الرِّ‌قَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْ‌بُ أَوْزَارَ‌هَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ‌ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿٤﴾
تو جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو گردنوں پر وار مارو۔ (۱) جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قید و بند سے گرفتار کرو، (۲) (پھر اختیار ہے) کہ خواہ احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ (۳) لے کر تاوقتیکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔ (٤) یہی حکم ہے (۵) اور اگر اللہ چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا، (٦) لیکن (اس کا منشا یہ ہے) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعے لے لے، (۷) جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دیئے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ (٨)
٤۔۱ جب دونوں فریقوں کا ذکر کر دیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا کہ اس تعبیر میں کفار کے ساتھ غلظت و شدت کا زیادہ اظہار ہے۔ (فتح القدیر)
٤۔۲ یعنی زور دار معرکہ آرائی اور زیادہ سے زیادہ ان کو قتل کرنے کے بعد، ان کے جو آدمی قابو میں آجائیں، انہیں قیدی بنا لو اور مضبوطی سے انہیں جکڑ کر رکھو تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں۔
٤۔۳ مَنٌّ کا مطلب ہے بغیر فدیہ لیے بطور احسان چھوڑ دینا اور فداء کا مطلب، کچھ معاوضہ لے کر چھوڑنا ہے، قیدیوں کے بارے میں اختیار دے دیا گیا جو صورت، حالات کے اعتبار سے اسلام اور مسلمانوں کےحق میں زیادہ بہتر ہو وہ اختیار کر لی جائے۔
٤۔٤ یعنی کافروں کے ساتھ جنگ ختم ہو جائے، یا مراد ہے کہ محارب دشمن شکست کھا کر یا صلح کرکے ہتھیار رکھ دے یا اسلام غالب آجائے اور کفر کا خاتمہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ صورت حال نہ ہو جائے، کافروں کے ساتھ تمہاری معرکہ آرائی جاری رہے گی جس میں تم انہیں قتل بھی کرو گے قیدیوں میں تمہیں مذکورہ دونوں باتوں کا اختیار ہے، بعض کہتےہیں، یہ آیت منسوخ ہے اور سوائے قتل کے کوئی صورت باقی نہیں ہے۔ لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں محکم ہے۔ اور امام وقت کو چاروں باتوں کا اختیار ہے، کافروں کو قتل کرے یا قیدی بنائے۔ قیدیوں میں سے جس کو یا سب کو چاہے بطور احسان چھوڑ دے یا معاوضہ لے کر چھوڑ دے۔ (فتح القدیر)
٤۔۵ یا تم اسی طرح کرو، (افْعَلُوا ذَلِك یا ذَلِكَ حُكْمُ الْكُفَّارِ)
٤۔٦ مطلب کافروں کو ہلاک کرکے یا انہیں عذاب میں مبتلا کرکے۔ یعنی ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
٤۔۷ یعنی تمہیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے تاکہ وہ جان لے کہ تم میں سے اس کی راہ میں لڑنے والے کون ہیں؟ تاکہ ان کو اجر وثواب دے اور ان کے ہاتھوں سے کافروں کو ذلت وشکست سے دوچار کرے۔
٤۔٨ یعنی ان کا اجر و ثواب ضائع نہیں فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ﴿٥﴾
انہیں راہ دکھائے گا اور ان کے حالات کی اصلاح کر دے گا۔ (١)
٥۔١ یعنی انہیں ایسے کاموں کی توفیق دے گا جن سے ان کے لیے جنت کا راستہ آسان ہو جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّ‌فَهَا لَهُمْ ﴿٦﴾
اور انہیں اس جنت میں لے جائے گا جس سے انہیں شناسا کر دیا ہے۔ (١)
٦۔١ یعنی جسے وہ بغیر رہنمائی کے پہچان لیں گے اور جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ازخود ہی اپنے اپنے گھروں میں جا داخل ہوں گے۔ اس کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک جنتی کو اپنے جنت والے گھر کے راستوں کا اس سے کہیں زیادہ علم ہو گا، جتنا دنیا میں اسے اپنے گھر کا تھا)۔ (صحيح بخاری، كتاب الرقاق، باب القصاص يوم القيامة)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُ‌وا اللَّـهَ يَنصُرْ‌كُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴿٧﴾
اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا (۱) اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ (۲)
۷۔۱ اللہ کی مدد کرنے سے مطلب، اللہ کے دین کی مدد ہے۔ کیونکہ وہ اسباب کے مطابق اپنے دین کی مدد اپنے مومن بندوں کے ذریعے سے ہی کرتا ہے۔ یہ مومن بندے اللہ کے دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ و دعوت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے یعنی انہیں کافروں پرفتح و غلبہ عطا کرتا ہے۔ جیسے صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی روشن تاریخ ہے، وہ دین کے ہو گئے تھے تو اللہ بھی ان کا ہو گیا تھا، انہوں نے دین کو غالب کیا تو اللہ نے انہیں بھی دنیا پر غالب فرما دیا۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ ﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ﴾ (الحج: ۴۰) (اللہ اس کی ضرور مدد فرماتا ہے جو اس کی مدد کرتا ہے)۔
۷۔۲ یہ لڑائی کے وقت تَثْبِيتُ أَقْدَامٍ یہ عبارت ہے مواطن حرب میں نصر و معونت سے۔ بعض کہتے ہیں اسلام، یا پل صراط پر ثابت قدم رکھے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿٨﴾
اور جو لوگ کافر ہوئے انہیں ہلاکی ہو اللہ ان کے اعمال غارت کر دے گا۔

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِ‌هُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ ﴿٩﴾
یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ چیز سے ناخوش ہوئے، (١) پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیئے۔ (۲)
٩۔١ یعنی قرآن اور ایمان کو انہوں نے ناپسند کیا۔
۹۔۲ اعمال سے مراد، وہ اعمال ہیں جو صورۃ اعمال خیر ہیں لیکن عدم ایمان کی وجہ سے اللہ کے ہاں ان پر اجر و ثواب نہیں ملے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَلَمْ يَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَيَنظُرُ‌وا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ دَمَّرَ‌ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ ۖ وَلِلْكَافِرِ‌ينَ أَمْثَالُهَا ﴿١٠﴾
کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر اس کا معائنہ نہیں کیا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا نتیجہ ہوا؟ (۱) اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کافروں کے لیے اس طرح کی سزائیں ہیں۔ (۲)
۱۰۔۱ جن کے بہت سے آثار ان کے علاقوں میں موجود ہیں۔ نزول قرآن کے وقت بعض تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات اور آثار موجود تھے، اس لیے انہیں چل پھر کر ان کے عبرت ناک انجام دیکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی کہ شاید ان کو دیکھ کر ہی یہ ایمان لے آئیں۔
١٠۔۲ یہ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارے لیے بھی ایسی ہی سزا ہو سکتی ہے؟ اور گزشتہ کافر قوموں کی ہلاکت کی طرح، تمہیں بھی ہلاکت سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِ‌ينَ لَا مَوْلَىٰ لَهُمْ ﴿١١﴾
وہ اس لیے کہ ایمان والوں کا کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس لیے کہ کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔ (۱)
۱۱۔۱ چنانچہ جنگ احد میں کافروں کے نعروں کے جواب میں مسلمانوں نے جو نعرے بلند کیے۔ مثلاً (اعْلُ هُبَلْ، اعْلُ هُبَلْ) (ھبل بت کا نام بلند ہو) کے جواب میں [اللهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ] کافروں کے انہی نعروں میں سے ایک نعرے لَنَا الْعُزَّى وَلا عُزَّى لَكُمْ کے جواب میں مسلمانوں کا نعرہ تھا [اللهُ مَوْلانَا وَلا مَوْلَى لَكُمْ] (صحيح بخاری، غزوة أحد) ”اللہ ہمارا مدد گار ہے، تمہارا کوئی مددگار نہیں“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ‌ مَثْوًى لَّهُمْ ﴿١٢﴾
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے انہیں اللہ تعالیٰ یقیناً ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کافر ہوئے وہ (دنیا ہی کا) فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں، (١) ان کا (اصل) ٹھکانا جہنم ہے۔
١٢۔١ یعنی جس طرح جانوروں کو پیٹ اور جنس کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہی حال کافروں کا ہے، ان کا مقصد زندگی بھی کھانے پینے کےعلاوہ کچھ نہیں، آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ اس سے ضمناً کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت کا بھی اثبات ہوتا ہے، جس کا آج کل دعوتوں میں عام رواج ہے کیوں کہ اس میں بھی جانوروں سے مشابہت ہے جسے کافروں کا شیوہ بتلایا گیا ہے۔ احادیث میں کھڑے کھڑے پانی پینے سے نہایت سختی سے منع کیا گیا ہے، جس سے کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر کھانے سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ دیکھئے زاد المعاد۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَأَيِّن مِّن قَرْ‌يَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْ‌يَتِكَ الَّتِي أَخْرَ‌جَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلَا نَاصِرَ‌ لَهُمْ ﴿١٣﴾
ہم نے کتنی بستیوں کو جو طاقت میں تیری اس بستی سے زیادہ تھیں جس سے تجھے نکالا گیا ہم نے انہیں ہلاک کر دیا ہے، جن کا مددگار کوئی نہ اٹھا۔

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّ‌بِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُم ﴿١٤﴾
کیا پس وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لیے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟ (١)
١٤۔۱ برے کام سے مراد، شرک و معصیت ہیں، مطلب وہی ہے جو پہلے بھی متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ مومن و کافر، مشرک و موحد اور نیکو کار و بدکار برابر نہیں ہو سکتے۔ ایک کے لیے اللہ کے ہاں اجر و ثواب اور جنت کی نعمتیں ہیں، جب کہ دوسرے کے لیے جہنم کا ہولناک عذاب۔ اگلی آیت میں دونوں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس جنت کی خوبیاں اور محاسن، جن کا وعدہ متقین سے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ‌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ‌ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ‌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ‌ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ‌ مِّنْ خَمْرٍ‌ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِ‌بِينَ وَأَنْهَارٌ‌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَ‌اتِ وَمَغْفِرَ‌ةٌ مِّن رَّ‌بِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ‌ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ ﴿١٥﴾
اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بد بو کرنے والا نہیں، (۱) اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلا، (۲) اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لیے بڑی لذت ہے (۳) اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں (٤) ان کے لیے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ (۵)
۱۵۔۱ آسِنٍ کے معنی، متغیر۔ یعنی بدل جانے والا، غیر آسن نہ بدلنے والا۔ یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہو جاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہو جاتا ہے۔ جنت کے پانی کی یہ خوبی ہو گی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہو گا۔ یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جب پیو، تازہ، مفرح اور صحت افزا جب دنیا کا پانی خراب ہو سکتا ہے تو شریعت نے اسی لئے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے، جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے، کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہو جائے گا۔
۱۵۔۲ جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعض دفعہ خراب ہو جاتا ہے جو گایوں، بھینسوں اور بکریوں وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے۔ جنت کا دودھ چونکہ اس طرح جانوروں کے تھنوں سے نہیں نکلے گا، بلکہ اس کی نہریں ہوں گی، اس لیے، جس طرح وہ نہایت لذیذ ہو گا، خراب ہونے سے بھی محفوظ ہو گا۔
۱۵۔۳ دنیا میں جو شراب ملتی ہے، وہ عام طور پر تلخ، بدمزہ اور بدبو دار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں پی کر انسان بالعموم حواس باختہ ہو جاتا ہے، اول فول بکتا ہے اور اپنے جسم تک کا ہوش اسے نہیں رہتا۔ جنت کی شراب دیکھنے میں حسین، ذائقے میں اعلیٰ اور نہایت خوشبودار ہو گی اور اسے پی کر کوئی انسان بہکے گا، نہ کوئی گرانی محسوس کرے گا۔ بلکہ ایسی لذت و فرحت محسوس کرے گا جس کا تصور اس دنیا میں ممکن نہیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿لا فِيهَا غَوْلٌ وَلا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ﴾ (سورة الصافات: ۴۷) نہ اسے چکر آئے گا نہ عقل جائے گی۔ مزید دیکھئے (سورة الواقعہ: ۱۹)
۱۵۔٤ یعنی شہد میں بالعموم جن چیزوں کی آمیزش کا امکان رہتا ہے، جس کا مشاہدہ دنیا میں عام ہے جنت میں ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہو گا۔ بالکل صاف شفاف ہو گا، کیونکہ یہ دنیا کی طرح مکھیوں سے حاصل کردہ نہیں ہو گا، بلکہ اس کی بھی نہریں ہوں گی۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا۔ جب بھی تم سوال کرو تو جنت الفردوس کی دعا کرو، اس لیے کہ وہ جنت کا درمیانہ اور اعلیٰ درجہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے (صحيح بخاری، كتاب الجهاد، باب درجات المجاهدين في سبيل الله)۔
١٥۔۵ یعنی جن کو جنت میں وہ اعلیٰ درجے نصیب ہوں گے جو مذکور ہوئے کیا وہ ایسے جہنمیوں کے برابر ہیں جن کا یہ حال ہو گا؟ ظاہر بات ہے ایسا نہیں ہو گا۔ بلکہ ایک درجات میں ہو گا اور دوسرا درکات (جہنم) میں۔ ایک نعمتوں میں داد طرب و عیش دے رہا ہو گا، دوسرا عذاب جہنم کی سختیاں جھیل رہا ہو گا۔ ایک اللہ کا مہمان ہو گا جہاں انواع و اقسام کی چیزیں اس کی تواضع اور اکرام کے لیے ہوں گی اور دوسرا اللہ کا قیدی، جہاں اس کو کھانے کے لیے زقوم جیسا تلخ و کسیلا کھانا اور پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔
 
Top