• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر سورۂ اخلاص

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
لفظ ’’اَحد‘‘ کا استعمال!

اور اس مقام پر مقصود یہ ہے کہ ’’احد‘‘ کا لفظ اعیان (مدد کرنے والوں) میں سے اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی چیز پر نہیں بولا جاتا۔ اللہ کے سوا دوسرے مواقع پر بولا جائے تو یا تو وہ نفی کے مقام پر بولا جاتا ہے جیسا کہ اہلِ لغت کہتے ہیں ’’لا احد فی الدار‘‘ (گھر میں کوئی نہیں ہے)۔
فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ﴿٤٧﴾ (الحاقہ)
پس تم میں سے کوئی بھی ہم کو اس سے روک نہ سکتا۔
اور اسی طر ح :
لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ (احزاب:32)
تم عام عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہو۔
اسی طرح اضافت کے موقع پر بھی لفظ احد کا استعمال آیا ہے ملا حظہ ہو!
فَابْعَثُوا أَحَدَكُم (الکھف: 19)
اپنوں میں سے کسی ایک کو بھیجو۔
اور:
جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ (الکھف: 32)
ہم نے ان دونوں میں سے ایک کو دو باغ دے رکھے تھے۔
’’صمد‘‘ کا لفظ چونکہ مخلوق کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے، اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ الله صمد بلکہ یہ فرمایا الله الصمد اور اس بات کی وضاحت کر دی کہ الصمد ہونے کا مستحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں، کیونکہ وہ بدرجہ غایت و کمال اس کا مستوجب ہے اور مخلوق اگرچہ بعض وجوہ سے صمد ہو لیکن حقیقت صمدیت اس میں نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ مور و تفرق و تجزیہ ہو سکتی ہے اور وہ صمد ہونے کے باوجود دوسروں کی محتاج ہے اس لئے اللہ کے سوا باقی تمام چیزیں ہر بات میں اللہ کی محتاج ہیں اور اس کے سوا کوئی ایسی ہستی موجود نہیں ہے کہ ہر چیز اس کی طرف حاجتیں لے کر جائے اور وہ کسی چیز کے آگے دامنِ احتیاج نہ پھیلائے۔
مخلوقات میں سے ہر ایک چیز کے اجزاء علیحدہ کئے جا سکتے ہیں۔ اس میں تفریق و تقسیم موجود ہے اور اس کا بعض حصہ دوسرے سے منفصل ہو سکتا ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ الصمد ہے۔ ان باتوں میں سے کوئی چیز اس پر وارد نہیں ہو سکتی بلکہ حقیقتِ صمدیت اور اس کا کمال صرف اسی کے لئے واجب و لازم ہے جس طرح وہ ایک ہے اور اس کا دو ہونا غیر ممکن ہے۔ اسی طرح اس میں عدمِ صمدیت غیر ممکن ہے وہ ایک اور کسی صورت سے کوئی چیز اس کی مماثل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ آخر سورت میں فرمایا:
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔
یہاں احد کا لفظ نفی کے مقام پر مستعمل ہوا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی چیز کسی بات میں بھی اس کے برابر نہیں ہے کیونکہ وہ احد ہے۔
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ’’انت سیدنا‘‘ (تو ہمارا سردار ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’السید الله‘‘ (حقیقی سردار اللہ ہے)۔
اللہ تعالیٰ کا قول الاحد اور الصمد اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ نہ اس سے کوئی پیدا ہو اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے، کیونکہ الصمد وہ ہوتا ہے جس کا نہ تو جوف (پیٹ) ہو اور نہ احشاء (انتڑیاں وغیرہ) اس میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی۔ وہ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، وہ پاک اور برتر ہے چنانچہ فرمایا:
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ (الانعام:4)
کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ولی و مددگار بناؤں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے، وہ کھانا کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا۔
اعمش نے ’’یُطْعَمُ‘‘ کی بجائے ’’یَطْعَمُ‘‘ پڑھا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کھانا نہیں کھاتا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿٥٧﴾ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ﴿٥٨﴾ (الذاریات)
اور میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ و ہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے رزق کا طالب نہیں ہوں، اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ رازق تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہیں۔ جب وہ صمد ہیں اور کھاتے پیتے نہیں ہیں تو ان کے خالق جل جلالہ میں تو وہ غنا و کمال بطریق اولیٰ موجود ہونا چاہئے۔ جو وہ اپنی بعض مخلوقات کو عطاء کرتا ہے اس لئے بعض اسلاف کرام نے صمد کی تفسیر میں بیان فرمایا کہ جو نہ کھائے اور نہ پئے۔ اور صمد مصمد وہ ہوتا ہے جس کا جوف (پیٹ) نہ ہو اور اس میں سے کوئی وجود خارج نہ ہو، چنانچہ وہ بچہ بھی نہیں جنتا۔ اسی لئے بعض نے کہا ہے کہ صمد وہ ہوتا ہے جس سے کوئی چیز نہیں نکلتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
خروجِ کلام کی تصریح

اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ کلام نہیں کرتا، اگرچہ کلام کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس سے نکلا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے:
ما تقرب العباد الي الله بشي افضل مما خرج منه۔
بندوں کو اللہ سے قریب کرنے والی کوئی چیز قرآن سے افضل نہیں جو اس کی زبان سے نکلی ہے۔
جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلیمہ کا قرآن سنا تو آپ نے کہا:
’’ان ھذا لم یخرج من الله‘‘ (یہ اللہ کے منہ سے نہیں نکلا)۔
متکلم کے منہ سے کلام کے نکلنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ بات کرتا ہے اور اس سے بات سنی جاتی ہے اور دوسرے آدمی تک پہنچ جاتی ہے، دوسرے میں پیدا نہیں ہوتی جیسا کہ جہمیہ کا قول ہے۔
یہ خروج اس معنی میں نہیں ہوتا کہ جو اشیاء متکلم کے ساتھ قائم ہوتی ہیں ان میں سے کوئی چیز علیحدہ ہو کر دوسرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے یہ بات تو مخلوقات کی صفات سے بھی بعید ہے کہ صفت اپنے محل کو چھوڑ کر غیر محل میں چلی جائے۔ چہ جائیکہ خالق جل جلالہ کی صفات اپنے محل کو چھوڑ کر غیر محل میں چلی جائیں۔ چہ جائیکہ خالق جل جلالہ کی صفات کے ساتھ یہ کیفیت وارد ہو۔
اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے کلام کے متعلق فرمایا ہے:
كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۚ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ﴿٥﴾ (الکھف)
ان کے منہ سے یہ بہت بڑے گناہ کا کلمہ نکل رہا ہے۔ وہ بالکل جھوٹ کہہ رہے ہیں!
یہ کلمہ متکلم کے ساتھ قائم ہے اور اس سے سنا گیا ہے، اس کا منہ سے نکلنا ایسا نہیں کہ کلام جو اس کی ذات کے ساتھ قائم تھا، اس سے علیحدہ ہو کر دوسرے کی طرف منتقل ہو گیا۔ ہر چیز کا خروج اس کی شان کے مطابق ہوتا ہے۔ علم و کلام کی شان یہ ہے کہ جب عالم اور متکلم سے استفادہ کیا جاتا ہے تو علم و کلام اپنے محل سے گھٹتا نہیں، وہ ایک روشنی ہے جس سے ہر شخص ضیا اندوز ہوتا ہے اور روشنی علی حالہٖ قائم رہتی ہے، ذرہ برابر کم نہیں ہوتی۔ اس لئے سلف کا یہ قول کہ الصمد وہ ہوتا ہے جس سے کوئی چیز نہ نکلے، اس معنی میں صحیح ہے کہ اس سے کوئی چیز جُدا نہیں ہوتی۔
چنانچہ کسی کا اس سے پیدا ہونا، یا اس کا کسی سے پیدا ہونا ممتنع (غیر ممکن) ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
ولادت کے معنی

ولادت، متولد اور ان الفاظ کے قبیل سے جو کچھ بھی ہے اس کے لئے دو اصلوں کا وجود لازمی ہے جو متولد عین یعنی قائم بالذات ہو۔ اس کی لئے ایک ایسا مادہ لابدی ہے جس سے وہ خارج ہو اور جو عرض یعنی قائم بالغیر ہو، اس کے لئے ایک محل کا وجود لازمی ہے۔ جس کے ساتھ اس کا قیام وابستہ ہو۔
ان میں سے اول الذکر کی نفی تو احد سے ہو گئی، کیونکہ احد وہ ذات ہے جس کا نظیر و کفو کوئی نہ ہو لہٰذا اس کے لئے صاحبہ (بیوی) کا ہونا بھی ممتنع ہے۔
اور تولد دو چیزوں سے ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿١٠١﴾ (الانعام)
اس کا بچہ کیونکر ہو سکتا ہے، حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اسی نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
بچے کی نفی ایک تو اس طریق پر کی گئی کہ بچے کے لئے بیوی کا ہونا لازم ہے۔ اول اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی نہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ نفی لازم نفی ملزوم پر دلالت کرتی ہے۔
دوسرے یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق ہے اور اس کے سوا جو چیز موجود ہے وہ اس کی مخلوق ہے۔ مخلوق میں کوئی چیز ایسی موجود نہیں جو اس سے پیدا ہوئی ہو۔ دوسری بات کی نفی اس طرح کر دی گئی کہ اللہ الصمد ہے اور یہ متولد دو اصلوں سے ایک ایک جزوے علیٰحدہ ہوتی ہے یہ ظاہر ہے کہ تولد دوسرے اصل کا محتاج ہے اور وہ اس امر کا بھی محتاج ہے کہ اصلوں میں سے ایک چیز خارج ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان سے یہ چیزیں ممتنع ہیں، کیونکہ وہ احد (ایک) ہے اس کا کوئی برابری کرنے والا نہیں کہ اس کی بیوی یا نظیر بن سکے۔ وہ صمد ہے، اس سے کوئی چیز خارج نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا احد اور صمد ہونا دونوں اس امر کے مانع ہیں کہ وہ والد ہو اور یہی دونوں امر بطریق اولیٰ اس کے مولود (کسی سے پیدا شدہ ذات) ہونے کے مانع ہیں۔
حیوان میں توالد دو اصلوں سے واقع ہوتا ہے خواہ یہ دو اصل والد کی جنس سے ہوں جس طرح کہ حیوان متولد ہوتا ہے۔
یا ولد کی جنس سے نہ ہوں مثلاً عام پیدا ہونے والی چیزیں، اسی طرح غیر حیوان میں بھی توالد دو اصلوں سے ہوتا ہے۔ آگ چقماق کے دو حصوں (زندین) سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ دو چقماق لکڑی یا پتھر اور لوہے یا ان کے علاوہ اور چیزوں کے بھی ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (العادیات)
قسم ہے پتھر پر ٹاپیں مارنے سے آگ نکالنے والوں کی۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ﴿٧١﴾ أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِئُونَ ﴿٧٢﴾ نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ﴿٧٣﴾ (الواقعہ)
یہ تم جو آگ جلاتے ہو، اسے تو دیکھتے ہی ہو۔ اس کا ایندھن جس درخت سے آتا ہے اسے تم نے پیدا کیا یا ہم نے؟ ہم نے آگ اس لئے بنائی ہے کہ ایک تو تم اسے دیکھ کر نارِ جہنم کا احساس کرو اور دوسرے مسافر لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔
نیز فرمایا:
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ ۖ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ ﴿٧٨﴾ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ ﴿٧٩﴾ الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ ﴿٨٠﴾ (یٰسین)
ہمارے سامنے تو مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا یہ تو بوسیدہ ہو چکی ہیں؟ تم کہو کہ ان ہڈیوں کو وہ ہستی زندہ کرے گی جس نے پہلی مرتبہ انھیں پیدا کیا اور ہر مخلوق سے پوری طرح واقف ہے تمہارے لئے وہی سبز درخت سے آگ پیدا کرتا ہے۔ پھر تم اس سے آگ جلاتے ہو۔
متعدد مفسرین کا قول ہے کہ دو درخت ہو تے ہیں، ایک کا نام ’’مرخ‘‘ اور دوسرے کا نام ’’عفار‘‘ ہے جو شخص ان سے آگ نکالنا چاہے، وہ ان دونوں سے مسواکوں کے برابر دو سرسبز ٹہنیاں کاٹ لیتا ہے، ان سے خواہ پانی کے قطرے گر رہے ہوں لیکن اگر مرخ کو عفار پر رگڑا جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان دونوں میں سے آگ نکل آتی ہے ان میں سے اول الذکر درخت نر اور موخر الذکر مادہ کہلاتا ہے۔
عرب کہتے ہیں کہ ہر درخت میں آگ ہوتی ہے اور مرخ اور عفار کو سب پر امتیاز حاصل ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عناب کے سوا ہر درخت میں آگ ہو تی ہے۔ فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ کا اشارہ چقماق کی طرف ہے۔
اہلِ لغت جوہری وغیرہ نے کہا ہے کہ زند (چقماق) اس چیز کو کہتے ہیں، جسے رگڑنے سے آگ نکالی جاتی ہے اور یہ اوپر کی چیز کا نام ہے نیچے کی چیز کو زندہ کہتے ہیں۔ اور اس میں سوراخ ہوتا ہے۔ یہ نیچے والا چقماق مادہ کہلاتا ہے یہ جمع ہو جائیں تو زندین (دو چقماق) کہلاتے ہیں۔
دونوں کو رگڑنے سے جو نرم اجزاء نکلتے ہیں جن سے آگ نکلتی ہے۔
پس معلوم ہو کہ جس طرح مرد اور عورت کے مادہ سے بچہ تولد ہوتا ہے اسی طرح آگ بھی نر اور مادہ سے خارج ہونے والے مواد ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ مادہ کو نر سے رگڑنے اور اس سے ٹکرانے کی وجہ سے ان دونوں میں حرارت پیدا ہوتی ہے جس سے ان دونوں کے مواد تحلیل ہو کر آگ پیدا کرتے ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ جس مقام پر چقماق رگڑا جاتا ہے وہ رحم کی شکل کا ہوتا ہے اور اس جگہ آگ کا لوتھڑا بنتا ہے، جسے حراق (وصوفان) کہا جاتا ہے اور دوسری چیزوں کی بہ نسبت زیادہ سرعت کے ساتھ آگ پکڑ لیتا ہے اور جس طرح بعض اوقات عورت کے رحم میں لوتھڑا نہیں بنتا، اسی طرح چقماق میں بھی لوتھڑا نہیں بنتا۔
اب دیکھئے کہ آگ زندین (چقماقوں) کی جنس میں سے نہیں ہے بلکہ اور سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے حیوان کا تولد پانی اور کیچڑ سے ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
حیوان متوالد و حیوان متولد

حیوان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم متوالد حیوان کی ہے، مثلاً انسان چوپائے وغیرہ جو ماں اور باپ سے پیداہوتے ہیں۔
دوسری قسم متولد حیوانوں کی ہے، جو میوہ سرکہ وغیرہ سے پیدا ہوتے ہیں، مثلاً جوئیں جو جلدِ انسانی کی میل کچیل سے پیدا ہوتی ہیں، یا چوپائے، پسو وغیرہ جو پانی اور مٹی سے پیدا ہوتے ہیں، اور اس قسم کے دوسرے حیوان۔
حیوانات، نباتات، معدنیات، بارش اور چقماق وغیرہ سے پیدا ہونے والی آگ اور دیگر مخلوقاتِ الٰہی کے متعلق لوگوں کا اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا ان چیزوں کی جنسیں حادث؎ٰ (کسی چیز کا عدم سے وجود میں آنا اس کا حدوث کہلاتا ہے۔) ہوتی ہیں اور جس طرح منی سے خون بستہ اور خون بستہ سے لوتھڑا بنتا ہے، اسی طرح یہ چیزیں بھی ایک جنس سے دوسری جنس میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یا صرف ان کے اعراض حادث ہوتے ہیں اور اعیان جو درحقیقت جواہر ہیں، اجتماع، افتراق، حرکت اور سکون کی صفات حادثہ کے سوا قائم وباقی ہوتے ہیں۔
اس کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ اجسام ان جواہر منفرد سے مرکب ہیں جن کے اجزاء علیٰحدہ نہیں کئے جا سکتے۔ بہت سے اہل کلام کا یہی قول ہے۔
نظام سے مروی ہے کہ اجسام جواہر غیر متناہیہ سے پیدا ہو تے ہیں۔ پس جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اجسام جواہر سے مرکب ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو حادث نہیں کرتا جو اپنی ذات پر قائم ہو، اعراض یعنی اجتماع، افتراق، حرکت، سکون وغیرہ حادث ہوتے ہیں، ان میں سے جو لوگ احداث جواہر کے بھی قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ابتداء حادث بنایا ہے لیکن اس کے بعد ان میں حدوث نہیں ہوتا۔ صرف ان کی اعراض میں حدوث ہوتا ہے۔
اکثر معتزلہ جہمیہ اور اشعریہ وغیرہ کا قول یہی ہے، اور ان لوگوں میں سے بعض اکابر کا خیال ہے کہ مسلمانوں کا اجماع اور عقیدہ اسی قول پر ہے، حالانکہ سلف اُمت بلکہ جمہورِ اُمت میں سے کسی نے یہ قول پیش نہیں کیا اور بعض جمہورِ اُمت ہی نہیں بلکہ اہل کلام کی بعض جماعتوں نے بھی جوہر فرد اور اجسام کے جواہر اور اجسام کے جواہر سے مرکب ہونے سے انکار کیا ہے۔
ابنِ کلام نے بھی جو ایک جماعت کا امام ہے ہر فرد سے انکار کیا ہے۔ ابوبکر بن فورک نے مقالات ابن کلاب کے متعلق ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں اس نے اس بات کا ذکر کیا ہے اور اشعری کے ساتھ ان کا جو اختلاف ہے، اس کے چہرے سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔ ہشامیہ، ضراریہ اور بہت سے کرامیہ اور نجاریہ نے بھی جوہر فرد سے انکار کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
تماثل اجسام و جواہر منفردہ

جو لوگ کہتے ہیں کہ اجسام جواہر منفردہ سے مرکب ہیں، ان کا یہ قول مشہور ہے کہ جواہر متماثل ہیں۔ بلکہ مسلمانوں میں سے اکثر کہتے ہیں کہ اجسام بھی متماثل ہیں، کیونکہ وہ جوہر متماثلہ سے مرکب ہیں اور اگر ان میں اختلاف ہے تو وہ اختلاف اعراض کی وجہ سے ہے اور یہ صفات چونکہ عارض ہیں لازم نہیں ہیں، اس لئے وہ تماثل کی نفی نہیں کر سکتیں، تماثل کی تعریف یہ ہے کہ دو تماثل اشیاء میں سے کسی ایک کے متعلق جو بات جائز ہو وہ دوسری کے متعلق بھی جائز ہو، ایک کے لئے جو چیز واجب ہو، وہ دوسری کے لئے بھی واجب ہو۔ اور ایک پر جو چیز ممتنع ہو وہ دوسری پر بھی ممتنع ہو۔ اب چونکہ اجسام جواہر سے بنے ہیں، اس لئے اگر ایک جسم کے لئے کوئی حکم ثابت ہو جائے تو لوگ تماثل کی بناء پر کہتے ہیں کہ یہ حکم جمیع اجسام کے لئے ثابت ہے۔
اکثر عقلاء اس سے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے بعض بلند پایہ اور بلند خصال اصحاب نے ان دلیلوں کا ابطال بھی کیا ہے جو تماثل کے متعلق پیش کی گئی ہیں۔ چنانچہ رازی اور آمدی وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے اور اس کی نسبت متعدد مقامات پر شرح و بسط کے ساتھ بحث کی جا چکی ہے۔
اشعری نے کتاب ’’الابانہ‘‘ میں تماثل اجسام کے قول کو معتزلہ اجسام کے قول کو معتزلہ کے ان اقوال میں شمار کیا ہے جو ان کے نزدیک غلط ہیں۔ یہ لوگ جہمیہ با قدرہ کے اصول پر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محض مشیئت سے دو متماثل اجسام میں سے ایک کو بعض اعراض سے مختص کرتا ہے اور دوسرے کو نہیں کرتا۔ جنسوں کا بدل جانا محال ہے۔ کوئی جسم عرضًا و جنسًا دوسری جنس میں منقلب نہیں ہو سکتا، اگر یہ کہیں کہ اجسام مخلوق ہیں اور مخلوق دوسری جنس سے منقلب ہوتی ہے تو جنسوں کا انقلاب لازم آتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بچہ جو رحم سے پیدا ہوتا ہے، میوہ جو درخت سے حاصل ہوتا ہے، اور آگ جو چقماق سے نکلتی ہے، یہ سب چیزیں جواہر ہیں جو اس مادہ میں موجود تھے جن سے یہ چیزیں پیدا ہوئیں۔ اور یہ جواہر بعینہٖ باقی ہیں۔ صرف اجتماع، افتراق، حرکت اور سکون سے ان کی صفات میں تغیر پیدا ہو گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
اثبات صانع کے دلائل

چنانچہ ابو عبد اللہ الرازی نے اثبات صانع کے دلائل بیان کرتے ہو ئے چار طریقے بیان کئے ہیں۔ ذاتوں کا حدوث، صفات کا امکان، اور صفات کا حدوث، پہلے تین طریقے ضعیف بلکہ باطل ہیں، کیونکہ جن ذاتوں کے حدوث یا امکان یا ان کے صفات کے امکان کا مجملاً ذکر کیا گیا ہے، ان میں خالق و مخلوق کی تمیز نہیں کی گئی۔
چوتھا طریق حدوث اشیاء معلومۃ الحدوث ہے اور یہ طریق صحیح ہے قرآن نے یہی طریق اختیار کیا ہے لیکن ان لوگوں نے اس طریق میں بھی بدرجہ غایت کوتاہی کی ہے۔ انھوں نے اپنے اصل (قدم عالم) کے مطابق حدوث ذات کی شہادت نہیں دی، بلکہ حدوث و صفات ہی پر اپنے سارے استدلال کی بنیاد رکھی ہے۔
اور قرآن کریم کا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے مخلوق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا نشان ہے، قرآن کریم میں براہین و آیات موجود ہیں۔ فلاسفہ و متکلمین ان کے ادراک سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اور اگر کہیں حق و صواب نے ان کا ساتھ دیا بھی ہے تو وہ ان دلائل کا محض ایک جزو ہے جو قرآن کریم نے متعدد مقامات پر پیش کئے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
کیفیت معاد

اس مقام پر ہمیں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ جب ان لوگوں کے نزدیک ابتدائے مخلوقات کی بنیاد جوہر فرد ہے تو معاد (محشر) کی بنیاد بھی لامحالہ یہی ہونی چاہئے۔ چنانچہ اس مقام پر ان کی دو جماعتیں بن گئیں۔
ایک جماعت کا قول ہے کہ جواہر معدوم ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری جماعت کہتی ہے کہ اجزاء متفرق ہو جاتے ہیں اور پھر ازسرنو ان کا اجتماع ہوتا ہے۔
اس قول پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ایک انسان کو ایک حیوان کھا لیتا ہے۔ اور پھر اس حیوان کو کوئی دوسرا انسان کھا لیتا ہے، اگر اس انسان کے اجزاء دوبارہ پیدا ہوں تو وہ اس کے اجزاء تو شمار نہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ انسان کے اجزاء ہمیشہ تحلیل ہوتے رہتے ہیں۔ پھر جو انسان دوبارہ پیدا ہوتا ہے، کیا اس کی شکل وہ ہوتی ہے جس سے وہ بوقت مرگ متشکل تھا؟ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو یہ لازم ہے کہ معاد ضعیف صورت پر ہو گا، حالانکہ نصوص اس کے خلاف ہیں اور اگر نشور اس حالت میں نہ ہو بلکہ کسی اور حالت میں ہو تو پھر یہ اعتراض وارد ہو گا کہ بعض اجسام دیگر اجسام سے بہتر نہ ہوں گے۔
بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انسان میں بعض اجزاء ایسے ہوتے ہیں جن کی تحلیل نہیں ہوتی اور ان اجزاء میں اس حیوان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا جو دوسرے کا لقمہ تر بن گیا ہو۔ حالانکہ جمیع عقلاء کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ انسان کا سارا بدن تحلیل ہوتا ہے اور اس کا کوئی حصہ عمل تحلیل سے مستثنیٰ نہیں رہتا۔ ان لوگوں نے حقیقت معاد کے باب میں جو کچھ کہا اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معاد ابدان کے متعلق فلاسفہ کے شبہات کو اور بھی تقویت پہنچ گئی اور وہ انکار معاد کی طرف زیادہ مائل ہو گئے۔ متکلمین کی ایک جماعت پیدا ہو گئی جو یہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ دوسرا بدن پیدا کرتا ہے اور روح لوٹ کر اس نئے جسم میں آجاتی ہے اور مقصود بھی صرف روح کو عذاب دینا یا راحت پہنچانا ہوتا ہے بدن یہ ہو یا کوئی اور، اس کا مضائقہ نہیں۔
یہ قول بھی ان نصوص صریحہ کے مخالف ہے جن میں اسی بدن کا اعادہ ہے۔ یہ عقیدہ رازی کی کتابوں میں مذکور ہے۔ اور اس جیسے دوسرے مصنفین کی کتابوں میں اصول دین کے بڑے بڑے مسائل کے متعلق صحیح قول موجود نہیں ہے جو عقل و نقل کے موافق یعنی شریعت نبوی ﷺ اور عقائد سلف صالحین و آئمہ کرام کی بحثوں سے لبریز ہیں جنہوں نے خلق، بعث، مبدا اور کی مسائل میں جہمیہ و قدریہ کے اصول کی پیروی کی ہے، اور یہ دونوں طریقے فاسد ہیں کیونکہ ان کی بناء فاسد مقدمات پر ہے۔
سلف صالحین اور جمہور عقلاء کہتے ہیں کہ اجسام ایک حالت سے دوسری حالت میں منقلب ہوتے رہتے ہیں، وہ فلاسفہ اور اطباء سے بھی یہی منقول کرتے ہیں، اور سلف صالحین جمیع فقہا نے اس بات پر بحث کی ہے کہ تغیر حالت سے ناپاک نجاست پاک ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ منی کو رحم میں خون بستہ کی صورت میں اور اس کے بعد لوتھڑے کی صورت میں تبدیل کرتا ہے۔ درخت سے رطوبتیں خارج کرکے ہوا اور پانی وغیرہ مواد کو ملا کر اپنی مشیئت و قدر ت سے میوہ پیدا کرتا ہے۔ بیچ کے ایک دانے کو چیر کر اس سے مواد نکالتا ہے جن سے خوشہ اور درخت وغیرہ پیدا کرتا ہے۔ جب کبھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرتا ہے تو وہ اسی طرح پیدا کرتا ہے، آدم علیہ السلام کو کیچڑ سے پیدا کیا۔ کیچڑ کی اصلیت کو گوشت آنتوں وغیرہ اجزائے بدن کی صورت میں تبدیل کر دیا۔ لوتھڑے کی صورت بدل کر ہڈی اور اس کے علاوہ دیگر اجزائے بدن بنائے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ﴿١٢﴾ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ﴿١٣﴾ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ﴿١٤﴾ ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ﴿١٥﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ﴿١٦﴾ (سورة المؤمنون)
اور ہم نے انسان کو مٹی کے نچوڑ سے بنایا۔ پھر ہم نے اسے بنا کر ایک محفوظ مقام پر ٹھہرا دیا پھر نطفے کو خون بستہ کی صورت دی اور خون بستہ سے لوتھڑا بنایا پھر ہم ہی نے لوتھڑے سے ہڈیاں بنائیں اور ان ہڈیوں کو گوشت کی پوشش عطا کی پھر ہم نے اسے ایک اور ہی مخلوق بنا دیا۔ اللہ بڑا برکت والا ہے، جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔ اے لوگو اس کے بعد تمہیں مرنا ہے اور پھر قیامت کے دن اٹھنا ہے۔
چقماق کے بعض اجزاء آگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا ﴿٨٠﴾ (سورة يس)
(اللہ) وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی۔
خود ان اجزاء سے جو شجر اخضر سے نکلے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آگ بنائی ہے۔ یہ نہیں کہ شجر اخضر میں دراصل آگ موجود تھی۔ درخت میں دراصل کوئی میوہ موجود نہ تھا اور نہ عورت کے پیٹ میں فی الحقیقت کسی بچے کا وجود تھا، بلکہ یہ وجود ایک اور مادہ سے پیدا ہوا جو پہلی حالت سے تبدیل ہو کر اور بعض دیگر مواد سے مل کر ایک نئی چیزبن گیا جب یہ سب وجود کہنہ و بوسیدہ ہو جائے گا اور صرف ریڑھ کی ہڈی کے آخری حصے میں رمق حیات باقی ہو گی تو اس کو اسی طرح ازسر نو پیدا کیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ سے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ ابن آدم علیہ السلام کا سارا وجود کہنہ ہو جائے گا، لیکن ریڑھ کی ہڈی کا آخری حصہ (عجب الذنب) زندہ رہے گا۔ ابن آدم اسی سے پیدا ہو اور اسی سے اٹھایا جائے گا۔ انسان جب دوسری مرتبہ اٹھایا جائے گا، تو اس کی وہ نشانیہ اس زندگی کی طرح نہ ہو گی، کیونکہ یہ ہستی فاسد ہے اور وہ فاسد نہیں بلکہ باقی اور دائم ہو گی، اہل جنت سے فاسد فضلے بھی خارج نہیں ہوں گے۔
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اہل جنت نہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ پھریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک جھاڑیں گے۔ صرف یہ ہو گا کہ کستوری کی طرح کا فضلہ ان سے جھڑے گا۔
بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ برہنہ پاؤں عریاں اور بغیر ختنہ اٹھیں گے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔
كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ﴿١٠٤﴾ (سورة الأنبياء)
جس طرح ہم نے پہلے مخلوقات کی ابتدا کی اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ وعدہ ہم نے اپنے اوپر لازم کر رکھا ہے اور اس کو ہم ضرور پورا کریں گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسان دوبارہ پیدا ہونے کے وقت مغلوب اور عیر مختون ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
حسن بصری اور مجاہد نے اس آیت کی تفسیر یوں کی ہے کہ جس طرح دنیا میں پیدا ہونے کے قبل تم کچھ نہیں تھے اور پیدا کر دیے گئے تھے، اسی طرح قیامت کی دن تم زندہ لوٹائے جاؤ گے۔
قتادہ کا قول ہے کہ مٹی سے انسان کی ابتداء ہوئی ہے اور اسی کی طرف اس کو لوٹنا ہو گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ ﴿٥٥﴾ (سورة طه)
ہم نے اسی سے تم کو پیدا کیا اور اسی میں ہم تم کو دوبارہ بھیجیں گے اور اسی سے ایک مرتبہ اور تمہیں نکالیں گے۔
نیز فرمایا:
فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ ﴿٢٥﴾ (سورة الأعراف)
اس میں زندہ رہو گے اور اس میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔
اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے لوگوں کی نشاۃ ثانیہ کو کئی مقامات پر زمین کے مردہ ہو کر دوبارہ زندہ ہو جانے سے تشبیہ دی ہے:
وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴿٥٧﴾ (سورة الأعراف)
اور وہ اللہ تعالیٰ جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری دینے کے لئے بھیجتا ہے حتی کہ وہ بوجھل بادل کو لے اڑتی ہیں اور ہم اسے کسی مردہ علاقے کی طرف روانہ کر دیتے ہیں اور اس میں سے اس علاقے پر پانی نازل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہر طرح کے میوہ جات پیدا ہوتے ہیں ہم مردوں کو بھی اسی طرح زندہ کریں گے۔ یہ تمثیلات اس لئے بیان کی جاتی ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو گے۔
وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿٧﴾ تَبْصِرَةً وَذِكْرَىٰ لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ ﴿٨﴾ وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ ﴿٩﴾ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ ﴿١٠﴾ رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ الْخُرُوجُ ﴿١١﴾ (سورة ق)
اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ ڈال دیئے اور اس میں ہم نے ہر قسم کی اچھی روئیدگی اُگا دی اس لئے کہ جو بندہ ہماری طرف رجوع کرنا چاہتا ہے اس کے لئے باتیں سامان بصیرت و تذکرہ بن سکیں ہم نے آسمان سے مبارک پانی نازل کیا اور اسکے ذریعہ باغ اگائے اناج پیدا کیا کھجور کے بلند قامت درخت پیدا کیے جن کے گچھے خوب گھتے ہوئے ہوتے ہیں۔ بندوں کے لئے یہ سب چیزیں روزی کا باعث ہیں اور ہم نے اسی پانی کے ذریعے سے مردہ علاقے کو زندہ کر دیا اور مردوں کا دوبارہ زندہ کرنا بھی اسی طرح ہو گا۔
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۚ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ﴿٥﴾ (سورة الحج)
اے لوگو اگر تمہیں دوبارہ پیدا ہونے میں شک ہے تو اس بات کی طرف توجہ کرو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے نطفہ، نطفہ سے خون بستہ اور خون بستہ سے پورا بنا ہوا اور ادھورا بنا ہوا لوتھڑا بنایا تا کہ ہم تمہارے سامنے اپنی قدرت کا ثبوت پیش کریں اور ایک معین مدت تک ہم رحموں میں جو کچھ چاہتے ہیں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں پھر یہاں تک تربیت کرتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے بعض معمولی عمر سے پہلے مر جاتے ہیں اور بعض نہایت نکمی عمر (بڑھاپے) کی طرف لوٹا کر لائے جاتے ہیں کہ جاننے بوجھنے کے بعد پھر وقوف و شعور رخصت ہو جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ زمین بے حس ہوتی ہے لیکن جب ہم اس پر پانی نازل کرتے ہیں، تو وہ ابھرنے اور بڑھنے لگتی ہے اور سب باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر بات پر قادر ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَاللَّـهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَىٰ بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ كَذَٰلِكَ النُّشُورُ ﴿٩﴾ (سورة فاطر)
اللہ تعالیٰ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے اور وہ بادل کو پھیلاتی ہیں اور ہم اسے ایک مردہ علاقے کی طرف روانہ کر دیتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ کر دیتے ہیں انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا بھی ایسا ہی ہو گا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ جہاں اس بات کی خبر دیتا ہے کہ وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا اور بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرے گا، اور وہ ایک مرتبہ لوگوں کو زمین سے نکالے گا، وہاں یہ بھی بتلاتا ہے کہ معاد ہی مبدا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ﴿٢٧﴾ (سورة الروم)
اور وہ اللہ تعالیٰ جو مخلوقات کی ابتداء کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرے گا۔
نیز وہ خبر دیتا ہے کہ معاد مبدا کی طرح ہے :
ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُم بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا ﴿٩٨﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيهِ ﴿٩٩﴾ (سورة الإسراء)
اور کہتے ہیں کہ آیا جب ہم ہڈیوں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو پھر ازسر نو پیدا ہوں گے! کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ بزرگ برتر نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا وہ ان کی طرح کے انسان بھی پیدا کر دینے پر قادر ہے اور اس نے انھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس نے انھیں دوبارہ پیدا کرنے کے لئے ایک میعاد بھی مقرر کر دی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا ﴿٤٩﴾ قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا ﴿٥٠﴾ أَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ ۚ فَسَيَقُولُونَ مَن يُعِيدُنَا ۖ قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ ۖ قُلْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَرِيبًا ﴿٥١﴾ يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٥٢﴾ (سورة الإسراء)
کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو اس صورت میں بھی ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اے رسول اللہ ﷺ ان سے کہہ دو کہ خواہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ یا ایسی ہی کوئی اور مخلوق بن جاؤ جو تمہارے خیال کے مطابق بھی بہت ہی سخت ہو اور اسے زندہ کرنا دشوار ہو تم زندہ ہو کر ہی رہو گے پھر کہیں گے کہ ایسی حالت میں ہمیں کون زندہ کرے گا ان سے کہہ دو کہ تمہیں وہ ذات دوبارہ پیدا کرے گی جس نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا، ان سے کہنا کہ ممکن ہے کہ وہ قریب ہو یہ وہ دن ہو گا کہ اللہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی حمد بجا لاتے ہوئے جواب دو گے اور تمہارا خیال ہو گا کہ قبر میں صرف تھوڑی دیر ہی ٹھہرے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
پھر سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ﴿٨١﴾ (سورة يس)
کیا جس اللہ نے آسمان اور زمینیں بنا لیں، وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کی طرح کے انسان پیدا کر دے، ہاں ضرور قادر ہے اور وہ سب کو پیدا کرنے والا سب کے حالات جاننے والا ہے۔
نیز فرمایا:
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٣٣﴾ (سورة الأحقاف)
کیا وہ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور انہیں پیدا کرنے سے اسے کوئی تکان محسوس نہیں ہوتی اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
نیز فرمایا:
أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ﴿٥٨﴾ أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ﴿٥٩﴾ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ﴿٦٠﴾ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٦١﴾ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٦٢﴾ (سورة الواقعة)
خیال تو کرو کہ عورتوں کے رحموں میں جو منی تم پہنچاتے ہو، کیا وہ تم نے پیدا کی ہے، یا ہم نے؟ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری صورتیں بدل ڈالیں اور تمہیں کسی اور صورت میں پیدا کر دیں جسے تم جانتے ہی نہیں ہو۔ اول بار کا پیدا ہونا تو تمہیں معلوم ہی ہے۔ پھر اس سے کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
ان کی مثل پیدا کرنے پر قادر ہونے سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ﴿٣٣﴾ (سورة الأحقاف)
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے تھکان بھی محسوس نہیں کی وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔
لوگوں میں اس امر کے متعلق نزاع و اختلاف نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا ہی میں دوسری مرتبہ ان کی امثال پیدا کرتا ہے، کیونکہ یہ ایک امر مشاہدہ ہے، اللہ تعالیٰ ایک قرن کے بعد دوسری قرن پیدا کرتا ہے۔ والدین سے بچہ پیدا کرتا ہے اور اس کو نشاۃ اولیٰ کہا جاتا ہے۔ لوگ اس نشاۃ کو جانتے ہیں اور اس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت قائم کی ہے کہ دوسری نشاۃ پر قادر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ ﴿٦٢﴾ (سورة الواقعة)
نشاۃ اولیٰ کو تو تم جانتے ہی ہو تو پھر اس سے نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے؟
پھر فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ﴿٥﴾ (سورة الحج)
اے لوگو! تمہیں دوبارہ اٹھنے کے متعلق شبہ ہے تو اس حقیقت کی طرف توجہ کرو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے، پھر خون بستہ سے اور پھر پورے پیدا کیے ہوئے اور ادھورے پیدا کیے ہوئے، لوتھڑے سے بنایا۔ یہ مثال اس لئے بیان کی گئی ہے کہ ہم تمہارے سامنے دوبارہ اٹھنے کی حقیقب واضح کر دیں۔
اور اسی لئے ’’علیٰ بن نبدل امثالکم وننشکم فیما لا تعلمون‘‘ ؎ٰ1 فرمایا:
1۔ اس آیت کا ترجمہ صفحہ نمبر 35 سطر نمبر 2 میں دیکھیں۔
وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ کی تفسیر حسن بن فضل بجلی اس طرح کرتے ہیں۔ ’’ہم تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے کے لئے اس جگہ سے پیدا کریں گے کہ تمہیں اس کا علم نہیں ہے اور جس طریق پر چاہیں گے، پیدا کریں گے نشاۃ اولٰی کا تو تمہیں علم ہے کہ وہ کیونکر ماؤں کے پیٹوں میں واقع ہوتی ہے۔ نشاۃ ثانیہ ایسی نہ ہو گی، نشات اولٰی کے متعلق تو سب کو معلوم ہے کہ انسان اول اول نطفہ ہوتا ہے۔ پھر خون بستہ کی صورت اختیار کرتا ہے پھر کامل الخلقت لوتھڑا بنتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ یہ نطفہ مرد اور عورت کی منی کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے حیض کے خون سے غذا دیتا ہے جس سے اس کی پرورش ہوتی ہے۔ اس پرورش کے ایام میں بچہ تین تاریکیوں میں بند رہتا ہے۔ ایک تاریکی وہ جھلی ہوتی ہے جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ دوسری تاریکی رحم کی، اور تیسری ماں کے پیٹ کی ہوتی ہے۔
نشاۃ ثانیہ میں لوگ عورت کے پیٹ میں نہ ہوں گے اور نہ خون سے غذا مہیا ہو گی۔ یہ بھی نہ ہو گا کہ کوئی انسان مرد اور عورت کا نطفہ ہو اور پھر وہ اس نطفہ سے خون بستہ کی صورت اختیار کرے۔ بلکہ نشاۃ ثانیہ مٹی سے ہو گی، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے:
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ ﴿٥٥﴾ (سورة طه)
مٹی ہی سے ہم نے تم کو پیدا کیا دوبارہ ہم تمہیں اسی میں لے جائیں گے اور دوسری مرتبہ اسی سے نکالیں گے۔
نیز فرمایا:
فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ ﴿٢٥﴾ (سورة الأعراف)
اس میں زندہ رہو گے اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔
نیز فرمایا:
وَاللَّـهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ﴿١٧﴾ ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ﴿١٨﴾ (سورة نوح)
اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے روئیدگی کی طرح پیدا کیا۔ پھر تمہیں لوٹا کر اسی میں سے ایک مرتبہ اور تمہیں پیدا کرے گا۔
حدیث میں ہے کہ زمین پر مردوں کی منی طرح بارش ہو گی اور لوگ قبروں میں اس طرح پیدا ہوں گے جس طرح سبزی اگتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
کذالک الخروج (ق) اسی طرح نکلنا ہو گا۔
کذالک النشور (فاطر) اسی طرح اٹھنا ہو گا۔
کذالک نخرج الموتٰی لعلکم تذکرون (الأعراف) ہم اسی طرح مردوں کو زندہ کرتے ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
تو معلوم ہوا کہ ان دو نشانیوں کی جنس ایک اور قسمیں دو ہیں۔ ایک لحاظ سے دونوں نشاتیں متفق، متماثل اور متشابہ ہیں اور دوسرے لحاظ سے ان میں تنوع اور فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معادکو مبدا بھی کہا گیا۔ اور مبدا کی مانند بھی کہا گیا، اس لحاظ سے کہ مبدا و معاد دونوں متفق چیزیں ہیں، انہیں ایک چیز ہی سمجھنا چاہیے۔ اور اس لحاظ سے ان دونوں نشانوں میں فرق ہے۔ معاد مبدا کی مانند ہے اور جو چیز بھی لوٹائی جاتی ہے اس کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,577
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,207
معانی اعادہ پر بحث

اعادہ کے لفظ کا اقتضا یہ ہے کہ اس میں مبدا اور معاد ہو، خواہ وہ اعادہ اجسام کا ہو یا اعراض کا، ان میں کوئی فرق نہیں۔ مثال کے طور پر نماز کا اعادہ لے لیجئے۔ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے اسے حکم دیا، کہ وہ بارہ نماز پڑھو۔
اسی طرح کہا جاتا ہے کہ : اَعِدْ کَلاَمَکَ (اپنے کلام کو دہراؤ) فُلاَ صْتَدْ اَعَادَ کلام فلان بعینہٖ۔ (فلاں شخص نے فلاں کے کلام کو بعینہٖ دہرایا) فلان یعید الدرس (کلام وہی ہے اگرچہ دوسرے شخص کی آواز و حرکت پہلے کی آواز و حرکت نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب کوئی بات فرمایا کرتے تھے تو اسے تین مرتبہ دہرایا کرتے تھے اگرچہ اسی کسی حد تک مثل سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ لیکن عمومًا ایسے مواقع پر مثل کا اطلاق نہیں ہوتا، حتٰی کہ جو شخص کسی دوسرے کی بات نقل کرتا ہے، اس کے متعلق کہا جاتا ہے ھٰکَذَا قَالَ فُلَانٌ (فلاں شخص نے یہی کہا) اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی مثل کہا، اسی طرح فعل ھذا عودا علیٰ بدئٍ (ایک دفعہ کرنے کے بعد پھر یہ کام کیا) بئر عدی اور بئر عادی کے نام بھی اسی نسبت سے پڑے ہیں، اول الذکر وہ ہے جس سے ابتدا کی جائے اور موخر الذکر وہ ہے جس پر اعادہ کیا جائے۔
بئر عادی کا نام قوم عاد کی نسبت سے پڑا ہے۔ جیسا کہ بعض حضرات کا قول ہے۔ کہا جاتا ہے استعدِتہ الشی فاعادہ (میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ یہ کام دوبارہ کرے تو اس نے وہ کر دیا) عادت کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے۔ عادہ اعتادہ اور تعودہ۔ ان سب کے یہی معنی ہیں، کہ اس کی عادت ہو گئی۔ وعود کلبہ الصد نتعودہ۔ (اور اس نے اپنے کتے کو شکار کی عادت ڈالی تو اس کی عادت ہو گئی)۔
عادت، معاودت سے ہے اور معاودت کے معنے پہلے کام کی طرف رجوع کرنے کے ہیں۔ بہادر آدمی کو معاوو کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ بار بار جنگ کرتا ہے اور تھکنے میں نہیں آتا۔ عاودتہ الحٰی (اسے باری کا بخار آتا ہے) عاودہ بالمسئلہ (اس سے بار بار سوال) کیا جنگ وغیرہ میں کسی قوم کے تعاود کرنے کے یہ معنی ہیں کہ ہر فریق اپنے ساتھی کی طرف لوٹ کر آجاتا ہے۔ عواد اس کھانے کو کہتے ہیں، جس میں سے کچھ ایک مرتبہ کھا لیا جائے، اور باقی کھانا دوبارہ سامنے لایا جائے۔ اور عواد کے معنی ہیں واپس آ۔ جس طرح نزال بمعنی انزل (اتر جا) آتا ہے ان تمام مقامات میں اعادہ کا لفظ بہ اعتبار حقیقت استعمال کیا گیا، کیونکہ دوسری مرتبہ بھی حقیقت وہی ہے۔ جو پہلی مرتبہ تھی اگرچہ شخصیتیں متعدد ہوں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے۔ ھو مثلہ (وہ اس کی مثل ہے) اور ھذا ھو ھذا (یہ وہی ہے) اور یہ دونوں صحیح ہیں۔ لیکن اس حقیقت کے اعتبار سے جو اس وجود سے مختص ہے، اس سے دو فاعلوں کے درمیان کی قدر مشترک مراد نہیں ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی دوسرے شخص کے کام کی مثل کوئی کام کرے گا تو یہ نہیں کہا جائیگا کہ اس نے اس کام کو دہرایا، بلکہ یہ کہا جائیگا کہ اس نے اس کے مشابہ کام کیا ہے۔ بخلاف اس کے جو شخص کوئی ایسا فعل دوسری مرتبہ کرے جو وہ ایک مرتبہ کر چکا ہے تو کہا جائیگا کہ اس نے اپنے کام کا اعادہ کیا ہے اسی طرح جب کوئی شخص دوسرے شخص کے کلام کا اعادہ کریگا تو کہا جائے گا کہ اس نے اس کا اعادہ کیا، اور جو شخص اپنی طرف سے ویسا کلام پیدا کر کے کہے، اس کو اعادہ نہیں بلکہ مثل کہا جائے گا۔ کہا جاتا ہے۔ قوا علی ھذا (اس نے یہ پڑھا) اعاد علی ھذا (اس نے اس کو دہرایا )ھذا یقرا (یہ پڑھتا ہے یعنی درس دیتا ہے) ھذا یعید (یہ دہراتا ہے) اگر کوئی دوسرا مماثل کلام ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ وہ درس دیتا ہے۔ جو شخص انگشتری یا کسی اور ڈھلی ہوئی چیز کو توڑ دے اسے کہا جاتا ہے، اعد کما کان (اسے جیسی تھی ویسی ہی بنا دے) اگر کوئی شخص اس انگشتری کی طرح کوئی اور انگشتری بنا دے تو اس شخص کو معید (دوبارہ بنانے والا) اور انگشتری کو معاد (دوبارہ بنائی ہوئی) نہیں کہا جائے گا۔ اول الذکر کے متعلق کہا جائے گا، کہ یہ بعینہٖ پہلی ہے اور ثانی الذکر کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ ہر لحاظ سے پہلی کی مثل ہے۔ اسی طرح جو شخص مکان گراوے اس سے کہا جائے کہ اسے دوبارہ ویسا ہی بنا دے تو اسے مثل نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ یہ بعینہٖ پہلا مکان ہے جو دوبارہ بنایا گیا ہے لیکن اگر اس مکان کی مثل ایک اور مکان بنا دیا جائے گا کہ یہ پہلے مکان کی مثل ہے اسی طرح کی تمام عبارتیں اس امر پر دال ہیں کہ من وجہ معاد بعینہٖ مبدا ہے، اور من وجہ وہ مبدا کی مثل ہے۔
اس تفصیل و تشریح سے اس باب میں ذیل کے اعتراضات قطعًا زائل ہو جاتے ہیں۔
1۔ اعادہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہی زمانہ بھی دوبارہ آجائے۔
2۔ اعادہ عقلاً ممتنع ہے اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ پہلی چیز کی مثل لائی جائے۔
بعض متکلمین کہتے ہیں کہ اعادہ ہرگز خلاف عقل نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس باب میں جس اعادے کی خبر دی ہے وہ اعادہ منقولہ ہے اور یہی اعادہ ہے جو مشرکین و مسلمین کو رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے مستفاد ہوا اور یہی ہے جس پر لفظ اعادہ دلالت کرتا ہے اور معاد بعینہٖ اول ہوتا ہے، اگرچہ لوازم اعادہ اور لوازم ابتدا میں فرق ہو۔ یہ فرق اس امر میں مانع نہیں ہے کہ اول کا اعادہ ہو، کیونکہ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ جسم ثانی جسم اول سے ہر لحاظ سے مختلف ہو گا۔ اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نشاۃ ثانیہ ہر لحاظ سے نشاۃ اولیٰ کی طرح ہو گی۔ اور جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا، کہ وہ کچھ بھی نہ تھا، اسی طرح اسے جب دوبارہ پیدا کرے گا تو اسی وقت جب وہ کچھ بھی نہ ہو گا۔ علاوہ ازیں جو انسان مٹی بن جاتا ہے اور اس مٹی سے سبزی اگتی ہے اور اس سبزی کو کوئی دوسرا انسان کھا لیتا ہے۔ وعلیٰ ہذا القیاس اور جس انسان کو دوسرا انسان یا حیوان کھا لیتا ہے اور اس حیوان کو کوئی دوسرا انسان کھا لیتا ہے، ان میں سے ہر ایک معدوم ہو گیا۔ پہلا انسان بھی مٹی بن گیا اور دوسرا بھی، اور یہی حالت پیدا ہونے سے قبل تھی۔ پھر ان دونوں انسانوں کو دوبارہ مٹی سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی کا آخری حصہ باقی ہو گا، اسی سے ہر ایک پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے اٹھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس کا سارہ جسم معدوم ہو گیا۔ اب اس مادے سے جس کی حالت بدل چکی ہے دوبارہ پیدا کیا جائے گا، ایک قبر میں ہزار میتوں کی حالت بدل جائے اور وہ مٹی ہو جائیں، جب بھی وہ دوبارہ پیدا کیے جائیں گے اور اس قبر سے اٹھیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ایسی حالت میں اٹھائے گا کہ وہ بالکل نیست ہو چکے ہوں گے۔ جس طرح پہلی مرتبہ وہ عدم محض سے پیدا کیے گئے تھے۔ اور ان ہزار انسانوں کے مٹی ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں اسی قبر سے اٹھائے گا اور اسے اس امر کی ہرگز ضرورت نہیں پڑے گی کہ بار اول کی طرح پہلے نطفہ، پھر خون بستہ اور پھر لوتھڑا پیدا کیا جائے بلکہ ان کی نشاۃ ان اشیائے خورد و نوش کے ساتھ ہو گی جو اس کے جسموں میں بطریق استحالہ (کسی جسم کا ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونا استحالہ کہلاتا ہے۔ مثلاً نطفہ سے لوتھڑا اور لوتھڑے سے بچہ اور بچے سے بوڑھا انسان بن جاتا ہے) (مترجم) شامل ہو چکی ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جس صورت میں کہ ایک انسان نے دوسرے انسان کو کھا لیا ہو، یا ایسے حیوان کو کھا لیا ہو جس نے کسی دوسرے انسان کو کھایا ہو تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو استحالہ کے ایک طریق سے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا کہ پہلے نطفہ پیدا کیا جائے پھر خون بستہ بنایا جائے۔ اور اس سے لوتھڑا ظاہر ہو۔ پھر اسے حیض کے خون سے غذا بہم پہنچائی جائے اور ماں کے دودھ اور دیگر اشیائے خورد و نوش سے اس کی پرورش کی جائے۔ یہ خیال غلط ہے کہ اعادہ کے لئے ان غذاؤں کا اعادہ بھی ضروری ہے جو مستحیل ہو کر ان کے بدنوں میں شامل ہو گئی ہیں۔ اس وقت جب انسان نے انسان کو کھا لیا تو دوسری تمام غذاؤں کی طرح یہ اس کی خوراک بن گئی اور ایسی غذاؤں کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ غذائیں جب معدے میں جاتی ہیں، تو وہ انھیں توڑ پھوڑ کر ثرید بنا دیتا ہے جو ’’کلوس‘‘ کہلاتی ہے اور اس کے بعد اور زیادہ پگھل کر غذائیں نرم ہو جاتی ہیں اور کیموس کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ پھر کیموس پک کر خون بنتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس خون کو سارے بدن میں تقسیم کرتا ہے، بدن کا ہر حصہ اپنا اپنا حصہ بانٹ لیتا ہے اور خون کی حالت بدل جاتی ہے، وہ جزو بدن بن کر ہڈی، گوشت اور رگوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی اس رزق کی حالت ہے۔ جو بدء خلق کے وقت نطفہ، علقہ (خون بستہ) اور مضغہ (لوتھڑا) کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اس امر کا محتاج نہیں کا کسی انسان کو دوبارہ پیدا کرنے کے لئے نطفہ ،علقہ اور مضفہ کی صورت دے، اسی طرح اسے اس بات کی بھی ضرورت نہیں کہ وہ لوگوں کے غذاؤں کو بھی میووں اور گوشت کی صورت میں دوبارہ پیدا کرے اور پھر ان سے کیلوس، کیموس، خون، استخوان، گوشت اور رگیں بنائے بلکہ یہ بدن ایک اور حالت میں دوبارہ پیدا ہو گا، جو موجودہ پیدائش کی طرح نہ ہو گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ ’’ہم تمہیں دوبارہ اس صورت میں پیدا کریں گے جو تمہیں معلوم نہیں‘‘۔
 
Top