• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَبْصِرَ‌ةً وَذِكْرَ‌ىٰ لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ ﴿٨﴾
تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو۔ (۱)
٨۔١ یعنی آسمان و زمین کی تخلیق اور دیگر اشیا کا مشاہدہ اور ان کی معرفت ہر اس شخص کے لیے بصیرت و دانائی اور عبرت و نصیحت کا باعث ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَ‌كًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ ﴿٩﴾
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے۔ (۱)
۹۔۱ کٹنے والے غلے سے مراد وہ کھیتیاں ہیں، جن سے گندم، مکئی، جوار، باجرہ، ڈالیں اور چاول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان کا ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ ﴿١٠﴾
اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں۔ (۱)
۱۰۔۱ بَاسِقَاتٍ کے معنی طِوَالا شِاهِقَاتٍ، بلند وبالا طَلْعٌ، کھجور کا وہ گدرا گدرا پھل، جو پہلے پہل نکلتا ہے، نَضِيدٌ کے معنی تہ بہ تہ۔ باغات میں کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن اسے الگ سے بطور خاص ذکر کیا، جس سے کھجور کی وہ اہمیت واضح ہے جو عرب میں اسے حاصل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رِّ‌زْقًا لِّلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ الْخُرُ‌وجُ ﴿١١﴾
بندوں کی روزی کے لیے اور ہم نے پانی سے مردہ شہر کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح (قبروں سے) نکلنا۔ (١)
١١۔١ یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین کو زندہ اور شاداب کر دیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن ہم قبروں سے انسانوں کو زندہ کرکے نکال لیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّ‌سِّ وَثَمُودُ ﴿١٢﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں (١) نے اور ثمود نے۔
١٢۔١ أَصْحَابُ الرَّسِّ کی تعیین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے جس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورۂ بروج میں ہے (تفصیل کے لیے دیکھئے ابن کثیر وفتح القدیر، سورۃ الفرقان آیت ۳۸)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَعَادٌ وَفِرْ‌عَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ ﴿١٣﴾
اور عاد نے اور فرعون نے اور برادران لوط نے۔

وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّ‌سُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ﴿١٤﴾
اور ایکہ (١) والوں نے اور تبع کی قوم (٢) نے بھی تکذیب کی تھی۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا (۳) پس میرا وعدہ عذاب ان پر صادق آگیا۔
١٤۔١ أَصْحَابُ الأيْكَةِ کے لیے دیکھئے سورۃ الشعراء، آیت ۱۷۶ کا حاشیہ۔
١٤۔٢ قَوْمُ تُبَّعٍ کے لیے دیکھئے سورۃ الدخان، آیت ۳۷ کا حاشیہ۔
١٤۔۳ یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ گویا آپ ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اپنی قوم کی طرف سے اپنی تکذیب پر غمگین نہ ہوں اس لیے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، آپ ﷺ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا۔ دوسرے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ پچھلی قوموں نے انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کی تو دیکھ لو ان کا کیا انجام ہوا؟ کیا تم بھی اپنے لیے یہی انجام پسند کرتے ہو؟ اگر یہ انجام پسند نہیں کرتے تو تکذیب کا راستہ چھوڑ دو اور پیغمبر ﷺ پر ایمان لے آؤ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿١٥﴾
کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے تھک گئے؟ (۱) بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں۔ (۲)
١٥۔١ کہ قیامت والے دن دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں تھا تو دوبارہ زندہ کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ﴾ (الروم: ۲۷) سورۂ یٰسین، آیت ۷۸-۷۹ میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اور حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”ابن آدم یہ کہہ کر مجھے ایذا پہنچاتا ہے کہ اللہ مجھے ہرگز دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے جس طرح اس نے پہلی مرتبہ مجھے پیدا کیا۔ حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا، دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے“ یعنی اگر مشکل ہے تو پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری مرتبہ (البخاری تفسير سورة الإخلاص)۔
١٥۔۲ یعنی یہ اللہ کی قدرت کے منکر نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں قیامت کے وقوع اور اس میں دوبارہ زندگی کے بارے میں ہی شک ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَ‌بُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِ‌يدِ ﴿١٦﴾
ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں (۱) اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ (۲)
۱٦۔۱ یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے، وہ سب ہم جانتے ہیں۔ وسوسہ، دل میں گزرنے والے خیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پر گرفت نہیں فرمائے گا۔ جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے“۔ (البخاری كتاب الإيمان باب إذا حنث ناسيا في الأيمان مسلم، باب تجاوز الله عن حديث النفس والخواطر بالقلب إذا لم تستقر)
١٦۔۲ وَرِيدٌ شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے۔ اس قرب سے مراد قرب علمی ہے یعنی علم کے لحاظ سے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نَحْنُ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی ہمارے فرشتے انسان کی رگ جان سے بھی قریب ہیں۔ کیونکہ انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے ہر وقت موجود رہتے ہیں، وہ انسان کی ہر بات اور عمل کو نوٹ کرتے ہیں يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ کے معنی ہیں يَأْخُذَانِ وَيُثَبّتَانِ۔ امام شوکانی نے اس کا مطلب بیان کیا ہے کہ ہم انسان کے تمام احوال کو جانتے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم ان فرشتوں کے محتاج ہوں جن کو ہم نے انسان کے اعمال و اقوال لکھنے کے لیے مقرر کیا ہے، یہ فرشتے تو ہم نے صرف اتمام حجت کے لیے مقرر کیے ہیں، دو فرشتوں سے مراد بعض کے نزدیک ایک نیکی اور دوسرا بدی لکھنےکے لیے۔ اور بعض کے نزدیک رات اور دن کے فرشتے مراد ہیں۔ رات کے دو فرشتے الگ اور دن کے دو فرشتے الگ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ ﴿١٧﴾
جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے۔

مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَ‌قِيبٌ عَتِيدٌ ﴿١٨﴾
(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر اس کے پاس نگہبان تیار ہے۔ (١)
١٨۔١ رَقِيبٌ، محافظ، نگران اور انسان کے قول اور عمل کا انتظار کرنے والا۔ عَتِيدٌ حاضر اور تیار۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَاءَتْ سَكْرَ‌ةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ ﴿١٩﴾
اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، (١) یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا (۲)
١٩۔١ دوسرے معنی اس کے ہیں، موت کی سختی حق کے ساتھ آئے گی، یعنی موت کے وقت، حق واضح اور ان وعدوں کی صداقت ظاہر ہو جاتی ہے جو قیامت اور جنت کے بارے میں انبیاء علیہم السلام کرتے رہے ہیں۔
١٩۔۲ تَحِيدُ، تَمِيلُ عَنْهُ وَتَفِرُّ، تو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔
 
Top