1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید شخصی۔۔۔نکتہ اختلاف

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از سرفراز فیضی, ‏فروری 03، 2013۔

  1. ‏فروری 03، 2013 #1
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    زندگی گذارنے کے لیے استفادہ کو صرف اپنے ہی مسلک کے اکابرین ہی تک کیوں محدود کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ تقلید شخصی سے ہمارا اختلاف اسی بنیاد پر ہے کہ یہ ہم کو امت کے سارے اکابرین سے استفادہ سے روکتی ہے ۔
     
  2. ‏فروری 03، 2013 #2
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    تلمیذ بھائی
    لگے ہاتھوں اس پابندی کی دلیل بھی منظر عام پر آجائے تو کیسا رہے گا ؟؟؟
     
  3. ‏فروری 04، 2013 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    قارئین ! موضوع سے غیر متعلق بات کو نئے تھریڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

    اس تھریڈ میں صرف اسی ہی موضوع پر بات کی جائے، غیر متعلقہ تمام پوسٹ موڈریٹ کی جاتی رہیں گی۔
     
  4. ‏فروری 05، 2013 #4
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    صرف خوش کن نعروں سے کام نہیں چلتا ، ان پر عمل بھی ہونا چاہئیے ۔
    اگر واقعی آپ حضرات اس بات کے قائل ہیں
    تو یہاں میرے دو سوالات ہیں
    پہلا سوال
    1- کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں کہ کبھی اہل حدیث مسلک کے علماء نے اہل حدیث کے اکابریں کے فہم سے اختلاف کرکے ایسا فتوے دیے ہوں جو غیر اہل حدیث اکابر کے فہم کے مطابق ہوں ۔ اگر ایسا ہے تو حوالاجات مطلوب ہیں ورنہ آپ کی بات صرف نعرہ کہلائے گي عملا آپ حضرات بھی اپنے اکابرین کے فہم کے خلاف نہیں چلتے

    دوسرا سوال سے پہلے امام ابن تیمیہ کا حوالہ جس میں انہوں نے کبھی ایک مسلک کے اکابر کی پیروی اور کبھی دوسرے مسلک کے اکابر کی پیروی کو خواہش کی وجہ سے بالاجماع غلط کہا ہے

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک فتوی میں لکھتے ہیں
    يَكُونُونَ فِي وَقْتٍ يُقَلِّدُونَ مَنْ يُفْسِدُهُ وَفِي وَقْتٍ يُقَلِّدُونَ مَنْ يُصَحِّحُهُ بِحَسَبِ الْغَرَضِ وَالْهَوَى وَمِثْلُ هَذَا لَا يَجُوزُ بِاتِّفَاقِ الْأُمَّةِ

    اس قسم کے لوگ ایک وقت میں اس کی تقلید کرتے ہیں جو نکاح کو فاسد قرار دیتا ہے اور دوسرے وقت میں اس کی جو اس کو درست قرار دیتا ہے اپنی خواہش کی وجہ سے ۔ اوراس طرح کا عمل باتفاق علماء نہ جائز ہے

    وَنَظِيرُ هَذَا أَنْ يَعْتَقِدَ الرَّجُلُ ثُبُوتَ " شُفْعَةِ الْجِوَارِ " إذَا كَانَ طَالِبًا لَهَا وَيَعْتَقِدَ عَدَمَ الثُّبُوتِ إذَا كَانَ مُشْتَرِيًا ; فَإِنَّ هَذَا لَا يَجُوزُ بِالْإِجْمَاعِ

    اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک شخص جب خود طالب شفعہ ہو تو پڑوسی کے لئیے حق شفعہ کا اعتقاد رکھے(امام ابو حنیفہ کی فقہ میں پڑوسی کو حق شفعہ ہے) اور جب مشتری ہو تو اس کے ثابت ہونے کا اعتقاد نہ رکھے (امام شافعی کی فقہ میں پڑوسی کو حق شفعہ نہیں ) تو یہ باجماع ناجائز ہے ۔


    علماء احناف بھی تقلید شخصی کے قائل اسی لئیے ہیں تاکہ خواہش پرستی کو روکا جاسکے ۔ ورنہ ایک مجتھد یا متبحرعالم اگر کسی مسئلہ میں دوسرے مسلک میں حق دیکھتا ہے تو اس دوسرے مسلک کے اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں تفصیل کے لئیے تقلید کی شرعی حیثیت از محترم تقی عثمانی
    اب میرا سوال
    کیا تن آسانی کے لئیے دوسرے مسلک کے اکابریں کے فتوی پر عمل کیا جاسکتا ہے ؟
     
  5. ‏فروری 05، 2013 #5
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    اس پورے پوسٹ میں میرے سوال کا جواب کہیں نہیں ہے ۔ میرا سوال ہے:
    زندگی گذارنے کے لیے استفادہ کو صرف اپنے ہی مسلک کے اکابرین ہی تک کیوں محدود کر دیا جاتا ہے؟
     
  6. ‏فروری 06، 2013 #6
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    ایک بات تو یہ ذھن میں رکھیں ۔ یہاں تقلید شخصی کی بات ہے اور تقلید ایک عامی کرتا ہے
    اگر ایک عامی کو کسی بھی مسلک کے اکابر کے فتوی پر عمل کی اجازت دی گئی تو وہ اپنی سہولت دیکھے گا اور دین کا تماشہ بن جائے گا ۔
    مثلا ایک شخص سردی کے موسم میں اگر اس کا خون نکل آیا تو امام ابو حنیفہ کے نذدیک وضو ٹوٹ گيا اور امام شافعی کے نذدیک نہیں ٹوٹا تو تن آسانی کے لئیے امام شافعی کے فتوی پر عمل کرتا ہے اور کچھ دیر بعد اگر اس نے کسی عورت کو چھو لیا تو امام شافعی کے نذدیک وضو ٹوٹ گيا جب کہ امام ابو حنیفہ کے نذدیک برقرار ہے تو امام ابو حنیفہ کے فتوی پر عمل کرتا ہے تو پھر دین کھلونا بن کر رہ جائے گا
    کیا آپ اس ایک عامی کے لئیے اس طرز عمل کی اجازت دیتے ہیں ۔ عمل تو اس نے اکابریں کی فتووں پر ہی کیا ہے
    آب آپ سے ایک الزامی سوال
    کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں کہ کبھی اہل حدیث مسلک کے علماء نے اہل حدیث کے اکابریں کے فہم سے اختلاف کرکے ایسا فتوے دیے ہوں جو غیر اہل حدیث اکابر کے فہم کے مطابق ہوں ۔ اگر ایسا ہے تو حوالاجات مطلوب ہیں ورنہ آپ کی بات صرف نعرہ کہلائے گي عملا آپ حضرات بھی اپنے اکابرین کے فہم کے خلاف نہیں چلتے
     
  7. ‏فروری 06، 2013 #7
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    عامی تو بہر حال مفتی کے فتوی کا متبع ہوتا ہے ۔ میں یہاں عالم کی بات کررہا ہوں۔ایسا عالم جو دلائل کے وزن کا تجزیہ کرسکتا ہو اور دلائل کی بنیاد پر ایک قول کو دوسرے قول پر ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسے عالم کے لیے کیا حکم ہے اگر اس کو اپنے امام اور مسلک کے اکابرین کا قول دلائل کی بنیاد پر غلط معلوم ہوتو؟
     
  8. ‏فروری 06، 2013 #8
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    یہاں آپ دو بحثیں غلط ملط کر رہے ہیں
    تقلید شخصی تو عامی کرتا ہے اور اس کو ہمیشہ ایک مسلک کے اکابر کی پیروی کرنی چاہئيے اگر آپ اس سے متفق نہیں تو پھر آپ ایسے شخص کے معتلق کیا کہتے ہیں جو شخص سردی کے موسم میں اگر اس کا خون نکل آیا تو امام ابو حنیفہ کے نذدیک وضو ٹوٹ گيا اور امام شافعی کے نذدیک نہیں ٹوٹا تو تن آسانی کے لئیے امام شافعی کے فتوی پر عمل کرتا ہے اور کچھ دیر بعد اگر اس نے کسی عورت کو چھو لیا تو امام شافعی کے نذدیک وضو ٹوٹ گيا جب کہ امام ابو حنیفہ کے نذدیک برقرار ہے تو امام ابو حنیفہ کے فتوی پر عمل کرتا ہے ۔ ایسے شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے
    باقی رہ گئے مبتحر عالم تو اس کے متعلق تقی عثمانی صاحب کا اقتباس پڑہیں


    بہر حال علماء اصول کے مذکورہ بالا تصریحات کی روشنی میںایک متبحر عالم اگر کسی مسئلہ کے تمام پہلوں اور ان کے دلائل کے احاطہ کرنے کےبعد کم از کم اس مسئلہ میں اجتھاد کے درجہ تک پہنچ گيا ہو (خواہ وہ پوری شریعت میں مجتھد نہ ہو )تو وہ یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ میرے امام مجتھد کا مسلک فلاں صحیح حدیث کے خلاف ہے ایسے موقع پر اس کے لئیے ضروری ہوگا وہ امام کے قول کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرے
    تقلید کی شرعی حیثیت صفحہ 104
    اس کے بعد بطور حوالہ تقی عثمانی صاحب نے رشید احمد صاحب اور اشرف علی تھانوی صاحب کے حوالہ جات ذکر کیے ہیں جو اسی بات کو ثابت کرتے ہیں
    اب مفتی یا متبحر عالم کے لئیے دلائل کی روشنی میں دوسرے مسلک کے فتوی کے عمل کو ہم بھی جائز کہتے اور آپ بھی۔ اور عملا ایسا ہی ہے
    عامی کے لئیے خواہش پرستی کی وجہ سے مختلف مسلک کے اکابر کے فتووں پر عمل کرنے کے ہم ناجائز کہتے ہیں اور آپ بھی
    تو نکتہ اتفاق ہو گيا ۔

    اختلاف کہاں ہے ذرا وضاحت کردیں
     
  9. ‏فروری 06، 2013 #9
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    اختلاف یہ ہیکہ اہل حدیث رجوع کے لیے کسی ایک مسلک کے علماء کو خاص نہیں کرتے۔ان کا رجوع امت کے سارے اکابرین کی طرف ہوتا ہے اور فیصلہ کی بنیاد دلیل ہوتی ہے۔ جبکہ مقلد صرف اپنے مسلک کے اکابرین کی طرف رجوع کرتے ہیں اور فیصلہ کی بنیاد اشخاص ہوتے ہیں۔
     
  10. ‏فروری 06، 2013 #10
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    دوسرا یہ کہ ہمارے یہاں فیصلہ کی بنیاد دلیلوں پرہوتی ہے۔ کسی امام کی موافقت اور مخالفت ہمارے یہاں ثانوی درجہ کی چیز ہے ۔جب کہ مقلد کے یہاں اس کے امام اور مسلک کے اکابرین کا قول دلیل کی جگہ پر ہوتا ہے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں