• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَا أَنتُمْ هَـٰؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ ۖ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ۚ وَاللَّـهُ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَ‌اءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَ‌كُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم ﴿٣٨﴾
خبردار! تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلائے جاتے ہو، (۱) تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وہ تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے۔ (۲) اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم فقیر (اور محتاج) ہو (۳) اور اگر تم روگردان ہو جاؤ (٤) تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے۔ (۵)
۳۸۔۱ یعنی کچھ حصہ زکوٰۃ کے طور پر اور کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔
٣٨۔۲ یعنی اپنے ہی نفس کو انفاق فی سبیل اللہ کے اجر سے محروم رکھتا ہے۔
۳۸۔۳ یعنی اللہ تمہیں خرچ کرنے کی ترغیب اس لیے نہیں دیتا کہ وہ تمہارے مال کا ضرورت مند ہے۔ نہیں، وہ تو غنی ہے، بے نیاز ہے، وہ تو تمہارے ہی فائدے کے لیے تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ اس سے ایک تو تمہارے اپنے نفسوں کا تزکیہ ہو۔ دوسرے، تمہارے ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری ہوں۔ تیسرے، تم دشمن پر غالب اور برتر رہو۔ اس لیے اللہ کی رحمت اور مدد کے محتاج تم ہو نہ کہ اللہ تمہارا محتاج ہے۔
٣٨۔٤ یعنی اسلام سے کفر کی طرف پھر جاؤ۔
۳۵۔۵ بلکہ تم سے زیادہ اللہ اور رسول کے اطاعت گزار اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرنے والے ہوں گے۔ نبی ﷺ سے اس کی بابت پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اس سے مراد یہ اور اس کی قوم ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ایمان ثریا (ستارے) کے ساتھ بھی لٹکا ہوا ہو تو اس کو فارس کے کچھ لوگ حاصل کر لیں گے۔ (الترمذی، ذكره الألباني في الصحيحة ۳ / ۱۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الفتح

(سورة الفتح مدنی ہے اور اس میں انتیس آیتیں ہیں اور چار رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ﴿١﴾
بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔ (۱)
۱۔۱ چھ ہجری میں رسول اللہ ﷺ اور چودہ سو کے قریب صحابہ رضی اللہ عنہم عمرے کی نیت سے مکہ تشریف لے گئے، لیکن مکے کے قریب حدیبیہ کے مقام پر کافروں نے آپ ﷺ کو روک لیا عمرہ نہیں کرنے دیا، آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا نمائندہ بنا کر مکے بھیجا تاکہ رؤسائے سے گفتگو کر کے انہیں مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ کریں۔ لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکہ جانے کے بعد ان کی شہادت کی افواہ پھیل گئی، جس پر آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کی بیعت لی جو بیعت رضوان کہلاتی ہے۔ یہ افواہ غلط نکلی، تاہم کفار مکہ نے اجازت نہیں دی اور مسلمانوں نے آئندہ سال کے وعدے پر واپسی کا ارادہ کر لیا، وہیں اپنے سر بھی منڈوا لیے اور قربانیاں کر لیں۔ نیز کفار سے بھی چند باتوں کا معاہدہ ہوا، جنہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کی اکثریت ناپسند کرتی تھی لیکن نگاہ رسالت نے اس کے دور رس اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے، کفار کی شرائط پر ہی صلح کو بہتر سمجھا۔ حدیبیہ سے مدینے کی طرف آتے ہوئے راستے میں یہ سورت اتری، جس میں صلح کو فتح مبین سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ یہ صلح فتح مکہ کا ہی پیش خیمہ ثابت ہوئی اور اس کے دو سال بعد ہی مسلمان مکے میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے۔ اسی لیے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے تھے کہ تم فتح مکہ کو شمار کرتے ہو لیکن ہم حدیبیہ کی صلح کو فتح شمار کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے اس سورت کی بابت فرمایا کہ آج کی رات مجھ پر وہ سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا و ما فیہا سے زیادہ محبوب ہے (صحیح بخاری، کتاب المغازی)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّيَغْفِرَ‌ لَكَ اللَّـهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ‌ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَ‌اطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿٢﴾
تاکہ جو کچھ تیرے گناہ آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، (۱) اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے (۲) اور تجھے سیدھی راہ چلائے۔ (۳)
۲۔۱ اس سے مراد ترک اولیٰ والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ ﷺ نے اپنی فہم و اجتہاد سے کیے، لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا، جیسے عبداللہ بن ام مکتوم رضی الله عنہ وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورۂ عبس کا نزول ہوا، یہ معاملات و امور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں، لیکن آپ ﷺ کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کوتاہیاں شمار کر لیا گیا، جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے۔ لِيَغْفِرَ میں لام تعلیل کے لیے ہے۔ یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں۔ اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب، اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا، جس سے آپ ﷺ کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور حسنات، و بلندی درجات میں بھی۔
۲۔۲ اس دین کو غالب کرکے جس کی تم دعوت دیتے ہو۔ یا فتح و غلبہ عطا کرکے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ مغفرت اور ہدایت پر استقامت یہی اتمام نعمت ہے (فتح القدیر)۔
٢۔۳ یعنی اس پر استقامت نصیب فرمائے۔ ہدایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجات سے نوازے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَنصُرَ‌كَ اللَّـهُ نَصْرً‌ا عَزِيزًا ﴿٣﴾
اور آپ کو ایک زبردست مدد دے۔

هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ ۗ وَلِلَّـهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٤﴾
وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطمینان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں، (۱) اور آسمانوں اور زمین کے (کل) لشکر اللہ ہی کے ہیں۔ (۲) اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے۔
٤۔۱ یعنی اس اضطراب کے بعد، جو مسلمانوں کو شرائط صلح کی وجہ سے لاحق ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی، جس سے ان کے دلوں کو اطمینان، سکون اور ایمان مزید حاصل ہوا۔ یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
٤۔۲ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے کسی لشکر (مثلاً فرشتوں) سے کفار کو ہلاک کروا دے۔ لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ایسا نہیں کیا اور اس کے بجائے مومنوں کو قتال و جہاد کا حکم دیا۔ اسی لیے آگے اپنی صفت علیم و حکیم بیان فرمائی ہے۔ یا مطلب ہے کہ آسمان و زمین کے فرشتے اور اسی طرح دیگر ذی شوکت و قوت لشکر سب اللہ کے تابع ہیں اور ان سے جس طرح چاہتا ہے کام لیتا ہے۔ بعض دفعہ وہ ایک کافر گروہ کو ہی دوسرے کافر گروہ پر مسلط کرکے مسلمانوں کی امداد کی صورت پیدا فرما دیتا ہے۔ مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ اے مومنو! اللہ تعالیٰ تمہارا محتاج نہیں ہے، وہ اپنے پیغمبر اور اپنے دین کی مدد کا کام کسی بھی گروہ اور لشکر سے لے سکتا ہے۔ (ابن کثیر وایسر التفاسیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ‌ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ اللَّـهِ فَوْزًا عَظِيمًا ﴿٥﴾
تاکہ مومن مردوں اور عورتوں کو ان جنتوں میں لے جائے جن (۱) کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے، اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
۵۔۱ حدیث میں آتا ہے کہ جب مسلمانوں نے سورۂ فتح کا ابتدائی حصہ سنا ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ﴾ تو انہوں نے نبی ﷺ سے کہا آپ ﷺ کو مبارک ہو، ہمارے لیے کیا ہے؟ جس پر اللہ نے آیت ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ نازل فرما دی (صحيح بخاری، باب غزوة الحديبية) بعض کہتے ہیں کہ یہ لِيَزْدَادُوا یا يَنْصُرَكَ کے متعلق ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِ‌كِينَ وَالْمُشْرِ‌كَاتِ الظَّانِّينَ بِاللَّـهِ ظَنَّ السَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَ‌ةُ السَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرً‌ا ﴿٦﴾
اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، (۱) (دراصل) انہی پر برائی کا پھیرا ہے، (۲) اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے دوزخ تیار کی اور وہ (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
٦۔۱ یعنی اللہ کو اس کے حکموں پر متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی الله عنہم کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہو جائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (ابن کثیر)۔
٦۔۲ یعنی یہ جس گردش، عذاب یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لیے منتظر ہیں، وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِلَّـهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿٧﴾
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ (١)
٧۔١ یہاں اسے منافقین اور کفار کے ضمن میں دوبارہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان دشمنوں کو ہر طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنی حکمت و مشیت کے تحت ان کو جتنی چاہے مہلت دے دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ﴿٨﴾
یقیناً ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَتُعَزِّرُ‌وهُ وَتُوَقِّرُ‌وهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَ‌ةً وَأَصِيلًا ﴿٩﴾
تاکہ (اے مسلمانو)، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام۔

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّـهَ يَدُ اللَّـهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّـهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿١٠﴾
جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقیناً اللہ سے بیعت کرتے ہیں، (١) ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے، (۲) تو جو شخص عہد شکنی کرے وہ اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے (۳) اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے (٤) تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا۔
۱۰۔ ۱ یعنی یہ بیعت دراصل اللہ ہی کی ہے، کیونکہ اسی نے جہاد کا حکم دیا اور اس پر اجر بھی وہی عطا فرمائے گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ اپنے نفسوں اور مالوں کا جنت کے بدلے اللہ کے ساتھ سودا ہے (التوبۃ: ۱۱۱) یہ اسی طرح ہے جیسے ﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ (النساء: ۸۰)
١٠۔۲ آیت سے وہی بیعت رضوان مراد ہےجو نبی ﷺ نے حضرت عثمان رضی الله عنہ کی خبر شہادت سن کر ان کا انتقام لینے کے لیے حدیبیہ میں موجود ۱۴ یا ۱۵ سو مسلمانوں سے لی تھی۔
١٠۔۳ نَكْثٌ (عہد شکنی) سے مراد یہاں بیعت کا توڑ دینا یعنی عہد کے مطابق لڑائی میں حصہ نہ لینا ہے۔ یعنی جو شخص ایسا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔
١٠۔٤ کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی مدد کرے گا، ان کے ساتھ ہو کر لڑے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح و غلبہ عطا فرما دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَ‌ابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ‌ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّـهِ شَيْئًا إِنْ أَرَ‌ادَ بِكُمْ ضَرًّ‌ا أَوْ أَرَ‌ادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا ﴿١١﴾
دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے رہ گئے پس آپ ہمارے لیے مغفرت طلب کیجئے۔ (۱) یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ (۲) آپ جواب دیجئے کہ تمہارے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی اختیار کون رکھتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو (۳) یا تمہیں کوئی نفع دینا چاہے (٤) تو، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خوب باخبر ہے۔ (۵)
۱۱۔۱ اس سے مدینے کے اطراف میں آباد قبیلے، غفار، مزینہ، جہینہ، اسلم اور دئل مراد ہیں۔ جب نبی ﷺ نے خواب دیکھنے کے بعد (جس کی تفصیل آگے آئے گی) عمرے کے لیے مکہ جانے کی عام منادی کرا دی۔ مذکورہ قبلیوں نے سوچا کہ موجودہ حالات تو مکہ جانے کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ وہاں ابھی کافروں کا غلبہ ہے اور مسلمان کمزور ہیں نیز مسلمان عمرے کے لیے پورے طور پر ہتھیار بند ہو کر بھی نہیں جا سکتے۔ اگر ایسے میں کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کر لیا تو مسلمان خالی ہاتھ ان کا مقابلہ کس طرح کریں گے؟ اس وقت مکے جانے کا مطلب اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ ﷺ کے ساتھ عمرے کے لیے نہیں گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بابت فرما رہا ہے کہ یہ تجھ سے مشغولیوں کا عذر پیش کرکے طلب مغفرت کی التجائیں کریں گے۔
۱۱۔۲ یعنی زبانوں پرتو یہ ہے کہ ہمارے پیچھے ہمارے گھروں کی اور بیوی بچوں کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس لیے ہمیں خود ہی رکنا پڑا، لیکن حقیقت میں ان کا پیچھے رہنا، نفاق اور اندیشہ موت کی وجہ سے تھا۔
١١۔۳ یعنی اگر اللہ تمہارے مال ضائع کرنے اور تمہارے اہل کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لے تو کیا تم میں سے کوئی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اللہ کو ایسا نہ کرنے دے۔
۱۱۔٤ یعنی تمہیں مدد پہنچانا اور تمہیں غنیمت سے نوازنا چاہے۔ تو کوئی روک سکتا ہے؟ یہ دراصل مذکورہ متخلفین (پیچھے رہ جانے والوں) کا رد ہے جنہوں نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ اگر نبی ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تو نقصان سے محفوظ اور منافع سے بہرہ ور ہوں گے۔ حالانکہ نفع وضرر کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
١١۔۵ یعنی تمہیں تمہارے عملوں کی پوری جزا دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّ‌سُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورً‌ا ﴿١٢﴾
(نہیں) بلکہ تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعًا ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا۔ (١) دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے۔ (۲)
١٢۔١ اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول ﷺ کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لیے ہے۔
۱۲۔۲ بُورٌ، بَائِرٌ کی جمع ہے، ہلاک ہونے والا، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے۔ اگر دنیا میں یہ اللہ کےعذاب سے بچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جا سکتے وہاں تو عذاب ہر صورت میں بھگتنا ہو گا۔
 
Top