• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
(۴) حدیث بھی منزل من اللہ ہے۔
اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ‌ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِ‌هِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ ۔۔۔۔ ﴿١٤٠﴾ (سورۃ النساء:140)
اور اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کر چکا ہے کہ جب تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء ہوتا ہوا سنو تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو جب تک وہ کوئی اور بات نہ کریں۔ اگر تم ان کے پاس بیٹھ گئے تو پھر تم بھی ان ہی کے مثل ہو گئے۔
اس آیت سے ظاہر ہوا کہ اس آیت کے نزول سے پہلے یہ حکم نازل ہو چکا تھا لیکن وہ حکم قرآن میں نہیں اور جو حکم قرآن میں ہے اس کا مضمون اور انداز تخاطب یہ نہیں ہے جو اس آیت میں بیان ہوا کہ کتاب سے مراد صرف قرآن ہی نہیں بلکہ حدیث بھی ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ۰ۭ وَكَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا (سورۃ النساء:113)
اور اللہ نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اور حکمت نازل فرمائی اور وہ چیزیں بتائیں جن کو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے
اس آیت میں اگر کتاب سے مراد قرآن ہے تو حکمت سے مراد سوائے حدیث کے اور کیا ہے؟ اگر حکمت سے بھی قرآن مراد ہے تو متعدد مقامت پرکتاب و حکمت کی تکرار بے فائدہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حکمت سے مراد حدیث ہے۔ اور یہ کہ حدیث بھی منزل من اللہ ہے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:
قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ ۔۔۔۔ ﴿٥٤﴾ (سورۃ النور)
اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو اس کے ذمہ ہے جو اس پر لازم ہے اور تم جوابدہ ہو اس چیز کے جو تم پر لازم ہے اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔
دوسری جگہ فرماتا ہے:
قُلْ اِنَّ ھُدَى اللہِ ھُوَالْہُدٰى (سورۃ البقرۃ:120)۔
اللہ کی ہدایت ہی حقیقت میں ہدایت ہے۔
یہ ہدایت کس طرح آتی ہے؟ اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ (سورۃ البقرۃ: 38)
میری طرف سے وقتاً فوقتاً ہدایت آتی رہے گی۔ پس جن لوگوں نے میری ہدایت کی پیروی کی تو وہ بے خوف اور بےغم ہوں گے۔
پہلی آیت سے ثابت ہوا کہ اصل ہدایت اللہ کی ہدایت ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ رسول کے تمام احکام منزل من اللہ ہیں۔ لہٰذا حدیث منزل من اللہ ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ رسول کی اطاعت صرف قرآن کی اطاعت ہے اس کے علاوہ نہیں بلکہ مطلق اطاعت کا حکم دیا لہٰذا قرآن اور غیر قرآن ہر قسم کی اطاعت اس میں شامل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اسلامی تعلیمات: کے ماحصل کے سلسلہ میں برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
(۲۰) ''تمام علوم جدیدہ مثلاً طبعیات، ریاضیات، اقتصادیات تعمیرات وغیرہ کو کفر خیال کرنا''
(۲۱) ''غور و فکر اور اجتہاد و استنباط کو گناہ قرار دینا''۔
(۲۲) ''صرف کلمہ پڑھ کر بہشت میں پہنچ جانا''۔
(۲۳) ''ہر مشکل کا علاج عمل اور محنت سے نہیں بلکہ دعاؤں سے کرنا'' (دواسلام صفحہ۱۶)۔
برق صاحب یہ کسی ملا ہی نے کہا ہو گا۔ لہٰذا ہمیں آپ سے اتفاق ہے۔
برق صاحب پھر تحریر فرماتے ہیں کہ:
''میں سارا قرآن پڑھ گیا، اور کہیں بھی محض دعا یا تعویذ کا کوئی صلہ نہ دیکھا۔ کہیں بھی زبانی خوشامد کا اجر زمردی محلات، لاکھ لاکھ حوروں اور حجوں کی شکل میں نہ پایا۔ یہاں میرے کانوں نے صرف تلواروں کی جھنکار سنی اور میری آنکھوں نے غازیوں کے وہ جھرمٹ دیکھے جو شہادت کی لازوال دولت حاصل کرنے کے لئے جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں کود رہے تھے۔ (دواسلام:۱۹)۔
برق صاحب! جو کچھ آپ نے قرآن میں دیکھا یہ سب کچھ حدیث میں بھی ہے۔ میں کہاں تک فضائل جہاد کی احادیث نقل کروں، احادیث کے دفتر کے دفتر اس سے پر ہیں۔ براہِ کرم آپ صرف مشکوٰۃ شریف ہی سے ابواب فضائل الجہاد نکال کر پڑھیں تو آپ کو اس سلسلہ میں قرآن سے بہت زیادہ مواد ملے گا۔ اس کے آگے برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
''میں نے سوچا کہ حدیث و قرآن کی بتائی ہوئی راہوں میں اتنا فرق کیوں ہے اور راہیں بھی ایسی کہ کسی مقام پر آپس میں نہیں ملتیں۔ احادیث کی تاریخ پڑھی تو مجھ پر منکشف ہوا کہ کہیں تو اعدائے اسلام نے توہین اسلام کے لئے اور کہیں ہمارے علماء نے قرآن کے تیغ و سنان والے اسلام سے بچنے کے لئے تقریباً چودہ لاکھ احادیث وضع کر رکھی ہیں۔ جہاں ایک ایک دعا کا صلہ لاکھ لاکھ جنت دیا ہوا ہے'' (دو اسلام صفحہ:۲۰)۔
برق صاحب قرآن و حدیث کی راہوں میں تو فرق نہیں ہے۔ ہاں قرآن اور خود تراشیدہ اسلام میں فرق ضرور ہے۔ اور یہ ٹھیک ہے کہ اس کے ذمہ دار لوگ ہیں جنہوں نے اس قسم کی احادیث وضع کیں۔ ملا کی تو میں کہتا نہیں مگر برق صاحب کیا علماء کے ہاں ان احادیث کی کوئی وقعت ہرگز نہیں، علماء کے ہاں تو جہاد اس ہی درجہ پر ہے جہاں آپ اسے سمجھتے ہیں۔ صحیح احادیث میں اس کے فضائل بےشمار ہیں اور قیامت تک اس کو باقی رکھا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:
الجہاد ماض منذ بعثنی اللہ الی ان یقاتل اخر امتی الدجال لا یبطلہ جور جائر و لا عدل عادل (ابوداؤد)
یعنی جہاد میری بعثت سے لے کر اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک کہ میری اُمت کا آخری گروہ دجال سے جنگ کرے گا ۔ نہ ظالم کا ظلم اور عادل کا عدل اسے باطل کر سکے گا۔
ہاں برق صاحب یہ چودہ لاکھ کی تعداد آپ نے بہت زیادہ لکھ دی اس پر مزید غور فرمائیے گا۔
اس کے آگے برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
''اور ساتھ ہی یقین ہو گیا کہ اسلام دو ہیں۔ ایک قرآن کا اسلام جس کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور دوسرا وضعی احادیث کا اسلام'' (دو اسلام صفحہ:۲۰)۔
برق صاحب ہمیں آپ سے اتفاق ہے۔ یہ خود تراشیدہ اسلام واقعی اصلی اسلام سے علیحدہ ایک چیز ہے اور اس کی بنیاد متعدد وضعی احادیث پر رکھی گئی ہے۔ اور بعد ازاں بدعات و خرافات پر۔ لیکن ایک وہ اسلام ہے جس کی بنیاد صحیح احادیث پر ہے۔ وہ وہی اسلام ہے جو قرآن نے بتایا ہے۔ بےشک آپ وضعی احادیث کے اسلام کو نہ مانیں لیکن صحیح احادیث کے اسلام کو مان لینے میں تو آپ کو تامل نہیں ہونا چاہیے۔ اور غالباً نہیں ہو گا کیونکہ آپ نے خود ہی آخری باب کا عنوان ''صحیح احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا'' مقرر کیا ہے۔ لہٰذا ہمیں آپ سے اختلاف ہی کب ہے۔ ہاں چند غلط فہمیاں آپ کو ہو گئی ہیں جن کا ازالہ ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں کر دیا جائے گا۔ یہاں تک تمہید کا جواب تھا۔ اب اصل کتاب کا جواب شروع کرتا ہوں۔ اللہ سے توفیق طلب کرتا ہوں۔ اور آپ سے انصاف کا خواہاں ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پہلا باب​
''حدیث میں تحریف''

غلط فہمی: برق صاحب تحریر فرماتے ہیں: وضعی احادیث، اقوال رسول کے ساتھ یوں خلط ملط ہو چکی ہیں کہ جن کو باطل سے علیحدہ کرنا ناممکن ہو رہا ہے۔ (دو اسلام صفحہ 37 ملخصاً)
ازالہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:9)
ہم نے یہ نصیحت نازل فرمائی ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
یہ تو میں تمہید کے جواب میں ثابت کر آیا ہوں کہ حدیث وحی ہے اور اس کا اتباع لازمی ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت بھی اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک اللہ نے اس کی حفاظت کے اسباب مہیا کئے ہیں جن کے ذریعہ صحیح احادیث کو محفوظ کر دیا گیا۔ اور موضوعات کو چھانٹ کر الگ کر دیا گیا۔ ایک طرف اگر تحریف کا عمل جاری تھا تو دوسری طرف تحلیص کا عمل بھی جاری تھا۔ حق کو باطل سے علیحدہ کر دیا گیا اور جس بات کو آپ ناممکن سمجھ رہے ہیں، وہ ممکن ہو گئی اور اس کو آپ نے خود تسلیم کیا ہے۔
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
''لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی حدیث صحیح موجود ہی نہیں''۔
اس سے ذرا آگے تحریر فرماتے ہیں:
''دوم کہ حدیث کا مضمون صحیح ہو، اور ان معنوں میں ہزاروں احادیث صحیح ہیں''۔ (دو اسلام صفحہ۲۴۱)۔
پھر تحریر فرماتے ہیں:
''اور یہی وہ بیش بہا سایہ ہے جس پہ ہم نازاں ہیں''۔ (دو اسلام صفحہ:343)
برق صاحب آپ کے اس اعتراف کے بعد اب کوئی ضرورت اس امر کی باقی نہیں رہتی کہ تخلیص احادیث کی تاریخ پیش کی جائے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ دودھ الگ اور پانی الگ کر دیا گیا۔ تاہم اس سلسلہ میں چند معروضات پیش خدمت ہیں:
حدیث کی حفاظت: حدیث کی حفاظت دو طرح سے ہوئی۔ (۱) عملاً۔ اور (۲) نقلا ً۔ جو بات رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی، اس پر ہر زمانے میں عمل ہوتا رہا اور ہر زمانے میں وہ پڑھی جاتی رہی اور پڑھائی جاتی رہی۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ نماز پانچ وقت کی فرض ہے۔ ظہر کی چار رکعت ہیں۔ مغرب کی تین رکعت ہیں۔ ہر رکعت میں ایک رکوع۔ اس کے بعد دو سجدے ہیں۔ سال میں دو عیدیں ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی بےشمار حدیثیں ہیں جو ہر زمانہ میں بچہ بچہ کی زبان پر تھیں اور اگر زبان سے بیان نہ بھی ہوئیں تو کم از کم ذہن میں اور عمل میں ہر ایک کے موجود تھیں۔ تواتر کے ساتھ ان پر عمل ہو رہا تھا۔ اور تواتر کے ساتھ نقل کی جا رہی تھیں۔ ان احادیث کی صحت قطعی ہے۔ اور ان کا تواتر قرآن کے تواتر سے بھی زیادہ وسیع ہے۔
قرآن کی آیات چند علماء اور حفاظ کی حفاظت میں تھیں۔ لیکن یہ احادیث ہر عالم اور جاہل، مرد و عورت چھوٹے اور بڑے عمل میں آ رہی تھیں۔ اور ان کے ذہن میں محفوظ تھیں۔ پھر نقل کے اعتبار سے بھی ان کا پایہ بہت بلند ہے۔ فرض کیجیے ایک محدث نے ایک حدیث بیان کی۔ اس کے ہزاروں شاگردوں نے وہ حدیث سنی پھر اسی حدیث کو اس کے ہم عصر سینکڑوں محدثین نے اپنے ہزارہا تلامذہ کو یہی حدیث املاء کرائی۔ ذرا حساب لگا کر دیکھیے ایک ہی حدیث کو ایک ہی زمانہ میں لاکھوں نے حاصل کیا اور اس کو محفوظ کیا۔ لہٰذا بلامبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر بےشمار احادیث ایسی ہیں جن کی صحت قرآن مجید کی آیات کی طرح قطعی ہے۔ غرضکہ عملاً اور علماً، مفہوم کی حفاظت ہو رہی تھی اور ساتھ ساتھ حفظ و کتابت کے ذریعہ الفاظ حدیث کی حفاظت کا بھی انتظام ہو رہا تھا۔ لاکھوں آدمی حدیث کو حفظ بھی کر رہے تھے اور ضبط تحریر میں بھی لا رہے تھے۔ پھر ہر حدیث کو پرکھنے کے لئے فنون بھی ترتیب دیئے جا رہے تھے تاکہ کہیں کوئی شوشہ اِدھر اُدھر نہ ہو جائے۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ: عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حدیث کو پرکھنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے یعنی فن اسماء الرجال کے ذریعہ حدیث کی سند میں جو راوی آئے ہیں ان کی جانچ پڑتال۔ پس اگر راوی جانچ پڑتال سے ثقہ ثابت ہو جائیں تو حدیث صحیح ہو جائے گی حالانکہ یہ ان کی لاعلمی ہے۔ حدیث کو پرکھنے کے فنون کی تعداد تقریباً سو ہے۔ اور ہر فن کی ایک مستقل حیثیت ہے۔ اور ہر فن پر مستقل تحریری مواد ہمارے پاس موجود ہے۔ جب ان تمام معیاروں سے کوئی حدیث بے داغ ثابت ہو جائے تو اس کو صحیح کہا جاتا ہے۔ جن لوگوں کو یہ مظالطہ ہوا کہ بس سند ہی ایک ذریعہ ہے وہ اس دھوکہ میں بھی پڑ گئے کہ کسی شخص نے کوئی حدیث گھڑ دی اور دو چار ثقہ آدمیوں کے نام بطور سند کے اس گھڑے ہوئے متن کے ساتھ لگا دیئے۔ لہٰذا حدیث صحیح ہو گئی۔ ان کو یہ نہیں معلوم کہ اس طرح سند لگا دینے سے حدیث صحیح نہیں ہو گی۔ قطع نظر دوسرے فنون کے وہ تو فن اسماء الرجال کے معیار پر پوری نہیں اترے گی۔ مثلاً ایک شخص سُلمی کوئی حدیث گھڑ لیتا ہے اور سند یہ لگا دیتا ہے کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا۔ ان سے امام نافع نے ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ یہ سند اگرچہ اصح الاسانید اور سلسلۃ الذہب (سونے کی زنجیر) ہے لیکن حدیث کی صحت کے لئے کافی نہں۔ اس لئے کہ جب سُلمی اس حدیث کو اس سند سے بیان کرے گا تو ہر سننے والا اپنی سند میں سُلمی کا نام ضرور لے گا اور سُلمی کی وجہ سے اس حدیث کی تصحیح میں تامل ہو گا۔ سُلمی سے اوپر کی سند بےشک بہت اعلیٰ اورمعتبر ہے لیکن پوری سند میں یہ بات نہیں لہٰذا پایہ اعتبار سے گر جائے گی اور محض اوپر کی سند اس کی صحت کے لئے کافی نہ ہو گی۔ اب حدیث کی صحت کے لئے سُلمی کا حال معلوم کرنا ہو گا۔ اگر حالات نہ مل سکے تو وہ مجہول ہو گا اور اس کی روایت کا اعتبار نہیں ہو گا۔ اور اگر حالات مل گئے تو یا تو وہ صادق ہو گا یا کاذب۔ اگر کاذب ہوا تو اس کی حدیث کا انکار کر دیا جائے گا۔ اور وہ حدیث جھوٹی ہو گی۔ اور تمام محدثین نے اگر دھوکہ کھا کر اس کو صادق کہہ دیا، اگرچہ یہ ناممکن ہے اور ایسا کبھی نہیں ہوا کسی واضع حدیث کو تمام محدثین نے صادق کہا ہو لیکن پھر بھی اگر بالفرض محال ایسا ہو جائے تو پھر دوسرے عیوب کی تلاش ہو گی۔ مثلاً حافظ کی خرابی۔ وہم۔ مبالغہ آمیزی۔ متن اور تشریحی الفاظ کا خلط ملط کرنا۔ تدلیس وغیر وغیرہ۔ اگر ان میں سے ایک بھی عیب پایا گیا تو اس حدیث کا اعتبار نہیں ہو گا۔ اب اگر ان تمام جرحوں سے وہ بچ گیا اور محدثین نے غلطی سے بالاتفاق اس کو ہر لحاظ سے ثقہ کہہ دیا (اگرچہ یہ ناممکن ہے اور نہ ایسا ہوا ہے کہ کسی وہمی، بدحافظہ کو محدثین نے ثقہ کہا ہو) تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ جو کچھ وہ کہتا ہے کیا امام مالک کے دوسرے شاگرد بھی اسے بیان کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر بیان کرتے ہیں تب تو خیر وہ حدیث دوسری سند سے ثابت ہو جائے گی۔ اور اگر دوسرے شاگرد بیان نہیں کرتے بلکہ وہ سُلمی کے خلاف روایت کرتے ہیں تو سُلمی کی روایت کردہ حدیث شاذ ہو گی۔ اور صحت کے درجہ سے گر جائے گی۔ اور اگر سُلمی کی بیان کردہ حدیث کا مضمون بالکل نیا ہو گا تو پھر وہ ہر حالت میں غریب ہو گی۔ اور یہ بھی ایک قسم کا نقص ہی ہے۔ بہرحال سُلمی کی بیان کردہ حدیث ہرگز صحت کے درجہ تک نہ پہنچے گی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ابتدائی منازل ہی میں وہ ضعیف ثابت ہو جائے گی۔ مزید براں سُلمی جیسے جھوٹے آدمی کے لئے یہ کتنا مشکل ہو گا کہ وہ اپنی پوری زندگی تقویٰ و طہارت اور خلوص کے ساتھ گذارے اور اگر یہ مشکل کام اس نے انجام دے بھی لیا تو بھی محدثین کے چنگل سے نکلنا اس کے لئے بہت مشکل ہو گا۔ اس لئے کہ محدثین کی گرفت سے وہ لوگ بھی نہ بچ سکے جو صالح تھے لیکن نیک نیتی سے حدیث میں تحریف کر دیا کرتے تھے۔ یہ لوگ باوجود اپنے زہد و اتقا کے محدثین کو دھوکہ نہ دے سکے۔ غرض یہ کہ محدثین نے جس حدیث کو صحیح کہا، وہ حقیقت میں قطعی الصحت ہے۔ اس لئے کہ شبہ اور شکوک کے تمام منازل کو اس نے عبور کر کے ہی مقام صحت کو حاصل کیا ہے۔ جو لوگ اب بھی صحیح حدیث کو شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ فن حدیث سے ناآشنا ہیں۔ اور ان تفاصیل کا انہیں علم نہیں ہے اگر ان فنون کو عام کر دیا جائے تو ان شاء اللہ تمام شکوک دُور ہو جائیں گے اور محدثین کے کارناموں کی یہ لوگ بھی اسی طرح داد دیں گے جس طرح بعض غیر مسلم یورپین محققین نے دی ہے۔ الغرض ان معروضات کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بس جو شخص چاہے حدیث گھڑ دے اور اس کے ساتھ ایک سند لگا دے۔ وہ حدیث صحیح ہو جائے گی۔ اور نہ یہ کہنا صحیح ہے کہ معاملہ اس قدر الجھ چکا تھا کہ اس کو سلجھانا انسانی دسترس سے باہر تھا۔
برقؔ صاحب! صحیح احادیث اور موضوع احادیث کا معاملہ بڑا صاف تھا۔ صحیح کو موضوع سے بڑی آسانی سے الگ کر دیا گیا۔ واضعین کے نام محدثین کو معلوم تھے۔ وہ نام آیا اور حدیث کو موضوع سمجھ لیا گیا۔ بڑے بڑے علامہ اور مورخین جن کے نام کے ساتھ عوام رحمۃ اللہ علیہ بھی لکھتے ہیں محدثین کے ہاں وضاعین اور کذابین کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ نہ کسی کے علم سے دھوکہ کھا سکے نہ کسی کے زہد و تقوی سے ان کو مغالطہ ہوا۔ محدثین کی اصل محنت تو اس کام میں صرف ہوئی کہ جو حدیث درحقیقت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی تھی۔ وہ حدیث من و عن محفوظ ہے یا نہیں۔ گھڑی ہوئی احادیث کے سلسلہ میں انہیں کوئی دشواری پیش ہی نہیں آئی۔ لہٰذا تحریف کا شبہ بے بنیاد ہے۔
غلط فہمی: برقؔ صاحب تحریر فرماتے ہیں: ''صحابہ کی تمام تر توجہ قیام سلطنت، نشر اسلام اور تعمیر ملت پر صرف ہو رہی تھی''۔ (صفحہ۳۷)
جواب: برقؔ صاحب گویا آپ کا یہ مطلب ہے کہ صحابہ کرام نے حفاظت حدیث کے سلسلے میں کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ یہ خیال بھی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ قبل اس کے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جدوجہد کے متعلق کچھ عرض کروں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خود آنحضرت ﷺ نے اس کی حفاظت کی طرف توجہ دی۔ مندرجہ ذیل حدیثیں ملاحظہ فرمائیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
رسول اللہ ﷺ اور احادیث کی حفاظت

(۱) قبیلہ عبدالقیس کے لوگ جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو بہت سے اُمورِ دین کی تعلیم دی۔ پھر فرمایا:
احفظوھن اخبروا بھن من وراءکم (صحیح بخاری۔ کتاب الایمان)
ان احکام کی حفاظت کرنا اور اپنے پچھلے والوں کو بھی اس سے مطلع کر دینا۔
(۲) حضرت ابن مسعود ؄ فرماتے ہیں:
کان النبی ﷺ یتخولنا بالموعظۃ فی الایام کراھۃ السامۃ علینا (صحیح بخاری)
آنحضرت ﷺ نے ہمیں نصیحت کرنے کے لئے چند دن مقرر کئے تھے ہماری پریشانی کے خیال سے روزانہ وعظ نہیں فرماتے تھے۔
(۳) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
انہ کان اذا تکلم بکلمۃ اعادھا ثلاثا حتی تفھم عنہ (بخاری کتاب العلم)
جب آپ ﷺ کوئی مسئلہ بیان فرماتے تو تین مرتبہ اس کو دہراتے یہاں تک کہ وہ مسئلہ سمجھ میں آجاتا۔
(۴) آنحضرت ﷺ نے چند احادیث بیان کرنے کے بعد فرمایا:
یبلغ الشاھد الغائب فان الشاھد عسی ان یبلغ من ھوا وعی لہ منہ (صحیح بخاری کتاب الایمان)
یعنی حاضر کو چاہیے کہ غائب کو میری باتیں پہنچا دے اس لئے کہ شاید حاضر ایسے شخص کو پہنچائے جو اس سے زیادہ اس کو محفوظ کر سکے۔
متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (کتب حدیث) یہ پیشن گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ محدثین نے صحابہ سے احادیث کو اخذ کیا اور ان کو بالکل محفوظ کر دیا۔
(۵) یمن کے لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا:
ابعث معنا رجلا یعلمنا السنۃ و الاسلام۔ (صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ)۔
ہمارے ساتھ کسی آدمی کو بھیج دیجیے جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے۔
آپ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بن الجراح کو بھیج دیا۔
(۶) مردوں کی طرح عورتوں کے لئے بھی آنحضرت ﷺ نے حدیث کی تعلیم کے لئے کچھ دن مقرر کر رکھے تھے۔ ایک عورت آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول!
ذھب الرجال بحدیثک فاجعل لنا من نفسک یوما تاتیک فیہ تکلمنا مما علمک اللہ قال اجتمعن یوم کذا و کذا (صحیح مسلم۔ کتاب البر و الصلۃ)
یعنی مرد تو آپ کی احادیث حاصل کرتے ہی رہتے ہیں۔ ہمارے لئے بھی کوئی دن مقرر فرما دیجیے تاکہ اس دن ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں اور جو باتیں اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں وہ باتیں آپ ہمیں بھی سکھا دیا کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: فلاں فلاں دن جمع ہو جایا کرو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
کتابت احادیث: احادیث کی تعلیم اور اس کی حفاظت کے اہتمام کے ساتھ ساتھ خود آنحضرت ﷺ نے بہت سی احادیث کو لکھوایا بھی تھا۔ مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
(۱) کتب رسول اللہ ﷺ کتاب الصدقۃ (ابوداوٗد، کتاب الزکوۃ)۔
یعنی رسول اللہ ﷺ نے کتاب الصدقۃ تحریر فرمائی تھی۔
(۲) ابو راشد الحرانی فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بن العاص نے میرے سامنے ایک کتاب رکھی اور فرمایا:
ھذا ما کتب لی رسول اللہ ﷺ (ترمذی۔ ابواب الدعوات)
یعنی یہ وہ کتاب ہے جو رسول اللہ ﷺ نے لکھ کر مجھ کو دی تھی۔
(۳) آنحضرت ﷺ نے ایک نوشتہ منذر بن سادی کو بھیجا جس میں مختلف ہدایات تھیں۔ (کتاب الاموال لابی عبید صفحہ ۳۰)۔
(۴) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
وجد فی قائم سیف رسول اللہ ﷺ کتابان (دارقطنی صفحہ ۳۴۳۔ کتاب الحدود)
یعنی رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضہ میں دو نوشتہ ملے تھے ان میں بھی مختلف ہدایات مندرج تھیں۔
(۵) موسی بن طلحہ کہتے ہیں:
عندنا کتاب معاذ عن النبی ﷺ (دارقطنی کتاب الزکوۃ)
ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو حضرت معاذ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے لکھی تھی۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے اس کتاب کو جو آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ کے ساتھ بھیجی تھی، منگوایا اور اس کو پڑھوا کر سنا (نصب الرایہ۔ کتاب الزکوٰۃ جلد۲ صفحہ ۳۵۲)۔
(۶) ایک تحریر آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن حکیم کو بھی بھیجی تھی جس میں مختلف احکام درج تھے۔ (ابوداوٗد، کتاب اللباس، ترمذی و طبرانی وغیرہ وغیرہ)۔
(۷) تین نوشتے آنحضرت ﷺ نے حضرت وائل کو عطا فرمائے تھے (المعجم الصغیر للطبرانی صفحہ ۲۴۹)۔
(۸) یزید بن عبداللہ کہتے ہیں، ایک شخص کے پاس ایک سرخ چمڑے کا قطعہ تھا، اس میں مختلف احکام درج تھے، ہم نے پوچھا:
من کتب لک ھذا الکتاب قال رسول اللہ ﷺ (ابوداوٗد۔ کتاب الخراج۔ کتاب الاموال صفحہ۱۲)
یعنی تم کو یہ کتاب کس نے لکھ کر دی؟ تو انہوں نے کہا: آنحضرت ﷺ نے۔
(۹) آنحضرت ﷺ نے ایک کتاب لکھ کر زیاد بن جہود کو روانہ فرمائی تھی۔ (طبرانی صغیر صفحہ۸۴)۔
(۱۰) آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو چند کلمات کی منادی کرنے کے لئے روانہ فرمایا اور ان کے پیچھے حضرت علی کو مع ایک کتاب کے روانہ فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ کتاب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالہ کر دی۔ (ترمذی۔ ابواب تفسیر القرآن)۔
(۱۱) حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کتب النبی ﷺ علی کل بطن عقولہ ثم کتب انہ لا یحل لمسلم ان یتوالی مولی رجل مسلم بغیراءنہ ثم اخبرت انہ لعن فی صحیفۃ من فعل ذلک (صحیح مسلم۔ کتاب العتق)۔
یعنی رسول اللہ ﷺ نے تحریر فرمایا تھا کہ دیت عصبہ کے ذمہ واجب الادا ہے۔ پھر یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ مسلمان کو جائز نہیں کہ کسی دوسرے مسلمان کے مولیٰ کو بغیر اس کی اجازت کے اپنا مولیٰ بنا لے۔ پھر مجھے خبر دی گئی کہ آپ ﷺ نے اس کتاب میں اس کام کے کرنے والے پر لعنت فرمائی۔
(۱۲) امام زہری فرماتے ہیں، ایک کتاب آنحضرت ﷺ نے تمام مؤمنین کے نام لکھی تھی:
و شھد علی نسخۃ ھذہ الصحیفۃ صحیفۃ رسول اللہ علی بن ابی طالب و حسن بن علی و حسین بن علی رضی اللہ عنہم (کتاب الاموال صفحہ ۱۹۳)۔
اور اس کتاب کے ایک نسخہ پر بطور شہادت کہ واقعی یہ رسول اللہ ﷺ کا صحیفہ تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے دستخط تھے۔
(۱۴) امام طاؤس فرماتے ہیں:
عندنا فی کتاب رسول اللہ ﷺ و فی الانف اذا قطع مارنہ مائۃ من الابل (نیل الاوطار ج۷ صفحہ ۴۹۔ بحوالہ کتاب امام شافعی)
یعنی ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ناک کا اگلا نرم حصہ کٹ جائے تو دیت میں سو اونٹ دینے ہوں گے۔
(۱۵) ان رسول اللہ ﷺ کتب الی اھل الیمن کتابا فیہ الفرائض والسنن والدیات و بعث بہ عمرو بن حزم (نسائی جلد۲۔ صفحہ ۳۱۸)۔
یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے عمر بن حزم کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو اہل یمن کے لئے ایک کتاب بھی لکھ کر مرحمت فرمائی تھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کے مسائل کی تفصیل تھی۔
مشہور تابعی امام زہری فرماتے ہیں، میں نے وہ کتاب پڑھی اور وہ کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ (نسائی جلد۲ صفحہ ۲۱۸)۔ پھر امام زہری نے اس کتاب کا مضمون بیان کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو نسائی)۔
حضرت سعید بن مسیب نے بھی اس کتاب کو پڑھا تھا اور اس کے مضمون کو نقل کیا ہے۔ (نسائی جلد۲ صفحہ ۲۱۸)۔
خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کتاب کی صحت کی شہادت دی ہے۔ (نیل الاوطار جز۷ صفحہ ۱۶)۔
امام یعقوب فرماتے ہیں:
لا اعلم فی جمیع الکتب المنقولۃ کتاب اصح من کتاب عمرو بن حزم ھذا فان صحاب رسول اللہ ﷺ و التابعین یرجعون الیہ و یدعون رایھم (نیل الاوطار ج۷۔ صفحہ۱۶)۔
یعنی جتنی کتابیں رسول اللہ ﷺ سے منقول یعنی مکتوب چلی آ رہی ہیں ان میں میرے علم کے مطابق کوئی کتاب عمرو بن حزم کی اس کتاب سے زیادہ صحیح نہیں کیونکہ صحابہ کرام اور تابعین عظام اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی رایوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
امام یعقوب کے بیان سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی لکھوائی ہوئی بہت کتابیں تھیں اور سب صحیح تھیں۔ لیکن ان کے علم کے مطابق سب سے زیادہ صحیح کتاب عمرو بن حزم کی کتاب تھی کیونکہ تواتر اور شہرت کا جو درجہ اس کو حاصل تھا وہ کسی کتاب کو نہ تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں:
ھذا کتاب مشھور عند اھل السیر معروف مافیہ عند اھل العلم (نیل الاوطار)
یعنی یہ کتاب اہل سیر کے نزدیک مشہور ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ اہل علم کے نزدیک معروف ہے۔
(۱۶) امام محمد بن مسلم فرماتے ہیں:
ھذہ نسخۃ کتاب رسول اللہ ﷺ الذی کتبہ فی الصدقۃ و ھی عند اٰل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ۔
یہ اس کتاب کا ایک نسخہ ہے جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے صدقات کے متعلق لکھوائی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ کتاب حضرت عمر کے خاندان کے پس تھی۔
پھر فرماتے ہیں:
اقرأ فیھا سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نوعیتھا علی وجھھا و ھی التی انتسخ عمر بن عبدالعزیز من عبداللہ بن عبداللہ بن عمر و سالم بن عبداللہ بن عمر فذکر الحدیث (ابوداوٗد جلد۱ صفحہ ۲۳۷۔ دارقطنی صفحہ ۲۰۹)
یہ کتاب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت سالم نے مجھے پڑھائی تھی اور میں نے اس کو پوری طرح محفوظ کر لیا ہے۔ خلفیہ عمر بن عبدالعزیز نے اس کتاب کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتوں سالم اور عبداللہ سے لے کر لکھوایا تھا پھر اس کے بعد امام محمد بن مسلم نے اس کا مضمون بیان کیا ہے جو کتب حدیث میں مذکور ہے۔
(۱۷) سوید بن غفلہ فرماتے ہیں:
قدم علینا مصدق رسول اللہ ﷺ نقرأت فی کتابہ لا یجمع بین متفرق و لا نفرق بین مجتمع خثیۃ الصدقۃ (دار قطنی صفحہ ۳۰۴ و ابوداوٗد جلد۱ صفحہ ۲۲۹)
یعنی: ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا تحصیل دار آیا۔ میں نے اس کی کتاب میں پڑھا کہ زکوٰۃ کے خوف سے متفرق مال جمع نہ کیا جائے اور مجتمع مال کو متفرق نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے تحصیل داروں کے پاس آنحضرت ﷺ کی کتاب موجود ہوتی تھی، جس میں تحصیل زکوٰۃ کے متعلق احکام درج ہوتے تھے۔
(۱۸) متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آنحضرت ﷺ احادیث لکھوایا کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
بینما نحن حول رسول اللہ ﷺ نکتب اذ سئل رسول اللہ ﷺ ای المدینۃ تقتح او لا قسطنطینیۃ او ردمیۃ فقال النبی ﷺ لا بل مدینۃ ھرقل او لا (دارمی صفحہ ۶۸)
یعنی ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے لکھ رہے تھے اس حالت میں آپ ﷺ پوچھا گیا کون سا شہر پہلے فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہرقل کا شہر سب سے پہلے فتح ہو گا۔
کیا اب بھی یہ کہنا صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے احادیث کو محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہیں فرمایا؟ مندرجہ بالال حوالہ جات سے ظاہر ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے حدیث کی بہت سی کتابیں لکھیں، کچھ مدینہ منورہ میں رہیں کچھ آپ نے گورنروں کے ہمراہ مختلف ممالک کو روانہ فرمائیں۔ اس طرح آنحضرت ﷺ نے بہ نفس نفیس حدیث کی حفاظت کا انتظام اور اہتمام فرمایا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی حکم دیا کہ احادیث کو قلم بند کر لو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو احادیث لکھنے کا حکم دیا:
ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:
(۱) اکتبو لابی شاہ (صحیح بخاری جلد اول صفحہ ۲۱۔ صحیح مسلم جلد۱۔ صفحہ ۵۶۹)
یہ احادیث ابوشاہ رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دے دو۔
(۲) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے آپ نے فرمایا:
اکتب فو الذی نفسی بیدہ ما یخرج منہ الا حق (ابوداوٗد ج۲۔ صفحہ ۱۵۸)
یعنی احادیث لکھا کرو قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا دوسری بات نہیں نکلتی۔
(۳) ایک شخص نے آپ سے عرض کیا:
انی لا سمع منک الحدیث فیعجبنی و لا احفظہ فقال رسول اللہ ﷺ استعن بیمینک و ادمأ بیدہ الخط (ترمذی جلد۲۔ صفحہ ۲۴۲)۔
یعنی میں آپ سے حدیثیں سنتا ہوں مجھے بڑی اچھی معلوم ہوتی ہیں لیکن یاد نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے سیدھے ہاتھ سے مدد لو اور ہاتھ سے لکھنے کو اشارہ فرمایا۔
(۴) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
قیدوا العلم بالکتاب (جامع بیان العلم جلد۱۔ صفحہ ۷۲)
علم کو لکھ کر محفوظ کر لو۔
(۵) آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
العلم ثلاثۃ۔ آیۃ محکمۃ او سنۃ قائمۃ او فریضۃ عادلۃ و ما کان سویٰ ذلک فھو فضل (ابوداوٗد)
یعنی علم تین ہیں۔ محکم آیت۔ قائم سنت۔ اور عادل فرائض۔ اور جو ان کے سوا ہے وہ فاضل ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حقیقی علم تین ہیں۔ قرآن و سنت اور فرائض۔ اور ان ہی تینوں کو لکھ کر منضبط کرنے کا آپ ﷺ نے حکم دیا تھا۔ فرائض کا علم اگرچہ قرآن اورحدیث میں آجاتا ہے لیکن پھر بھی اس کو علیحدہ ذکر کرنے کا منشا یہ ہے کہ اس کے لئے علم الحساب کی ضرورت ہے اور کیونکہ علم الحساب قرآن و حدیث کے تحت نہیں آتا اس لئے آپ نے علم الحساب سیکھنے کے لئے فرائض کو علیحدہ کر دیا۔
حدیث کی حفاظت کرنے والے کے لئے آنحضرت ﷺ کی دُعا:
آنحضرت ﷺ نے حدیث کی حفاظت کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ حفاظت کرنے والے کے لئے دُعا بھی فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
نضر اللہ عبد اسمع مقالتی فحفظھا و دعاھا و اداھا۔ (شافعی۔ ابوداوٗد وغیرہ)۔
یعنی اللہ اس بندے کو تروتازہ رکھے جو میرے اقوال سنے پھر ان کو حفظ کرے اور محفوظ کرے اور دوسروں تک پہنچا دے۔
اس حدیث کو متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔ (کتب حدیث) ان ہی احادیث کی تعمیل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر محدثین نے احادیث کو حفظ کیا۔ پھر ان کو مکتوب کر کے محفوظ کر لیا۔ پھر ان کو دوسروں تک پہنچا دیا۔ یہی وہ سلسلہ ہے جو مولفین صحاح تک قائم رہا۔ بلکہ آج تک قائم ہے۔ اور ان شاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حدیث کی حفاظت کرنا

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کتاب حدیث:
عن انس ان ابا بکر رضی اللہ عنہ کتب لہ ھذا الکتاب لما وجھہ الی البحرین۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ھذہ فریضۃ الصدقۃالتی فرض رسول اللہ ﷺ علی المسلمین و التی امر اللہ بھا رسولہ (صحیح بخاری کتاب الزکوۃ)
یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ان کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو ایک نوشت لکھ کر دی جس کا مضمون یہ تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم: یہ زکوۃ کے فرائض ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور ان ہی کا اللہ تعالی نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے۔
حدیث کے راوی حماد بن سلمہ کہتے ہیں:
اخذت ھذا الکتاب من ثمامۃ (نسائی۔ کتاب الزکوۃ) میں نے یہ کتاب حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پوتے ثمامہ سے حاصل کی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کتاب حدیث:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی زکوۃ کے متعلق ایک کتاب تحریر فرمائی تھی۔ محمد انصاری فرماتے ہیں:
ان عمر بن عبدالعزیز حین استخلف ارسل الی المدینۃ یلتمس عھد رسول اللہ ﷺ فی الصدقات فوجدہ عند آل عمرو بن حزم کتاب النبی ﷺ الی عمرو بن حزم فی الصدقات و وجد عند آل عمر بن الخطاب کتاب عمر الی عمالہ فی الصدقات بمثل کتاب النبی ﷺ الی عمرو بن حزم فامر عمر بن عبد العزیز عمالہ علی الصدقات ان یاخذوا بما فی دینک الکتابین فکان فیہما۔ الخ۔ (دارقطنی صفحہ ۲۱۰)۔
یعنی جب حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو مدینہ بھیج کر رسول اللہ ﷺ کی کتاب الصدقۃ تلاش کرائی وہ کتاب عمرو بن حزم کے خاندان کے پاس ملی۔ یہ وہ کتاب تھی جو آپ ﷺ نے عمرو بن حزم کو لکھ کر مرحمت فرمائی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کتاب حضرت عمر کے خاندان کے پاس ملی ان دونوں کتابوں کا مضمون ایک ہی تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا کہ ان کتابوں کے مطابق صدقات وصول کئے جائیں پھر محمد انصاری نے ان کتابوں کا مضمون بیان کیا جو کتب حدیث میں محفوظ ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
انہ قرأکتاب عمر بن الخطاب فی الصدقۃ (موطا امام مالک صفحہ ۱۰۹)
یعنی میں نے حضرت عمر کی کتاب پڑھی۔ اس کا مضمون یہ ہے...............
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دوسری تحریر:
عن ابی امامۃ قال کتب معی عمر بن الخطاب الی ابی عبیدۃ ان رسول اللہ ﷺ قال اللہ و رسولہ مولی من لا مولی لہ والخال وارث من لا وارث لہ (ترمذی۔ ابواب الفرائض)
یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوامامہ کے ہمراہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو یہ لکھ کر روانہ فرمایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس شخص کا وارث اللہ اور اس کا رسول ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو اور ماموں وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تیسری تحریر:
کتب عمر الی عتبۃ بن فرقد ان النبی ﷺ نھی عن الحریر الا ما کان ھکذا و ھکذا اصبعین و ثلثۃ و اربعۃ۔ (ابوداوٗد۔ کتاب اللباس)
یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حریر پہننے سے منع فرمایا تھا۔ مگر ہاں! حضرت محمد ﷺ نے دو، تین چار انگلی کے حاشیہ تک کی اجازت دی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا چوتھا نوشتہ:
ورثہ کے متعلق ایک مقدمہ پیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
مااحرز الولد و الوالد فھو لعصبتہ من کان قال فکتب لہ کتابا فیہ شھادۃ عبدالرحمن بن عوف و زید بن ثابت و رجل اخر (ابوداوٗد)
یعنی جو مال بیٹا یا باپ جمع کرے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے خواہ وہ کوئی ہو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس فیصلہ کو لکھ کر دے دیا اور اس پر بطورِ شہادت عبدالرحمن بن عوف، زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک اور آدمی کے دستخط کرائے۔
پھر خلیفہ عبدالملک کے زمانہ میں مقدمہ پیش ہوا:
فقضی لنا بکتاب عمر (ابوداوٗد۔ کتاب الفرائض)
تو عبدالملک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلہ فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے آنحضرت ﷺ کی کتاب کی حفاظت کی۔
عن عبداللہ بن عمر قال کتب رسول اللہ ﷺ کتاب الصدقۃ فعمل بھا ابوبکر حتی قبض ثم عمل بھا عمر رضی اللہ عنہم حتی قبض۔ (ابوداوٗد۔ کتاب الزکوۃ۔ جلد۱۔ صفحہ ۲۲۶)
یعنی رسول اللہ ﷺ نے کتاب الصدقہ لکھوائی تھی ... اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک عمل کرتے رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک عمل کر رہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حدیث کی حفاظت اور تعلیم کا اہتمام کرنا۔
ان عمر بن الخطاب خطب یوم الجمعۃ ... قال اللھم انی اشھدک علی امراء الا مصار و انی انما بعثتھم علیھم لیعد لن علیھم و لیعلموا الناس دینھم و سنۃ نبیھم ﷺ (صحیح مسلم جلد۱۔ صفحہ ۲۳۷)۔
یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں ارشاد فرمایا: اے اللہ! میں شہروں کے اُمراء پر تجھ کو گواہ کرتا ہوں میں نے ان کو لوگوں پر صرف اس لئے مقرر کیا ہے کہ وہ ان میں عدل قائم کریں اور ان لوگوں کو دین اور نبی حضرت محمد ﷺ کی سنت کی تعلیم دیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
تعلموا الفرائض و السنۃ کما نتعلمون القرآن (جامع البیان العلم جلد ۲۔ صفحہ ۱۲۳)
فرائض اور سنت کو اسی طرح سیکھو جس طرح قرآن سیکھتے ہو۔
ایک اور موقع پر فرماتے ہیں:
قیدو العلم بالکتاب (جامع بیان العلم جلد۱۔ صفحہ ۷۲)۔
اس علم کو محفوظ کر لو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود بھی وقتا فوقتا سنت کی تعلیم دیا کرتے تھے مثلا ایک مرتبہ مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا:
اقبلوا علی بوجوھکم اصلی بکم صلوۃ رسول اللہ ﷺ التی کان یصلی و یامر بھا فقام مستقبل القبلۃ و رفع ہدیہ حتی حاذی بھا منکبیہ ثم کبر ثم رکع و کذلک حین رفع فقال القوم ھکذا کان رسول اللہ ﷺ یصلی بنا (خلافیات للامام البیھقی)
میری طرف منہ کرو میں تم کو رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز پڑھ کر بتاؤں جس طرح کہ آپ پڑھتے تھے اور پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اُٹھایا پھر تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور جب رکوع سے اٹھے تب بھی اسی طرح رفع یدین کیا تمام صحابہ نے فرمایا: اس ہی طریقہ سے رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کتاب حدیث:
عن ابن الحنفیۃ قال ارسلنی ابی خذ ھذا الکتاب فاذھب الی عثمان فان فیہ امر النبی ﷺ فی الصدقۃ۔
یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے محمد بن حنفیہ سے فرمایا: اس کتاب کو حضرت عثمان کے پاس لے جاؤ اور ان سے اس پر عمل کے لئے کہو۔ کیونکہ اس میں آپ ﷺ کے احکام مندرج ہیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اغنھا عنا (صحیح بخاری کتاب الجہاد)۔
میں اس سے مستغنی ہوں یعنی میرے پاس یہ احکام موجود ہیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سنت کی تعلیم کا اہتمام کرنا:
عن عثمان انہ توضا بالمقاعد فقال الا اریکم وضوء رسول اللہ ﷺ فتوضا ثلاثا ثلاثا (صحیح مسلم)
یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مقاعد میں لوگوں سے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ بتاؤں؟ پس انہوں نے وضو کیا اور ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تبلیغ سنت کا کتنا جوش تھا۔ کہ باوجود خلافت کا بوجھ سنبھالنے کے وضو تک کی سنتوں کی تعلیم دیتے تھے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی کتاب:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
من زعم ان عندنا شیئا نقرؤہ الا کتاب اللہ و ھذہ الصحیفۃ صحیفۃ فیھا اسنان الابل و اشیاء من الجراحات فقد کذب و قال فیھا قال رسول اللہ ﷺ (ترمذی۔ ابواب الولاء۔ بخاری و مسلم)
جو شخص یہ کہے کہ ہمارے پاس یعنی اہل بیت کے پاس کوئی خاص کتاب ہے جس کو ہم پڑھتے ہیں سوائے کتاب اللہ کے اور اس صحیفہ کے وہ جھوٹ کہتا ہے اس میں اونٹوں کے دانتوں کی دیت اور جراحات کے احکام ہیں۔ اور اس میں یہ بھی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ......
اس کتاب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدقات کے احکام بھی تحریر کئے تھے اور یہی وہ کتاب تھی جس کو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تھا۔ اور یہ کہا تھا کہ اس میں آنحضرت ﷺ کے احکام ہیں۔ اس کتاب کا ذکر صحیح بخاری کے حوالے سے اوپر گذر چکا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سنت کی تعلیم کا اہتمام کرنا:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
تغادر وداو تذاکروا الحدیث فانکم ان لم تفعلوا یدرس علمکم (خالص اسلام صفحہ ۸۹)
یعنی ایک دوسرے سے ملتے رہا کرو اور احادیث کا دورہ کرتے رہا کرو ورنہ تمہارا علم مٹ جائے گا۔
بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو یہاں تک فرمایا:
اذا کتبتم الحدیث فاکتبوہ باسنادہ (مستدرک حاکم منتخب کنز العمال جلد۴۔ صفحہ ۵۷)
جب تم احادیث لکھا کرو تو ان کو سند کے ساتھ لکھا کرو۔
بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود بھی سنتوں کی تعلیم دیا کر تے تھے مثلاً ایک مرتبہ وضو کیا، ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور پھر فرمایا:
احببت ان اریکم کیف کان طھور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ترمذی و صحیح بخاری نحوہ)
میں چاہتا ہوں کہ تمہیں بتاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی شہرہ آفاق کتاب :
حضرت عبداللہ بن عمرو نے حدیث کی ایک کتاب لکھی تھی جس کانام صادقہ تھا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :۔
مامن اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم احداکثر حدیثا عنہ منی الاماکان من عبداللہ بن عمرو فانہ کان یکتب ولااکتب (صحیح بخاری )
یعنی صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کوئی شخص بھی مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان نہیں کرتا سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے اس لئے کہ وہ لکھاکرتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا ۔
یہی وہ عبداللہ ہیں جن سے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔کہ '' لکھا کرو اس زبان سے سوائے حق کے دوسری بات نہیں نکلتی '' (ابوداؤد ،کتاب العلم جلد ۲ ص ۱۵۸)
یہی وہ کتاب ہے جو ان کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی اور ان کے پرپوتے عمرو بن شعیب سے محدثین نے اس کو اخذ کیا اور ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا ۔
حضرت ابوہریرہ ی حدیث کی کتابیں :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث نہیں لکھتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے بھی کئی کتابیں لکھیں ۔ابن وہب کی روایت میں ہے ایک تابعی کہتے ہیں :۔
فاخذ بیدی الی بیتہ فارا ناکتبا من حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم و قال ھذا ھو مکتوب عندی (فتح الباری ج۱ ص ۱۸۴ و جامع بیان العلم جز اول ص ۷۴)
حضرت ابوہریرہ میراہاتھ پکڑ کراپنے گھر لے گئے اور مجھے احادیث کی کتابیں دکھائیں اور فرمایا کہ یہ میرے پاس کتابی شکل میں بھی موجود ہیں ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب اپنے شاگرد ہمام کے لئے مرتب کی تھی جوصحیفہ ہمام کے نام سےمشہور ہے(اور اب چھپ چکی ہے )صحیفہ ہمام بن منبہ پیش لفظ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ص ۴۸)
ڈاکٹر محمد حمید اللہ ۔ایم ۔اے ۔ایل ایل بی۔پی ایچ ڈی ۔ڈی لٹ لکھتے ہیں ۔
'مسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نسخے عہد صحابہ ہی میں لکھے گئے چنانچہ ابو ہریرہ کی مسند کا نسخہ عمرو بن عبدالعزیز کے والد عبدالعزیز مروان گورنر مصر(المتوفی ۸۶ء ؁) کے پاس بھی تھا ، انہوں نے کثیر بن مرہ کو لکھا کہ تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی جوحدیثیں ہوں انہیں لکھ کر بھیج دو ۔
الا حدیث ابی ھریرۃ فانہ عندنا (پیش لفظ صحیفہ ھمام ص ۴۶)
یعنی ابوہریرہ کی حدیثوں کے بھیجنے کی ضرورت ہیں کیونکہ وہ ہمارے پاس موجود ہیں ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک تالیف ان کے شاگرد بشیر بن نہیک نے مرتب کی دارمی نے روایت کی بشیر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ سے جوکچھ سنتاتھا لکھ لیتا تھا جب میں نے ان سے رخصت ہونا چاہا تو اتیتہ بکتابی فقلت ھذا سمعتہ منک قال نعم (پیش لفظ صحیفہ ہمام ص ۴۶ و جامع بیان العلم ملحصاًص۷۲)ان کے پاس اپنی کتاب لایا اور ان کو پڑھ کر سنائی اور ان سے کہا یہ وہ چیز ہےجو میں نے آپ سے سنی ہے انہوں نے کہا ہاں ۔
ڈاکٹر حمید اللہ صاحب آگے تحریر فرماتے ہیں کہ عمرو بن امیہ ضمری اولین اسلامی سفیر اور عہد نبوی کے بہت ممتاز سفارتی افسر تھے ان کے ایک فرزند کی جو ابوہریرہ کے شاگرد تھے روایت ہے ......ارانا کتبا کثیرۃ من حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔حضرت ابوہریرہ نے ہم کواحادیث نبوی کی بہت سی کتابیں دکھائیں ۔
پھر فرمایا
قد اخبرتک ان کنت حدثتک فھو مکتوب عندی (پیش لفظ صحیفہ ہمام ص ۴۷ و جامع بیان العلم جلد اول ص ۷۴)میں نے تم سے کہاتھا کہ اگر میں نے وہ حدیث تم سے بیان کی ہے تووہ میرے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیئے ۔
اس روایت سے ثابت ہوا کہ جتنی احادیث انہیں حفظ تھیں وہ سب انہوں نے لکھ کر محفوظ کرلی تھیں حضرت ابوہریرہ کاایک مرتبہ مروان نے امتحان بھی لیاپردے کے پیچھے ایک کاتب سے ان کی بیان کردہ احادیث تحریر کروائیں سال بھر بعد مروان نے حضرت ابوہریرہ کوپھر بلایا اور وہی حدیثیں پھر سنیں کاتب نے تحریر شدہ احادیث سے مقابلہ کیا توایک حرف کابھی فرق نہ پایا ۔(پیش لفظ صحیفہ ہمام ص ۴۶)
 
Top