• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ﴿٦﴾
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے (١) اور بات کو بالکل درست کر دینے والا ہے (٢)
٦۔١ اس کا دوسرا مفہوم ہے کہ رات کی تنہائیوں میں کان معانی قرآن کے فہم میں دل کے ساتھ زیادہ موافقت کرتے ہیں جو ایک نمازی تہجد میں پڑھتا ہے۔
٦۔٢ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دن کے مقابلے میں رات کو قرآن زیادہ واضح اور حضور قلب کے لیے زیادہ موثر ہے، اس لیے کہ اس وقت دوسری آوازیں خاموش ہوتی ہیں۔ فضا میں سکون غالب ہوتا ہے اس وقت نمازی جو پڑھتا ہے وہ آوازوں کے شور اور دنیا کے ہنگاموں کی نذر نہیں ہوتا بلکہ نمازی اس سے خوب محظوظ ہوتا اور اس کی اثر آفرینی کو محسوس کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ‌ سَبْحًا طَوِيلًا ﴿٧﴾
یقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے۔ (١)
٧۔١ سَبْحٌ کے معنی ہیں الْجَرْيُ وَالدَّوَرَان (چلنا اور گھومنا پھرنا) یعنی دن کے وقت دنیاوی مصروفیتوں کا ہجوم رہتا ہے۔ یہ پہلی بات ہی کی تائید ہے۔ یعنی رات کو نماز اور تلاوت زیادہ مفید اور موثر ہے۔ یعنی اس پر مداومت کر، دن ہو یا رات، اللہ کی تسبیح و تحمید اور تکبر و تحلیل کرتا رہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاذْكُرِ‌ اسْمَ رَ‌بِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ﴿٨﴾
تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام خلائق سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہو جا۔ (۱)
۸۔۱ تَبَتُّلٌ کے معنی انْقِطَاعٌ اور علیحدگی کے ہیں، یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہو جانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ چیز ہے۔ اور تبَتَّل کا مطلب ہے امور دنیاوی کی ادائیگی کے ساتھ عبادت میں اشتغال، خشوع، خضوع اور اللہ کی طرف یکسوئی یہ محمود و مطلوب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رَّ‌بُّ الْمَشْرِ‌قِ وَالْمَغْرِ‌بِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا ﴿٩﴾
مشرق و مغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز بنا لے۔

وَاصْبِرْ‌ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْ‌هُمْ هَجْرً‌ا جَمِيلًا ﴿١٠﴾
اور جو کچھ وہ کہیں تو سہتا رہ اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ رہ۔

وَذَرْ‌نِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا ﴿١١﴾
اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسودہ حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے۔

إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا ﴿١٢﴾
یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم۔

وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا ﴿١٣﴾
اور حلق میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب ہے۔ (١)
١٣۔١ انکال، نکل کی جمع ہے، قیود (بیڑیاں) اور بعض نے اغلال کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی طوق۔ جَحِيمًا، بھڑکتی آگ۔ ذَا غُصَّةٍ حلق میں اٹک جانے والا، نہ حلق سے نیچے اترے اور نہ باہر نکلے۔ یہ زَقُّوْم یا ضَرِیْع کا کھانا ہو گا۔ ضَرِیْع ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو سخت بدبو دار اور زہریلی ہوتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تَرْ‌جُفُ الْأَرْ‌ضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا ﴿١٤﴾
جس دن زمین اور پہاڑ تھر تھرائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہو جائیں گے۔ (۱)
۱٤۔۱ یعنی یہ عذاب اس دن ہو گا جس دن زمین اور پہاڑ بھونچال سے تہ و بالا ہو جائیں گے اور بڑے بڑے پرہیبت پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح بے حثییت ہو جائیں گے۔ کثیب ریت کا ٹیلا، مھیلا بھربھری، پیروں کے نچیے سے نکل جانے والی ریت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا أَرْ‌سَلْنَا إِلَيْكُمْ رَ‌سُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْ‌سَلْنَا إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ رَ‌سُولًا ﴿١٥﴾
بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے والا (١) رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔
١٥۔١ جو قیامت والے دن تمہارے اعمال کی گواہی دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَعَصَىٰ فِرْ‌عَوْنُ الرَّ‌سُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا ﴿١٦﴾
تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا۔ (١)
١٦۔١ اس میں اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی وہی ہو سکتا ہے۔ جو فرعون کا موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی وجہ سے ہوا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْ‌تُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا ﴿١٧﴾
تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناہ پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ (١)
١٧۔١ شیب، أشیب کی جمع ہے، قیامت والے دن کی ہولناکی سے فی الواقع بچے بوڑھے ہو جائیں گے یا تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ آدم عليہ السلام کو کہے گا کہ اپنی اولاد میں سے جہنم کے لیے نکال لے۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے، یا اللہ کس طرح؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت حمل والی عورتوں کا حمل گر جائے گا اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے ،یہ بات صحابہ کرام رضی الله عنہم کو بہت شاق گزری اور ان کے چہرے فق ہو گئے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قوم یاجوج وماجوج میں نو سو ننانوے ہوں گے اور تم سے ایک،۔۔ اللہ کی رحمت سے مجھے امید ہے کہ تمام جنتیوں میں سے آدھا تم ہم لوگ ہوں گے۔ (البخاری، تفسير سورة الحج)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ‌ بِهِ ۚ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا ﴿١٨﴾
جس دن آسمان پھٹ جائے گا (١) اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کر ہی رہے گا۔ (۲)
۱۸۔١ یہ یوم کی دوسری صفت ہے۔ اس دن ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا۔
۱۸۔۲ یعنی اللہ نے جو بعث بعد الموت، حساب کتاب اور جنت دوزخ کا وعدہ کیا ہوا ہے، یہ یقینا لامحالہ ہو کر رہنا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰذِهِ تَذْكِرَ‌ةٌ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِ سَبِيلًا ﴿١٩﴾
بیشک یہ نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے۔

إِنَّ رَ‌بَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَاللَّـهُ يُقَدِّرُ‌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَ‌ءُوا مَا تَيَسَّرَ‌ مِنَ الْقُرْ‌آنِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْ‌ضَىٰ ۙ وَآخَرُ‌ونَ يَضْرِ‌بُونَ فِي الْأَرْ‌ضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ ۙ وَآخَرُ‌ونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ فَاقْرَ‌ءُوا مَا تَيَسَّرَ‌ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِ‌ضُوا اللَّـهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ‌ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّـهِ هُوَ خَيْرً‌ا وَأَعْظَمَ أَجْرً‌ا ۚ وَاسْتَغْفِرُ‌وا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٢٠﴾
آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے (۱) اور رات دن کا پورا اندازہ اللہ تعالیٰ کو ہی ہے، (۲) وہ (خوب) جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے (۳) پس اس نے تم پر مہربانی کی (٤) لہذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو پڑھو، (۵) وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل (یعنی روزی بھی) تلاش کریں گے (٦) اور کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد بھی کریں گے، (۷) سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو (۸) اور نماز کی پابندی رکھو (٩) اور زکوۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو۔ (١٠) اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے (١١) اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
٢٠۔١ جب سورت کے آغاز میں نصف رات یا اس سے کم یا زیادہ، قیام کا حکم دیا گیا تو نبی ﷺ اور آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت رات کو قیام کرتی، کبھی دو تہائی سے کم، کبھی نصف رات اور کبھی ثلث رات (ایک تہائی حصہ) جیسا کہ یہاں ذکر ہے۔ لیکن ایک تو رات کا یہ مستقل قیام نہایت گراں تھا۔ دوسرے وقت کا یہ اندازہ نصف رات یا ثلث یا دو ثلث حصہ قیام کرنا ہے، اس سے بھی زیادہ مشکل تر تھا۔ اس لیے اللہ نے اس آیت میں تخفیف کا حکم نازل فرما دیا جس کا مطلب بعض کے نزدیک یہ ہے کہ اس کے فرض کو استحباب میں بدل دیا گیا۔ اب یہ نہ امت کے لیے فرض ہے نہ نبی ﷺ کے لیے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ تخفیف صرف امت کے لیے ہے نبی ﷺ کے لیے اس کا پڑھنا ضروری تھا۔
۲۰۔۲ یعنی اللہ تو رات کی گھڑیاں گن سکتا ہے کہ کتنی گزر گئی ہیں اور کتنی باقی ہیں؟ تمہارے لیے یہ اندازہ ناممکن ہے۔
۲۰۔۳ جب تمہارے لیے رات کے گزرنے کا صحیح اندازہ ممکن ہی نہیں، تو تم مقررہ اوقات تک نماز تہجد میں مشغول بھی کس طرح رہ سکتے ہو؟
٢٠۔٤ یعنی اللہ نے قیام الیل کا حکم منسوخ کر دیا اور اب صرف اس کا استحباب باقی رہ گیا ہے۔ اور وہ بھی وقت کی پابندی کے بغیر، نصف شب یا ثلث شب یا دو ثلث کی پابندی بھی ضروری نہیں۔ اگر تم تھوڑا سا وقت صرف کر کے دو رکعت بھی ہڑھ لو گے تو عند اللہ قیام الیل کے اجر کے مستحق قرار پاؤ گے، تاہم اگر کوئی شحص آٹھ رکعات تہجد کا اہتمام کرے گا جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا، تو زیادہ بہتر ہو گا اور نبی ﷺ کا متبع قرار پائے گا۔
۲۰۔۵ فَاقْرَءُوا کا مطلب ہے فصلوا، اور اور قرآن سے مراد الصلوۃ ہے۔ قیام اللیل میں چوں کہ قیام لمبا ہوتا ہے اور قرآن زیادہ پڑھا جاتا ہے اس لیے نماز تہجد کو ہی قرآن سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔ جیسے نماز میں سورۃ فاتحہ نہایت ضروری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حدیث قدسی میں، جو سورہ فاتحہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، سورہ فاتحہ کو نماز سے تعبیر فرمایا ہے قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي (الحدیث) اس لیے ”جتنا قرآن پڑھنا آسان ہو پڑھ لو“ کا مطلب ہے، رات کو جتنی نماز پڑھ سکتے ہو، پڑھ لو۔ اس کے لیے نہ وقت کی پابندی ہے اور نہ رکعات کی۔ اس آیت سے بعض لوگ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنی ضروری نہیں ہے جتنا کسی کے لیے آسان ہو، پڑھ لے، اگر کوئی ایک آیت بھی کہیں سے پڑھ لے گا تو نماز ہو جائے گی۔ لیکن اول تو یہاں قراءت بمعنی نماز ہے، جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ اس لیے آیت کا تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ نماز میں کتنی قراءت ضروری ہے؟ دوسرے، اگر اس کا تعلق قراءت سے ہی مان لیا جائے، تب بھی یہ استدلال اپنے اندر کوئی قوت نہیں رکھتا۔ کیوں کہ ما تیسر کی تفسیر خود نبی ﷺ نے فرمادی ہے کہ وہ کم سے کم قراءت، جس کے بغیر نماز نہیں ہو گی وہ سورۃ فاتحہ ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ ضرور پڑھو جیسا کہ صحیح اور نہایت قوی اور واضح احادیث میں یہ حکم ہے۔ اس تفسیر نبوی ﷺ کے خلاف یہ کہنا کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضروری نہیں، بلکہ کوئی سی بھی ایک آیت پڑھ لو، نماز ہو جائے گی۔ بڑی جسارت اور نبی ﷺ کی احادیث سے بے اعتناعی کا مظاہرہ ہے۔ نیز ائمہ کے اقوال کے بھی خلاف ہے جو انہوں نے اصول فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس آیت سے ترک فاتحہ خلف امام پر استدلال جائز نہیں، اس لیے کہ دو آیتیں متعارض ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص جہری نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو بعض احادیث کی رو سے بعض ائمہ نے اسے جائز کہا ہے اور بعض نے نہ پڑھنے ہی کو ترجیح دی ہے۔ (تفصیل کے لیے فرضیت فاتحہ خلف الامام پر تحریر کردہ کتب ملاحظہ فرمائیں)
٢٠۔٦ یعنی تجارت اور کاروبار کے لیے سفر کرنا اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا پڑے گا۔
٢٠۔۷ اسی طرح جہاد میں بھی پُرمشقت سفر اور مشقتیں کرنی پڑتی ہیں۔ اور یہ تینوں چیزیں، بیماری، سفر اور جہاد۔ نوبت بہ نوبت ہر ایک کو لاحق ہوتی ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیام اللیل کے حکم میں تخفیف کر دی ہے۔ کیونکہ تینوں حالتوں میں یہ نہایت مشکل اور بڑا صبر آزما کام ہے۔
٢٠۔۸ اسباب تخفیف کے ساتھ تخفیف کا یہ حکم دوبارہ بطور تاکید بیان کر دیا گیا۔
٢٠۔٩ یعنی پانچ نمازوں کی جو فرض ہیں۔
٢٠۔١٠ یعنی اللہ کی راہ میں حسب ضرورت و توفیق خرچ کرو، اسے قرض حسن سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔
٢٠۔١١ یعنی نفلی نمازیں، صدقات و خیرات اور دیگر نیکیاں جو بھی کرو گے، اللہ کے ہاں ان کا بہترین اجر پاؤ گے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت نمبر بیس، مدینہ میں نازل ہوئی ہے، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی اور نصف حصہ مدنی ہے۔ (ایسر التفاسیر)
 
Top