• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ‌ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ ﴿٢٠﴾
اور صور پھونک دیا جائے گا۔ وعدہء عذاب کا دن یہی ہے۔

وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ﴿٢١﴾
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک لانے والا ہو گا اور ایک گواہی دینے والا۔ (١)
٢١۔١ سَائِقٌ (ہانکنے والا) اور شَهِيدٌ (گواہ) کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کے نزدیک یہ دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَـٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُ‌كَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ ﴿٢٢﴾
یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پردہ ہٹا دیا پس آج تیری نگاہ بہت تیز ہے۔

وَقَالَ قَرِ‌ينُهُ هَـٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ ﴿٢٣﴾
اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا یہ حاضر ہے جو کہ میرے پاس تھا۔ (١)
٢٣۔١ یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے جو کہ میرے پاس تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلْقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ‌ عَنِيدٍ ﴿٢٤﴾
ڈال دو جہنم میں ہر کافر سرکش کو۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ‌ مُعْتَدٍ مُّرِ‌يبٍ ﴿٢٥﴾
جو نیک کام سے روکنے والا حد سے گزر جانے والا اور شک کرنے والا تھا۔

الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ‌ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ ﴿٢٦﴾
جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا تھا پس اسے سخت عذاب میں ڈال دو۔ (۱)
۲٦۔۱ اللہ تعالیٰ اس فرد عمل کی روشنی میں انصاف اور فیصلہ فرمائے گا۔ أَلْقِيَا سے الشَّدِيدُ تک اللہ کا قول ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ قَرِ‌ينُهُ رَ‌بَّنَا مَا أَطْغَيْتُهُ وَلَـٰكِن كَانَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ ﴿٢٧﴾
اس کا ہم نشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا۔ (١)
٢٧۔١ اس لیے اس نے فوراً میری بات مان لی، اگر یہ تیرا مخلص بندہ ہوتا تو میرے بہکاوے میں ہی نہ آتا یہاں قَرِينٌ (ساتھی) سے مراد شیطان ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ لَا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُم بِالْوَعِيدِ ﴿٢٨﴾
حق تعالیٰ فرمائے گا بس میرے سامنے جھگڑے کی بات مت کرو میں تو پہلے ہی تمہاری طرف وعید (وعدہ عذاب) بھیج چکا تھا۔ (١)
٢٨۔١ یعنی اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے ہم نشین شیطانوں کو کہے گا کہ یہاں موقف حساب یا عدالت انصاف میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے، میں نے پہلے ہی رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے ان وعیدوں سے تم کو آگاہ کر دیا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ ﴿٢٩﴾
میرے ہاں بات بد لتی نہیں (١) اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا ہوں۔ (٢)
٢٩۔١ یعنی جو وعدے میں نے کیے تھے، ان کے خلاف نہیں ہو گا بلکہ وہ ہر صورت میں پورے ہوں گے اور اسی اصول کے مطابق تمہارے لیےعذاب کا فیصلہ میری طرف سے ہوا ہے جس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
٢٩۔٢ کہ بغیر جرم کے جو انہوں نے نہ کیا ہو اور بغیر گناہ کے جس کا صدور ان سے نہ ہوا ہو، میں ان کو عذاب دے دوں؟ ظلام یہاں ظالم کے معنی میں ہے۔ یا محاورۃ بولا گیا ہے، جیسے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اپنے غلاموں پر بڑا ظلم کرتا ہے، فلاں شخص بڑا ظالم ہے مقصد، مبالغے کا نہیں بلکہ صرف اس کی طرف سے ظلم کیے جانے کا اظہار ہوتا ہے۔ یا مقصود نفی میں مبالغہ ہے۔ یعنی میں بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ ﴿٣٠﴾
جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وہ جواب دے گی کیا کچھ اور زیادہ بھی ہے؟ (١)
٣٠۔١ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿لأَمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ﴾ (الم السجدة: ۱۳) ”میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھردوں گا“۔ اس وعدے کا جب ایفا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن وانس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی ہے یا نہیں؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ میں بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لیے میرے دامن میں اب بھی گنجائش ہے، جہنم سے اللہ تعالیٰ کی یہ گفتگو اور جہنم کا جواب دینا، اللہ کی قدرت سے قطعاً بعید نہیں ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے ”آگ میں لوگ ڈالے جائیں گے اور جہنم کہے گی: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ کیا کچھ اور بھی ہیں؟ (حتی کہ اللہ تعالیٰ جہنم میں اپنا پیر رکھ دے گا، جس سے جہنم پکار اٹھے گی، قَطْ قَطْ یعنی بس، بس“ (صحیح بخاری، تفسیر سورۂ ق) اور جنت کے بارے میں آتا ہے کہ جنت میں ابھی خالی جگہ باقی رہ جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسکے لیے نئی مخلوق پیدا فرمائے گا جو وہاں آباد ہو گی۔ (صحيح مسلم كتاب الجنة، باب النار يدخلها الجبارون، والجنة يدخلها الضعفاء)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ‌ بَعِيدٍ ﴿٣١﴾
اور جنت پر ہیز گاروں کے لیے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہو گی۔ (۱)
۳۱۔۱ اور بعض نے کہا ہے کہ قیامت، جس روز جنت قریب کر دی جائے گی، دور نہیں ہے۔ کیونکہ وہ لامحالہ واقع ہو کر رہے گی اور كُلُّ مَا هُوَ آتٍ فَهُوَ قَرِيبٌ اور جو بھی آنے والی چیز ہے، وہ قریب ہی ہے دور نہیں۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَـٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ ﴿٣٢﴾
یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا اور پابندی کرنے والا ہو۔ (١)
٣٢۔١ یعنی اہل ایمان جب جنت کا اور اس کی نعمتوں کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اواب اور حفیظ سے کیا گیا تھا۔ اواب، بہت رجوع کرنے والا، یعنی اللہ کی طرف۔ کثرت سے توبہ و استغفار اور تسبیح و ذکر الٰہی کرنے والا۔ خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ کی بارگاہ میں گڑ گڑانے والا اور ہر مجلس میں استغفار کرنے والا۔ حفیظ، اپنے گناہوں کو یاد کرکے ان سے توبہ کرنے والا، یا اللہ کے حقوق اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا یا اللہ کے اوامر و نواہی کو یاد رکھنے والا (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّنْ خَشِيَ الرَّ‌حْمَـٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ ﴿٣٣﴾
جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو۔ (١)
٣٣۔١ مُنِيبٍ، اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کا اطاعت گزار دل۔ یا بمعنی سلیم، شرک اور معصیت کی نجاستوں سے پاک دل۔
 
Top