• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جامعہ رحمانیہ میں عبدالرشید خلیق دیوبندی استاد رکھا ہے

ندوی

رکن
شمولیت
نومبر 20، 2011
پیغامات
152
ری ایکشن اسکور
328
پوائنٹ
57
اگر ہر فرقہ اور مسلک کے لوگوں کا تعلیم حاصل کرنا ندوہ کو غیر متعصب بناتا ہے تو مجھے امید ہے ہیکہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں غیر سلفی طلبہ کی تناسب ندوہ سے زیادہ ہوگا۔ لہذا یہ اصول آپ کو وہاں بھی اپلائی کرنا چاہیے ۔
رہی بات تعصب کی تو ہمارا تعصب قرآن و سنت کے لیے ہے اس لیے محمود ہے اور آپ کا تعصب شخصیات کے لیے ہے اس لیے مذموم ہے ۔
امام ابوحنیفہ کے مسئلہ پر کفایت اللہ بھائی سے بات کرلیں وہ آپ کو مطمئن کرسکیں گے ۔
اولاتوندوہ اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں فرق یہ ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کاہدف غیرسلفیوں کو سلفی بنانااولین مقصد ہے تعلیم مقصد ثانی ہے۔
ندوہ کا مقصد وحید صرف اسلامی تعلیم ہے کسی مسلک کی دعوت اورتبلیغ نہیں ہے۔ اس بنیادی بات کو ذہن میں رکھیں ۔
دوسری بات کسی جگہ تعلیم غیرمسلک کےا فراد کے تعلیم حاصل کرنے اورنہ کرنے کو تعصب اورعدم تعصب کی دلیل نہیں بنایاجاسکتا۔ بالخصوص جب کہ مقصد ہی یہ ہو کہ تعلیم دے کر انہیں اپناہم خیال اورہم مسلک بنایاجائے تو وہاں پرلازمی طورپردوسرے مسلک کے طلباء کو جگہ دی جائے گی۔اوریہ مقصد بجائے خود ایک تعصب ہے۔
تیسری چیز میں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے تعلق سے یہ بات کہی تھی کہ وہاں جب اس کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت اساتذہ کی قابلیت کو ترجیح دیاجاتاتھا شیخ عبدالعزیز بن باز کےد ور سے مسلک کو ترجیح دیاجانے لگا ۔ یہ چیز اس وقت زیادہ قابل اعتراض ہوجاتاہے جب لوگ خود کو قرآن وسنت کا داعی بتائیں اورعمل ان کا مسلکی تعصب سے بھراہواہو۔
شیخ عبدالعزیز بن باز جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے اعلی ذمہ دار تھے جب کہ اس کے برعکس مولانا سلمان ندوی ندوہ کے کسی اعلی پوسٹ اورذمہ داری کے منصب پر فائز نہیں ہیں۔ ناظم مولانا رابع صاحب ہیں اورمہتمم مولانا سعید الرحمن الاعظمی ہیں۔
اس لئے اگر بحث کے طورپر مولانا سلمان صاحب کو متعصب مان بھی لیاجائے تواس سے ندوہ پر کوئی اثرنہیں پڑتا جب کہ عبدالعزیز بن باز کا تعصب مشاہد اورمحسوس حقیقت ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے خود کے بارے میں کہاتھا وماابری نفسی
لیکن آج کل کے غیرمقلدین حضرات شاید شائبہ نفس اورنفسانیت سے اس درجہ خود کو بری اورپاک تصور کرتے ہیں کہ ڈائریکٹ فرماتے ہیں کہ ہماراتعصب قرآن وحدیث کیلئے ہے۔ ویسے اسی قسم کی باتیں خوارج بھی کیاکرتے تھے۔ بلاوجہ کے دعووں سے گریز کی کوشش کیجئے۔اسی میں عافیت اورامن وسکون ہے۔
جہاں تک کفایت اللہ صاحب کا تعلق ہے توان کے ساتھ ماضی کی بحث یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ رئیس ندوی مقبل الوادعی اورزبیر علی زئی جیسے حاقدین ابوحنیفہ کاکتنازیادہ اثر ہے۔ جمشید صاحب نے اس کے مقابل میں ائمہ اعلام کی جوتصریحات امام ابوحنیفہ کے علوشان کے تعلق سے پیش کیاہے وہ بھی پڑھنے کی چیز ہے۔
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,806
پوائنٹ
376
١:

اولاتوندوہ اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں فرق یہ ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کاہدف غیرسلفیوں کو سلفی بنانااولین مقصد ہے تعلیم مقصد ثانی ہے۔
الحمد للہ
٢:

دوسری بات کسی جگہ تعلیم غیرمسلک کےا فراد کے تعلیم حاصل کرنے اورنہ کرنے کو تعصب اورعدم تعصب کی دلیل نہیں بنایاجاسکتا۔
دلیل تو آپ نے ہی بنایا ہے ۔ یہ دیکھیے۔
ندوہ اب بھی غیرمتعصب ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں ہرفرقہ اورمسلک کے لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں
٣:

حضرت یوسف علیہ السلام نے خود کے بارے میں کہاتھا وماابری نفسی
میں نے اپنا نہیں جماعت اہل حدیث کی دعوت کا تزکیہ کیا ہے جناب ۔ جس کو امت کے علماء کی اکثریت طائفہ منصورہ اور فرقہ ناجیہ قرار دیتی ہے ۔
جب آپ ندوہ کا تزکیہ کرتے ہیں تو یہ آیت آپ پر کیوں نہیں فٹ آتی؟

٤:

ہمارے آخری سوال کا آپ نے جواب نہیں دیا۔ آپ کے مسلکی قبلہ دارالعلوم دیوبند کے بارے میں کیا خیال ہے؟
 

qureshi

رکن
شمولیت
جنوری 08، 2012
پیغامات
233
ری ایکشن اسکور
392
پوائنٹ
74
کیا خوب بحث ہے۔ہائے اللہ اس قوم کے علماء کو کیا ہو گیا ہے ،یہ متحد ہونے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ صرف سارا زور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے پر صرف کرتے ہیں
اس میں کوئی شک نہیں جو قابلیت علمائے دیوبند تھی ،جو قربانیاں علماء دیو بند نے دی اس سک کو ئی بھی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا،بات اعتدال کی ہے علماء اہلحدیث بھی اہلسنت میں داخل ہیں ،دونوں مسالک اکابر نیک لوگ تھے،یہ خیرات اور صدقے پر پڑھنے والوں نےسارا فتور ڈالا ہوا ہے ،کاش یہ علماء بھی اللہ سے ڈرنے والے ہوتے تو آج ہم اتنے اختلافات نہ دیکھتے۔
مجھے تو دونوں جماعتوں سے کوئی اختلاف نہیں۔دونوں اہلسنت میں داخل ہیں اعتدال شرط ہے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
اولاتوندوہ اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں فرق یہ ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کاہدف غیرسلفیوں کو سلفی بنانااولین مقصد ہے تعلیم مقصد ثانی ہے۔
ندوہ کا مقصد وحید صرف اسلامی تعلیم ہے کسی مسلک کی دعوت اورتبلیغ نہیں ہے۔ اس بنیادی بات کو ذہن میں رکھیں ۔
تیسری چیز میں نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے تعلق سے یہ بات کہی تھی کہ وہاں جب اس کی بنیاد رکھی گئی تو اس وقت اساتذہ کی قابلیت کو ترجیح دیاجاتاتھا شیخ عبدالعزیز بن باز کےد ور سے مسلک کو ترجیح دیاجانے لگا ۔ یہ چیز اس وقت زیادہ قابل اعتراض ہوجاتاہے جب لوگ خود کو قرآن وسنت کا داعی بتائیں اورعمل ان کا مسلکی تعصب سے بھراہواہو۔
صرف ’دعوں‘ سے کیا ثابت کیا جا سکتا ہے؟ اس طرح کے مجہول دعوے تو ہر شخص کر سکتا ہے۔

اگر جامعہ اسلامیہ کا اصل مقصد غیر سلفیوں کو سلفی بنانا ہے تب پھر وہاں مکمل طور پر یا کثرت سے غیر سلفی حضرات کا داخلہ کیا جاتا۔ حالانکہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے۔

اور اگر واقعی ہی ایسا ہوتا تو کسی غیر سلفی طالب علم کو اس وقت تک ڈگری نہ دی جاتی جب تک وہ اپنے آپ کو سلفی شو نہ کرتا۔
حالانکہ صورتحال یہ ہے کہ کتنے ہی سلفیت کے مخالف اور تقلید وتصوف کے داعی بھی وہاں کے ہی ’خرّیج‘ ہیں۔
 
Top