• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٢٢﴾
اچھا وہ شخص زیادہ ہدایت والا ہے جو اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چلے (۱) یا وہ جو سیدھا (پیروں کے بل) راہ راست پر چلا ہو؟ (۲)
۲۲۔۱ منہ کے بل اوندھے چلنے والے کو دائیں، بائیں اور آگے کچھ نظر نہیں آتا، نہ وہ ٹھوکروں سے محفوظ ہوتا ہے۔ کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟ یقینا نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح دنیا میں اللہ کی معصیتوں میں ڈوبا ہوا شخص آخرت کی کامیابی سے محروم رہے گا۔
۲۲۔۲ جس میں کوئی کجی اور انحراف نہ ہو اور اسکو آگے اور دائیں بائیں بھی نظر آرہا ہو۔ ظاہر ہے یہ شخص اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے گا۔ یعنی اللہ کی اطاعت کا سیدھا راستہ اپنانے والا، آخرت میں سرخرو رہے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مومن اور کافر دونوں کی اس کیفیت کا بیان ہے جو قیامت والے دن انکی ہو گی۔ کافر منہ کے بل جہنم میں لے جائے جائیں گے اور مومن سیدھے اپنے قدموں سے چل کر جنت میں جائیں گے، جیسے کافروں کے بارے میں دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ﴾(الإسراء: ۹۷) ”ہم انہیں قیامت والے دن منہ کے بل اکٹھا کریں گے“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ‌ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُ‌ونَ ﴿٢٣﴾
کہہ دیجئے! کہ وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا (١) اور تمہارے کان آنکھیں اور اور دل بنائے (۲) تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو۔ (٢)
۲۳۔١ یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔
۲۳۔۲ جن سے تم سن سکو، دیکھ سکو اور اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کر کے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر سکو۔ تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کر سکتا ہے، یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی۔ اسی لیے آگے فرمایا، تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔
٢٣۔٢ یعنی شُکْرًا قَلِیْلًا یا زَمْنًا قَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَ‌أَكُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُ‌ونَ ﴿٢٤﴾
کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ (۱)
٢٤۔۱ یعنی انسانوں کو پیدا کرکے زمین میں پھیلانے والا بھی وہی ہے اور قیامت والے دن سب جمع بھی اس کے پاس ہوں گے کسی اور کے پاس نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٥﴾
(کافر) پوچھتے ہیں کہ وہ وعدہ کب ظاہر ہو گا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟) (١)
٢٥۔١ یہ کافر بطور استہزا اور قیامت کو مستبعد سمجھتے ہوئے کہتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿٢٦﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، (١) میں تو صرف کھلے طور پر آگاہ کر دینے والا ہوں۔ (٢)
٢٦۔١ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، دوسرے مقام پر فرمایا، ﴿قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي﴾ (الأعراف: ۱۸۷)
٢٦۔٢ یعنی میرا کام تو اس انجام سے ڈرانا ہے جو میری تکذیب کی وجہ سے تمہارا ہو گا۔ دوسرے لفظوں میرا کام انذار ہے، غیب کی خبریں بتلانا نہیں۔ الا یہ کہ جس کی بابت خود اللہ مجھے بتلا دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا رَ‌أَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَقِيلَ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ ﴿٢٧﴾
جب یہ لوگ (١) اس وعدے کو قریب تر پا لیں گے اس وقت ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے (٢) اور کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے۔ (٣)
٢٧۔١ رَأوهُ میں ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین کے نزدیک عذاب قیامت ہے۔
٢٧۔٢ یعنی ذلت، ہولناکی اور دہشت سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ جس کو دوسرے مقام پر چہروں کے سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (آل عمران: ۱۰۶)
٢٧۔٣ تدَّعُونَ اور تُدْعَوْنَ کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، وہی ہے جسے تم دنیا میں جلد طلب کرتے تھے۔ جیسے سورۂ ص: ۱۶ اور الانفال: ۳۲ وغیرہ میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّـهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَ‌حِمَنَا فَمَن يُجِيرُ‌ الْكَافِرِ‌ينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٢٨﴾
آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے (بہرصورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟ (۱)
۲۸۔۱ مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے، چاہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو موت یا قتل کے ذریعے سے ہلاک کر دے یا انہیں مہلت دے دے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم باوجود ایمان کے خوف اور رجا کے درمیان ہیں، پس تمہیں تمہارے کفر کے باوجود عذاب سے کون بچائے گا؟۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ هُوَ الرَّ‌حْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢٩﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان لا چکے (١) اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ (٢) تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟
٢٩۔١ یعنی اس کی وحدانیت پر، اسی لیے اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔
٢٩۔٢ کسی اور پر نہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کرتے ہیں، کسی اور کے نہیں۔ جیسے مشرک کرتے ہیں۔
٢٩۔٣ تم ہو یا ہم؟ اس میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرً‌ا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ ﴿٣٠﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا پانی لائے؟ (١)
٣٠۔١ غَوْر کے معنی ہیں خشک ہو جانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے؟ یعنی کوئی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود وہ تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرماتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة القلم

(سورہ قلم مکی ہے اور اس میں باون آیتیں اور دو رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُ‌ونَ ﴿١﴾
ن، (١) قسم ہے قلم کی اور (٢) اس کی جو کچھ وہ (فرشتے) لکھتے ہیں۔ (٣)
١۔١ ن، اسی طرح حروف مقطعات میں سے ہے، جیسے اس سے قبل ص، ق اور دیگر فواتح سور (سورتوں کے آغاز میں) گزر چکے ہیں۔
١۔٢ قلم کی قسم کھائی، جس کی اس لحاظ سے ایک اہمیت ہے کہ اس کے ذریعے سے تبیین و توضیح ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ خاص قلم ہے جسے اللہ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا اور اس کو تقدیر لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس نے ابد تک ہونے والی ساری چیزیں لکھ دیں۔ (سنن ترمذی)
١۔٣ يَسْطُرُونَ کا مرجع اصحاب قلم ہیں، جس پر قلم کا لفظ دلالت کرتا ہے۔ اس لیے کہ آلہ کتاب کا ذکر کاتب کے وجود کو مستلزم ہے۔ مطلب ہے کہ اس کی بھی قسم جو لکھنے والے لکھتے ہیں، یا پھر مرجع فرشتے ہیں، جیسے ترجمہ سے واضح ہے۔
 
Top