• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْ‌تَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿١٥﴾
مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں۔ (١)
١٥۔١ نہ کہ وہ جو صرف زبان سے اسلام کا اظہار کر دیتے ہیں اور مذکورہ اعمال کا سرے سے کوئی اہتمام ہی نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّـهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ وَاللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿١٦﴾
کہہ دیجئے! کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری سے آگاہ کر رہے ہو، (١) اللہ ہر چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (٢)
١٦۔١ تعلیم، یہاں اعلام اور اخبار کے معنی میں ہے۔ یعنی آمَنَّا کہہ کر تم اللہ کو اپنے دین و ایمان سے آگاہ کر رہے ہو؟ یا اپنے دلوں کی کیفیت اللہ کو بتلا رہے ہو؟
١٦۔٢ تو کیا تمہارے دلوں کی کیفیت پر یا تمہارے ایمان کی حقیقت سے وہ آگاہ نہیں؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٧﴾
اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو۔ (١)
١٧۔١ یہی اعراب نبی ﷺ کو کہتے کہ دیکھو ہم مسلمان ہو گئے اور آپ ﷺ کی مدد کی، جب کہ دوسرے عرب آپ ﷺ سے برسرپیکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرماتے ہوئے فرمایا، تم اللہ پر اسلام لانے کا احسان مت جتلاؤ اس لیے کہ اگر تم اخلاص سے مسلمان ہوئے ہو تو اس کا فائدہ تمہیں ہی ہو گا، نہ کہ اللہ کو۔ اس لیے یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دے دی نہ کہ تمہارا احسان اللہ پر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة ق

(سورة ق مکی ہے اور اس میں پینتالیس آیتیں اور تین رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز میں سورہ ق اور اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے (صحیح مسلم) ہر جمعے کے خطبے میں بھی پڑھتے تھے (صحیح مسلم) امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عیدین اور جمعے میں پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ بڑے مجمعوں میں یہ سورۃ پڑھا کرتے تھے، کیونکہ اس میں ابتدائے خلق، بعث و نشور، معاد و قیام، حساب، جنت دوزخ، ثواب و عتاب اور ترغیب و ترہیب دلانے کا بیان ہے۔

ق ۚ وَالْقُرْ‌آنِ الْمَجِيدِ ﴿١﴾
ق! بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے۔ (١)
١۔١ اس کا جواب قسم محذوف ہے لَتُبْعَثُنَّ (تم ضرور قیامت والے دن اٹھائے جاؤ گے) بعض کہتے ہیں اس کا جواب مابعد کا مضمون کلام ہے جس میں نبوت اور معاد کا اثبات ہے۔ (فتح القدیر وابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ‌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُ‌ونَ هَـٰذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ ﴿٢﴾
بلکہ انہیں تعجب معلوم ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاہ کرنے والا آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔ (١)
٢۔١ حالانکہ اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہے۔ ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا جس میں اسے مبعوث کیا جاتا تھا۔ اسی حساب سے قریش مکہ کو ڈرانے کے لیے قریش ہی میں سے ایک شخص کو نبوت کے لیے چن لیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَ‌ابًا ۖ ذَٰلِكَ رَ‌جْعٌ بَعِيدٌ ﴿٣﴾
کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے۔ پھر یہ واپسی دور (از عقل) ہے۔ (١)
٣۔١ حالانکہ عقلی طور پر اس میں بھی کوئی استحالہ نہیں ہے۔ آگے اس کی کچھ وضاحت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْ‌ضُ مِنْهُمْ ۖ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ ﴿٤﴾
زمین جو کچھ ان میں سے گھٹاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے۔ (١)
٤۔١ یعنی زمین انسان کے گوشت، ہڈی اور بال وغیرہ کو بوسیدہ کرکے کھا جاتی ہے یعنی اسے ریزہ ریزہ کر دیتی ہے وہ نہ صرف ہمارے علم میں ہے بلکہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ اس لیے ان تمام اجزا کو جمع کرکے انہیں دوبارہ زندہ کر دینا ہمارے لیے قطعاً مشکل امر نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ‌ مَّرِ‌يجٍ ﴿٥﴾
بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا ہے جبکہ وہ ان کے پاس پہنچ چکی پس وہ الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں۔ (١)
٥۔١ حَقٌّ (سچی بات) سے مراد قرآن، اسلام یا نبوت محمدیہ ہے، مفہوم سب کا ایک ہی ہے مَرِيجٌ کے معنی محتاط، مضطرب یا ملتبس کے ہیں۔ یعنی ایسا معاملہ جو ان پر مشتبہ ہو گیا ہے، جس سے وہ ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں، کبھی اسے جادو گر کہتے ہیں، کبھی شاعر اور کبھی کاہن۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَلَمْ يَنظُرُ‌وا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُ‌وجٍ ﴿٦﴾
کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے (١) اور زینت دی ہے (٢) اس میں کوئی شگاف نہیں۔ (۳)
٦۔١ یعنی بغیر ستون کے، جن کا اسے کوئی سہارا ہو۔
٦۔٢ یعنی ستاروں سے اسے مزین کیا۔
٦۔۳ اسی طرح کوئی فرق و تفاوت بھی نہیں ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ، ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ﴾ (الملك: ۳-۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْأَرْ‌ضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَ‌وَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿٧﴾
اور زمین کو ہم نے بچھا دیا ہے اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دیں ہیں۔ (١)
٧۔١ اور بعض نے زوج کے معنی جوڑا کیے ہیں۔ یعنی ہر قسم کی نباتات اور اشیا کو جوڑا جوڑا (نر اور مادہ) بنایا ہے۔ بھیج کے معنی، خوش منظر، شاداب اور حسین۔
 
Top