• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
دنیا کسے کہتے ہیں؟
اب سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیاوی عیش و راحت کے سامان مومن کے لئے پیدا ہی نہیں کئے گئے تو پھر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان دنیاوی نعمتوں کا احسان کیوں جتایا ہے اور مال و دولت کو اپنا فضل کیوں قرار دیا ہے؟ یہ سوال صرف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا کی صرف ایک قسم سمجھ رکھی ہے حالانکہ دنیا کی دو قسمیں ہیں۔ مومن کی دنیا اور کافر کی دُنیا۔ جہاں کہیں قرآن و حدیث میں لفظ دنیا کا لفظ آیا ہے اس سے کافر کی دنیا مراد ہے۔ قرآن نے کافر کی دنیا کی چند خصوصیات بیان کی ہیں جو مندرجہ ذیل آیات مبارکات میں ملاحظہ فرمایئے
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ‌ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿٢٤﴾ (الجاثیۃ)
کافر کہتے ہیں بجز اس دنیا کی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو صرف زمانہ کی گردش سے موت آتی ہے۔ اس کے متعلق ان کے پاس کوئی علم نہیں وہ محض گمان کرتے ہیں۔
نتیجہ: منکر قیامت کی دنیا حساب و کتاب سے بے خوفی کی دنیا ہے۔ اور جب حساب و کتاب نہیں تو پھر ڈر ہی کس بات کا؟ خوب مزے اڑاؤ۔ ایسے آدمی کی دنیا اس مصرع کا مصداق ہوتی ہے۔
؎ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
۔۔وَوَيْلٌ لِّلْكَافِرِ‌ينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ ﴿٢﴾ الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَ‌ةِ ۔۔۔۔ ﴿٣﴾(سورۃ ابراہیم)
ان منکروں کے لئے بڑا سخت عذاب ہے جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی سے محبت کرتے ہیں۔
دوسرے مقام پر اللہ تعالی فرماتا ہے:
بَلْ تُؤْثِرُ‌ونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿١٦﴾ وَالْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ وَأَبْقَىٰ ﴿١٧﴾ (سورۃ الاعلی)
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی۔
وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ‌ مَثْوًى لَّهُمْ ﴿١٢﴾ (سورۃ محمد)
اور کافر جو مزے اڑا رہے ہیں اور اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
نتیجہ: جانور ہر جگہ منہ مارتے ہیں۔ ان کو حلا ل و حرام کی کوئی تمیز نہیں ہوتی نہ حساب و کتاب کا خوف ہوتا ہے اور یہی حالت کافر کی ہے کہ وہ حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں کرتا جو کچھ مل جائے اور جس طرح مل جائے، سب ہضم کر لیتا ہے، آخرت سے بالکل بے خوف ہوتا ہے۔
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ‌ الْآخِرَ‌ةُ خَيْرٌ‌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿٣٢﴾ (سورۃ الانعام)
دنیا کی زندگی کچھ نہیں بجز لہو و لعب کے اور آخرت تو انہی کے لئے ہے جو پرہیزگاری کرتے ہیں۔ کیا اب بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گا۔
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ‌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ‌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ‌ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَ‌اهُ مُصْفَرًّ‌ا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَ‌ةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَ‌ةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِ‌ضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُ‌ورِ‌ ﴿٢٠﴾ (سورۃ الحدید)
جان لو کہ دنیاوی زندگی لہو و لعب، زینت اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں کثرت کی خواہش کا نام ہے اس دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے پانی برسا، فصل اچھی ہوئی اور کسان اس کو دیکھ کر خوش ہوئے لیکن پھر خشک ہو کر زرد نظر آنے لگی اور پھر ریزہ ریزہ ہو گئی۔ اور آخرت میں سب عذاب اور مغفرت اور رضوان بھی ہے اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سرمایہ ہے۔
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‌ ﴿١﴾ حَتَّىٰ زُرْ‌تُمُ الْمَقَابِرَ‌ ﴿٢﴾(سورۃ التکاثر)
زیادتی کی خواہش نے تم کو غافل رکھا یہاں تک کہ تم قبرستان پہنچ گئے۔
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ﴿١﴾ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ ﴿٢﴾ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ ﴿٣﴾ كَلَّا ۖ لَيُنبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ ﴿٤﴾(سورۃ ھمزہ)
ہر عیب کنندہ اور غیبت گو بندہ کی خرابی ہے جس نے مال کو جمع کیا اور گن گن کر رکھا وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ مال ہمیشہ رہے گا ہرگز نہیں بلکہ (ایک وقت آنے والا ہے جب) وہ دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
وَاصْبِرْ‌ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَ‌بَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِ‌يدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِ‌يدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ۔۔۔۔ ﴿٢٨﴾(سورۃ الکہف)
اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھ جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی رضا کے طالب ہیں۔ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیاوی زندگی کی زینت کی طلب میں تو ان سے کنارہ کشی کر لے۔
خلاصہ
مندرجہ بالا آیات سے واضح ہوا کہ قرآن کی اصطلاح میں دنیا کہتے ہیں لعب و لہو، نام و نمود، فخر و ریا، تکبر اور اِترانے کو، مال و دولت کی فراوانی کی حرص کو، مال جمع کرنے، ننانوے کے پھیر میں رہنے کو، مال کو اس طرح ہڑپ کر جانے کو جس طرح جانور ہڑپ کر جاتے ہیں۔ دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینے کو، بلکہ آخرت و حساب و کتاب کے انکار کو۔ حلا ل و حرام کی تمیز کے اُٹھ جانے کو۔ مال و دولت کے حصول میں اس قدر انہماک کو کہ اللہ اور اس کے احکام سے غفلت ہو جائے۔ اللہ والوں کو چھوڑ کر مال اور مالداروں کی طرف رغبت کرنے کو۔ فرائض کے ترک کو۔ وغیرہ وغیرہ۔ اگر یہ دنیا مردار نہیں تو اور کیا ہے۔ اور اس کے طالب کتے نہیں تو اور کیا ہیں۔ یہی وہ دنیا ہے جس کو حدیث میں مردار کہا گیا ہے اور اس کے طالب کو کتا۔ قرآن و حدیث کی اصطلاح ایک ہے، کاش برق صاحب دنیا کے اصطلاح معنوں پر جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں غور کرتے تو کبھی غلط فہمی نہ پیدا ہوتی۔ اس مشہور مصرع میں کس خوبی سے ان اصطلاحی معنوں کو ادا کیا گیا ہے:
؎ چیست دنیا؟ از خدا غافل بدن
یعنی دنیا کیا چیز ہے؟ دنیا نام ہے اللہ سے غافل ہونے کا۔ اور اگر اللہ سے غافل نہ ہو تو پھر یہ دنیا مومن کی دنیا ہے اور یہ اصطلاحی دنیا سے علیحدہ ایک چیز ہے۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو اس اصطلاحی دنیا سے علیحدہ رہنے کی بار بار تاکید فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ‌ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُ‌ونَ ﴿٩﴾(سورۃ المنافقون)
اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دے اور جو ایسا کرے گا وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔
إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّـهُ عِندَهُ أَجْرٌ‌ عَظِيمٌ ﴿١٥﴾(سورۃ التغابن)
اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کی چیزیں ہیں اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے
یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ مال و اولاد کی حرص میں تم اللہ کو بھول جاؤ، اور اجر اعظیم سے محروم ہو جاؤ۔ پھر فرمایا:
وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿١٦﴾(سورۃ التغابن)
جو شخص نفسانی حرص و طمع سے محفوظ رہا پس ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غرض یہ کہ مومن کی دنیا وہ ہے کہ نہ دنیا کی فراوانی اور اس کے حصول میں انہماک اس کو اللہ سے غافل کرتا ہے اورنہ وہ اس کی حرص میں مبتلا ہوتا ہے بلکہ وہ دنیاوی ساز و سامان کو آزمائش کی چیزیں سمجھتا ہے اور ان کو اس ہی طریقہ سے استعمال کرتا ہے جس طریقہ سے اللہ نے حکم دیا ہے ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد ہے:
رِ‌جَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَ‌ةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ‌ اللَّـهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ‌ ﴿٣٧﴾(سورۃ نور)
یہ ایسے لوگ ہیں کہ تجارت اور خرید و فروخت ان کو اللہ کے ذکر اور نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔
مندرجب بالا آیات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ دنیا کا لفظ جہاں کہیں قرآن و حدیث میں آتا ہے وہاں اس سے مراد وہی دنیا ہوتی ہے جس میں پھنس کر انسان اللہ کو بھول جاتا ہے اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ایسی دنیا یقیناً مردار ہے اور اس کے طالب کا ٹھکانہ سوائے آگ کے اور کہیں نہیں۔
اب میں اس آیت کو پیش کرتا ہوں جو حدیث زیر بحث کے بالکل متوافق اور لفظاً مطابق ہے اور گویا حدیث مذکور اس ہی آیت کی تفسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ ﴿١٧٥﴾ وَلَوْ شِئْنَا لَرَ‌فَعْنَاهُ بِهَا وَلَـٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْ‌ضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُ‌كْهُ يَلْهَث ۚ ۔۔۔﴿١٧٦﴾(سورۃ الاعراف:۱۷۶)
ان لوگوں کو اس شخص کا حال سنائیے جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں لیکن اس نے رُوگردانی کی اور شیطان کا اتباع کیا اور گمراہوں کی جماعت میں داخل ہو گیا اور اگر ہم چاہتے تو ان آیات کی بدولت اس کا مرتبہ بلند کر دیتے لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی خواہش کی پیروی کی پس اس کی مثال کتے کے مانند ہے اگر اس پر بوجھ رکھا جائے تو ہانپے اور چھوڑ دیا جائے تو ہانپے۔
کتا ہر حال میں ہانپتا رہتا ہے۔ خواہ راحت ہو یا تکلیف اور کہیں کوئی کھانے کی چیز مل جائے تو پھر دوسرے کتے کی شرکت اس کو گوارا نہیں ہوتی چاہتا ہے کہ بلاشرکت غیرے میں ہی اس کو کھا جاؤں۔ اپنے ہم جنس کو دیکھ کر بھونکنے اور بھنبوڑنے لگتا ہے، جب انسان کی بھی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ احکام الٰہی کو چھوڑ کر اپنی خواہش پر چلتا ہے دنیا کی فراوانی ہو تو اور زیادہ ملنے کی حرص باقی۔ تنگ دستی ہو تو اس کی تڑپ موجود۔ چاہتا ہے کہ دنیا صرف میرے لئے ہو۔ تو اس کی یہ دنیا بمنزلہ مردار کے ہوتی ہے۔ اور وہ مثل کتے کے ہوتا ہے۔ اور یہ حدیث اس پر صادق آتی ہے کہ:
دنیا مردار ہے اور اس کے طالب کتے ہیں۔
نتیجہ: آیت بالا سے ثابت ہوا کہ احکام الٰہی کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرنا ''دنیا'' ہے اور یہ دنیا ایسی ہی حرام ہے جیسے مردار اور اس کے چاہنے والے مثل کتوں کے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
آخری گذارش:
غالبا اب حدیث کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آگیا ہو گا۔ ان تمام مباحث میں میں نے دنیا کے اصطلاحی معنوں کے لئے قرآن مجید کا حوالہ دیا ہے اب ان اصطلاحی معنوں کے ثبوت کے لئے حدیث کا حوالہ دے کر اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک دن آنحضرت ﷺ منبر پر بیٹھ گئے اور ہم لوگ آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا: مجھے اپنے بعد جن باتوں کا تم پر خوف ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم پر دنیا کی زیبائش اور مال و دولت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اچھی چیز بھی برائی پیدا کرتی ہے؟ آنحضرت ﷺ خاموش ہو گئے۔ اس شخص سے کہا گیا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کلام کرتا ہے حالانکہ وہ تجھ سے کلام نہیں فرماتے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پسینہ پوچھا اور فرمایا: سائل کہاں ہے؟ گویا آپ نے اس کے سوال کو پسند فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک اچھی چیز برائی پیدا نہیں کرتی مگر فصل ربیع ایسی گھاس بھی پیدا کرتی ہے جو مار ڈالتی ہے یا بیمار کر دیتی ہے مگر اس سبزی چرنے والے کو نقصان نہیں پہنچاتی جو چرے۔ پھر جب اس کے دونوں کوکھ بھر جائیں تو وہ سورج کے سامنے آجائے۔ پھر لید کرے اور پیشاب کرے اور اس کے بعد پھر چرنے لگے اور بےشک یہ مال ایک میٹھی سبزی ہے پس اس مسلمان کا مال کتنا اچھا ہے جو اپنے مال سے مسکین یتیم اور مسافر کو دیتا رہتا ہے اور بیشک جو شخص اس مال کو ناجائز طریقہ سے لے گا وہ اس جانور کی طرح ہے کہ کھائے اور سیر نہ ہو اور وہ مال اس پر قیامت کے دن گواہ ہو گا۔
حدیث بالا سے ثابت ہوا کہ دنیا سے مراد مسلم کی دنیا نہیں جس کو وہ حلال طریقہ سے حاصل کرتا ہے اس کا حریص نہیں ہوتا اور پھر اس کے خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتا۔ ہاں دنیا سے مراد وہ دنیا ہے جس کو حرص اور طمع کے ساتھ ناجائز طریقہ سے حاصل کیا جائے۔ اور اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کیا جائے۔ یہ ہے وہ دنیا جو مردار بے۔ اور بےشک اس کے طالب کتے ہیں۔ غرض یہ کہ حدیث میں خود اس بات کی وضاحت ہے کہ لفظ دنیا کا اطلاق کس دنیا پر ہوتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں یہ لفظ ایک ہی اصطلاح میں استعمال ہوا ہے اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہے۔ کاش برق صاحب قرآن و حدیث کا عمیق مطالعہ فرماتے تو یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
میں مسلسل چودہ برس تک حصول علم کے لئے مختلف علماء و صوفیہ کے ہاں رہا، دروس نظامی کی تکمیل کی۔ سینکڑوں واعظین کے وعظ سےنے۔ بیسیوں دینی کتابیں پڑھیں اور بالآخر مجھے یقین ہو گیا کہ اسلامی تعلیمات کا ماحصل یہ ہے''۔ (دو اسلام صفحہ ۱۵)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اس کے بعد برق صاحب نے سلسلہ وار ان چیزوں کو شمار کیا ہے جن کو انہوں نے اسلامی تعلیمات کا ماحاصل سمجھا تھا۔ میں بھی ان چیزوں کو اسی سلسلہ سے بیان کر رہا ہوں۔ اور ساتھ ساتھ اپنے معروضات بھی پیش کر رہا ہوں۔
(۱) ''فرائض خمسہ یعنی توحید کا اقرار اور صلوٰۃ، صوم اور حج کی بجا آوری''۔
برق صاحب ان پانچوں چیزوں کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ آخر اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔

(۲) ''اذان کے بعد ادب سے کلمہ شریف پڑھنا''۔
مؤذن کلمہ شریف پڑھتا ہے۔ ہم بھی اپنے عہد توحید و رسالت کی تجدید کر لیتے ہیں۔ رہا ادب سے پڑھنا تو آخر اس میں کیا اعتراض ہے۔ برق صاحب بے ادبی کو تو آپ بھی پسند نہیں کریں گے۔

(۳) ''مختلف رسوم مثلاً جمعرات، چہلم، گیارہویں وغیرہ کو باقاعدگی سے ادا کرنا''
واقعی یہ خرافات ہیں۔ ہمیں آپ سے اتفاق ہے۔ صحیح حدیث کو ماننے والے ان بدعات سے کلیۃً بیزار ہیں۔

(۴) ''قرآن کی عبارت پڑھنا''۔
معلوم نہیں کہ اس میں کیا اعتراض ہے۔ اس لئے کہ تلاوت قرآن کا حکم تو قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد ہے:
اُتْلُ مَآاُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ (العنکبوت:۴۵)۔
ہاں اگر آپ کا مقصد یہ ہے کہ بے سمجھے اور بغیر علم و عمل کی نیت کے پڑھنا۔ تو پھر ہمیں بھی آپ سے اتفاق ہے۔ اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے:
لم یفقہ من قراء القرآن فی اقل من ثلث
جو شخص تین دن سے کم میں قرآن ختم کرتا ہے، وہ کچھ نہیں سمجھتا (ابوداؤد، ترمذی، دارمی)۔
گویا کہ آنحضرت ﷺ کا منشا بھی یہی ہے کہ قرآن سمجھ کر پڑھا جائے۔ دیکھا برق صاحب حدیث بھی آپ کی تائید کرتی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے:
تدبروا ما فیہ لعلکم تفلحون (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
یعنی قرآن کے مضامین میں غور و فکر کیا کرو تاکہ تم جنات پاؤ۔
ایک شخص دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ
کیف یذھب العلم و نحن نقرا القرآن و نقرئہ ابنآءَنا و یقرنہ ابناءُنا ابناءَھم الی یوم القیامۃ
یعنی علم کیسے جاتا رہے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اور اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے۔ اسی طرح قیامت تک ہوتا رہے گا۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
او لیس ھذا الیھود و النصاری یقرؤن التوراۃ والانجیل لا یعملون بشیء مما فیھما۔
یعنی کیا یہود و نصاری تورات و انجیل نہیں پڑھتے لیکن ان کے احکام پر عمل نہیں کرتے، جو ان میں دیئے گئے ہیں۔ (احمد۔ ابن ماجہ)
غرض یہ کہ احادیث متعددہ سے یہ بات ثابت ہے کہ قرآن کو سمجھ کر غور و فکر کے ساتھ پڑھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے یہی تلاوت کا حق ہے۔ کسی حدیث میں صراحت نہیں کہ بغیر سمجھے پڑھنا بھی کارِ ثواب ہے۔ بہرحال برق صاحب اتنا آپ کو بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ جو شخص قرآن کو بغیر سمجھے پڑھتا ہے وہ کچھ دیر ضرور اپنے آپ کو لغو کاموں سے بچا لیتا ہے اور اگر اس کی یہ نیت بھی ہو، تو پھر لامحالہ ایسا پڑھنا بھی کچھ نہ کچھ مفید ضرور ہو گا۔

(۵) اللہ کے ذکر کو سب سے بڑا عمل سمجھنا۔
برق صاحب کاش وہ حدیث آپ تحریر فرما دیتے جس کا یہ مفہوم ہے۔ بہرحال اتنا ضرور عرض کئے دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذکر کی فضیلت بیان کی گئی ہے مثلاً اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ (سورۃ البقرۃ:۱۵۲)۔
تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ۱۹۰ۚۙ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللہَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ (آل عمران:۱۹۱)
یعنی زمین و آسمان کی پیدائش میں اور رات دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں یعنی ان لوگوں کے لئے جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں کھڑے بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر۔
مزید سنیے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَذِكْرُ اللہِ اَكْبَرُ (سورۃ العنکبوت:۴۵)۔
اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔
لیجیے جس چیز پر آپ کو اعتراض ہے، وہ قرآن میں موجود ہے۔

(۶) ''قرآن اور درود کے ختم کرانا''۔
(۷) ''اچھل اچھل کر، ہو حق کا ورد کرنا''۔
(۸) ''نجات کے لئے کسی مرشد کی بیعت کرنا''۔
(۹) ''مردوں سے مرادیں مانگنا''۔
(۱۰) ''مزاروں پر سجدے کرنا''۔
(۱۱) ''غلیظ لباس کو پیغمبری لباس سمجھنا''۔
(۱۲) ''سڑکوں اور بازاروں میں سب کے سامنے ڈھیلا کرنا''۔
(۱۳) ''تعویذوں اور منتروں کو مشکل کشا سمجھنا''۔
(۱۴) ''آنحضرت ﷺ کو عالم الغیب نیز حاضر ناظر قرار دینا''۔
(۱۵) ''کسی بیماری یا مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لئے ملا جی کی ضیافت کرنا''۔
(۱۶) ''گناہ بخشوانے کے لئے قوالی سننا''۔
(۱۷) ''ہر غیر مسلم کو ناپاک و نجس سمجھنا''۔
(۱۸) ''امام ابو حنیفہ کی فقہ پر ایمان لانا''۔
برق صاحب ہمیں ان تمام باتوں میں آپ سے اتفاق ہے۔ احادیث صحیحہ ان کی تائید نہیں کرتیں۔ یہ تمام خرافات ہیں جو گھڑ لئے گئے ہیں۔ ہاں قرآن کی رُو سے مشرکین عقیدتاً نجس ضرور ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
(۱۹) ''صحاح ستہ کو وحی سمجھنا''۔
صحاح ستہ میں چھ کتابیں ہیں صحیح بخاری و صحیح مسلم کو چھوڑ کر باقی کتابوں میں چند ضعیف احادیث بھی ہیں۔ پھر ان تمام کتابوں میں صحابہ اور ائمہ دین کے اقوال بھی ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ جو کچھ صحاح ستہ میں ہے وحی ہے، صحیح نہیں۔ گویا اس صورت میں ہمیں آپ سے اتفاق ہے لیکن ان کتابوں میں جو صحیح احادیث ہیں، ان کے متعلق ہم بلاخوف و جھجھک بغیر کسی پس و پیش و احساس کمتری کے اعلان کرتے ہیں کہ بیشک ان کا مفہوم و منشا وحی الٰہی ہے، اور ان پر ہمارا اسی طرح ایمان ہے جس طرح قرآن پر۔ وہ اسی طرح واجب التعمیل ہیں جس طرح قرآن۔ ہماری موجودہ اصطلاح میں اس کا نام وحی خفی ہے، یہی ہمارے اور آپ کے درمیان اختلاف کا نقطہ آغاز ہے، اس وحی خفی کے اثبات میں ارادہ تھا کہ آپ کی کتاب کے آخری باب کے سلسلہ میں اپنی معروضات پیش کرتا اور آپ کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتا لیکن مسئلہ کی اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ تمہید میں بھی کچھ لکھا جائے۔ لہٰذا لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ و باللہ التوفیق۔ یہ بحث کئی عنوانات پر مشتمل ہے جو ذی میں سلسلہ وار درج کئے جا رہے ہیں:
کیا انبیاء سابقین پر کتاب الٰہی کے علاوہ وحی نازل ہوئی:
انبیاءسابقین پر کتاب الٰہی کے علاوہ بھی وحی نازل ہوتی تھی۔ اس کی چند مثالیں ذیل میں ملاحظہ ہوں:
آدم علیہ السلام: اللہ تعالی فرماتا ہے:
قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَنْۢبِئْھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕہِمْ (بقرہ:۳۳)
اے آدم فرشتوں کو ان کے نام بتادو۔
پھر ارشاد فرمایا:
وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّۃَ (بقرۃ:۳۵)
اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور خوب کھاؤ جہاں سے جی چاہے مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔
لیکن شیطان کے بہکانے سے انہوں نے اس درخت میں سے کھا لیا۔
وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰى(طہ:۱۲۱)
آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گئے۔
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّ‌بِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّ‌حِيمُ ﴿٣٧﴾ قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٣٨﴾ (بقرۃ)۔
آدم علیہ السلام کو ان کے رب کی طرف سے چند کلمات سکھائے گئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔ بیشک اللہ تواب اور رحیم ہے۔ ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اترو، پھر جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو وہ بے خوف و بےغم ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
آدم علیہ السلام جنت سے اتارے جاتے ہیں۔ اس وقت کتاب ہدایت بھیجنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ گویا ابھی تک کتاب نہیں آئی تھی لیکن اللہ تعالی آدم علیہ السلام سے باتیں کرتا تھا۔ حتی کہ اس کتاب سے پہلے اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو چند کلمات بھی سکھائے تھے جن کے ذریعہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ کتاب اللہ کے علاوہ بھی آدم علیہ السلام پر وحی آتی تھی۔
موسی علیہ السلام :
اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ يَا مُوسَىٰ ﴿١١﴾ إِنِّي أَنَا رَ‌بُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٢﴾
جب موسی علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو ان کو پکارا گیا: اے موسیٰ! میں تمہارا رب ہوں، اپنی جوتیاں اتار دے۔
فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ ﴿١٣﴾
سن جو کچھ وحی کی جا رہی ہے۔
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِ‌ي ﴿١٤﴾
میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو۔
پھر اللہ تعالی نے پوچھا:
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ ﴿١٧﴾
اے موسیٰ: تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟
پھر عصا اور ید بیضاء کے معجزات عطا ہوئے۔ پھر ارشاد ہوا:
اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ﴿٢٤﴾
فرعون کے پاس جا۔ وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔
الغرض موسیٰ علیہ السلام فرعون کو تبلیغ کرتے ہیں۔ جادوگروں سے مقابلہ ہوتا ہے اس موقع پر پھر اللہ تعالی نے فرمایا:
لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ ﴿٦٨﴾(طہ:۶۸)
ڈرو مت تم ہی غالب رہو گے۔
پھر موسیٰ علیہ السلام وہاں سے ہجرت کرتے ہیں۔ فرعون غرق ہو جاتا ہے موسی علیہ السلام وادی سینا میں تشریف لے آتے ہیں۔ پھر اس موقع پر ان کو کتاب دی جاتی ہے۔ ارشاد بای ہے:
وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ‌ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ ۔۔۔۔﴿١٤٥﴾ (سورۃ الاعراف)
اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہر قسم کے نصائح اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی اور حکم دیا کہ اس کو قوت کے ساتھ پکڑو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان اچھی باتوں پر عمل کرے۔
اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام قوم کے پاس واپس آئے اور بچھڑا پوجنے کی وجہ سے ان پر اتنا غصہ آیا کہ وہ تختیاں زمین پر پٹخ دیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَاَلْقَى الْاَلْوَاحَ (الاعراف:۱۵۰)
اور تختیاں پٹخ دیں
وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ (الاعراف:۱۵۴)
اور جب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو تختیاں اٹھا لیں۔
برق صاحب دیکھا آپ نے! کتاب تو اب ملی ہے لیکن اس سے پہلے اللہ تعالی موسیٰ علیہ السلام پر بےشمار مرتبہ وحی کر چکا تھا۔ کتاب دینے کے بعد فرمایا: اسے مضبوطی سے پکڑو اور تو اور کتاب جب نازل ہوئی تو ایسی کہ اس میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر طرح کی تفصیل تھی لیکن اس کے بعد بھی وحی جاری رہی۔ موسیٰ علیہ السلام ستر آدمیوں کو کوہِ طور پر لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالی کو دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک بجلی آتی ہے اور سب مر جاتے ہیں۔ موسی علیہ السلام دعا کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے:
۔۔۔۔عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۖ وَرَ‌حْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۔۔۔﴿١٥٦﴾(سورۃ الاعراف:۱۵۶)
میں اپنا عذاب پہنچاتا ہوں جس کو چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔
الغرض کتاب الٰہی سے پہلے بھی وحی جاری ہے، اور کتاب الٰہی کے بعد بھی وحی جاری ہے۔
خلاصہ: اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے مختلف مواقع پر گفتگو فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے، اے موسیٰ یہ مقدس وادی ہے جوتے اتار دو، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ اسے زمین پر ڈال دو، ڈرو نہیں، میرے پاس رسول ڈرا نہیں کرتے۔ ا کو اٹھا لو، یہ پھر لاٹھی بن جائے گا۔ ہاتھ کو جیب میں ڈالو۔ فرعون کے پاس جاؤ۔ اس سے نرمی سے بات کرنا۔ انہوں نے جواب دیا ڈر لگتا ہے۔ کہیں وہ قتل نہ کر دے۔ دعا کی مجھے ایک وزیر چاہیے۔ میری زبان صاف نہیں۔ اس کی اصلاح فرمایئے۔ جواب ملا: اچھا یہ باتیں قبول۔ وغیرہ وغیرہ۔ حکم ملا گائے کو ذبح کرو۔ قوم نے طرح طرح کے بےہودہ سوالات کئے اللہ تعالی جواب دیتا رہا۔ غرض یہ کہ اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو کہ قرآن میں مذکور ہیں۔ برق صاحب انصاف سے بتائیے کیا یہ سب باتیں اس کتاب الٰہی میں موجود تھیں۔ جو موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی۔
یوسف علیہ السلام:
ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِ‌هِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿١٥﴾ (سورۃ یوسف)
جب وہ یوسف علیہ السلام کو لے کر چلے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کو کنویں میں ڈال دیا جائے تو ہم نے یوسف کو وحی بھیجی کہ تم ان کو اس کام کی خبر دو گے اور وہ نہ سمجھتے ہوں گے۔
یوسف علیہ السلام ابھی بچے ہیں لیکن وحی آرہی ہے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗٓ اٰتَيْنٰہُ حُكْمًا وَّعِلْمًا (یوسف:۲۲)
جب وہ جوان ہوئے تو ہم نے ان کو حکم دیا اور علم دیا۔
ابھی انہیں کتاب نہیں دی گئی تھی، ورنہ مبلغ کی حیثیت سے سامنے آتے۔ اس کے بعد زنان مصر نے انہیں اپنی طرف مائل کرنا چاہا انہوں نے انکار کیا جس کے نتیجہ میں وہ قید خانہ میں بھیج دیئے گئے، قیدخانہ میں تبلیغ شروع ہوتی ہے، اگر بالفرض حکم و علم کے ملنے سے مراد کتاب الٰہی کا ملنا ہے تو پھر کتاب سے پہلے بچپن میں وحی کا آنا ثابت ہے، گویا یوسف علیہ السلام پر کتاب الٰہی کے علاوہ وحی آتی تھی۔
دیگر انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ کی گفتگو:
اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف عذاب الٰہی کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ آگے ارشاد ہوتا ہے۔
يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ۷۴ۭ (سورۃ ھود)
ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے
اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: اے ابراہیم
اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا (سورۃ ھود:۷۶)
اس بات کو جانے دو۔
کیا ابراہیم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے مجادلہ، اور سوال و جواب صحف ابراہیم میں موجود تھا۔
زکریا علیہ السلام دعا کرتے ہیں۔ اے اللہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں، مجھے فرزند عنایت فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اچھا تمہارے ہاں لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ ہو گا اور یہ نام پہلے کسی کا نہیں ہوا۔ پوچھا اے اللہ! کیسے ہو گا؟ میں بوڑھا ہوں۔ میری بوی بانجھ ہے۔ جواب ملا: یہ میرے لئے آسان ہے، عرض کیا: اے اللہ! اس کی نشانی مقرر فرما دے۔ جواب دیا اس کی نشانی یہ ہے کہ تین رات تک بات نہ کر سکو گے (مریم:۳۰)۔ کیا یہ باتیں حضرت زکریا علیہ السلام کی کتاب میں موجود تھیں۔
نتیجہ: قرآن مجید کے محولہ بالا واقعات سے ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے پاس کتاب الٰہی کے علاوہ بھی وحی آیاکرتی تھی۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سید المرسلین کے پاس سوا قرآن کے دوسری وحی نہ آئے۔ ضرور آئی تھی۔ اور ان سے زیادہ آتی تھی۔ ورنہ لازم آئے گا کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں آپ اس نعمت سے محروم تھے۔ انبیاء سابقین سے اللہ تعالیٰ کی باتیں ہوت تھیں۔ سوال و جواب ہوتے تھے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نہ قرآن کے علاوہ کبھی اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا اور نہ کبھی جواب ملا۔ ضرور سوال و جواب ہوئے لیکن وہ قرآن میں موجود نہیں، لہٰذا وہ دوسری وحی (حدیث) میں ہیں۔
(۲) حدیث اگر حجت ہے، تو پھر اس کا منزل من اللہ ہونا ضروری ہے:
اللہ تعالی فرماتا ہے:
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٣﴾ (سورۃ الاعراف)
صرف اس چیز کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے۔ اور اس کے علاوہ کسی ولی کا اتباع مت کرو۔
اب اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حدیث حجت ہے اور اس کے بغیر قرآن پر عمل کرنا ناممکن ہے تو پھر یقیناً حدیث وحی ہے، کیونکہ آیت بالا کی رُو سے صرف وحی کا اتباع لازم ہے اور غیر وحی کا اتباع حرام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
حدیث کے حجت ہونے کے دلائل:
دلیل اول: آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور قوم کو مخاطب کیا: ''اے قوم میں اللہ کا رسول ہوں۔ مجھے قرآن مجید دیا گیا ہے''۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہی یا اس قسم کے الفاظ ہوں گے جن سے آنحضرت ﷺ نے قوم کو مخاطب کیا ہو گا۔ اگر یہ الفاظ حجت ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اگر یہ الفاظ حجت نہیں تو پھر لازم آئے گا کہ نہ آپ رسول ہیں نہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ آپ کی رسالت اور قرآن مجیدپر ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ یہ الفاظ حجت ہوں۔ جب تک یہ الفاظ حجت نہ ہوں، قرآن بھی حجت نہ ہو گا اور یہ الفاظ حدیث کے الفاظ ہیں۔ لہٰذا حدیث کا حجت ہونا لازمی ہے۔
ایک شبہ: یہاں بعض لوگوں کو ایک شبہ بھی پیدا ہوتا ہے، وہ یہ کہ آپ کی تفسیر صرف آپ کی زندگی میں حجت ہے، آپ کے انتقال کے بعد آپ کے خلیفہ کی تفسیر حجت ہو گی کیونکہ وہی اس وقت مرکز ملت ہو گا۔ اور تفسیر کا تعلق مرکز ملت سے ہے۔ منصب رسالت سے نہیں۔ یہ شبہ بذات خود مضحکہ خیز ہے۔ گویا رسالت کا منصب مرکز ملت کے منصب سے کم درجہ ہے۔ یہ عقلاً اور شرعاً محال ہے۔ اور اگر بالفرض محال تسلیم بھی کر لیا جائے کہ مرکز ملت کی تفسیر حجت ہو گی تو بہرحال قرآن کے علاوہ ایک دوسری چیز حجت مانی گئی، اور یقیناً مرکز اولین یعنی رسول کی تشریح سے کم درجہ کی چیز ہو گی۔ جب یہ حجت ہو سکتی ہے تو مرکز اولین یعنی رسول کی تشریح سے کم درجہ کی چیز ہو گی، جب یہ حجت ہو سکتی ہے۔ تو مرکز اولین یعنی رسول کی تشریح کا حجت ہونا زیادہ قرین عقل ہے۔
دلیل سوم: رسول صاحب وحی ہوتا ہے، اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کی حدیث وحی الٰہی ہوتی ہے لہٰذا آیت بالا کی رُو سے اس کا اتباع لازمی ہے اور اس طرح ہم کسی قسم کے شرک میں مبتلا نہیں ہوتے۔ لیکن جو لوگ مرکز ملت کی تشریح کو حجت شرعی سمجھتے ہیں اور اس کی اتباع کو لازمی قرار دیتے ہیں وہ یہ بتائیں کہ آیا ان کی یہ تشریح وحی ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر وہ یہ کہیں کہ وحی نہیں ہوتی تو پھر آیت بالا کی رُو سے اس کا اتباع حرام اور حرام کو حلال بلکہ فرض سمجھنا شرک اور کفر کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا قرآن کی تشریح کے لئے صرف ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ اس کی تشریح بھی وحی ہو، ورنہ اس کا اتباع حرام بلکہ شرک ہو گا۔ اور وحی صرف رسول کے پاس آتی ہے۔ لہٰذا صرف رسول کی تشریح حجت ہو گی کسی اور کی تشریح حجت نہیں ہو گی، یعنی حدیث رسول حجت شرعیہ ہے۔ لہٰذا وحی ہے۔
دلیل چہارم: کیا قرآن خود مکتفی ہے، ہرگز نہیں بلکہ اس کو سمجھنے کے لئے لغت کی ضرورت ہے اور یہ مسلمہ امر ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں، خصوصاً اس صورت میں کہ اسلامی حکومت اس جگہ قائم ہو جہاں کی مادری زبان عربی نہ ہو اور مرکز ملت عربی سے ناآشنا ہو۔ ایسی صورت میں قرآن کو سمجھنے کے لئے عربی لغت کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ پس ثابت ہوا کہ قرآن کفایت نہیں کرتا بلکہ اپنی تشریح کے لئے دوسری چیز کا محتاج ہے۔ اور یہ حجت ہے۔ اور جب یہ چیز حجت ہے تو وہ چیز حجت کیوں نہ ہوجو قرآن کی شرعی لغت ہے یعنی حدیث۔ لغت میں کسی لفظ کی تشریح یا معنی کسی ایک آدمی یا چند آدمیوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں، وہ آدمی بھی معصوم نہیں ہوتے کہ ان سے غلطی نہ ہو۔ پھر اکثر وہ مجہول ہوتے ہیں۔ مزید برا ان کے بیان کردہ معانی کاتب لغت تک سندا نہیں پہنچتے۔ پھر لغت کا مؤلف ضروری نہیں کہ صادق القول اور راسخ فی العلم ہو۔ اگر باوجود ان تمام عوارض کے لغت کے مندرجات حجت ہوں تو کتنے افسوس کا مقام ہے کہ معصوم، الصادق المصدوق، صاحب وحی، انسان کامل، معلوم و معروف شخصیت کے بیان کردہ معانی جو صادق القول اور راسخین فی العلم نے باسند باوثوق معروف و مشہور، صادق القول، مسلمہ استادوں سے حاصل کر کے جمع کئے ہوں، حجت نہ ہوں۔ پھر یہ افسوس اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے جب کہ ان معانی پر امت کا عملا اجماع ہو۔ وہ معانی مخبر صادق تک نقلا بھی مشہور و متواتر ہوں اور عملا بھی متواتر ہوں۔ پھر بھی وہ تو حجت نہ ہوں اور حجت ہو تو وہ لغت کہ نہ باسند ہے اور نہ یہ ضروری ہے ہے کہ اس کا مؤلف مسلم یا شرع باوقار عالم ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ متعصب، غیر مسلم یا کم علم مُلّا ہو۔
دلیل پنجم: لغت زمانہ کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ لہٰذا کسی لغت کو حجت قرار دیا جانا اور کس کو نہیں اس مشکل کا حل سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ اس لغت کو حجت مانا جائے جو مہبط وحی نے بتائی اور وحی کے اولین مخاطبین نے سمجھی اور اس وقت بولی جاتی تھی جب قرآن عزیز اتر رہا تھا۔
دلیل ششم: ہر فن اور ہر علم کی ایک اصطلاح ہوتی ہے بعض اوقات لغت میں کچھ معنی ہوتے ہیں اور اصلاح میں کچھ۔ ایسی صورت میں اصطلاحی معنی ہی منشاء کلام کو سمجھنے کے لئے حجت ہوتے ہیں۔ نہ کہ لغوی معنی۔ ایک شخص گو وہ کتنا ہی بڑا ادیب کیوں نہ ہو، علوم ریاضی، علوم طبیعات، علوم طب وغیرہ کی کتابوں کو نہیں سمجھ سکتا، اس لئے کہ وہ فنی اصطلاح سے ناواقف ہوتا ہے اس کے لئے لغت کا علم بیکار ہی ہو گا بلکہ مزید حرانی کا موجب۔ جب قرآن چونکہ علوم شرعیہ کا منبع ہے، لہٰذا اس کی بھی کوئی نہ کوئی اصطلاح ہونی چاہیے۔ مثلاً زکوٰۃ کے لغوی معنی کچھ اور ہیں اور شرع میں کچھ اور۔ اور شرع میں وہی معنی معتبر ہیں جو کہ اصطلاحاً مشہور و معروف ہیں۔ اور اصطلاح بھی اس شخص کی مستند مانی جائے گی جس پر قرآن نازل ہوا یا جن کے زمانہ میں قرآن نازل ہوا۔ کیونکہ مردر ایام سے اصطلاح بھی بدل جایا کرتی ہے۔ الغرض حدیث قرآن کے اصطلاحی معانی بیان کرتی ہے۔ لہٰذا تشریح قرآن کے لئے وہی حجت ہے اور بس۔
دلیل ہفتم: لغت میں ایک ہی لفظ کے دو دو تین تین، چار چار بلکہ دس دس بیس بیس معانی دیئے ہوتے ہیں۔ اگر قرآنی تشریح کو اس طرح آزاد چھوڑ دیا جائے تو قرآن بازیچہ اطفال بن جائے گا کوئی کچھ معنی کرے گا اور کوئی کچھ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ الحاد کو پنپنے کا موقع ملے گا۔ اختلافات کا ایک سیلاب عظیم ہو گا۔ اور امت مختلف فرقوں میں بٹ جائے گی جیسا کہ من مانی تفسیر کرنے سے فی الواقع ہو چکا ہے اور مسلمانوں کے مختلف فرقوں کا وجود اس کا عملی ثبوت ہے۔ ان فرقوں نے حدیث کا براہِ راست انکار کرنے کے بجائے اس کو ٹالنے کے لئے چور دروازے تلاش کئے۔ کبھی قرآن کو بطورِ حجت پیش کیا اور اس کے معانی وہ اختیار کر لئے جو حدیث کے خلاف تھے اور پھر بطور فخر کےکہنے لگے کہ ہمارے قول کی دلیل قرآن ہے۔ بھلا قرآن کے مقابلہ میں حدیث کیسے مانی جائے گی؟ کبھی اپنی عقل ناقص کو معیار بنا کر حدیث کو خلاف عقل سمجھ لیا اور اس طرح حدیث سے نجات حاصل کر لی۔ اس اختلاف اور الحاد کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کے ہر لفظ کے ایک معنی مقرر ہوں اور یہ کون کر سکتا ہے سوائے رسول کے کیونکہ رسول ہی ایسی شخصیت ہے جس پر سب جمع کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حدیث حجت ہو۔ اور قرآن کی وہی تشریح قابل تسلیم ہو جو حدیث میں بیان کر دی گئی ہو۔ پس ثابت ہوا کہ حدیث حجت ہے لہٰذا منزل من اللہ ہے۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ: اس مشکل کا حل بعض لوگوں نے یہ بتایا ہے کہ مرکز ملت کی تشریح ہر شخص کو تسلیم کرنی ہو گی۔ لہٰذا اختلاف و الحاد کا کوئی امکان نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جبری اتفاق ہو گا۔ اس سے ذہنی اختلاف دور نہ ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ کبھی یہ ذہنی اختلاف عملاً پھوٹ پڑے اور بڑے بڑے فتنوں کا موجب بن جائے۔ مثلاً خارجی اور سبائی تحریکیں۔ اور ان کی ایک حد تک کامیابی یا بقا اسی ذہنی اختلاف کا نتیجہ تھیں۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ تاریخ اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ مرکز ملت نے کوئی تشریح کی ہو اور کبھی اس کو چیلنج نہ کیا گیا ہو بلکہ بارہا ایسا ہوا۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے تاریخ کے طالب علم بخوبی واقف ہیں۔ تیسرے یہ کہ اگر ایک مرکز ملت اپنے زمانہ میں ایک آیت کے کچھ معنی کرے، دوسرا مرکز ملت کچھ اور۔ تیسرا مرکز ملت کچھ اور معنی کرے۔ اور اسی طرح معنی بدلتے رہیں تو کیا یہ سب تشریحات صحیح مانی جائیں گی؟ کیا ہر تشریح کا لوحی من السماء ہو گی۔ کیا یہ تمام تشریحات شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیرھا کی مصداق نہ ہوں گی۔ اور ایک غیر مسلم ان میں سے کون سی تشریح کو قرآنی تشریح خیال کرے گا؟ فرض کیجیے کہ ایک مرکز ملت پانچ وقت کی نماز فرض قرار دے، اور دوسرا مرکز ملت تین وقت کی نماز فرض مانے تو ہم سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ دونوں تشریحات صحیح ہیں۔ کوئی غلط نہیں جیسا کہ تقلیدی مذاہب میں ہوا اور ہو رہا ہے۔ ایک ہی چیز ایک مذہب میں حلال، دوسرے میں حرام اور دونوں اپنے اپنے دائرہ میں حق پر، اب اگر کوئی حرام کھا رہا ہے تو کھاتا رہے ہمیں بولنے کی کیا ضرورت، وہ ہمارے لئے حرا م ہے لیکن اس کے لئے حلال ہے۔ اس کو نادانی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ کتنا عجیب اور کس قدر مضحکہ خیز وہ سماں ہو گا جب ایک ہی زمانہ میں دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف مراکز ملت قائم ہو جائیں اور ہر ایک اپنی اپنی تشریح کرتا رہے۔ حلال و حرام کا فرق ہو۔ اختلافات بعیدہ ہوں لیکن ہم پھر بھی یہی کہیں کہ سب ٹھیک ہیں۔
برق صاحب ذرا غور فرمائیے، وہ وقت کتنا عجیب ہو گا جب کہ ایک مرکز ملت کسی لفظ کی تشریح کرے اور اتفاق سے وہ لفظ لغت اضداد سے ہو۔ اور دوسرا مرکز ایسے معنی کرے جو پہلے کی ضد ہو۔ کیا یہ صورت ظہور پذیر نہیں ہو سکتی۔ ضرور ہو سکتی ہے۔ پھر کیا یہ صورت حق ہو گی؟ نہیں بالکل باطل ہو گی۔ عقل سلیکم کسی ایک معنی اور اس کی ضد دونوں کو صحیح نہیں مان سکتی۔ لہٰذا مرکز ملت کے معنی حجت نہیں ہو سکتے اور نہ اس سے اختلاف و الحاد کا سدباب ہو سکتا ہے۔ یہ مرکز ملت کا مفروضہ اصول ہی بالکل مضحکہ هیز ہے۔ کاش یہ لوگ غور کرتے۔
چوتھی بات اس سلسلہ میں یہ بھی غور طلب ہے کہ جب کوئی مرکز ملت ہی نہ ہو جیسا کہ آجکل ہے تو پھر اختلاف و الحاد کو روکنے کی کیا صورت ہو گی؟ اختلاف اور الحاد کے سدباب کے لئے کوئی ایسا ذریعہ ہونا چاہیے جو عارضی نہ ہو بلکہ مستقل اور دائمی ہو۔ مرکز ملت اول تو اس مرض کی دوا نہیں۔ اور پھر مستقل اور دائمی نہ ہونے کی وجہ سے اس کو علاج کہنا کسی صورت سے صحیح نہیں۔ اس کا سدباب وہ ہی چیز کر سکتی ہے جو خود دائمی اور مستقل ہو اور وہ سوائے حدیث کے اور کچھ نہیں۔ لہٰذا حدیث کے حجت ہونے میں کیا شبہ رہا اور جب وہ حجت ہوئی تو آیت زیر عنوان کی رو سے وحی ہوئی۔
دوسرا شبہ اور اس کا ازالہ:بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن اپنی تشریح آپ کرتا ہے لہٰذا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں لیکن یہ محض دعوی ہی دعوی ہے حقیقت اس کے خلاف ہے مثلا اللہ تعالی فرماتا ہے: اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃ۔ صلوٰۃ قائم کر۔ صلوٰۃ کسے کہتے ہیں۔ اس کی تفصیل نہیں۔ قرآن میں جب اس کی تشریح تلاش کرتے ہیں تو عجیب حیرانی ہوتی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے: اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ۔ صابرین پر اللہ تعالی کی طرف سے صلوٰۃ ہوتی ہے اور رحمت۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: وَصَلِّ عَلَيْہِمْ۰ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ (سورۃ التوبہ:۱۰۳)۔ ان پر صلوٰۃ بھیجیے بیشک آپ کی صلوٰۃ ان کے لئے باعث سکون ہے۔ ایک جگہ اللہ تعالی کی طرف سے صلوٰۃ نازل ہو رہی ہے، دوسرے آیت میں بندے کو حکم ہو رہا ہے کہ صلوٰۃ نازل کرو، اب کوئی کیا سمجھے۔ ایک جگہ ارشاد ہے: اَقِيْمُوا الدِّيْنَ (سورۃ الشوری:۱۳)۔ دین قائم کرو۔ ہو سکتا ہے کہ صلوٰۃ کے معنی دین کے ہوں۔ اور اس آیت میں صلوٰۃ کی تشریح دین سے کی گئی ہو۔ پھر ارشاد ہوتا ہے: وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ (سورۃ الرحمن:۹)۔ وزن قائم کرو۔ لہٰذا صلوٰۃ کے معنی وزن کے بھی ہو سکتے ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے: وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَيِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ (سورۃ ھود:۱۱۴) یعنی دن کے دونوں اطراف اور کچھ رات کے وقت بھی صلوٰۃ قائم کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صلوٰۃ ایسی چیز ہے جو مسلسل قائم نہ رکھی جائے، بلکہ وزن اور رات کے بعض اوقات میں قائم کی جائے۔ ''صلوٰۃ'' کے معنی کولہے ہلانے کے بھی ہیں۔ اس لحاظ سے اگر کوئی اَقِمِ الصَّلٰوۃَ کے معنی یہ کرے کہ ''ناچ کی محفل قائم کرو'' اور ثبوت میں یہ آیت پیش کرے: اِنَّمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ (سورۃ محمد۳۶) دنیا کی زندگی بس لہو و لعب ہی تو ہے۔ اور جب دنیا کی زندگی لعب و لہو ٹھہری تو دنیا میں محفل رقص و سرود قائم کرنا ہی اَقِمِ الصَّلٰوۃَ کا منشا ہے تو بتائیے اس کی تردید کیسے ہو سکتی ہے؟
دوسری مثال اور دلیل ہشتم: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ زکوٰۃ دو۔ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا ﴿١٢﴾ وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَاةً ۖ وَكَانَ تَقِيًّا ﴿١٣﴾ (سورۃ مریم)
یعنی اے یحییٰ کتاب کو قوت سے پکڑ لو اور ہم نے یحییٰ کو بچپن میں ہی حکم دے رکھا تھا۔ اور اپنی طرف سے مہربانی دی تھی اور زکوٰۃ دی تھی اور وہ متقی تھے۔
اس دوسری آیت میں زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی کے ہیں۔ تو پہلی آیت کے معنی ہوئے ''پاکیزگی دو''۔ تو یہ معنی سراسر باطل ہیں اور اگر پہلی آیت میں ذکوٰۃ سے مراد ٹیکس ہے تو دوسری آیت کے معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ٹیکس دیتا تھا۔ اور یہ بالکل مضحکہ خیز ہے۔
ان دونوں مثالوں سے واضح ہوا کہ قرآن اکثر مقامات میں تشریح اصطلاحی کا محتاج ہے۔یعنی ایک استاد کی ضرورت ہے جو اسے پڑھائے اور اس کے مشکل مقامات کو حل کرے۔ اور وہ استاد سوائے رسول کے اور کون ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ منصب رسول کو خود اللہ تعالی نے دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ۔۔۔۔ ﴿٢﴾ (سورۃ الجمعہ:۲)
اللہ نے ان میں ایک رسول مبعوث کیا جو اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
اب اگر پڑھانے میں تشریح حائل نہیں ہے تو پھر رسول کا تلاوت کر دینا کافی تھا۔ لیکن محض تلاوت پر اکتفا نہیں کی گئی بلکہ تلاوت کا منصب بتانے کے بعد تعلیم کا منصب بھی بتایا گیا۔ کیونکہ رسول ﷺ اللہ کی طرف سے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ لہٰذا اس کی تشریح بھی من جانب اللہ ہونی چاہیے اور یہی وہ چیز ہے جس کو وحی خفی کہا جاتا ہے۔ اب اس کے حجت ہونے میں کیا شبہ رہ گیا۔
دلیل نہم: قرآن مجید کی بہت سی آیات بالکل ناقابل عمل اور ناقابل تشریح ہیں، جب تک ان کی وہ تشریح تسلیم نہ کی جائے جو آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے، مثلاً اللہ تعالی فرماتا ہے:
اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ (سورۃ البقرۃ:۱۹۷)۔ حج کے چند مہینے معلوم ہیں۔
معلوم کے معنی ہیں ''بتایا گیا'' قرآن میں تو ان کے نام نہیں بتائے گئے اگر بتائے گئے ہیں تو کہاں ہیں؟ ظاہر ہے کہ سوائے حدیث کے یہ نام کسی نے نہیں بتائے۔ عرض یہ کہ بغیر حدیث کے یہ آیت ناقابل عمل ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ كِتٰبِ اللہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُۥ(التوبہ:36)
آیت مذکورہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دین بارہ مہینوں اور چار محترم مہینوں پر مشتمل ہے لیکن قرآن ان چار محترم مہینوں کے نام بتانے سے قاصر ہے۔ بتائیے کن مہینوں کو حرمت والے مہینے سمجھا جائے اگر یہ کہا جائے کہ رواج کے مطابق مان لیا جائے تو بھی ٹھیک نہیں کیونکہ کفار تو ان مہینوں کو بدل دیا کرتے تھے جیسا کہ خود قرآن مجید نے بتایا ہے:
اِنَّمَا النَّسِيْءُ زِيَادَۃٌ فِي الْكُفْرِ (التوبہ 37)
تو پھر مہینوں کا تقرر کفار کے ہاتھ میں رہا نہ اللہ کے ہاتھ میں رہا، نہ رسول کے ہاتھ میں، نہ مرکز ملت کے ہاتھ میں، جس مہینہ کو کافر حرمت والا کہہ دیں بس ہم بھی اس کی حرمت کریں کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
اَلشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ (البقرۃ: 194)
یعنی کفار کسی مہینے کی حرمت کریں تو تم بھی بدلہ میں حرمت کرو۔
گویا قرآن کی آیت کفار کی محتاج ہوئی جو عمل کفار کا وہی قرآن کا منشا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ (سورۃ الحج 28)
یعنی معلوم شدہ دنوں میں اللہ کا نام ذکر کریں۔
قرآن پھر ساکت ہے کہ ان ایام کی تشریح کرے، اب بتایئے اس پر کس طرح عمل ہو؟
(۴) حروف مقطعات کیوں واقع ہوئے ہیں، ان کی تشریح سے قرآن خاموش ہے۔ اور جو لوگ ان حروف کی تشریح قرآن سے کرتے ہیں، وہ سوائے تک بندی کے اور کچھ نہیں۔ اول تو یہی نہیں معلوم کہ یہ حروف الفاظ کے پہلے حروف ہیں، پھر اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے تو قرآن میں یہ کہاں ہے کہ فلاں جگہ جو ''ص'' استعمال کیا گیا ہے اس سے مراد صابر ہے۔ یا فلاں لفظ ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۱۶۴ۙ وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ۱۶۵ۚ (سورۃ الصافات)
اور ہم میں سے ہر ایک کا مقام معلوم ہے۔ اور ہم صف باندھنے والے ہیں۔
معلوم نہیں ان آیات کا متکلم کون ہے؟ پوری سورت پڑھ جایئے کہیں اس جملہ کا متکلم نظر نہیں ملے گا۔
وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ (سورۃ البقرۃ:196)
اللہ کے لئے حج اور عمرہ پورا کرو۔
معلوم نہیں یہ حج کیا چیز ہے؟ اور عمرہ کیا چیز ہے؟ اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ (سورۃ مریم:64)
ہم نہیں نازل ہوتے مگر تیرے رب کے حکم سے۔
اس آیت میں متکلم اللہ ہے کیونکہ اس سے اوپر کی آیت میں مسلسل جمع متکلم کا صیغہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے استعمال کیا ہے، لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نازل نہیں ہوتا مگر رسول کے رب کے حکم سے۔ گویا اللہ کا بھی کوئی حاکم ہے جس کے حکم سے وہ نازل ہوتا ہے۔ (نعوذ باللہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
غرض یہ کہ اس قسم کی بیسیوں گھتیاں ہیں۔ ان کو کن سلجھائے؟ اگر یہ کام مرکز ملت کے سپرد کر دیا جائے تو مختلف ادوار میں بلکہ ایک ہی زمانہ کے مختلف مراکز میں حج کے مختلف مہینے ہوں گے۔ ایام معلومات مختلف ہوں گے۔ حروف مقطعات کی مختلف تشریحات ہوں گی۔ ایک ہی آیت کے مختلف متکلم مان لئے جائیں گے۔ مسلمان خواہ کچھ بھی کہیں غیر مسلم تو ان مختلف تشریحات کو دیکھ کر ہنسنے کے سوا اور کیا کرے گا ان گتھیوں کا بس ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ خود آنحضرت ﷺ ہی اس کو حل کریں، لہٰذا حدیث حجت ہوئی اور آیت زیر عنوان کی رُو سے وحی ہوئی۔
دلیل دہم: اسی طرح قرآن مجید کی متعدد آیت پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوگا مثلا اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۰ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَہٗ (البقرۃ:15)
اور جہاں سے تو نکلے اپنے منہ کو مسجد حرام کی طرف پھیرے اور جہاں کہیں بھی تم ہو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر وقت ہر حال میں منہ کعبہ کی طرف رہنا چاہیے۔ کیا یہ ممکن ہے؟ آخر یہ حکم کس وقت کے لئے ہے؟ کون بتائے؟ کس طرح اس پر عمل ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاَشْہِدُوْٓا اِذَا تَبَايَعْتُمْ (سورۃ البقرۃ:۲۸۲)
جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کر لیا کرو۔
بتائیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہر چھوٹی بڑی چیز کے خریدتے وقت ہر دوکاندار و خریدار گواہ کر لیا کریں؟ کیا یہ حکم قرآنی ممکن العمل ہے؟ اللہ تعالی فرماتا ہے:
يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف:31)
اے بنی آدم ہر مسجد کے قریب اپنی زینت لے لیا کرو۔
اس آیت پر کس طرح عمل کیا جائے؟ زینت لباس بھی ہے۔ زیورات بھی ہیں۔ میزیں اور کرسیاں بھی ہیں۔ فرض و فروش، جھاؤ و فانوس بھی۔ کیا یہ سب چیزیں لے کر مسجد کے قریب جانا چاہیے؟
غرض کہ اس قسم کی بہت سی آیت ہیں جو ناقابل عمل ہیں جب تک ان کے معنی اور موقع و محل متعین نہ ہو، اور یہ چیزیں کون متعین کر سکتا ہے سوائے رسول ﷺ کے؟ لہٰذا حدیث حجت ہوئی۔ اور آیت زیر عنوان کی رو سے وحی ہوئی۔ تلک عشرۃ کاملۃ
مندرجہ بالا دس دلائل سے ثابت ہوا کہ حدیث حجت ہے۔ لہٰذا آیت زیر عنوان کی رُو سے حدیث وحی ہوئی، ورنہ غیر وحی کا اتباع لازم آئے گا۔ اور یہ آیت کے خلاف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
(۳) حدیث کے وحی خفی ہونے کا ثبوت قرآن مجید سے
اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا:
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَۃٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْہَا قَاىِٕمَۃً عَلٰٓي اُصُوْلِہَا فَبِاِذْنِ اللہِ (سورۃ الحشر:5)
جو درخت تم نے کاٹے یا چھوڑ دیئے سب اللہ کے حکم سے تھا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت اللہ تعالی کے حکم سے کاٹ گئے تھے لیکن وہ حکم قرآن میں کہاں ہے؟ کہیں نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ قرآن کے علاوہ کوئی وحی تھی جس کے ذریعہ حکم بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ (البقرۃ:143)
اور اس قبلہ کو جس پر آپ اس وقت ہیں یعنی بیت المقدس کو ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کون رسول کی اتباع کرتا ہے۔
اس قبلہ کو مقرر کرنے حکم قرآن میں کہیں نہیں۔ لہٰذا و حکم بذریعہ وحی خفی تھا (اس آیت میں قبلہ سے مراد بیت المقدس ہے کیونکہ اس سے آگے ارشاد ہے: فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَۃً تَرْضٰىھَا ہم عنقریب اس قبلہ کی طرف آپ کو موڑ دیں گے جس کی آپ کو خواہش ہے۔ یعنی کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَإِذْ أَسَرَّ‌ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَ‌هُ اللَّـهُ عَلَيْهِ عَرَّ‌فَ بَعْضَهُ وَأَعْرَ‌ضَ عَن بَعْضٍ ۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَـٰذَا ۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ‌ ﴿٣﴾(سورۃ التحریم)
نبی (ﷺ) نے ایک بات پوشیدہ طور پر اپنی ایک بیوی سے کہی لیکن بیوی نے اس بات کو ظاہر کر دیا۔ اللہ نے نبی (ﷺ) کو اس افشاء راز سے مطلع کر دیا اور اس نے بعض بات جتا دی اور بعض بات سے چشم پوشی کی۔ پس جب نبی نے اس بیوی سے اس بات کا ذکر کیا تو بوی نے پوچھا: آپ کو کس نے خبر دی؟ نبی (ﷺ) نے فرمایا: مجھے علیم و خبیر نے خبر دی ہے۔
قرآن میں کہیں نہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو مطلع کیا ہو کہ فلاں بیوی نے تمہارا راز ظاہر کر دیا۔ پھر علیم و خبیر اللہ نے کس طرح خبر دی۔ ظاہر ہے کہ وحی خفی کے ذریعہ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
أَن يُمِدَّكُمْ رَ‌بُّكُم بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُنزَلِينَ ﴿١٢٤﴾ بَلَىٰ ۚ إِن تَصْبِرُ‌وا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِ‌هِمْ هَـٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَ‌بُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ ﴿١٢٥﴾ (سورۃ آل عمران)
جس وقت اے نبی (ﷺ) تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے بلکہ اگر تم صبر کرو گے اور پرہیزگاری اختیار کرو گے اور کافر پورے جوش و خروش سے تم پ حملہ آور ہوں گے تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا۔
یہ خبر کو آنحضرت ﷺ نے جنگ سے پہلے صحابہ کو دی تھی اور جس کا ذکر اللہ تعالی نے جنگ کے بعد ان آیات میں کیا ہے، قرآن میں کہاں ہے۔ آخر آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی تین ہزار بلکہ پانچ ہزار فرشتوں سے مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُہُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا نُہُوْا عَنْہُ وَيَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ (سورۃ المجادلہ:۸)
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشی سے منع کر دیا گیا تھا پھر انہوں نے وہی کیا جس کی ممانعت کی گئی تھی اور وہ اب بھی گناہ کی زیادتی کی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہی رہتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے سرگوشی سے منع کیا گیا ہو گا لیکن ممانعت کا حکم قرآن میں اس آیت کے بعد ہے۔ پس ثابت ہوا کہ پہلے بذریعہ وحی خفی منع کیا گیا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ ﴿٢٣٨﴾ فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِ‌جَالًا أَوْ رُ‌كْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَاذْكُرُ‌وا اللَّـهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ﴿٢٣٩﴾ (سورۃ البقرۃ)
نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیان والی نماز کی اور اللہ کے سامنے ادب سے کھڑے رہو اگر تم کو خوف ہو تو پھر نماز پیدل یا سواری پر ہی پڑھ لو لیکن جب امن ہو جائے تو پھر اسی طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے۔ اور جس طریقہ کو تم نہیں جانتے تھے۔
اس آیت سے ظاہر ہوا کہ نماز پڑھنے کا کوهی خاص طریقہ ہے جو بحالت جنگ معاف ہے لیکن بحالت امن اسی طریقہ سے نماز پڑھنی چاہیے۔ اس طریقہ کی تعلیم کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے لیکن قرآن میں یہ طریقہ کہیں مذکور نہیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سکھایا اور حدیث کے ذریعہ سکھایا جو بذریعہ وحی نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللہِ وَذَرُوا الْبَيْعَ (سورۃ الجمعۃ:۹)۔
اے ایمان والو! جب جمعہ کے نماز کے لئے تم کو بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی سے آجاؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔
آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز جمعہ کے لئے بلایا جاتا تھا۔ اس بلانے کا کیا طریقہ تھا۔ یہ بلانا کس کے حکم سے مقر ہوا تھا۔ پھر جمعہ کی نماز کا اہتمام علاوہ اور دنوں کے کوئی خاص درجہ رکھتا تھا۔ پھر جمعہ کی نماز کا کوئی خاص وقت مقرر ہو گا۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہر وقت تیار رہو۔ جب بلائیں چلے آو۔ خواہ دن میں کئی مرتبہ بلایا جائے۔ یہ سب چیزیں اس آیت کے نزول سے پہلے مقرر ہو چکی تھیں لیکن قرآن اس سے خاموش ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ (سورۃ النساء:۱۱)
یعنی اگر دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو ان کو دو تہائی ملے گا۔
آیت سے ظاہر نہیں ہوتا کہ کن حالات میں ترکہ اس طرح تقسیم ہو گا۔ لہٰذا لازمی ہے کہ ان حالات کا علم بذریعہ وحی خفی دیا گیا ہو۔ اسی طرح اس آیت میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ تعظیم کے بعد باقی ترکہ کا کیا کیا جائے۔ آخر اس کا بھی کوئی مصرف ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اسے ضائع ہونے دیا جائے۔ یا یونہی چھوڑ دیا جائے۔ لہٰذا اس کے متعلق بھی کوئی ہدایت ہونی چاہیے لیکن وہ ہدایت بھی قرآن میں نہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ہدایت حدیث میں ہو گی۔ لہٰذا حدیث وحی ہوئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ (سورۃ البقرۃ:187) اب تم رمضان کی راتوں میں عورتوں سے مل سکتے ہو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ پہلے رمضان کی راتوں میں عورتوں سے ملنا منع تھا۔ لیکن ممانعت کا حکم قرآن میں کہیں نہیں۔ لہٰذا یہ حکم بذریعہ وحی خفی نازل ہوا تھا۔ لہٰذا حدیث وحی خفی ہوتی ہے۔
 
Top