- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,587
- ری ایکشن اسکور
- 6,768
- پوائنٹ
- 1,207
لفظ ’’اَحد‘‘ کا استعمال!
اور اس مقام پر مقصود یہ ہے کہ ’’احد‘‘ کا لفظ اعیان (مدد کرنے والوں) میں سے اللہ وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی چیز پر نہیں بولا جاتا۔ اللہ کے سوا دوسرے مواقع پر بولا جائے تو یا تو وہ نفی کے مقام پر بولا جاتا ہے جیسا کہ اہلِ لغت کہتے ہیں ’’لا احد فی الدار‘‘ (گھر میں کوئی نہیں ہے)۔
فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ﴿٤٧﴾ (الحاقہ)
پس تم میں سے کوئی بھی ہم کو اس سے روک نہ سکتا۔
اور اسی طر ح :
لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ (احزاب:32)
تم عام عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہو۔
اسی طرح اضافت کے موقع پر بھی لفظ احد کا استعمال آیا ہے ملا حظہ ہو!
فَابْعَثُوا أَحَدَكُم (الکھف: 19)
اپنوں میں سے کسی ایک کو بھیجو۔
اور:
جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ (الکھف: 32)
ہم نے ان دونوں میں سے ایک کو دو باغ دے رکھے تھے۔
’’صمد‘‘ کا لفظ چونکہ مخلوق کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے، اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ الله صمد بلکہ یہ فرمایا الله الصمد اور اس بات کی وضاحت کر دی کہ الصمد ہونے کا مستحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں، کیونکہ وہ بدرجہ غایت و کمال اس کا مستوجب ہے اور مخلوق اگرچہ بعض وجوہ سے صمد ہو لیکن حقیقت صمدیت اس میں نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ مور و تفرق و تجزیہ ہو سکتی ہے اور وہ صمد ہونے کے باوجود دوسروں کی محتاج ہے اس لئے اللہ کے سوا باقی تمام چیزیں ہر بات میں اللہ کی محتاج ہیں اور اس کے سوا کوئی ایسی ہستی موجود نہیں ہے کہ ہر چیز اس کی طرف حاجتیں لے کر جائے اور وہ کسی چیز کے آگے دامنِ احتیاج نہ پھیلائے۔
مخلوقات میں سے ہر ایک چیز کے اجزاء علیحدہ کئے جا سکتے ہیں۔ اس میں تفریق و تقسیم موجود ہے اور اس کا بعض حصہ دوسرے سے منفصل ہو سکتا ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ الصمد ہے۔ ان باتوں میں سے کوئی چیز اس پر وارد نہیں ہو سکتی بلکہ حقیقتِ صمدیت اور اس کا کمال صرف اسی کے لئے واجب و لازم ہے جس طرح وہ ایک ہے اور اس کا دو ہونا غیر ممکن ہے۔ اسی طرح اس میں عدمِ صمدیت غیر ممکن ہے وہ ایک اور کسی صورت سے کوئی چیز اس کی مماثل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ آخر سورت میں فرمایا:
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔
یہاں احد کا لفظ نفی کے مقام پر مستعمل ہوا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی چیز کسی بات میں بھی اس کے برابر نہیں ہے کیونکہ وہ احد ہے۔
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ’’انت سیدنا‘‘ (تو ہمارا سردار ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’السید الله‘‘ (حقیقی سردار اللہ ہے)۔
اللہ تعالیٰ کا قول الاحد اور الصمد اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ نہ اس سے کوئی پیدا ہو اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے، کیونکہ الصمد وہ ہوتا ہے جس کا نہ تو جوف (پیٹ) ہو اور نہ احشاء (انتڑیاں وغیرہ) اس میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی۔ وہ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، وہ پاک اور برتر ہے چنانچہ فرمایا:
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ (الانعام:4)
کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ولی و مددگار بناؤں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے، وہ کھانا کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا۔
اعمش نے ’’یُطْعَمُ‘‘ کی بجائے ’’یَطْعَمُ‘‘ پڑھا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کھانا نہیں کھاتا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿٥٧﴾ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ﴿٥٨﴾ (الذاریات)
اور میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ و ہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے رزق کا طالب نہیں ہوں، اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ رازق تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہیں۔ جب وہ صمد ہیں اور کھاتے پیتے نہیں ہیں تو ان کے خالق جل جلالہ میں تو وہ غنا و کمال بطریق اولیٰ موجود ہونا چاہئے۔ جو وہ اپنی بعض مخلوقات کو عطاء کرتا ہے اس لئے بعض اسلاف کرام نے صمد کی تفسیر میں بیان فرمایا کہ جو نہ کھائے اور نہ پئے۔ اور صمد مصمد وہ ہوتا ہے جس کا جوف (پیٹ) نہ ہو اور اس میں سے کوئی وجود خارج نہ ہو، چنانچہ وہ بچہ بھی نہیں جنتا۔ اسی لئے بعض نے کہا ہے کہ صمد وہ ہوتا ہے جس سے کوئی چیز نہیں نکلتی۔