• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس کا نام احمد یا محمد ہو ، دوزخ میں نہ جائے گا (تحقیق)

مظاہر امیر

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 15، 2016
پیغامات
1,427
ری ایکشن اسکور
411
پوائنٹ
190
@اسحاق سلفی بھائی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مندرجہ ذیل حدیث کی تحقیق و تحکیم درکار ہے ۔
[۸۵۱۵] أنس بن مالك :
يوقف عبدان بين يدي الله ۔ عزَّ وجلَّ - فيأمر بهما إلى الجنة فيقلان ربنا استأهلنا منك الجنة ولم نعمل عملاً يجازينا [به] الجنة ، فيقول اللهُ ۔ عزَّ وجلَّ ۔ لهما : عبديَّ ادخلا فإني آليت علي نفسي أن لا يدخل النار من اسمه أحمد و محمد
(رواه ابن بكير في جزء من اسمه محمد وأحمد من حديث أنس ، وفيه صدقه بن موسي
قال السيوطي : قال الذهبي والافة من شيج ابن بكير ، وهو الدارع راويه عن صدقة موسي وصدقة وأبوه لا يعرفان ۔ ذكر ذلك ابن عراق في تنزيه الشريعة (173/1) في المخطوظة : عبان ادخلا ۔۔۔ والمثبت وما بين القوسين من المصادر المدونة )
471/7 كتاب فردوس الأخبار بمأثور الخطاب المخرج على كتاب الشهاب تأليف الحافظ الديلمي

ترجمہ:
قیامت کے دن اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا : میں نے حلف کیا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو ، دوزخ میں نہ جائے گا ۔
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مندرجہ ذیل حدیث کی تحقیق و تحکیم درکار ہے ۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائی مسئولہ روایت بالاسناد درج ذیل ہے :
حدثنا أحمد بن نصر بن عبد الله بن الفتح، ثنا جدي: صدقة بن موسى الغنوي، ثنا أبي، ثنا حميد الطويل، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يوقف عبدان بين يدي الله فيأمر بهما إلى الجنة فيقولان: ربنا بم استأهلنا دخول الجنة ولم نعمل عملا تجازينا به الجنة فيقول الله أدخلا عبدي فإني آليت على نفسي ألا يدخل النار من اسمه أحمد ومحمد "
ترجمہ :
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :
(روز محشر ) دو بندوں کو اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا ، تو اللہ تعالی حکم دے گا کہ انہیں جنت میں داخل کردو ، اس پر وہ دونوں کہیں گے کہ ہمیں کس وجہ سے جنت کا اہل بنایا گیا ہے ، جبکہ ہم نے تو ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کے بدلے میں ہمیں جنت ملتی ؟
تو اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں پختہ عہد کرلیا ہے کہ محمد اور احمد نام کے کسی بندے کو جہنم میں داخل نہیں کیا جائے گا ۔

یہ روایت
أبو عبد الله الحسين بن بكير البغدادي الصيرفي (المتوفى: 388 ھ) نے اپنی کتاب (فضائل التسمية بأحمد ومحمد ) میں روایت کی ہے ،
اور اس کا راوی ( أحمد بن نصر بن عبد الله بن الفتح، أبو بكر البغدادي الذَّارع. [المتوفى: 365 هـ] بہت ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے
امام ذہبی اس کے متعلق فرماتے ہیں :
قال الخطيب: في حديثه نكرة تدل على أنّه ليس بثقة.
وسمع منه ابن دوما في هذه السنة، ولم يؤرخ أحد موته فيما أعلم، وهو مُتَّهم، يأتي بالطّامّات، فَلْيُحْذَرْ منه.

(تاریخ اسلام للذہبی )
یعنی احمد بن نصر راوی منکر روایات نقل کرتا ہے ، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قابل اعتماد ثقہ راوی نہیں ،
اس پر تہمت ہے (یعنی جھوٹ کی ) یہ تباہ کن باتیں نقل کرتا ہے لہذا اس سے بچنا چاہیئے ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور آپ نے یہ روایت فردوس الاخبار سے نقل کی ہے اس کے حاشیہ میں اس روایت کے متعلق لکھا ہے :
(رواه ابن بكير في جزء من اسمه محمد وأحمد من حديث أنس ، وفيه صدقه بن موسي
قال السيوطي : قال الذهبي والافة من شيج ابن بكير ، وهو الدارع راويه عن صدقة موسي وصدقة وأبوه لا يعرفان ۔ ذكر ذلك ابن عراق في تنزيه الشريعة (173/1) في المخطوظة : عبان ادخلا ۔۔۔ والمثبت وما بين القوسين من المصادر المدونة )
یعنی اسے ابن بکیر نے روایت کیا ہے اور اس میں صدقہ بن موسی نامی راوی ہے ، یہ مجہول ہے اسی طرح اس سے نقل کرنے والا ابن بکیر کا شیخ بھی مجہول ہے ، اور یہاں آفت اسی کی طرف سے ہے
ابن عراق نے تنزیہ الشریعۃ میں یہی بیان کیا ہے ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
ضعیف اور موضوع روایات کی تحقیق کیلئے سائیٹ پر اس موضوع پر ایک مفید مضمون ملا ہے جو یہاں پیش کرتا ہوں :

بچے کا نام تبرکاً محمد رکھنے والے جنتی

سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُودٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا تَبَرُّكًا بِهِ كَانَ هُوَ وَمَوْلُودُهُ فِي الْجَنَّةِ.
"جس نے اپنے پیدا ہونے والے بچے کا نام تبرکاً محمد رکھا، وہ اور اس کا بچہ دونوں جنتی ہوں گے۔"

(فضائل التسمیة لابن بکیر: ۳۰ ، مشیخة قاضي المارستان: ۴۵۳)
موضوع (من گھڑت) : یہ جھوٹی روایت ہے۔ اسے تراشنے والا حامد بن حماد بن مبارک عسکری ہے، جیسا کہ:
٭ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: المتهم بوضعهٖ حامد بن حماد العسکري.
"اس حدیث کو گھڑنے کا الزام حامد بن حماد عسکری کے سر ہے۔" (تلخیص کتاب الموضوعات: ص ۳۵)
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات (۱۵۷/۱) میں ذکر کیا ہے۔
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے "موضوع" (من گھڑت) کہا ہے۔
٭حافظ سیوطی (اللآلي المصنوعة : ۱۰۶/۱) کا اس جھوٹی روایت کی سند کو "حسن" کہنا انتہائی تساہل ہے۔

*** اہل علم کی تصریحات***

محمد نام کی فضیلت اور فوائد و برکات کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ ساری کی ساری جھوٹی ہیں، جیسا کہ:
٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وقدروي في ھذا الباب أحادیث ، لیس فیها ما یصح.
"اس باب میں بیان کی جانے والی کوئی روایت صحیح نہیں۔" (الموضوعات : ۱۵۸/۱)
٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وھذہٖ أحادیث مکذوبةٌ.
"یہ ساری روایتیں جھوٹی ہیں۔" (میزان الاعتدال في نقد الرجال: ۱۲۹/۱)
٭حافظ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: و في ذٰلک جزءٌ ، کله کذب.
"اس بارے میں پورا ایک کتابچہ ہے جو کہ سارا جھوت کا پلندہ ہے۔" (المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف: ص ۵۲)
٭علامہ حلبی کہتے ہیں: قال بعضهم : ولم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، وکل ماورد فیه ؛ فهو موضوع.
"بعض علما کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ، بلکہ اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری روایات من گھڑت ہے۔" (إنسان العیون في سیرۃ الأمین المأمون ، المعروف به السیرۃ الحلبیّة: ۱۲۱/۱)
٭علامہ زرقانی لکھتے ہیں: وذکر بعض الحفاظ أنه لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث.
"بعض حفاط کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔" (شرح الزرقانی علی مواھب اللدنیة : ۳۰۷/۷)
٭ابن عراق کنانی لکھتے ہیں: قال الأُبِّيُّ: لم یصح في فضل التسمیة بمحمد حدیث ، بل قال الحافظ أبو العباس تقی الدین الحراني : کل ما ورد فیه ؛ فهو موضوع.
"علامہ اُبّی کہتے ہیں کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں ، بلکہ حافظ ابو عباس تقی الدین حرانی (علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ) کے بقول اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری کی ساری روایات من گھڑت ہیں۔" (تنزیعه الشریعة المرفوعة عن الأخبار الشنیعة الموضوعة : ۱۷۴/۱)
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
امام ابن قیم جوزیہ ؒ ( محمد ، احمد نام کی فضیلت میں تین روایات نقل کرکے )فرماتے ہیں :
1- وكحديث "آليت على نفسي أن لا يدخل النار من اسمه أحمد ولا محمد".
2- وكحديث "من ولد له مولود فسماه محمدا تبركا به كان هو والولد في الجنة".
3- وكحديث "ما من مسلم دنا من زوجته -وهو ينوي إن حبلت منه أن يسميه محمدا- إلا رزقه الله ولدا ذكرا" وفي ذلك جزء كله كذب.
(المنار المنیف )

یعنی محمد اور احمد نام رکھنے کی فضیلت میں یہ تینوں روایات موضوع ہیں اور اس موضوع پر ایک جزء ہے جو پورے کا پورا جھوٹ ہے ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:
Top