• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ وَاللہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ} (التوبۃ)
کہہ دیجئے کہ اگر تم کو اپنے آباؤ اجداد اور اولاد، بھائی بند، بیویاں اور رشتہ دار ، اور وہ مال جو تم نے کمایا ہے، اور وہ تجارت جس کے مندا ہو جانے سے تم ڈرتے رہتے ہو، اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں زیادہ محبوب ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے سے تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم نازل فرمائے (یعنی عذاب بھیجے) اور اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔
{ قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَ } (التوبۃ)
ان اہل کتاب سے لڑو، جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں لاتے اور ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کردیا ہے، اور سچے دین کو قبول نہیں کرتے اور اس وقت تک لڑائی جاری رکھو، جب تک وہ ذلیل ہو کر جزیہ دینا قبول نہ کریں۔
اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ تحریم کا اختیار رسول کو بھی دیا گیا ہے، اور
{ مَنْ یُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ } (النساء)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
کے ماتحت رسول کا حرام کیا ہوا بالکل ایسا ہی ہے، جیسا کہ اللہ کا حرام کیا ہوا، اگر تحلیل و تحریم صرف قرآن کے ذریعہ ہی سے ہوتی، تو اس آیت میں اس کام کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول کی طرف منسوب نہ کیا جاتا۔
{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ } (التوبۃ)
اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردے، اگرچہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔
رسول کی علوشان ملاحظہ فرمائیے، کیا مرکز ملت کی بھی یہی شان ہے، کیا مرکز ملت کو بھی اللہ ہی مبعوث فرماتا ہے، یا قوم منتخب کرتی ہے؟ کیا اس آیت میں بھی رسول سے مراد مرکز ملت ہے۔
{ وَلَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰھُمُ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ سَیُؤْتِیْنَا اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِنَّآ اِلَی اللہِ رٰغِبُوْنَ } (التوبۃ)
اگر منافق اس چیز سے راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دی اور کہتے کہ ہم کو اللہ کافی ہے، وہ ہم کو اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول دے گا، بے شک ہم اللہ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
یہاں بھی '' مِنْ فَضْلِہٖ''بیچ میں لا کر یہ ثابت کردیا کہ اللہ اور رسول دو ہستیاں ہیں نہ کہ ایک یعنی مرکز ملت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ وَمِنْھُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ ھُوَ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍلَّکُمْ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ } (التوبۃ)
بعض منافق نبی کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اُذُن ہے کہہ دیجئے کہ اذن ہونا (یعنی تمہاری مکاری کی باتیں سن کر چشم پوشی کرنا ) تمہارے لیے بہتر ہے، وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اور مسلمانوں کی بات بھی مان لیتا ہے، اور تم میں سے وہ لوگ جو در حقیقت مومن ہیں ان کے لیے تو وہ رحمت مجسم ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
{ وَ مَامَنَعَھُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ نَفَقٰتُھُمْ اِلَّآ اَنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللہِ وَ بِرَسُوْلِہٖ } (التوبۃ)
ان سے مال قبول کرنے سے اس لیے انکار کیا گیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا۔
{ یَحْلِفُوْنَ بِاللہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ وَاللہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ } (التوبۃ)
منافقین تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں، تاکہ تم راضی ہو جاؤ، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ حق دار ہے کہ اسے راضی کیا کریں اگر وہ مومن ہیں۔
{ اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّہٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَھَنَّمَ خَالِدًا فِیْھَاذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ } (التوبۃ)
کیا انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف چلتا ہے اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی ہے۔
{ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاللہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِءُ وْنَ } (التوبۃ)
اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو یوں ہی بحث وہ مذاق کرتے تھے آپ کہہ دیجئے کیا اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول سے مذاق کرتے ہو۔
یہاں بھی اللہ اور رسول کے درمیان لفظ '' آیات'' ہے یعنی اللہ و رسول مل کر کوئی ایک فرد نہیں، بلکہ الگ الگ دو ہستیاں ہیں۔ لہٰذا اس آیت میں '' اللہ اور رسول'' سے مرکز ملت مراد لیتا قطعاً ناممکن ہے۔
{ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللہُ اِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ } (التوبۃ)
مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں، لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اللہ ان پر جلد رحم فرمائے گا، بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
اس آیت میں بھی رسول کو مومنین سے علیحدہ شمار کیا گیا ہے۔ اب اگر رسول کو بھی مؤمنین میں شمار کرلیا جائے، اور '' اللہ و رسول'' سے مرکز ملت مراد لیا جائے، تو پھر یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کونسا مرکز ملت ہے، جس کی اطاعت رسول کو بھی کرنی پڑتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ وَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِھِمْ وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا وَ مَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰھُمُ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ } (التوبۃ)
منافقین اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے اور اس بات کا ارادہ کیا، جو ان کو نہ مل سکی، کیا یہ اس بات کا بدلہ لے رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے اللہ کے فضل سے ان کو مالدار کردیا۔
{ اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَھُمْ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ اللہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ } (التوبۃ)
ان منافقین کے لیے آپ استغفار کریں یا نہ کریں، اگر آپ ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
{ وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍمِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَ ھُمْ فٰسِقُوْنَ } (التوبۃ)
اور ان منافقین میں سے اگر کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں، بے شک انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور اس حالت میں مر گئے کہ وہ فاسق تھے۔
{ لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلہِ وَ رَسُوْلِہٖ } (التوبۃ)
اگر ضعیف، مریض اور ایسے لوگ جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ، جہاد نہ کریں تو کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں۔
{ وَسَیَرَی اللہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } (التوبۃ)
اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہارے اعمال کو دیکھیں گے پھر تم اللہ عالم الغیب والشہادۃ کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے اور وہ تمہیں بتائے گا، جو کچھ تم کرتے تھے۔
{ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللہِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ اَلَآ اِنَّھَا قُرْبَۃٌ لَّھُمْ } (التوبۃ)
اور بعض دیہاتی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس سے اللہ کا تقرب اور رسول کی دعا سے خیر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خبردار بے شک یہ چیز ان کے لیے باعث تقرب ہے۔
اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول دو ہستیاں ہیں نہ کہ اللہ اور رسول ملا کر ایک ہستی یعنی مرکز ملت۔
{ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ وَ اللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ } (التوبۃ)
اے رسول ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر ان کو مطہر و مزکی بنائیے اور ان کے لیے دعا کیجئے ، بے شک آپ کی دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے اور اللہ تعالیٰ سمیع اور علیم ہے۔
کیا کسی مرکز ملت کی دعا بھی باعث تسکین ہوسکتی ہے کیا اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ } (التوبۃ)
کہہ دیجئے کہ عمل کرو، تمہارے اعمال کو اللہ اور اس کا رسول اور مومنین دیکھیں گے۔
اس آیت میں بھی رسول کو اللہ اور مومنین سے الگ ذکر کیا گیا ہے گویا کہ رسول ایک ایسی ہستی ہے، جو اللہ تعالیٰ اور مؤمنین کے درمیان واسطہ ہے، جب تک اس واسطہ کی اتباع نہ کی جائے، اللہ کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا۔
{ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ } (التوبۃ)
اور جن لوگوں نے ضرر پہنچانے، کفر کرنے اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے اور ان لوگوں کے گھات میں بیٹھنے کے لیے جو پہلے ہی سے اللہ اور اس کے رسول سے لڑ رہے ہیں مسجد بنائی، اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا ارادہ بھلائی کا تھا، اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔
{ لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ } (التوبۃ)
بے شک تمہارے پاس تم میں سے ایسا رسول آیا ہے کہ تمہاری تکلیف اس پر شاق گزرتی ہے، تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور مومنین کے لیے رؤف ہے رحیم ہے۔
کیا کسی مرکز ملت کی بھی یہی شان ہے؟ کیا یہاں بھی رسول سے مراد مرکز ملت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } (یوسف)
کہہ دیجئے کہ یہ ہے میرا راستہ میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، بصیرت پر میں بھی ہوں اور میری پیروی کرنے والے بھی، اور اللہ پاک ہے ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
اتباع رسول کی اہمیت اس آیت سے واضح ہے۔
{ الٓرٰکِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ } (ابراھیم)
یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لیے نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے آئیں ، ان کے رب کے حکم سے اللہ عزت والے تعریف والے کے راستہ کی طرف لے آئیں۔
تاریکی سے روشنی کی طرف لانے کا فاعل رسول ہے، نہ کہ کتاب الٰہی غور فرمائیے۔
{ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ } (النحل)
اور ہم نے اس نصیحت کو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے، تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس چیز کی تشریح کردیں، جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، اور شاید وہ غور کریں۔
{ قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا لَکُمْ نَذِیْرٌ مُبِیْنٌ } (الحج)
کہہ دیجئے کہ اے لوگوں میں تم سب کے لیے نذیر مبین ہوں۔
کیا اس معاملہ میں کوئی مرکز ملت آپ کا شریک ہوسکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ وَیَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیقٌ مِّنْہُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَآ اُولٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ } (النور)
اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور رسول پر ایمان لائے، اور ہم نے اطاعت کی، پھر ان میں سے ایک فریق اس سے منہ موڑ لیتا ہے اور یہ لوگ حقیقت میں مومن ہی نہیں ہیں۔
{ وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اِذَا فَرِیقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔ وَاِنْ یَّکُنْ لَّہُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ } (النور)
اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ایک فریق اس سے اعراض کرتا ہے، اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ حق ہمارا ہے تو رسول کے پاس مطیع بن کر حاضر ہو جاتے ہیں۔
{ اَفِی قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیفَ اللہُ عَلَیْہِمْ وَرَسُوْلُہٗ بَلْ اُولٰٓئِکَ ہُمْ الظّٰلِمُوْنَ } (النور)
کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے، یا شک میں پڑے ہوئے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی کریں گے بلکہ یہی لوگ ظالم ہیں۔
{ اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ } (النور)
یقینا مومنین کا تو یہ قول ہونا چاہیے کہ جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو یہ کہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی، اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔
{ وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَخْشَ اللہَ وَیَتَّقْہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ } (النور)
اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری اختیار کرے تو بس ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
{ قُلْ اَطِیعُوا اللہَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَّا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَاِنْ تُطِیعُوْہُ تَہْتَدُوْا وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ } (النور)
کہہ دیجئے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر تم منہ موڑو، تو رسول اپنے فرائض کا ذمہ دار ہے، اور تم اپنے فرائض کے ذمہ دار ہو، اور اگر اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت یاب ہوگے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔
اس آیت میں لفظ '' اَطِیْعُوْا''اللہ سے پہلے بھی آیا ہے اور رسول سے پہلے بھی اگر صرف ایک جگہ ہوتا تو یہ گنجائش نکل سکتی تھی کہ دونوں کو ملا کر ایک ہی ہستی مراد ہے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اللہ اور رسول دو ہستیاں ہیں نہ کہ ایک مرکز ملت۔
دوم: اللہ اور رسول کا ذکر کرنے کے بعد جن جن آیات میں ضمیر صیغہ واحد غائب آیا ہے ، اس کا مرجع ذات رسول ہے، کیونکہ دوسری آیات کی طرح اس آیت میں بھی اللہ اور رسول کے ذکر کے بعد ضمیر صیغہ واحد غائب ہے اور اس آیت میں اس کا مرجع کسی طرح سے بھی اللہ نہیں ہوسکتا۔
سوم: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسول کی اطاعت کے بغیر ہدایت نہیں مل سکتی اس آیت میں کسی صورت میں بھی اللہ اور رسول سے مراد مرکز ملت نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ مرکز ملت کے ذمہ صرف پہنچانا نہیں ہوتا، بلکہ منوانا بھی ہوتا ہے، حاکم وقت اپنا قانون منوا کر چھوڑتا ہے، لیکن رسالت کا منوانا رسول کے ذمہ لازم نہیں ہوتا، اور نہ وہ رسالت منوانے پر مجبور کرتا ہے، بلکہ وہ رسالت کو پہنچا دیتا ہے اور یہی اس کا فرض منصبی ہوتا ہے، الغرض اس آیت میں رسول سے مراد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ان کی اطاعت ہر ایک پر فرض ہے، بغیر ان کی اطاعت کے ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } (نور)
نماز پڑھو، زکوٰۃ دو اور رسول کی اطاعت کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اس آیت میں صرف رسول کی اطاعت کا ذکر ہے، لہٰذا جو لوگ اللہ اور رسول سے مرکز ملت مراد لیتے ہیں، اب وہ صرف رسول سے کیا مراد لیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں '' اللہ'' کے لفظ کو چھوڑ کر صرف لفظ ''رسول'' کا ذکر کرنا، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی اطاعت بھی رسول کی اطاعت میں مضمر ہے، اگر رسول کی اطاعت ہوگئی، تو بس اللہ کی اطاعت ہوگئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
{ وَمَنْ یُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ } (النساء)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
لہٰذا کہنا یہ چاہیے کہ '' اللہ و رسول'' جہاں دونوں آجائیں، وہاں بھی اس سے مراد رسول ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔
{ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ } (النور)
مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ رسول کے ساتھ کسی کام پر جمع ہوں تو بغیر اس کی اجازت کے وہاں سے ہلتے نہیں، بیشک جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں۔
اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ '' اللہ و رسول'' کے ذکر کے بعد جب ضمیر واحد غائب آئے تو اس کا مرجع عام طور پر رسول ہی ہوتا ہے۔
{ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَالرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا قَدْ یَعْلَمُ اللہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ } (النور)
رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو، جیسا آپس میں ایک دوسرے کے بلانے کو سمجھتے ہو، تحقیق اللہ ان لوگوں سے خوب واقف ہے، جو تمہارے پاس سے نظر بچا کر کھسک جاتے ہیں، پس ایسے لوگوں کو جو رسول کے حکم و فعل کی مخالفت کرتے ہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں یا دردناک عذاب میں نہ پھنس جائیں۔
کیا کوئی دوسرا شخص بھی اس خصوصیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک ہے۔
{ وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا } (الفرقان)
اور قیامت کے روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا اور کہے گا اے کاش میں نے رسول کی راہ اختیار کی ہوتی۔
حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا:
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ } (الشعراء)
اللہ سے ڈرو، اور صرف میرا ہی کہا مانو۔
حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا:
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاِطیْعُوْنِ } (الشعراء)
اللہ سے ڈرو اور صرف میرا ہی کہا مانو۔
اسی چیز پر حضرت ہود علیہ السلام نے پھر زور دیا، اور دوبارہ فرمایا۔
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ } (الشعراء)
اللہ سے ڈرو، اور میری اطاعت کرو۔
حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا:
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ } (الشعراء)
اللہ سے ڈرو، اور صرف میری اطاعت کرو۔
اسی چیز پر حضرت صالح علیہ السلام نے پھر زور دیا، اور فرمایا:
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ } (الشعراء)
اللہ سے ڈرو، اور صرف میری اطاعت کرو۔
حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا:
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ } (الشعراء)
اللہ سے ڈرو، اور صرف میری اطاعت کرو۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا:
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ } (الشعراء)
اللہ سے ڈرو، اور صرف میری اطاعت کرو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
{ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ } (اٰل عمران)
اللہ سے ڈرو، اور صرف میری اطاعت کرو۔
ان آیات بینات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا اصول اولیں نبی کی اطاعت ہے، اور یہ کہ ہر نبی نے صرف اپنی ہی اطاعت کی طرف دعوت دی ہے، حالانکہ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اللہ سے ڈرو، اور صرف اسی کی اطاعت کرو، لیکن ایسا نہیں کہا بلکہ اپنی اور صرف اپنی اطاعت کی طرف بلاتے رہے، کیا اس سے نبی کی اطاعت کی اہمیت واضح نہیں ہوتی۔
{ فَاِنْ عَصَوْکَ فَقُلْ اِنِّی بَرِیْٓئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ } (الشعراء)
اگر یہ لوگ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے انبیاء کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی فرض ہے۔
{ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ } (النمل)
پس آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے ، بے شک آپ حق مبین پر ہیں۔
کیا کسی مرکز ملت کو بھی یہ سند عطا ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیہ السلام سے فرمایا:
{ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَکُمَا الْغٰلِبُوْن } (القصص)
تم اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے غالب رہیں گے۔
مندرجہ ذیل ارشاد باری میں غور فرمائیے:
{ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھَا تُھُمْ } (الاحزاب)
نبی مومنین کے لیے ان کے نفوس سے زیادہ اولی ہے اور نبی کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں۔
کیا کوئی مرکز ملت بھی اس حکم میں داخل ہے، کیا یہاں بھی نبی سے مراد مرکز ملت ہے، کیا ہر خلیفہ کی بیویاں امت کی مائیں ہیں، کیا خلفائے راشدین میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بیویوں سے دوسروں نے نکاح نہیں کئے، پس ثابت ہوا کہ رسول سے مراد مرکز ملت ہرگز نہیں اور نہ رسول کو مؤمنین میں شمار کیا جاتا ہے، بلکہ مومنین سے الگ ایک اور اعلیٰ اور انسب مرتبہ کے ذیل میں اس کا ذکر آتا ہے، وہ اگرچہ مومن ہوتا ہے، لیکن کیونکہ وہ تمام مومنین کے لیے نمونہ اور مطاع ہوتا ہے، لہٰذا اس کے متعلق احکام کو خصوصیت سے علیحدہ بیان کیا جاتا ہے، تاکہ عام مومنین کی طرح کوئی اس کو امت کا ایک معمولی فرد نہ سمجھ لے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللہَ کَثِیْرًا } (الاحزاب)
ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن کی امید رکھتے ہیں اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
کیا کسی مرکز ملت کی بھی یہی شان ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے مرکز ملت کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہو، ہرگز نہیں مرکز ملت سے خطا ہوسکتی ہے اس کے لیے صواب پر ہونے کی کوئی آسمانی سند موجود نہیں ہوتی، نہ وحی سے اس کی خطا کی اصلاح ہوتی ہے، لہٰذا وہ زندگی کے لیے نمونہ نہیں بن سکتا، پس ثابت ہوا کہ اس آیت میں رسول سے مراد مرکز ملت ہرگز نہیں ہوسکتا۔
{ وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللہُ وَرَسُوْلَہٗ وَصَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَمَا زَادَھُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمًا} (الاحزاب)
اور جب مومنین نے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے، یہ وہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا، اس سے ان کی ایمانی قوت اور اطاعت شعاری اور بڑھ گئی۔
کیا مرکز ملت بھی ایسا وعدہ کرسکتا ہے، ہرگز نہیں ہرسکتا، اس کو کیا خبر کہ آیندہ کیا ہونے والا ہے، رسول کے پاس وحی آتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ اطلاع پا کر وعدہ کرسکتا ہے، پھر جس آیت میں یہ وعدہ کیا گیا تھا، وہ آیت قرآن میں کہاں ہے، کیونکہ وہ قرآن میں نہیں، لہٰذا اس کا نزول قرآن کے علاوہ کسی اور وحی کے ذریعہ ہوا، اور وہ وحی وہی ہے جس کو حدیث کہا جاتا ہے، اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ '' اللہ و رسول'' سے مراد مرکز ملت ہرگز نہیں ہوسکتا، اور جہاں کہیں بھی قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں، ان سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی مراد ہوتے ہیں، نہ کہ فرضی الفاظ ''مرکز ملت'' مراد ہوتے ہیں۔
{ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا } (الاحزاب)
اے نبی کو بیویو! اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طلب گار ہو تو پھر اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
کیا اس آیت میں '' اللہ و رسول'' سے مراد مرکز ملت ہے کیا اس آیت میں ازواج مطہرات سے کہا جا رہا ہے کہ تم جو بھی مرکز ملت ہو، اس کی طلب گار رہو، اس کی طرف رغبت کرو، اس کی اطاعت کرو، ہرگز نہیں بلکہ رسول سے مراد یہاں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
{ وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا } (الاحزاب)
اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی۔ ہم اس کو دہرا اجر دیں گے اور اس کے لیے ہم نے عزت والا رزق تیار کر رکھا ہے۔
کیا ازواج مطہرات کو حکم دیا جا رہا ہے کہ امیر وقت کی فرمانبرداری کرو، ہرگز نہیں بلکہ رسول سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
{ وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَ مَنْ یَّعْصِ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا } (الاحزاب)
کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ میں فیصلہ کردیں تو ان کو اس معاملہ میں اختیار باقی رہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، تو وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا۔
{ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَ کَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا } (الاحزاب)
محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے اور اللہ ہر ایک شئے کو جاننے والا ہے۔
کیا یہاں بھی رسول اللہ سے مراد مرکز ملت ہے ! اور اگر ہے تو پھر اس کے ساتھ خاتم النبیین کا کیا جوڑ ہے؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ رسول سے مراد کہیں بھی مرکز ملت نہیں، بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں، جیسا کہ اس آیت میں صریحاً نام نامی و اسم گرامی مذکور ہے۔
{ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا۔ وَّدَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا } (الاحزاب)
اے نبی ہم نے آپ کو شاہد، مبشر، نذیر اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔
کیا اس آیت میں نبی سے مراد مرکز ملت ہوسکتا ہے۔
{ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَ مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآءَاللہُ عَلَیْکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ } (الاحزاب)
اے نبی ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کردی ہیں، جن کا آپ نے مہر دیا ہے اور وہ لونڈیاں بھی حلال ہیں، جو اللہ تعالیٰ جہاد میں آپ کے قبضہ میں دے دے اور چچا کی بیٹیاں ، پھوپھی کی بیٹیاں، ماموں کی بیٹیاں، اور خالہ کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو، اور وہ مومن عورت جو اپنے نفس کو نبی کے حوالہ کردے، اگر نبی اس سے نکاح کا ارادہ کرے، یہ بات خالص آپ کے لیے ہے مومنین کے لیے نہیں ہے۔
اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا اور بالبداہت ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ عام مؤمنین سے بہت بلند ہے، اور آپ کا شمار عام مؤمنین سے علیحدہ ہوتا ہے اور عام مؤمنین سے بہت ہی اونچے درجہ میں آپ کا ذکر آتا ہے، اور آپ کے لیے مخصوص احکام ہوتے ہیں، جو مومنین کے لیے نہیں ہوتے، لہٰذا یہ کہنا کہ رسول بھی مومن ہے اور اس پر بھی مرکز ملت کی اطاعت فرض ہے، مضحکہ خیز ہے۔
 
Top