وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ،
ارسلان بھائی،
محدث لائبریری پر جو کتاب شائع کی جاتی ہے اس کے متن کی ہر سطر کی صحت کا دعویٰ ہمیں نہیں ہے۔ جو بھی کتاب بحیثیت مجموعی بہتر ہوتی ہے اسے شائع کر دیا جاتا ہے۔
متعلقہ صفحہ پر ہی چونکہ حدیث کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے، اس لئے بالا کتاب کے مصنف اور ناشر تو بہرحال بری الذمہ ہیں۔
ہاں یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معبودوں کا معبود، الٰہوں کا الٰہ کہا جانا چاہئے یا نہیں۔ جس پر علمائے کرام ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔
بہرحال "معبودوں کا معبود" جملہ پڑھ کر میرے ذہن میں تو یہ آتا ہے کہ "معبودوں" کی نسبت لوگوں کی طرف ہے، یعنی لوگ جنہیں معبود سمجھتے ہیں، اللہ وہ ہے جو ان کے بنائے گئے معبودوں کا بھی معبود ہے۔