• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر سورۂ اخلاص

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,560
ری ایکشن اسکور
6,645
پوائنٹ
1,207
پہلی نشات کے وقت جس قدر استحالات واقع ہوئے ہیں۔ نشات ثانیہ کے لئے ان میں سے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ وجوہ مذکورہ بالا سے اس اعتراض کا جواب بھی مل گیا کہ بدن کے اجزاء ہمیشہ تحلیل ہوتے رہتے ہیں، کیونکہ بدن کا تحلیل اس بات سے زیادہ عجیب نہیں ہے کہ نطفہ سے علقہ اور علقہ سے مضغہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی حقیقت دوسرے سے مختلف ہے اور متحلل جسم کے دوسرے اجزاء سے مشابہ و متماثل ہوتے ہیں۔ جب دوبارہ پیدا کرنے کے وقت جسم کو ایک حقیقت سے دوسری حقیقت میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں تو اس انقلاب کی کیا ضرورت ہے جو تحلل کے باعث واقع ہوتا ہے ایک شخص دوسرے شخص کو ایک مرتبہ حالتِ شباب میں دیکھتا ہے اور پھر اس صورت میں دیکھتا ہے کہ وہ بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے لیکن اس استحالہ (تغیر حالت) کے باوجود وہ معلوم کر لیتا ہے، کہ یہ وہی شخص ہے جسے اس نے جوانی کی حالت میں دیکھا تھا۔ تمام حیوانات اور نباتات کی یہی حالت ہے۔ ایک مدت تک ایک شخص ایک درخت سے غائب ہو جاتاہے، اس کے بعد جب آکر دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے کہ یہ وہی پہلا درخت ہے، حالانکہ تحلل و استحالہ تمام حیوانات و نباتات میں بھی اسی طرح ہوتا رہتا ہے جس طرح بدنِ انسانی میں واقع ہوتا ہے۔ ایک انسانِ عاقل کو یہ سمجھنے کے لئے کہ یہ وہی پہلا درخت ہے یہ وہی گھوڑا ہے جو چند سال قبل اس کے پاس تھا اور یہ وہی انسان ہے جسے بیس سال ہوئے اس نے دیکھا تھا اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ اصلی اجزاء کو باقی رکھنے پر قادر ہو جو تحلیل نہ ہوئے ہوں۔ یہ بات کسی کے دل میں کھٹکتی تک نہیں، اس بات کی پہچان اور تمیز بھی نہیں ہو سکتی کہ یہ وہی اجزاء ہیں یا اور ہیں اور بسا اوقات یہ چیزیں چھوٹی ہوتی ہیں اور مرور زمانہ پر بہت بڑی ہو جاتیں ہیں لیکن اس کے باوجود عقلاً نہ صرف یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ فلاں چیز ہے۔ بلکہ ان تمام درختوں، گھوڑوں اور انسانوں کی طرف اشارہ کر کے بتا دیتے ہیں جنھیں انھوں نے کسی گزشتہ زمانہ میں دیکھا ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ چیزیں اس لحاظ سے فلاں چیزیں ہیں کہ نفسِ ناطقہ ایک ہے جیسا کہ ان لوگوں کا دعویٰ ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ دوسرا بدن پہلے بدن کا عین نہیں ہے، بلکہ مقصود صرف نفسِ نعمت یا عذاب چکھانا ہے اور بدن جو بھی ہو، اس میں یہ مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ بات بھی باطل اور قرآن و سنت اور اجماع سلف صالحین کے مخالف ہے اور اعادہ کے جو معنی سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی اس توجیہ کے خلاف ہیں۔
ہم عرض کر چکے ہیں کہ تمام عقلاء کہہ دیتے ہیں کہ یہ گھوڑا وہی ہے اور یہ درخت وہی ہے جو کئی برس پہلے تھا۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ نباتات کا نفس ناطقہ ہوتا ہی نہیں جو اس سے جدا ہو جائے اور اپنی ذات پر قائم ہو۔ حیوان و انسان کے متعلق بھی وہ یہی کہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دلوں میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ ’’یہ اور وہی‘‘ کا مشار الیہ نفس ناطقہ ہے تو معلوم ہوا کہ عقلاء کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ استحالہ کے باوجود معاد کے وقت جسم وہی ہو گا جو مبدا کے وقت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوبارہ پیدا شدہ جسم ان اعمال کی گواہی دے گا جو انسان نے دنیا میں کیے ہوں گے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿٦٥﴾ (سورة يس)
آج ہم ان کے لبوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، اس کے متعلق ان کے پاؤں گواہی دیں گے۔
نیز فرمایا:
حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٠﴾ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ ﴿٢١﴾ (سورة فصلت)
اتنے میں وہ سب دوزخ کے پاس آجمع ہوں گے۔ ان کے کان، ان کی آنکھیں اور انکے گوشت پوست انکے اعمال پر گواہی دے رہے ہوں گے۔ اور وہ اپنے گوشت پوست سے کہیں گے کہ تم نے ہم پر گواہی کیوں دے دی تو وہ جواب دینگے کہ اسی اللہ تعالیٰ نے ہم سے باتیں کرائیں جس نے ہر چیز کو ناطق بنایا ہے۔
یہ سب جانتے ہیں کہ اگر انسان کوئی بات کہے، یا کوئی کام کرے یا کسی اور شخص کو کوئی کام کرتے دیکھے، یا کوئی بات کرتا سنے اور پھر تیس سال کے بعد اپنے قول و فعل کی شہادت دے اور وہ ایسا اقرار ہو جس کے بموجب اس کا مواخذہ ہو یا اپنے سوا کسی اور چیز یعنی مال و دولت پر گواہی دے اور اس کے ذریعے سے حقوق کا اقرار کرے تو اس کی شہادت مقبول ہو گی، خواہ اس طویل مدت میں اس کے بدن کی حالت متغیر ہی کیوں نہ ہو گئی ہو۔ کوئی عقلمند آدمی یہ نہیں کہتا کہ یہ گواہی مشہود علیہ کی مثل یا اس کے غیر پر دی گئی ہے۔ اگر مشہود علیہ حیوان یا نبات ہو اور گواہی دینے والے نے کہہ دیا کہ یہ حیوان فلاں شخص نے فلاں شخص سے لیا تھا اور یہ درخت فلاں شخص نے فلاں شخص کے سپرد کیا تھا تو استحالہ کے باوجود یہ شہادت معقول ہو گی اور جب استحالہ غیر موثر ہے تو یہ اعتراض محض جہل کا نتیجہ ہے کہ دوبارہ زندگی کے وقت جسم کی حالت مرنے کے وقت کی سی ہو گی، یا وہ جسم موٹا یا دبلا وغیرہ ہو گا، کیونکہ اس نشاۃ ثانیہ کی صورت اس صورت کی مماثل نہ ہو گی جو موجودہ زندگی کی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ صفات ہی فنا ہو جائیں گی، کیونکہ وہاں نہ تو جسم کی حالت تبدیل ہو گی، نہ کوئی پاخانہ وغیرہ پھرے گا، نہ کھانے پینے سے سیری ہو گی اور نہ کوئی موٹا یا دبلا ہو گا۔ خصوصاً جنت میں داخل ہو نے کے وقت جب ہر انسان اپنے باپ ابو البشر آدم علیہ السلام کی صورت میں داخل ہو گا، اہل جنت نہ بول و براز کریں گے، نہ تھوکیں گے اور نہ ناک جھاڑیں گے یہ نشاۃ متضاد خلطوں سے تو ہو گی نہیں کہ اس کا کچھ حصہ دوسرے حصے سے الگ ہو جائے جیسا کہ اس زندگی میں ہوتا ہے، ان کا کھانا پینا مستحیل (تغیر پذیر) نہ ہو گا، کیونکہ وہ اس دنیا کے کھانے پینے کی طرح مٹی، پانی اور ہوا سے بنا ہوا نہ ہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بستی سے گزرنے والے شخص (اس بستی کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے۔ مشہور روایت کے مطابق اول الذکر القدس اور موخر الذکر عزیز علیہ السلام ہیں) (مترجم) کا کھانا پینا سو برس تک سلامت رکھا، اور اس میں کسی طرح کا تسنہ اور تغیر واقع نہیں ہوا تھا، اس سے سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں اپنی قدرت کی طرف توجہ دلائی۔
جب اللہ تعالیٰ اس عالم کون و فساد میں طعام (کجھور، انگور وغیرہ) اور پانی وغیرہ کو سو سال تک بغیر تغیر کے باقی رکھنے پر قادر ہے تو وہ اس بات پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے، کہ آئندہ زندگی میں کھانے پینے کی چیزوں کو ایسا بنا دے کہ وہ تغیر پذیر نہ ہوں۔ اور ان امور کی تفصیل کا مقام دوسرا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,560
ری ایکشن اسکور
6,645
پوائنٹ
1,207
چقماق کی آگ کس مادے سے بنتی ہے؟

اس مقام پر یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ تولد کے لئے دو اصلوں کا ہونا ضروری ہے۔ یہ خیال بھی غلط ہے کہ دو چقماقوں کی درمیان جو ہوا ہوتی ہے اسی کی حالت گرمی کے باعث بدل جاتی ہے اور وہ آگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، چقماقوں سے کوئی مادہ خارج نہیں ہوتا جو آگ میں منقلب ہو جاتا ہو۔ کیونکہ اگر رگڑ کے باعث چقماقوں سے کوئی مادہ خارج نہ ہو تو آگ نہیں نکلتی اور مجرد رگڑ سے آگ نہیں نکلتی۔ بلکہ دو چقماقوں میں سے نیچے کی چیز مثلاً صوفان اور حراق پر چنگاری پیدا کی جاتی ہے۔ اور اس پر آگ گرتی ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ گرتی وہی چیز ہے جو بوجھل ہو۔ اگر چقماق کے لوہے اور پتھر کا کوئی ثقیل حصہ خارج نہ ہو تو آگ نیچے نہیں گر سکتی اگر صرف ہوا منقلب ہو کر آگ بن جاتی تو وہ نیچے نہ اترتی۔ کیونکہ ہوا کا خاصہ صعو (اوپر کو جانا) ہے۔ نہ کہ ہبوط (نیچے اترنا) لیکن جب چقماق سے نکلنے والا مادہ آگ میں تبدیل ہو چکتا ہے تو پاس کی ہوا بھی آگ میں تبدیل ہو جاتی ہے، اور یہ آگ یا تو ھوئیں کی صورت میں ہوتی ہے یا شعلے کی صورت میں۔
جمیع متولدات (پیدا ہونے والی چیزیں) دو اصلوں سے پیدا کی گئی ہیں۔ جس طرح آدم علیہ السلام مٹی اور پانی سے پیدا کئے گئے ہیں۔ ورنہ صرف مٹی سے جس کے ساتھ پانی ملا ہوا نہ ہو، کوئی جاندار چیز یا سبزی پیدا نہیں ہو سکتی۔ سبزی بھی ساری کی ساری دو اصلوں سے پیدا ہوتی ہے۔ مسیح علیہ السلام بھی مریم علیہ السلام اور جبریل علیہ السلام کی پھونک سے پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا ﴿١٢﴾ (سورة التحريم)
اور مریم بنت عمران جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی اور ہم نے اس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے ایک روح پھونک دی۔
نیز فرمایا:
وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا ﴿٩١﴾ (سورة الأنبياء)
جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پس ہم نے اس میں اپنی قدرت کی ایک روح پھونک دی۔
پھر فرمایا:
فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ﴿١٧﴾ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَـٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا ﴿١٨﴾ قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا ﴿١٩﴾ (سورة مريم)
تو ہم نے مریم علیہما السلام کی طرف جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور وہ ایک پورے آدمی کی شکل میں ان کے سامنے کھڑے ہو گئے، آپ کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو اللہ ترس ہے تو میرے سامنے سے ہٹ جا جبریل علیہ السلام نے کہا میں صرف تیرے رب کا بھیجا ہو آیا ہوں، اس لیے کہ تجھے ایک پاکیزہ بچہ دوں۔
مفسرین کا بیان ہے کہ جبریل علیہ لسلام نے مریم علیہ السلام کی قمیض کے گریبان میں پھونک ماری جو مقام ولادت تک پہنچ گئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,560
ری ایکشن اسکور
6,645
پوائنٹ
1,207
تولد مسیح کے دو اصل

اس مقام پر یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ مسیح علیہ السلام دو اصلوں سے پیدا ہوئے ہیں، ایک نفخ جبریل سے اور دوسرے اپنی ماں مریم علیہ السلام سے۔ اور یہ وہ نفخ (پھونک) نہیں ہے، جو چار مہینے گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ جبکہ بچہ لوتھڑے کی صورت میں ہوتا ہے، کیونکہ یہ نفخ ایسے بدن میں واقع ہوتا ہے جو پیدا ہو چکا ہو۔ جبریل علیہ السلام نے جب نفخ کیا تھا تو مسیح بالکل پیدا نہیں ہوئے تھے اور نہ مریم علیہ السلام حاملہ تھیں، بلکہ وہ نفخ کے بعد حاملہ ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کا قول اس دعویٰ کی دلیل ہے:
قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا ﴿١٩﴾ (الیٰ قولہ) فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا ﴿٢٢﴾ (سورة مريم)
جبریل نے کہا کہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ بچہ دوں چنانچہ وہ حاملہ ہو گئیں اور اس حمل کو لیکر وہ کسی دور مقام پر چلی گئیں۔
جب جبریل علیہ السلام نے پھونکا تو مریم علیہ السلام کو حمل ہو گیا، اسی لئے مسیح علیہ السلام کو اس نفخ کے اعتبار سے "رُوحٌ مِّنْهُ" کا خطاب ملا ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ قاصد جو اس کی روح ہے یعنی جبریل علیہ السلام ہی وہ روح ہیں جس نے مریم علیہ السلام سے خطاب کیا، اور کہا تھا "إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا"
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا ﴿٩١﴾ (سورة الأنبياء)
ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی۔
اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام اسی روح میں سے ایک ہیں۔ اس لئے وہ اس اعتبار سے ’’رُوْحٌ مِّنَ اللهِ‘‘ ہوئے اور مِنْ رُّوْحِنَا میں من ابتدائے غایت کے لئے ہے جب دو اصل باہم ملتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان ایک مادہ ہوتا ہے جو منقلب ہو جاتا ہے اور یہ انقلاب اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ان دو اصلوں میں سے ایک دوسرے سے رگڑا جاتا ہے۔ اندریں حالت یہ ضروری ہے کہ اس مادے کے اجزا میں کمی واقع ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,560
ری ایکشن اسکور
6,645
پوائنٹ
1,207
تولد نار کے دو اصل

جب چقماق کا لوہا چقماق کے پتھر پر رگڑا جاتا ہے یا درخت درخت سے رگڑ کھاتا ہے تو اس رگڑ سے ایک حرکت پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث ان دونوں کے بعض اجزاء کی حالت متغیر ہو جاتی ہے اور ان دونوں کے درمیان جو ہوا ہوتی ہے۔ وہ گرم ہو کر آگ بن جاتی ہے اور جب ایک چقماق دوسرے پر رگڑا جاتا ہے تو ان میں سے ایک کی قوت رگڑ کے باعث کم ہو جاتی ہے۔ اور آگ ان دو اصلوں سے مستحیل ہوکر پیدا ہوتی ہے، ایک ہوا سے اور دوسرے ان اجزاء سے جو دو چقماقوں کی باہم رگڑ سے خارج ہوتے ہیں سورج اور آگ وغیرہ روشنی بخش چیز کی شعاع اپنی مقابل کی کسی چیز پر منعکس ہوں تو روشنی حاصل ہوتی ہے۔
لفظ ’’نور‘‘ (روشنی) اور ’’ضوء‘‘ (روشنی) کا اطلاق بعض اوقات ایک جسم قائم بنفسہٖ پر ہوتا ہے۔ مثلاً وہ آگ جو سرِ چراغ پر ہوتی ہے۔ اور یہ اس مادے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی جو منقلب ہو کر آگ بنتا ہے، مثلاً لکڑی اور تیل۔
ہوا بھی آگ میں مستحیل ہو جاتی ہے اور یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے کہ جس مادے سے آگ کا شعلہ پیدا ہو، اس میں یا چقماقوں میں کمی واقع ہو۔ کبھی نور ضیاء، شعاع سے وہ شعاع مراد لی جاتی ہے جو آفتاب یا آگ سے زمین اور دیواروں پر پڑتی ہے۔ یہ روشنی عرض ہے قائم بنفسہ نہیں ہے۔ اس کے لئے ایک محل کی ضرورت ہے جس کے ساتھ وہ قائم ہو اورجو اس کے قابل ہو۔ شعاع کی لئے محل کی ضرورت ہے جس کے ساتھ وہ قائم ہو اور جو اس کے قابل ہو۔ شعاع کے لئے ایک روشنی بخش جسم کا وجود لا بدی ہے اور ایک ایسی چیز کا ہونا بھی ضروری ہے جو اس روشنی بخش چیز کے مقابل ہو، تاکہ اس پر شعاع منعکس ہو سکے۔ چراغ سے حاصل ہونے والی آگ کی بھی یہی صورت ہوتی ہے۔ جب وہ آگ میں رکھی جاتی ہے یا اس میں آگ رکھی جاتی ہے تو اول اولا آگ، مادے یعنی تیل یا لکڑی کو حل کرتی ہے پھر محیط کی ہوا گرم ہو کر مبدل بآتش ہو جاتی ہے اور یہ تبدیلی مادے کے نقصان کے بعد واقع ہوتی ہے اور یہی صورت اس ہوا کی ہے جو آگ میں حرکت پیدا کرتی ہے۔ مثلاً ہوا چلتی ہے تو لکڑی میں شعلے پیدا ہوتے ہیں۔ لوہار کی پھکنی کا عمل بھی یہی ہوتا ہے۔ محل آتش یعنی لکڑی کوئلہ وغیرہ میں آگ بننے کی اور تیز ہوا میں آگ کو جنبش دے کر اس کے مناسب مقام پر پہنچانے کی استعداد ہوتی ہے۔ اس لئے پھکنی وغیرہ کی ہوا آگ کو بھڑکاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات آگ کے پاس کی ہوا کی حالت بھی بدل جاتی ہے۔ لہیب (شعلہ) دراصل ہوا ہوتی ہے جو آگ میں منقلب ہو جاتی ہے۔ جس طرح چراغ کے فتیلہ میں لہیب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آگ بجھ جاتی ہے تو دھواں پیدا ہو جاتا ہے۔ جو آگ سے ملی ہوئی ہوا ہوتی ہے۔ جس طرح بھاپ پانی سے ملی ہوئی ہوا ہوتی ہے اور غار مٹی سے ملی ہوئی ہوا ہوتی ہے۔ کبھی بھاپ کو بھی دھوئیں سے موسوم کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ ﴿١١﴾ (سورة فصلت)
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا۔
مفسرین نے ’’دخان‘‘ کی تفسیر پانی کے بخارات کی ہے۔ آثارِ مرویہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کے بخارات سے آسمان بنائے ہیں اور وہ ’’دخان‘‘ (دھواں) ہوتا ہے۔ اور ’’دخان‘‘ اس ہوا کو کہتے ہیں جس سے کوئی گرم چیز ملی ہو۔ اگر اس میں پانی نہ ہو تو یہ صرف دھواں کہلاتا ہے اور کبھی اس میں پانی ہوتا ہے۔ اس صورت میں اسے دخان بمعنی ’’بخار‘‘ کہا جاتا ہے ۔ جس میں پانی نہیں ہوتا۔ مثلا جو شخص خوشبو کے لیے کوئی چیز سلگائے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ "اس نے تبخر" کیا یعنی خوشبودار دھواں پیدا کیا۔
جوہری کا قول ہے کہ پانی کا بخار وہ ہوتا ہے جو اس سے دھوئیں کی صورت میں بلند ہوتا ہے۔ اور ’’بخور‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں، جس کو سلگانے سے خوشبودار دھواں پیدا کیا جاتا ہے۔ لیکن ہوا، آگ اسی وقت بنتی ہے جس وقت لکڑی اور تیل وغیرہ مادہ جس سے آگ بنتی ہے ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ حیوان کی طرح آگ بھی مادے کے سوا پیدا نہیں ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,560
ری ایکشن اسکور
6,645
پوائنٹ
1,207
واحد الاصل مخلوق پر تولد کا اطلاق نہیں ہو سکتا

بتانا یہ مقصود ہے کہ قائم وجودوں میں سے جس چیز کے متعلق بھی ’’تولد‘‘ کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔ یہ ضروری ہے کہ وہ اصلوں سے بنی ہو اور دونوں میں سے ایک حصہ جدا ہو کر بنی ہو ۔جب کھانے اور پینے سے سیر ہونے یا روح نکلنے وغیرہ اعراض کے متعلق کہا جائے کہ وہ متولد ہیں تو جن امور کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا جائے گا، وہ سب دو اصلوں سے ہوں گے۔ لیکن عرض محل کا محتاج ہوتا ہے، اس مادے کا محتاج نہیں ہوتا جو عرض میں منقلب ہو۔ اس کے خلاف اجسام مواد سے پیدا ہوتے ہیں، جو دوسری نوع میں منقلب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً پانی سے خون بستہ، پھر لوتھڑا اور پھر جاندار چیز پیدا ہوتی ہے۔ نباتات بھی اسی طرح حالت بدلتی ہیں۔ اور جو مخلوق ایک اصل سے ہو، وہ اگرچہ مادے سے پیدا ہوئی ہو، لیکن متولد نہیں کہلاتی۔ مثلاً حوا علیہما السلام آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا ہوئیں، اگرچہ وہ اس مادے سے پیدا ہوئیں جو آدم علیہ السلام سے لیا گیا۔ لیکن اس واقعہ کو تولد نہیں کہا جائے گا۔ یہ کوئی نہیں کہے گا کہ آدم علیہ السلام نے حوا کو جنا، یا وہ حوا کے باپ ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم سے پیدا کیا۔ جس طرح آدم علیہ السلام کو کیچڑ سے پیدا کیا۔ مسیح علیہ السلام کے متعلق البتہ کہا جاتا ہے کہ مریم علیہما السلام نے انھیں جنا اور مسیح علیہ السلام مریم علیہما السلام کے بیٹے ہیں، کیونکہ مسیح علیہ السلام مریم علیہما السلام کے جزو تھے۔ اور وہ مریم کے پیٹ میں روح پھونکنے کے بعد پیدا کئے گئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ﴿١٢﴾ (سورة التحريم)
اور مریم بنت عمران جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی تو ہم نے اس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے روح پھونک دی اور وہ اپنے رب کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کرتی رہیں اور وہ فرمانبردار بندوں میں سے تھیں۔
دوسری آیت یوں ہے :
فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴿٩١﴾ (سورة الأنبياء)
تو ہم نے ان میں اپنی قدرت سے روح پھونکی اور انھیں اور ان کے بیٹے کو دنیا جہان کے لوگوں میں سے ایک نشان بنا دیا۔
اور حوا علیہا السلام کو تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے مادہ سے اسی طرح پیدا کیا، جس طرح آدم علیہ السلام کو مادہ ارضی سے پیدا کیا، پانی اور مٹی سے صورت بنائی گئی اور ہوا نے اسے خشک کرکے بجتی ہوئی مٹی بنا دیا۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاتا، کہ ’’آدم علیہ السلام نے حوا کو جنا‘‘ اور نہ آدم کو مٹی نے جنا اور مسیح کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہیں مریم نے جنا۔ یہ تولد دو اصلوں سے تھا، ایک اصل مریم اور دوسری نفخ جبریل۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ﴿١٧﴾ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَـٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا ﴿١٨﴾ قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا ﴿١٩﴾ قَالَتْ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا ﴿٢٠﴾ (سورة مريم)
تو ہم نے انکی طرف جبریل علیہ السلام کو بھیجا اور وہ انکے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں آ کھڑے ہوئے اور (مریم)کہنے لگیں اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ میرے سامنے سے ہٹ جاؤ۔ جبریل علیہ السلام نے کہا میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا آیا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ بچہ دوں۔ وہ بولیں میرے ہاں لڑکا کیونکر ہو سکتا ہے مجھے تو کسی بشر نے چھوا بھی نہیں اور میں بدکار بھی کبھی نہیں رہی، جبریل نے کہا جیسا میں کہتا ہوں ویسا ہی ہو گا، تمہارا رب کہتا ہے کہ تمہارے ہاں بے باپ کے لڑکا پیدا کرنا ہم پر آسان ہے اور اس کے پیدا کرنے سے غرض یہ ہے کہ ہم اس کو لوگوں کے لیے ایک نشان بنائیں اور دنیا میں اپنی رحمت کا ذریعہ قرار دیں اور یہ بات فیصل ہو چکی ہے اس پر مریم کو حمل ہو گیا اور وہ اسے دور کے مکان میں لے جا کر علیحدہ بیٹھ گئیں۔
نفخ کے بعد حضرت مریم علیہا السلام کو حمل ہوا، مدت تک نفخ کے بغیر حمل نہ ہوا تھا۔ پھر اس حمل میں روح حیات پھونکی گئی، حمل کے لئے نفخ اور روح حیات کے لئے نفخ میں فرق ہے تو معلوم ہوا کہ قائم بنفسہٖ وجودوں میں سے کسی وجود سے جب کوئی چیز پیدا ہو گی اور وہ متولد کہلائے گی او لا بدی ہے کہ والد سے کچھ مادہ خارج ہو اور دو اصلوں سے تولد ہوا ہو، اللہ تعالیٰ صمد ہے اس لئے یہ امر محال ہے کہ اس سے کوئی چیز خارج ہو اور اس کی کوئی بیوی نہیں، اس کا بچہ پیدا ہونا محال ہے۔
شعاع کا تولد، سوچنے سے علم کا تولد، کھانے سے سیری کا تولد اور حرکت سے حرارت کا تولد وغیرہ وجودوں کے تولد نہیں ہیں۔ اعراض کے تولد ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے لئے محل کی اور دو اصلوں کی ضرورت ہے، اس لئے نصارٰی کے اس قول سے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ لازم آتا ہے کہ وہ مریم کو اللہ کی بیوی قرار دیں اور وہ جس طرح اللہ کے لئے ایک بیٹے کا وجود قرار دیتے ہیں، اسی طرح اس کی بیوی بناتے ہیں، وہ جس معنی میں اللہ کے لئے بیٹا موجود ہونے کے قول کی تفسیر کریں، اسی معنی میں بیوی کا موجود ہونا بھی لازم ہو جاتا ہے اور دلائل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بیوی سے منزہ ہے۔ انہی دلائل سے لازمی طور پر تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے بھی منزہ ہے تو جب وہ اللہ کے لئے ایسے اوصاف بیان کرتے ہیں جن سے متصف ہونا اس کی شان سے بعید تر ہے۔ تو ان کی قول کے مطابق اللہ کا ان اوصاف سے متصف ہونا لازم آئے گا۔ جن سے متصف ہونا اس کی شان سے کمتر بعید ہے۔ اور یہ بحث شرح و بسط کے ساتھ ’’الرد علی النصٰریٰ‘‘ میں آچکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,560
ری ایکشن اسکور
6,645
پوائنٹ
1,207
اس سے کسی قدر واضح ہو جاتا ہے کہ :
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
نہ اس نے کوئی بیٹا جنا اور نہ اسے کسی نے جنا۔
اور:
أَلَا إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ ﴿١٥١﴾ وَلَدَ اللَّـهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿١٥٢﴾ (سورة الصافات)
خبردار وہ جھوٹ کہتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا جنا ہے۔ اور وہ بالکل جھوٹے ہیں۔
اور:
وَجَعَلُوا لِلَّـهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ۖ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٠٠﴾ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿١٠١﴾ (سورة الأنعام)
اور جنون میں سے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دیتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی نے انہیں پیدا کیا ہے اور جہالت سے اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراشتے ہیں، وہ ان اوصاف سے پاک و برتر ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنیوالا ہے اس کا بچہ کیونکر ہو سکتا ہے اسکی تو بیوی ہی کوئی نہیں اسی نے ہر چیز پیدا کی ہے اور وہ ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے۔
ان آیات بینات میں اللہ تعالیٰ نے جن اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ قرار دیا اور اپنے متعلق جن امور کی نفی فرمائی ہے وہ ان تمام انواع پر حاوی ہے، جو اس باب میں بعض قوموں سے مذکور ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ ’’اتخاذِ ولد‘‘ (بیٹا بنانا) کی نفی سے تمام قسم کے اتخاذات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ﴿١٨﴾ (سورة المائدة)
اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور دوست ہیں۔ اے رسول ﷺ ان سے کہہ دو کہ پھر اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے دراصل تم بھی دیگر مخلوق کی طرح بشر ہو (اللہ) جسے چاہتا ہے بخشتا ہے، اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں اور انکے مابین کی ساری چیزوں کی ملکیت اسی کیلئے ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
سدی یہود و نصاریٰ کا یہ قول بیان کرتے ہیں، کہ "اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ تیری اولاد میری اولین اولاد ہے۔ میں اسے آگ میں داخل کروں گا اور وہ چالیس دن تک اس میں رہے گی۔ حتیٰ کہ آگ اس کا دامن اعمال پاک کر دے گی اور اس کے گناہوں اور خطاؤں کو نگل جائے گی۔ پھر ندا دی جائے گی کہ بنی اسرائیل میں سے ہر ایک مختون کو (آگ سے) نکال دو۔" اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
مَا اتَّخَذَ اللَّـهُ مِن وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ ۚ ﴿٩١﴾ (سورة المؤمنون)
اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں، اور اس کے ساتھ کوئی اور معبود شریک نہیں۔
نیز ارشاد ہوتا ہے :
وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ﴿١١١﴾ (سورة الإسراء)
اور کہہ دو اے رسول ﷺ ! کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو اولاد سے بے نیاز ہے اور مملکتِ دارین کا بلا شرکت غیرے بادشاہ ہے، اور وہ کمزور نہیں کہ اس کا کوئی مددگار ہو۔
 
Top