• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ﴿٤٥﴾
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ (١)
٤٥۔١ یہ گزشتہ مضمون ہی کی تاکید ہے۔ کید خفیہ تدبیر اور چال کو کہتے ہیں، اچھے مقصد کے لیے ہو تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ اسے اردو زبان کا کید نہ سمجھا جائے جس میں ذم ہی کا مفہوم ہوتا ہے۔

أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرً‌ا فَهُم مِّن مَّغْرَ‌مٍ مُّثْقَلُونَ ﴿٤٦﴾
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہوں۔ (١)
٤٦۔١ یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے لیکن توبیخ ان کو کی جا رہی ہے جو آپ پر ایمان نہیں لا رہے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ ﴿٤٧﴾
یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وہ لکھتے ہوں۔ (۱)
٤۷۔۱ یعنی کیا غیب کا علم ان کے پاس ہے، لوح محفوظ، ان کے تصرف میں ہے کہ اس میں سے جو بات چاہتے ہیں، نقل کر لیتے ہیں (وہاں سے لکھ لاتے ہیں) اس لیے یہ تیری اطاعت اختیار کرنے اور تجھ پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاصْبِرْ‌ لِحُكْمِ رَ‌بِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ﴿٤٨﴾
بس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر) (١) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب (٢) کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی (٣)
٤٨۔١ فَاصْبِرْ‌ میں فاء تفریع کے لیے ہے۔ یعنی جب واقعہ ایسا نہیں ہے تو اے پیغمبر! تو فریضہء رسالت ادا کرتا رہ اور ان مکذبین کے بارے میں اللہ کے فیصلےکا انتظار کر۔
٤٨۔٢ جنہوں نے اپنی قوم کی روش تکذیب کو دیکھتے ہوئے عجلت سے کام لیا اور رب کے فیصلے کے بغیر ہی از خود اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔
٤٨۔٣ جس کے نتیجے میں انہیں مچھلی کے پیٹ میں، جب کہ وہ غم و اندوہ سے بھرے ہوئے تھے، اپنے رب کو مدد کے لیے پکارنا پڑا۔ جیسے کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّوْلَا أَن تَدَارَ‌كَهُ نِعْمَةٌ مِّن رَّ‌بِّهِ لَنُبِذَ بِالْعَرَ‌اءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ ﴿٤٩﴾
اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پا لیتی تو یقیناً وہ برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا۔ (١)
٤٩۔١ یعنی اللہ تعالیٰ اگر انہیں توبہ و مناجات کی توفیق نہ دیتا اور ان کی دعا قبول نہ فرماتا تو انہیں ساحل سمندر کے بجائے، جہاں ان کے سائے اور خوراک کے لیے بیل دار درخت اگا دیا گیا، کسی بنجر زمین میں پھینک دیا جاتا اور عند اللہ ان کی حیثیت بھی مذموم رہتی، جب کہ قبولیت دعا کے بعد وہ محمود ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاجْتَبَاهُ رَ‌بُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٥٠﴾
اسے اس کے رب نے پھر نوازا (١) اور اسے نیک کاروں میں کر دیا۔ (٢)
٥٠۔١ اس کا مطلب ہے کہ انہیں توانا و تندرست کرنے کے بعد دوبارہ رسالت سے نواز کر انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا۔ جیسا کہ (سورۂ صافات: ۱۴۶) سے بھی واضح ہے۔
٥٠۔٢ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ "کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں" (صحیح مسلم، کتاب الفضائل باب فی ذکر یونس) مزید دیکھئے: ص۱۰۹ حاشیہ۱۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِ‌هِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ‌ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ ﴿٥١﴾
اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں، (١) جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے۔ (٢)
٥١۔١ یعنی اگر تجھے اللہ کی حمایت و حفاظت نہ ہوتی تو ان کفار کی حاسدانہ نظروں سے تو نظر بد کا شکار ہو جاتا۔ یعنی ان کی نظر تمہیں لگ جاتی۔ چنانچہ امام ابن کثیر نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے، مزید لکھتے ہیں: "یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر کا لگ جانا اور اس کا دوسروں پر، اللہ کے حکم سے، اثر انداز ہونا، حق ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے، چنانچہ احادیث میں اس سے بچنے کے لیے دعائیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ اور یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو ماشاء اللہ یا بارک اللہ، کہا کرو۔ تاکہ اسے نظر نہ لگے، اسی طرح کسی کو کسی کی نظر لگ جائے تو فرمایا، اسے غسل کروا کے اس کا پانی اس شخص پر ڈالا جائے جس کو اس کی نظر لگی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیر اور کتب حدیث) بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ یہ تجھے تبلیغ رسالت سے پھیر دیتے۔
٥١۔٢ یعنی حسد کے طور پر بھی اور اس غرض سے بھی کہ لوگ اس قرآن سے متاثر نہ ہوں، بلکہ اس سے دور ہی رہیں۔ یعنی آنکھوں کے ذریعے سے بھی یہ کفار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے اور زبانوں سے بھی آپ کو ایذاء پہنچاتے اور آپ کے دل کو مجروح کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ لِّلْعَالَمِينَ ﴿٥٢﴾
در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے۔ (١)
٥٢۔١ جب واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن جن و انس کی ہدایت و رہنمائی کے لیے آیا ہے تو پھر اس کو لانے والا اور بیان کرنے والا مجنون (دیوانہ) کس طرح ہو سکتا ہے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الحاقة

(سورہ حاقة مکی ہے اور اس میں باون آیتیں اور دو رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

الْحَاقَّةُ ﴿١﴾
ثابت ہونے والی (١)
١۔١ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس میں امر الٰہی ثابت ہو گا اور خود یہ بھی بہرصورت وقوع پذیر ہونے والی ہے، اس لیے اسے الْحَاَقَّۃُ سے تعبیر فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا الْحَاقَّةُ ﴿٢﴾
ثابت ہونے والی کیا ہے؟ (١)
٢۔١ یہ لفظًا استفہام ہے لیکن اس کا مقصد قیامت کی عظمت اور فخامتِ شان بیان کی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْحَاقَّةُ ﴿٣﴾
اور تجھے کیا معلوم کہ وہ ثابت شدہ کیا ہے؟ (١)
٣۔١ یعنی کس ذریعے سے تجھے اس کی پوری حقیقت سے آگاہی حاصل ہو؟ مطلب اس کے علم کی نفی ہے۔ گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیوں کہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر) بعض کہتے ہیں کہ قرآن میں جس کی بابت بھی صیغہ ماضی (مَا أَدْرَ‌اكَ) استعمال کیا گیا ہے، اس کو بیان کر دیا گیا ہے اور جس کو مضارع کے صیغے ( وَمَا یُدرِیکَ) کے ذریعے سے بیان کیا گیا ہے، اس کا علم لوگوں کو نہیں دیا گیا ہے. (فتح القدیر وایسر التفاسیر)
 
Top