• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توجہ کریں

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ،
ارسلان بھائی،
محدث لائبریری پر جو کتاب شائع کی جاتی ہے اس کے متن کی ہر سطر کی صحت کا دعویٰ ہمیں نہیں ہے۔ جو بھی کتاب بحیثیت مجموعی بہتر ہوتی ہے اسے شائع کر دیا جاتا ہے۔
متعلقہ صفحہ پر ہی چونکہ حدیث کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے، اس لئے بالا کتاب کے مصنف اور ناشر تو بہرحال بری الذمہ ہیں۔
ہاں یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معبودوں کا معبود، الٰہوں کا الٰہ کہا جانا چاہئے یا نہیں۔ جس پر علمائے کرام ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔
بہرحال "معبودوں کا معبود" جملہ پڑھ کر میرے ذہن میں تو یہ آتا ہے کہ "معبودوں" کی نسبت لوگوں کی طرف ہے، یعنی لوگ جنہیں معبود سمجھتے ہیں، اللہ وہ ہے جو ان کے بنائے گئے معبودوں کا بھی معبود ہے۔
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
اولا

میری زاتی رائے میں یہ تھریڈ حدیث کے متعلقہ سیکشن میں ہونا چاہئیے نہ کہ تجاویز کے سیکشن میں

ثانیا

کتاب میں خود تصریح ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ۔ اب یہ کہ کس درجہ کی ضعیف ہے یہ تو فورم پر موجود اہل علم ہی بتاسکتے ہیں

ثالثا

جہاں تک اس روایت کے متن کے بارے میں اشکال ہے اور خصوصا جو اشکال اس متن کے بارے میں ہے کہ "اور اللہ کہتے ہیں معبودوں کے معبود " تو میرے زاتی رائے میں اس پر بھی کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا اس سے ملتے جلتے جملے ہمیں اپنے اسلاف میں بھی ملتے ہیں
مثال اول

طاغوت کی مطلب بتاتے ہوئے ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں

فالمعبود من دون الله إذا لم يكن كارهاً لذلك طاغوت
ابن تيمیہ (مجموع الفتاوی)
اور جو اللہ کے سوا معبود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔


مثال ثانی

طاغوت کا معنی بتاتے ہوئے شیخ عبدالوھاب رحمہ اللہ لکھتے ہیں

الطاغوت عام: فكُل ما عُبد من دون الله ورضي بالعبادة من معبود أو متبوع أو مُطاع في غير طاعة الله ورسوله فهو طاغوت
مجموعہ التوحید
جس معبود کی اللہ کے سوا کے عبادت کی گئی اور وہ اس عبادت سے راضی ہوا ۔۔۔۔۔۔

تو کیا آپ اس سے یہ مطلب لیں گے شیخ عبدالوھاب رحمہ اللہ اس بات کے قائل تھے کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود تھے(معاذ اللہ) ۔ بلکہ وہ اس بات کے قائل تھے کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود (جن کی عبادت کی جاتی ہے ) ہیں لیکن وہ باطل معبود ہیں



اصل میں معبود کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے ۔ اب عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کی پوجا کرتے ہیں تو وہ ان کے معبود(باطل ) ہوئے اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کی تو اللہ معبود المعبودین (معبودوں کا معبود ) ہوا
اسی اج کل کچھ جہلاء بزرگوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ مثلا بعض حضرات شیخ عبد القادر جیلانی کے نام پر نذر و نیاز کرتے ہیں تو شیخ ان کے معبود(باطل ) ہوئے اور شیخ عبدالقادر رحمہ اللہ نے اللہ کی عبادت کی تو اللہ معبود المعبودین (معبودوں کا معبود ) ہوا
 
Top