- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ﴿٢﴾
بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے (١) پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا۔ (٢)
٢۔١ ملے جلے کا مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد، انسان کی آزمائش ہے۔ ﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا﴾ (الملک: ۶)
٢۔٢ یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا معصیت دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکے۔
بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے (١) پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا۔ (٢)
٢۔١ ملے جلے کا مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد، انسان کی آزمائش ہے۔ ﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا﴾ (الملک: ۶)
٢۔٢ یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا معصیت دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکے۔