• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرً‌ا ﴿٢﴾
بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے (١) پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا۔ (٢)
٢۔١ ملے جلے کا مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد، انسان کی آزمائش ہے۔ ﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا﴾ (الملک: ۶)
٢۔٢ یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا معصیت دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرً‌ا وَإِمَّا كَفُورً‌ا ﴿٣﴾
ہم نے اسے راہ دکھائی اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا۔ (۱)
۳۔۱ یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کر دیا ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔ جیسے ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا: كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا (صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب فضل الوضوء) ”ہر شخص اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے، پس اسے ہلاک کردیتا ہے یا اسے آزاد کرا لیتا ہے“۔ یعنی اپنے عمل و کسب کے ذریعے سے ہلاک یا آزاد کراتا ہے، اگر شر کمائے گا تو اپنے نفس کو ہلاک اور خیر کمائے گا تو نفس کو آزاد کرا لے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِ‌ينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرً‌ا ﴿٤﴾
یقیناً ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (۱)
٤۔۱ یہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الْأَبْرَ‌ارَ‌ يَشْرَ‌بُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورً‌ا ﴿٥﴾
بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے۔ (۱)
۵۔۱ اشقیا کے مقابلے میں یہ سعدا کا ذکر ہے، کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو۔ کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو مشام جان کو معطر کرنے والی ہو جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَيْنًا يَشْرَ‌بُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُ‌ونَهَا تَفْجِيرً‌ا ﴿٦﴾
جو ایک چشمہ ہے۔ (١) جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے (٢) (جدھر چاہیں)۔
٦۔١ یعنی یہ کافور ملی شراب، دو چار صراحیوں یا مٹکوں میں نہیں ہو گی، بلکہ چشمہ ہو گا، یعنی یہ ختم ہونے والی نہیں ہو گی۔
٦۔٢ یعنی اس کو جدھر چاہیں گے، موڑ لیں گے، اپنے محلات و منازل میں، اپنی مجلسوں میں اور بیٹھکوں میں اور باہر میدانوں اور تفریح گاہوں میں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يُوفُونَ بِالنَّذْرِ‌ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّ‌هُ مُسْتَطِيرً‌ا ﴿٧﴾
جو نذر پوری کرتے ہیں (١) اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔ (٢)
٧۔١ یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں، نذر بھی مانتے ہیں تو صرف اللہ کے لیے، اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ بشرطیکہ معصیت کی نہ ہو۔ چنانچہ حدیث میں ہے ”جس شخص نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا، تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے معصیت الٰہی کی نذر مانی ہے تو، وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے“، یعنی اسے پورا نہ کرے۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب النذر فی الطاعة)
٧۔٢ یعنی اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت سے صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرً‌ا ﴿٨﴾
اور اللہ تعالیٰ کی محبت (١) میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو۔
٧۔٨ یا طعام کی محبت کے باوجود، وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو، تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے، جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چنانچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر) اسی طرح غلام اور نوکر چاکر بھی اسی ذیل میں آتے ہیں جن کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے۔ آپ ﷺ کی آخری وصیت یہی تھی کہ ”نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا“۔ (ابن ماجہ، کتاب الوصایا، باب هل أوصی رسول الله ﷺ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّـهِ لَا نُرِ‌يدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورً‌ا ﴿٩﴾
ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔

إِنَّا نَخَافُ مِن رَّ‌بِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِ‌يرً‌ا ﴿١٠﴾
بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں (١) جو اداسی اور سختی والا ہو گا۔
١٠۔١ حضرت ابن عباس رضی الله عنہ نے قمطریر کے معنی طویل کے کیے ہیں، عبوس، سخت۔ یعنی وہ دن نہایت سخت ہو گا اور سختیوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے کافروں پر بڑا لمبا ہو گا۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَوَقَاهُمُ اللَّـهُ شَرَّ‌ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَ‌ةً وَسُرُ‌ورً‌ا ﴿١١﴾
پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا (١) اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی۔ (۲)
١١۔١ جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔
۱۱۔۲ تازگی چہروں پر ہو گی اور خوشی دلوں میں، جب انسان کا دل مسرت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا چہرہ بھی مسرت سے گلنار ہو جاتا ہے۔ نبی ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ خوش ہوتے تو آپ کا چہرۂ مبارک اس طرح روشن ہوتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔ (البخاری، کتاب المغازی، باب غزوة تبوک، مسلم، کتاب التوبة)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَزَاهُم بِمَا صَبَرُ‌وا جَنَّةً وَحَرِ‌يرً‌ا ﴿١٢﴾
اور انہیں ان کے صبر (١) کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے۔
۱۲۔۱ صبر کا مطلب ہے دین کی راہ میں جو تکلفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، اللہ کی اطاعت میں نفس کی خواہشات اور لذات کو قربان کرنا اور معصیتوں سے اجتناب کرنا۔
 
Top