• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
باب۔16
'' غلامی اور اسلام ''
159 ۔۔کیاقرآن لونڈی غلام کے مسائل سے خاموش ہے ؟
160 ۔۔قرآن مجید سے لونڈی غلاموں کے مسائل کی فہرست
161 ۔۔کیامسلمان کافر کاغلام بن سکتاہے ؟
162 ۔۔قرآن مجید سے مسلمانوں کے قیدی بن جانے کاثبوت
163 ۔۔غلامی سے متعلق حدیث اور برق صاحب کی غلط فہمی
164 ۔۔اسلام میں غلاموں کے قابل رشک حقوق
165 ۔۔مومن کے غلام کی قابل رشک زندگی
166 ۔۔غلامی کامکمل انسداد کیوں نہیں کیاگیا ؟
167 ۔۔غلامی کی رہائی کے لئے اسلام نے کیاکیا؟
168 ۔۔برق صاحب کاتحقیق نہ کرنا
باب۔17
'' تقدیر !''
169 ۔۔تقدیر کاتخیل قرآن اور حدیث میں
170 ۔۔تقدیر کافائدہ
باب ۔18
'' متضاد احادیث ''
171 ۔۔جہنم میں عورتوں کی کثرت پر اعتراض اور اس کاجواب
172 ۔۔جنگ خبیر میں درخت کاٹنے پراعتراض اور اس کاجواب
173 ۔۔ڈاکوؤں اور ظالموں کی عبرت ناک سزاؤں پراعتراض اور اس کاجواب
174 ۔۔نحوست کے متعلق غلط فہمی اور اسکا ازالہ
175 ۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھول پراعتراض اور اس کاجواب
176 ۔۔نبی کریم صلی اللہ کاسفر میں دیر سے اٹھنا ۔برق صاحب کی غلط فہمی
177 ۔۔قبلہ کی طرف منہ کرکے قضائے حاجت کرنا ۔تعارض احادیث کاجواب
178 ۔۔حالت احرام میں شکار ۔احادیث میں تعارض کاجواب
179 ۔۔حالت احرام میں خوشبو لگانا ۔دوحدیثوں میں تعارض کی حقیقت
180 ۔۔کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کودیکھتا تھا ۔دوحدیثوں میں تعارض کی حقیقت کی تحقیق
181 ۔۔شہد نہ کھانے کاعہد ۔برق صاحب کی غلط فہمی کاازالہ
182 ۔۔معراج کی حدیث پراعتراض اور اس کاجواب
183 ۔۔'' خیرالنساء '' کے متعلق برق صاحب کی غلط فہمی کاازالہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
باب۔19
'' چند دلچسپ احادیث ''
184 ۔۔سورج کے سجدہ کرنے پراعتراض اور اس کاجواب
185 ۔۔سورج کاشیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہونا
186 ۔۔مکھی کے پر میں شفا ہونا
187 ۔۔اولاد کی ماں باپ سے مشابہت کے اسباب
188 ۔۔مرغ کافرشتہ کودیکھنا ۔برق صاحب کی غلط فہمی کاازالہ
189 ۔۔تین سلام کرنے اور کسی بات کو تین دفعہ دہرانے پراعتراض اور اسکا ازالہ
190 ۔۔عرش الہٰی کاہلنا اور اس پراعتراض
191 ۔۔قرآن مجید کاسات قرأتوں میں نزول ۔برق صاحب صاحب کی غلط فہمی کاازالہ
192 ۔۔برق صاحب کاخلاف حقیقت بیان
193 ۔۔کھجور کے تنے کارونا ۔برق صاحب کی غلط فہمی کاازالہ
194 ۔۔معجزہ کاثبوت قرآن کریم
195 ۔۔مسلمانوں کومعجزہ دکھانے پراعتراض اور اس کاجواب
196 ۔۔فرقوں کی بنیاد تقلیدی اختلاف سے قائم ہوئی ہے
197 ۔۔چھپکلی کوقتل کرنے میں حکمت
198 ۔۔برق صاحب کی عجیب وغریب غلط فہمی
199 ۔۔حضرت جبرائیل کے پروں پراعراض
200 ۔۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ختنہ پر اعتراض اور اس کاجواب
201 ۔۔حضرت سلیمان علیہ السلام کابیویوں کے پاس دورہ کرنا
202 ۔۔بعض احادیث کے متعلق برق صاحب کی غلط فہمی
باب۔20
'' صحیح احادیث کوتسلیم کرنا پڑے گا ''
203 ۔۔تدوین احادیث کے متعلق غلط فہمی کاازالہ
204 ۔۔برق صاحب کاسچے اور جھوٹے کی روایت کومساوی درجہ دینا
205 ۔۔برق صاحب کاہر صحیح بات کوحدیث ماننے کانظریہ اور اس کی خرابی
206 ۔۔استاد ضروری کیوں ہیں ؟
207 ۔۔حدیث کاوحی ہونا
208 ۔۔کیادینی مسائل مشورہ سے طے کئے گئے ؟
209 ۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کی شرعی حیثیت
210 ۔۔علاوہ قرآن کے وحی کانزول
211 ۔۔صحت احادیث کے لئے برق صاحب کے تجویز کردہ معیاروں کاجائزہ قرآن کریم کی روشنی میں
212 ۔۔ضمیمہ ۔رسول کی اتباع واطاعت کے متعلق قرآنی آیات
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
گروہ ایک جویا تھا علم نبی کا لگایا پتا جس نے ہر مفتری کا
نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذب خفی کا کیا قافیہ تنگ ہر مدعی کا
کئے جرح و تعدیل کے وضع قانوں
نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسوں
اسی دھن میں آساں کیا ہر سفر کو اسی شوق میں طے کیا بحر و بر کو
سنا خازنِ علم دیں جس بشر کو لیا اس سے جا کر خبر اور اثر کو
پھر آپ اس کو پرکھا کسوٹی پہ رکھ کر
دیا اور کو خود مزا اس کا چکھ کر
کیا فاش راوی میں جو عیب پایا مناقب کو چھانا مثالب کو تایا
مشائخ میں جو قبح نکلا جتایا ائمہ میں جو داغ دیکھا بتایا
طلسم ورع ہر مقدس کا توڑا
نہ مُلا کو چھوڑا، نہ صوفی کو چھوڑا
……………… (حالی)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَ کَفٰی وَ سَلَامٌ عَلٰی عِبَادِ ہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
تصدیر​
صحیح تعلیمات اسلامی خصوصاً حدیث شریف اور علمائے اسلام کے متعلق انگریزی تعلیم یافتگان اُن سے وابستگان اور متاثر حضرات میں جو بڑی بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان کا ایک بڑا مرقع محترم ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برقؔ کی مشہور کتاب ''دو اسلام'' جس کا موضوع علمائے کرام کی عمومی تضحیک، حدیث شریف کا استخفاف بلکہ انکار اور شعائر اسلامی کے احترام سے بے اعتنائی ہے۔ چونکہ تقریباً ساری کتاب ہی غلط فہمیوں یا مغالطوں پر مبنی ہے اس لئے متعدد اہل قلم کو اس کے جواب کے لئے قلم اُٹھانا پڑا۔ جہاں تک مجھے علم ہے سب سے پہلے جماعت اہل حدیث ہندوستان کے ایک بزرگ عالم محمدداؤد صاحب رازؔ نے ''خالص اسلام'' تالیف فرمائی اور شائع کی۔ جو قدرۃ برقؔ صاحب کا جواب ہونے کے باوجود بہت عمدہ اور دلچسپ ہے۔ مولانا رازؔ کے علاوہ بھی بعض اہل قلم نے اپنے اپنے انداز سے جواب لکھے اور حق یہ ہے کہ ہر شخص نے بساط بھر قابل قدر کوشش فرمائی جزاہم اللہ تعالی۔ چند سال ہوئے راقم کا کراچی جانا ہوا اور مکرم مولانا مسعود احمد صاحب بی۔ ایس۔ سی سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ ملاقات اُن کے ہاں ایک مسودہ دیکھا۔ معلوم ہوا کہ موصوف اپنے ہفتہ واری حدیث شریف کے دروس میں برقؔ صاحب کی کتاب ''دو اسلام'' کے اعتراضات پر تفصیل سے گفتگو کیا کرتے تھے جن کو مولوی عبدالسلام صاحب بریلوی قلمبند کر لیا کرتے تھے۔ اور یہ مسودہ ان ہی دروس حدیث کی تنقیح شدہ شکل ہے۔ راقم نے اُس کو دیکھا تو اس کا اسلوب ایسی دل آزار قسم کی تحریروں کے عام جوابات سے مختلف پایا، سنجیدہ، متین اور ناصحانہ جیسے کہ مغالطوں اور غلط فہمیوں میں مبتلا کسی شخص کو سمجھا رہے ہوں۔ علاوہ ازیں ایک خاص بات یہ محسوس ہوئی کہ فتنہ پرداز لوگ جن روایات و احادیث کو عام طور پر ہدف طعن بناتےہیں اُن کے جوابات تحقیقی لیکن عام فہم اور محتاط انداز میں اس کتاب میں یکجا طور سے آگئے ہیں۔ بنابریں خیال ہوا کہ اس سلسلہ میں دوسری کتابوں کے باوجود اس کتاب کو شائع ہو جانا چاہیے۔ بہت ممکن ہے اس کے مطالعے سے احادیث شریفہ کے متعلق بہت سے خلجان اور مغالطے رفع ہو سکیں اور بتوفیقہ تعالی، ارواہِ سعیدہ پر مؤلف کا جذب اخلاص اثر افگن ہو۔ اگرچہ ڈاکٹر برقؔ صاحب نے غالباً خاندانی تاثیر کے باعث ''دو اسلام'' کے موقف سے فی الجملہ رجوع کا مکررّ اعلان فرما دیا ہے (ہفت روزہ چٹان لاہور)
لیکن اوّلاً اُن کی کتاب شائع و ذرائع ہے۔ ثانیاً اس کے مندرجات اسی پھیلے ہوئے فتنہ انکارِ حدیث کی باربار کی کہی ہوئی باتیں ہیں جس سے عموماً جدید تعلیم یافتہ جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ ثالثا کیا عجب کہ مؤلف ''دواسلام'' کے بقایا شکوک و شبہات اگر کچھ باقی رہ گئے ہوں تو وہ دُور ہو جائیں۔ وما ذٰلک علی اللہ بعزیز۔ غرضیکہ یہ تھے وجوہ جن کی بنا پر راقم نے ''اہل حدیث اکادمی'' کے منصرم، مکرم شیخ محمد اشرف صاحب کے سامنے اس کتاب کی اشاعت کی تجویز رکھی تو انہوں نے منظور کر لیا۔ جزاہ اللہ تعالی۔ چنانچہ تفہیم اسلام بجواب دو اسلام کے نام سے ''اہل حدیث اکادمی'' کے سلسلہ مطبوعات کی یہ آٹھویں کتاب ہے جو اللہ تعالی کی توفیق سے اربابِ ذوق کی خدمت میں پیش ہو رہی ہے۔
ایک عظیم غلط فہمی کا ازالہ: جب غلط فہمیوں کے ازالہ ہی کی ٹھہری تو کیوں نہ ایک ایسی عظیم غلطی کے ازالہ کی کوشش کر لی جائے جو مولانا شبلی مرحوم (مقدمہ سیرۃ النبی ﷺ صفحہ۴۰) سے لے کر اب تک کے ایسے لوگوں میں موجود چلی آرہی ہے جو اس مبحث میں نہایت نیک نیتی سے بھی کچھ لکھتے ہیں اور جس سے برقؔ صاحب نے بھی ''دواسلام'' میں فائدہ اٹھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ''کسی بھی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے یہ دیکھا جائے گا کہ وہ قرآن مجید کے خلاف تو نہیں'' اور سہارا اس میں لیا جاتا ہے چھٹی صدی ہجری کے حافظ ابن جوزی  کے اس قول کا: و کل حدیث رایتہ یخالف العقول ادیناقض الاصول فاعلم انہ موضوع ......... او یکون مما یدفعہ الحس و المشاھدۃ او مباینا لنص الکتاب و السنۃ المتواترۃ او الاجماع (فتح المغیث للبخاری صفحہ ۱۱۴ طبع لکھنو) یعنی ''موضوع (جھوٹی) روایت کی علامت یہ ہے کہ عقل ''اصول'' محسوسات و مشاہدہ، نص قرآنی۔ متواتر حدیث، اجماع ......... میں سے کسی ایک کے خلاف ہو''۔
لیکن ذہن کو ہر طرح کے تاثرات سے الگ کر کے دیکھا جائے تو پہلی نظر میں معلوم ہو سکتا ہے کہ ابن جوزی  کے اس فرمان میں صحیح حدیث کےپہچاننے کا طریق نہیں بیان ہو رہا ہے بلکہ موضوع روایتوں کی علامت بتانا ان کے پیش نظر ہے جس کی وضاحب خود انہی سے تدریب الروی (صفحہ80) طبع جدید میں منقول ہے۔ قال (یعنی ابن الجوزی) و معنی مناقضتہ للاصول ان یکون خارجا من دوادین الاسلام من المسانید و الکتب المشھورۃ یعنی کسی روایت کے مخالف ''اصول' ہونے ک امطلب یہ ہے کہ وہ متداول و مشہور کتب حدیث (مثلاً صحاح ستہ، سنن دارمی، موطا امام مالک، مصنف عبدالرزاق وغیرہ) اور مسانید (مسند امام احمد، مسند حمیدی وغیرہ) میں موجود ہو''۔ یعنی دَور تدوین و تالیف کتب حدیث کے بعد جو بچی کھچی روایات چھٹی صدی ہجری یعنی ابن جوزی کے زمانے میں اِدھر اُدھر پھیل کر گمراہی کا سبب بن رہی تھیں اور جن سے غرض مند فائدہ اُٹھا رہے تھے ان کی پہچان کے لئے یہ قاعدہ بنا یا جس نے بھی بنایا۔ لہٰذا صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن اربعہ وغیرہا مستند کتابوں کی احادیث کو اس ''اصول'' کے تحت پرکھنا درست نہیں اور ایسا کرنا فن حدیث سے ناواقفیت پر مبنی ہو گا۔ ھذا وللتفصیل موضع آخر۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ''تفہیم اسلام'' کے مؤلف، مرتب و ناشر کی اس خدمت حدیث اور انتصار علماء کرام کو قبول فرمائے اور ہم سب کو اعتقاد میں پختگی اور عمل میں اخلاص سے بہرہ ور فرمائے۔ آمین
والحمد للہ اولا و اخرا۔ و صلی اللہ علی سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
عاجز ابو الطیب محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی​
مدیر: المکتبہ السلفیہ لاہور۔​
۲۵ رجب الخیر ۱۳۸۷ھ۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین و علی سائر الانبیاء والصالحین اما بعد


تمہید

چند روز ہوئے ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب کی کتاب '' دو اسلام '' دیکھنے میں آئی پڑھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب جیسا آدمی اور اس قسم کی باتیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری وسیع مطالعہ ،اور گہرے علم وتحقیقات کے بعد ہی ملاکرتی ہے ،وسیع مطالعہ سے ذہن صاف ہوجاتا ہے ۔اور غوروفکر کی عادت پیداہوتی ہے ،ایسا آدمی جب کسی بات کوسنتاہے ،توبغیر تحقیق کے اس کوقبول نہیں کرتا اور بغیر غوروفکر کے اس کورد نہیں کرتا ،لیکن تعجب ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے صرف حدیث ہی کانہیں بلکہ قرآن مجید کامطالعہ بھی سرسری کیا،اس وجہ سے آپ کوبہت غلط فہمیاں ہوگئیں ،کتاب '' دواسلام '' ان ہی غلط فہمیوں کامجموعہ ہے ۔اور ہماری یہ کتاب غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے لکھی جارہی ہے ، اللہ تعالی ان کی غلط فہمیوں کودور فرمائے ۔آمین ۔برق صاحب تحریر فرماتے ہیں :۔
ملا کی تعریف
'' ملاسے مراد متعصب تنگ نظر،کم علم اور کوتاہ اندیش واعظ اور امام مسجد ہے نہ کہ صحیح النظر عالم ''(دواسلام حاشیہ ص 278)میں بھی ان مضامین میں لفظ '' ملا'' کوانہی معنوں میں استعمال کروں گا جن معنوں میں ڈاکٹر صاحب نے استعمال کیاہے
عالم کی تعریف
ڈاکٹر صاحب کی محولہ بالا عبارت سے معلوم ہوتاہے کہ عالم در حقیقت وہ ہے جوصحیح النظر ہوقرآن کی اصطلاح میں اسکو راسخ فی العلم کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب ایک اور جگہ رقم طراز ہیں بحمد للہ کہ اسلام میں کچھ محققین بھی ہوگذرے تھے جنہوں نے ایسے تمام واقعات سخت تنقید کی ۔فجزاہم اللہ احسن الجزاء (دواسلام ص90)
میں بھی اس کتاب میں جہاں کہیں عالم کالفظ استعمال کروں گاانہی معنوں میں استعمال کروں گاجن معنوں میں ڈاکٹر صاحب نے کیاہے ۔
جماعت حقہ
ڈاکٹر صاحب شاید ناواقف نہ ہوں کہ مسلمانوں میں ایک جمات ہمیشہ ایسی رہی اور اب بھی موجود ہے جو تمام خرافات، بدعات، موضوعات، مشرکانہ اور جاہلانہ رسوم سے اسی طرح بیزار تھی اور ہے جس طرح خود ڈاکٹر صاحب بیزار ہیں۔ اس جماعت کی ایک تبلیغی تحریک بھی ہمیشہ سے جاری ہے۔ مختلف ادوار اور مختلف ممالک میں اس کے مختلف نام رہے۔ یہ تحریک کبھی شدت اختیار کر لیتی ہے اور کبھی حالات کے ناسازگار ہونے کے باعث سست بھی ہو جایا کرتی ہے۔ اس جماعت کا ذکر مسلم اور غیر مسلم حضرات نے مختلف کتابوں میں ایک ایسی جماعت کی حیثیت سے کیا ہے جو اسلام کو اپنے اصل خدوخال میں پیش کرنا چاہتی ہے اور اس اسلام کی دعوت دیتی ہے جو عہد رسالت میں تھا۔ ہندوستان میں حکومت برطانیہ اور خود ان خرافات کے پرستار نام نہاد مسلمانوں نے جس طرح اس تحریک کی مخالفت کی یہ ایک خونچکاں داستاں ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ یہ تحریک اگرچہ آج کل بہت سست ہو گئی ہے لیکن بحمد اللہ مردہ نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستان میں اس تحریک کا ابتدائی دور جہاد فی سبیل اللہ سے معمور ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو ایک طرف اللہ کے ذکر میں سرشار تو دوسری طرف میدانِ جنگ میں کفار کے مقابلہ کے لئے سینہ سپر تھے۔ ذکر اللہ کے فضائل کی احادیث نے انہیں جہاد سے غافل نہ بنایا تھا کیونکہ وہ ان احادیث کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور کبھی غلط فہمیوں میں مبتلا نہیں ہوئے تھے آج بھی اگر برق صاحب کے ممدوح امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسا مصلح پیدا ہو جائے تو یہ بکھرے ہوئے سپاہی پھر جہاد کے لئے صف آراء ہونے کو تیار ہیں۔
ایک بات اور بھی ذہن نشین کر لیجیے یہ جماعت فرقہ کی حیثیت سے کبھی نمودار نہیں ہوئی نہ اس نے اپنا کوئی ایسا امام بنایا جس کی وہ تقلید کرتی ہو، نہ ایسی فرقہ ورانہ کتابیں تصنیف کیں جو دوسرے فرقوں کے لئے ناقابل حجت ہوں اس جماعت کا اصول وہی ہے جو صحابہ کرام کا تھا۔ یعنی قرآن و حدیث یا دوسرے لفظوں میں اتباع رسول۔ یہ جماعت انہی احادیث کو واجب العمل سمجھتی ہے جن کے متعلق برق صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ:
'' اس طرح کی ہزارہا احادیث ہمارے پاس موجود ہیں جونہ صرف تعلیمات قرآن کے عین مطابق ہیں بلکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مطہرہ کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں ''(دواسلام ص342)
'' یہ تمام تفاصیل احادیث میں ملتی ہیں اور یہی وہ بیش بہا سرمایہ ہے جس پہ ہم نازاں ہیں اور جس سے اب تک کروڑوں غیرمسلم متاثر ہوچکے ہیں ''(دواسلام ص343)
' ' اس میں کلام نہیں کہ حضور کے ان اوصاف جمیلہ کاچرچا صرف احادیث کی بدولت ہوا اور ہم حدیث کے اس گراں بہاذخیرے پرہمیشہ ناز کرتے رہیں گے '' (دواسلام ص 199)
یہ جماعت خود ساختہ اسلام کو اتنا ہی برا سمجھتی ہے جتنا آپ گھڑی ہوئی احادیث سے اتنا ہی بیزار ہے جتنا آپ لہذا آپ یہ نہ سمجھئے کہ اس معاملہ میں آپ تنہا ہیں بلکہ یہ پوری جماعت بھی آپ کے ساتھ ہے ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ بعض صحیح احادیث کوآپ غلط سمجھ بیٹھے اور اس ہی میں غلط فہمی کے ازالہ کے لئے یہ کتاب لکھی جارہی ہے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
آغاز ازالہ
اس مختصر تمہید کے بعد اب میں ڈاکٹر صاحب کی غلط فہمیوں کی طرف متوجہ ہوتاہوں ۔ڈاکٹر صاحب دواسلام کے دیباچہ میں تحریر فرماتے ہیں :یہ1918ء کاذکر ہے میں قبلہ والد صاحب کے ہمرا ہ امرتسر گیامیں ایک چھوٹے سے گاؤں کارہنے والا جہاں نہ بلند عمارات نہ مصفا سڑکیں نہ کاریں نہ بجلی کے قمقمے اور نہ اس وضع کی دکانیں دیکھ کر دنگ رہ گیا لاکھوں کے سامان سے سجی ہوئی دکانیں اور بورڈ پرکہیں رام بھیجا سنت رام لکھا ہے کہیں دنی چند اگروال ......ہال بازار کے اس سرے سے اس سرے تک کسی مسلمان کی کوئی دکان نظر نہیں آئی ہاں مسلمان ضرور نظر آئے کوئی بوجھ اٹھا رہاتھا کوئی گدھے لاد رہا تھا ۔۔غیرمسلم کاروں اور لفٹوں پہ جارہے تھے ،اور مسلمان اڑہائی من بوجھ کے نیچے دبا ہوا مشکل سے قدم اٹھارہا تھا ......''(دواسلام ص 13)
خلاصہ ا سکایہ ہے کہ ہندوؤں کے پاس مال ودولت کی فراوانی اور مسلمانوں کومفلوک الحال دیکھ کرڈاکٹر صاحب کو حیرت ہوئی کہ آخر اس کی کیاوجہ ہے ،دریافت کرنے پرمعلوم ہواکہ اس کاسبب مندرجہ ذیل احادیث ہے ۔''الدنیا جیفۃ و طلابھا کلاب '' یہ دنیاایک مردار ہے اور ا س کے متلاشی کتے ہیں (دواسلام ص 15) برق صاحب نے اس حدیث کامطلب بھی بعض ملاؤں سے دریافت کیالیکن تسلی نہیں ہوئی ،اور اس طرح احادیث کے متعلق ان کی غلط فہمیوں کاآغاز ہوا غلط فہمی سے برق صاحب کاسب سے زیادہ اعتراض اسی روایت پر ہے لہذا اس غلط فہمی کاازالہ تفصیل کے ساتھ درج ذیل ہے
جملہ معترضہ
برق صاحب نے صرف امرتسرہی کودیکھا ار کہیں وہ دہلی بمبئی کلکتہ حیدرآباد وغیرہ مشہور شہر دیکھتے توانہیں ہندوؤں کے دوش بدوش اور ان کے ہم پلہ مسلمانوں کی بھی دکانیں نظر آتیں بلکہ اگر وہ اس وقت پاکستان کے کسی بھی چھوٹے یابڑے شہر کودیکھیں تومسلمانوں کی لاتعداد پررونق دکانیں جگمگاتی نظر آئیں گی حالانکہ ان مسلمانوں کااسلام وہی اسلام ہے جوامرتسر کے ان مسلمانوں کاتھاجن کاذکر برق صاحب نے کیاہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
حق و باطل کا غلط معیار
قبل اس کے کہ میں حدیث مذکور کے صحیح مطلب کی وضاحت کروں بہتر سمجھتا ہوں کہ امرتسر میں ڈاکٹر صاحب نے جو کچھ مشاہدہ کیا، اس سلسلہ میں انہیں قرآن مجید کی چند آیات کی سیر کراؤں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَخَرَ‌جَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِ‌يدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُ‌ونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ﴿٧٩﴾ (القصص)
ایک دن قارون اپنے ساز و سامان اور کروفر کے ساتھ نکلا تو ان لوگوں نے جو دنیا کے طالب تھے کہا: اے کاش جو مال و اسباب قارون کو دیا گیا ہے ہمیں بھی ملتا۔ واقعی یہ بڑا خوش قسمت ہے۔
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ‌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُ‌ونَ ﴿٨٠﴾ (القصص)
اور جو اہل علم تھے، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لئے جس نے ایمان قبول کیا اور نیک عمل کئے اور یہ چیز ان ہی کو ملتی ہے جو صابر ہیں۔
نتیجہ: اللہ تعالی نے ان لوگوں کا ذکر برائی کے ساتھ کیا جو دنیا کے طالب تھے اور ان لوگوں کو علماء کا خطاب دیا ج لوگوں نے اس کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔ بلکہ وہ صرف ایمان اور عمل صالح کے ثواب کے خواہاں رہے۔ آیت نمبر ۲ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کا ثواب ان ہی لوگوں کے پیش نظر ہوتا ہے جو صابر و قانع ہوتے ہیں اور دنیا کے حریص نہیں ہوتے۔ بہرحال آیات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ دنیا اچھی نہیں اور اس کے طالب بھی اچھے نہیں۔
فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِ‌هِ الْأَرْ‌ضَ ۔۔۔﴿٨١﴾ (القصص)
پھر ہم نے قارون کو مع اس کے محل کے زمین میں دھنسا دیا۔
وَأَصْبَحَ الَّذِينَ تَمَنَّوْا مَكَانَهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ اللَّـهَ يَبْسُطُ الرِّ‌زْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ‌ ۖ لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّـهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۖ وَيْكَأَنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُ‌ونَ ﴿٨٢﴾(القصص)
پھر شام کو جو لوگ قارون کے مثل بننے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے افسوس یہ رزق و ساماں کی فراوانی تو اللہ جس بندے کو چاہے دے دیتا ہے اور جس سے چاہے روک لیتا ہے، اگر اللہ کا احسان نہ ہوتا تو ہم بھی دھنسا دیئے جاتے، افسوس کہ کافروں کے لئے فلاح نہیں ہے۔
نتیجہ: دنیاوی مال و دولت کے حریص کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ دنیاوی مال و دولت اگر کسی کے پاس زیادہ ہو اور مومنین کے پاس اس کی قلت ہو تو یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالی اس مالدار سے خوش ہے۔ اور فقراءمومنین سے ناراض ہے۔ قارون بہت مالدار تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب اس کے مقابلہ میں تنگ حال تھے۔ اور اللہ ان تنگ حال مسلمانوں ہی سے خوش تھا کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ضرور کوئی نہ کوئی خامی تھی جس نے انہیں اس درجہ پر پہنچایا تھا؟ برق صاحب امرتسر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف حالات میں دیکھ کر آپ متعجب نہ ہوں، موسیٰ علیہ السلام اور قارون بھی ایسے ہی مختلف حالات میں تھے، اس میں حیرت و استعجاب کا کون سا مقام ہے؟
برق صاحب اب ذرا اوپر چلئے۔ نوح علیہ السلام اور ان کے صحابہ کرام کی حالت ملاحظہ فرمائیے:
فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَ‌اكَ إِلَّا بَشَرً‌ا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَ‌اكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَ‌اذِلُنَا بَادِيَ الرَّ‌أْيِ وَمَا نَرَ‌ىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ ﴿٢٧﴾(ھود)
کافروں کے سرداروں نے نوح علیہ السلام سے کہا: ہم تو تجھ کو اپنے ہی جیسا آدمی سمجھتے ہیں اور ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ تیرے متبعین صرف وہی لوگ ہیں جو ہم میں سب سے زیادہ رذیل اور کم عقل ہیں۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تم کو ہم پر کسی قسم کی فوقیت حاصل نہیں بس ہم تو یہی خیال کرتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔
نتیجہ: برق صاحب مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر جو نتیجہ آپ نے نکالا ہے بالکل وہی نتیجہ سرداران قومِ نوح نے نکالا تھا، یہ کافر سردار تھے، صاحب فضل تھے اور نوح علیہ السلام کے صحابہ کرام فاقہ کش اور کافروں کی نگاہ میں بے عقل سمجھے جاتے تھے۔ لہٰذا کافروں نے ان کو ناحق سمجھا اور اپنے کو حق پر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
خیر الامم کی حالت
برق صاحب اب ان مسلمانوں کی حالت ملاحظہ فرمایئے جو خلاصہ اُمم تھے، اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ ﴿٩٢﴾ (التوبہ)
جہا دمیں نہ جانے کا ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ ان کو سواری دے دیں۔ آپ کہہ دیتے ہیں کہ میرے پاس تو کچھ نہیں جس پر تمہیں سوار کر سکو، وہ لوگ واپس ہو جاتے ہیں۔ اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ ۚ رَ‌ضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٩٣﴾
گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو باوجود مالدار ہونے کے جہاد پر نہ جانے کی اجازت مانگتے ہیں، یہ اس پر راضی ہیں کہ زنان پس ماندہ کے ساتھ بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر مہر لگا دی ہے۔ وہ کچھ نہیں سمجھتے۔
نتیجہ: نہ صحابہ کرام کے پاس خرچ کرنے کو مال تھا نہ اللہ کی زمین پر قائم ہونے والی سب سے بہتر حکومت کے پاس کچھ تھا کہ مسلمانوں کے لئے سامانِ جہاد مہیا کرتی، دنیا کی آنکھوں نے جس سے بہتر انسان نہ دیکھا ہو، وہ انسان، وہ مقدس ترین اللہ کا رسول اور مومن کامل یہ کہہ رہا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں، یہ کونسا اسلام تھا جس کے باعث وہ مقدس ترین انسان تنگ حال تھا؟ آج کل کے مسلمان تو حدیثی اسلام کی وجہ سے تنگ حال ہیں، مگر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے متعلق کیا کہا جائے، پورا عرب فتح ہو چکا ہے لیکن تنگ حالی موجود ہے، برخلاف اس کے منافق مالدار تھے، اور جہاد سے گریز کرتے تھے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ دنیاوی عیش و راحت کی فراوانی سے حق و باطل کا امتیاز نہیں ہوتا۔
ہر رسول کے زمانہ میں کافر خوش حال تھے
مندرجہ ذیل آیات کو ملاحظہ فرمایئے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَمَا أَرْ‌سَلْنَا فِي قَرْ‌يَةٍ مِّن نَّذِيرٍ‌ إِلَّا قَالَ مُتْرَ‌فُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْ‌سِلْتُم بِهِ كَافِرُ‌ونَ ﴿٣٤﴾ (سورہ سبا)
ہم نے جس بستی میں بھی کوئی نبی بھیجا تو اس بستی کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم کو بھیجا گیا ہے
وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ‌ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ﴿٣٥﴾ (سورہ سبا)
اور کہا کہ ہمارے پاس مال و اولاد کی کثرت ہے اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔
قُلْ إِنَّ رَ‌بِّي يَبْسُطُ الرِّ‌زْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ‌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٦﴾ (سورہ سبا)
اے رسول کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ:
یہاں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا آیات میں مسلمانوں کی جو حالت بیان کی گئی ہے وہ ابتدائی دور کی ہے لیکن جب انہوں نے اللہ کے راستہ میں قدم رکھا اور صبر و استقامت کو ملحوظ رکھا تو پھر مالدار ہو گئے۔ یہ شبہ حقیقت پر مبنی نہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسلمانوں کو مال و دولت کی فراوانی بخشی گئی پھر بھی یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے اصحاب میں سے ہر شخص کو اتنا ہی مال مل گیا تھا جتنا قارون کو، بلکہ مومن ہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ۔ یا رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب میں سے ہر شخص اتنا ہی مالدار ہو گیا تھا جتنا اس زمانہ کے یہودی تھے، یا اسلامی حکومت اسی جاہ و حشمت کی مالک ہو گئی تھی جو سلاطین روما اور ایران کے ہاں تھی۔ اگر یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ مومن کی آخرت بھی اچھی ہونی چاہیے تھی اور آپ کے پاس عیش و راحت، ساز و سامان کی اتنی فراوانی ہونی چاہیے تھی کہ کسی انسان کو اتنی میسر نہ ہوتی لیکن حقیقت اس کے خلاف ہے۔ آنحضرت ﷺ کی عسرت کا جو نقشہ آیت بالا میں کھینچا گیا ہے، یہ ابتدا کی بات نہیں ہے بلکہ اس زمانہ کی بات ہے جب پورا عرب فتح ہو چکا تھا اور اسلامی فوجیں حدودِ عرب کو عبور کر کے تبوک پر یلغار کر رہی تھیں اور آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں سے صرف ڈیڑھ سال باقی رہ گیا تھا۔ اب اگر کوئی شخص اس معیار پر کہ مسلمانوں کے پاس دنیاوی سامان کی کمی ہے، مسلمانوں کو گمراہ سمجھ بیٹھتا اور عہد رسالت ہی میں اس کا انتقال ہو جاتا تو بتایئے کیا آپ کہہ سکتے تھے کہ اس کا معیارِ حق و باطل صحیح تھا؟ ہرگز نہیں۔ نوح علیہ السلام کی قوم کی گمراہی کا ہی سبب اوپر بیان ہو چکا ہے لیکن کیا وہ قوم اس معاملہ میں حق بجانب تھی؟ ہر زمانہ میں مسلمانوں کی اکثریت کافروں کی طرح مالدار نہ ہو سکی۔ نہ یہ حدیث کو ماننے کا نتیجہ اس وقت تھا نہ اب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
دنیا کی مذمت اور قرآن:
کیونکہ برق صاحب کی غلط فہمی کی سب سے بڑی وجہ حدیث زیر بحث ہی ہے لہذا میں نے بھی قدرے تفصیل سے روشنی ڈال رہاہوں۔ حدیث کا اصل مطلب تو آگے بیان ہو گا۔ آیاتِ بالا سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ دنیا ایک بے حقیقت شے ہے۔ انبیاءکے پاس نہ ابتدائی دور میں اس کی فراوانی ہوئی، نہ آخری دور میں بلکہ بعض انبیاءتو ابتدائی دور ہی میں بے نیل مرام دنیا سے رُخصت ہو گئے اور بہت سے شہید بھی کر دیئے گئے اور اس پر قرآن شاہد ہے: فَفَرِ‌يقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِ‌يقًا تَقْتُلُونَ ﴿٨٧﴾ (البقرۃ)
قارون کے قصہ میں اللہ تعالی نے دنیا کے طالبین کو اہل علم میں شمار نہیں کیا بلکہ دنیا کو حقیر سمجھنے والوں کے لئے اہل علم کا لقب استعمال کیا۔ اس سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوا کہ دنیا اچھی چیز نہیں اس کی مزید برائی کے لئے چند آیات ملاحظہ فرمائیں:
لَا يَغُرَّ‌نَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فِي الْبِلَادِ ﴿١٩٦﴾ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿١٩٧﴾(آل عمران)
شہروں میں کافروں کی آمد و رفت سے آپ دھوکہ میں نہ آجائیں یہ ساز و سامان بہت تھوڑا ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِ‌يدُ اللَّـهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُ‌ونَ ﴿٨٥﴾ (التوبہ)
اور کافروں کے اموال اور کافروں کی اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے بلکہ ان کے ذریعہ اللہ تعالی ان کو دنیاوی عذاب دینا چاہتا ہے اور یہ کہ ان کی جانیں ایسی حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔
نتیجہ: شہروں میں کافروں کا تجارت کی غرض سے آنا جانا اور ان کی تاجرانہ چہل پہل ان کی فوجوں کا شہر در شہر مظاہرہ و جلوس۔ مال اور اولاد کی کثرت ایک بےحقیقت شے ہے اس سے دھوکہ نہ کھانا چاہیے۔ حق اور ہی چیز ہے جس کا معیار اس دنیا کی زیب و زینت نہیں۔
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَ‌ةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِ‌زْقُ رَ‌بِّكَ خَيْرٌ‌ وَأَبْقَىٰ ﴿١٣١﴾ (طہ)
کافروں کو جو مال ہم نے دے رکھا ہے، اس کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھو یہ محض دنیاوی جاہ و حشمت ہے تاکہ اس میں ان کی آزمائش کرے اور تمہارے رب کا رزق بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
نتیجہ: آیت سے ظاہر ہے کہ دنیا کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا بھی اللہ کو پسند نہیں۔ اگر یہ دنیا اچھی چیز ہوتی تو اللہ تعالی اس کی طمع سے کیوں روکتا اور مسلمان کیوں کافروں کے مقابلہ میں دنیا سے محروم ہوتے، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن کی ایمانی قوت کی مناسبت سے ان کی دنیا بھی اتنی ہی اچھی ہونی چاہیے تھی کافروں کے مقابلہ میں پسماندہ تھے تو آج پسماندگی کا سبب حدیث کو قرار دینا کہاں تک صحیح ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ صحابہ کرام کی محرومی کا سبب قرآن تھا، جس نے ان کو دنیا کی طرف نظر اٹھانے کی بھی ممانعت کر رکھی تھی تو آخر اس الزام کا کیا جواب ہو گا کیا آپ انصاف سے کہہ سکتے ہیں کہ جو جواب قرآن کی طرف سے دیا جائے گا وہی جواب حدیث کی طرف سے نہیں دیا جا سکتا۔
جنگ اُحد میں مسلمانوں کی عارضی شکست کے اسباب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا اصل سبب یہ تھا کہ تم دنیا کی طرف مائل ہو گئے۔ ارشادِ باری ہے:
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّـهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ‌ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَ‌اكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِ‌يدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِ‌يدُ الْآخِرَ‌ةَ ۚ ثُمَّ صَرَ‌فَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ ۔۔۔۔ ﴿١٥٢﴾ (سورہ آل عمران )
اللہ تعالیٰ نے تو البتہ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا کہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قلع قمع کر رہے تھے اسی اثنا میں تم نے بددلی کا مظاہرہ کیا اور حکم کی تعمیل میں اختلاف کیا اور حسب دالخواہ فتح آجانے کے بعد نافرمانی کی ۔ بات یہ ہے کہ بعض تم میں سے دنیا کے طالب ہیں اور بعض تم میں آخرت کے طالب ہیں۔ پھر اللہ نے تم کو کافروں سے روک لیا تاکہ تم کو مبتلائے مصیبت کرے۔
۔۔۔۔فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ۔۔۔ (سورۃ آل عمران:۱۵۳)
پھر تم کو غم پر غم پہنچا
نتیجہ: آیت بالا میں دنیا کے طالبین کی کتنی سخت مذمت ہے۔ کیا اب بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی طلب اچھی چیز ہے۔ ازواج مطہرات کے متعلق ارشادِ باری ہے:
لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ (الاحزاب:32)
یعنی ہر عورت سے تمہارا مرتبہ بالا ہے۔
یہ آیت ازواجِ مطہرات کی فضیلت کے لئے نص قاطع ہے مگر یہ فضیلت ہے کس سبب سے؟ دینی شغل اور انہماک، تقوی اور پاکیزگی کی وجہ سے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسی نسبت سے ان کی دنیا بھی دنیا کی ہر عورت سے بہتر ہوتی لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ان کو دنیا ملتا تو کجا، دنیا کی طلب سے بھی روکا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِ‌دْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّ‌حْكُنَّ سَرَ‌احًا جَمِيلًا ﴿٢٨﴾ (سورۃ الاحزاب)
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی بہار کی طالب ہو تو آؤ میں تم کو مال و متاع دے کر اچھی طرح سے رُخصت کر دوں۔
وَإِن كُنتُنَّ تُرِ‌دْنَ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَالدَّارَ‌ الْآخِرَ‌ةَ فَإِنَّ اللَّـهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿٢٩﴾ (سورۃ الاحزاب)
اور اگر تم کو اللہ تعالی اور اس کا رسول اور دارِ آخرت مطلوب ہے تو پھر تم میں سے نیک کرداروں کے لئے اللہ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
نتیجہ: دنیا اگر اچھی چیز ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو اس سے کیوں روکا جاتا۔ ظاہر اور بالکل ظاہر ہے کہ دنیا میں کچھ نہ کچھ خرابی ضرور ہے کہ اللہ تعالی اس چیز کو ازاواجِ مطہرات کے لئے ناپسند فرماتا ہے اور ان سے صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ یا تو دنیا لے لو اور رسول ﷺ سے علیحدہ ہو جاؤ یا اللہ ، رسول اور آخرت چاہیے تو پھر دنیا سے کوئی واسطہ نہ رکھو۔

برق صاحب حدیث ہی کو الزام نہ دیجیے، قرآن کو غور سے پڑھیے جو بات وہاں ہے وہی یہاں ہے۔ کیا یہ آیت اس بات کی ترجمانی نہیں کرتی کہ مسلمانوں کے لئے آخرت اور کافروں کے لئے دنیا۔ مسلمانوں کو آخرت کی طرف نظر رکھنی چاہیے اور دنیا کی طلب سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے اللہ والوں کے لئے یہ جگہ عیش و راحت کی نہیں۔
مَن كَانَ يُرِ‌يدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ ﴿١٥﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ إِلَّا النَّارُ‌ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٦﴾ (سورہ ھود)
جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی عیش و راحت کا طالب ہے ہم ایسے لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں پورا پورا دے دیتے ہیں۔ اور ان کے لئے دنیا میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں کچھ نہیں سوائے آگ کے جو کچھ عمل انہوں نے کئے تھے وہ سب ناکارہ کر دیئے گئے اور جو کچھ وہ کرتے تھے وہ باطل تھا۔
مَن كَانَ يُرِ‌يدُ حَرْ‌ثَ الْآخِرَ‌ةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْ‌ثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِ‌يدُ حَرْ‌ثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِن نَّصِيبٍ ﴿٢٠﴾ (سورۃ الشوری)
جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو ہم اس کو اس میں سے دے دیں گے لیکن آخرت میں اس کا کچھ بھی حصہ نہیں۔
نتیجہ: آیات بالا سے ثابت ہوا کہ ہر شخص کے لئے دنیا کی طلب مذموم ہے برخلاف اس کے آخرت کی طلب محمود ہے۔ طالب دنیا کے لئے سوائے دوزخ کے کچھ بھی نہیں۔ پھر بھی اگر دنیا مردار نہیں تو اور کیا ہے۔ اور اس کا طالب کتا نہیں تو پھر کیا ہے۔ کہ آخرت میں اس کے لئے سوائے آگ کے کچھ نہیں۔ ایسا شخص تو کتے سے بھی بدتر ہے کہ آگ کی خاطر دنیا کی طلب میں لگا ہوا ہے جس کا نتیجہ سوائے دوزخ کے اور کچھ نہیں۔ کیا یہ آیتیں حدیث زیر بحث کی تائید نہیں کرتیں۔ کیا مسلمانوں کی زبوں حالی کی ذمہ دار یہ آیتیں تو نہیں؟ اگر نہیں تو حدیث نے کیا قصور کیا ہے؟
برق صاحب انصاف کیجیے
ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی۔
 
Top