• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حاملہ میت کے پیٹ میں زندہ بچہ کا حکم

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
501
پوائنٹ
209
اگر عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں غیر متحرک یعنی مردہ بچہ ہو تو بلااختلاف عورت کو مردہ بچہ سمیت دفن کیا جائے گا لیکن اگر بچہ زندہ ہو یعنی پیٹ میں حرکت کر رہاہوتو کیا بچے کو ماں سمیتدفن کردیا جائے گا یا بچہ باہر نکالاجائے گا؟

یہ اختلاف کا موضوع ہے ۔

٭ حنفیہ کا کہنا ہے کہ جب حاملہ عورت مر جائے اور بچہ ماں کے پیٹ میں حرکت کر رہاہو توبائیں سے پیٹ کو چاک کرنا جائز ہے تاکہ زندہ بچہ نکالا جاسکے ۔

٭ شافعیہ کے نزدیک بھی یہی حکم ہے ۔

٭ امام مالک کہتے ہیں کہ میتہ کا پیٹ چاک کرکے بچہ نہیں نکالا جائے گا گرچہ بچہ حرکت کرتا ہو۔ ایک دوسرا قول یہ ہے کہ جس طرح زندگی میں بچہ پیدا ہوتا تھا اس طرح نکالنے کا امکان ہو تو نکالا جائے ۔ لیکن سحنون کہتے ہیں کہ جب زندگی مکمل ہوگئی ہو اور بچنے کی امید ہو تو پیٹ چاک کیا جائے گا۔

٭ حنابلہ میں ایک قول ہے کہ بچے کے مرنے کا انتظار کیا جائے گا پھر ماں کوبچہ سمیتدفن کیا جائے گاجبکہ ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ میت کے بعض جزء کا نقصان پہنچانا ایک زندگی کو بچانے کے لئے ہے ۔

ابن حزم نے بڑی اچھی بات کی کہ اگر حاملہ عورت مر جائے اور بچہ پیٹ میں حرکت کر رہاہو اور حمل چھ مہینے کا ہوگیا ہو تو لمبائی میں ماں کا پیٹ چاک کیا جائے گا اور بچے کو نکالا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا۔(المائدة: 32)
ترجمہ : جس نے کسی نفس کی جان بچائی گویا اس نے پورے انسان کی جان بچائی ۔
پھر اس کے بعد ابن حزم لکھتے ہیں کہ جس نے قصدا چھوڑ دیا یہاں تک کہ بچہ مر گیا تو وہ اس بچے کا قاتل ہے ۔

چاروں مسلک کی روشنی میں ابن حزم کی بات اقرب الی الصواب ہے ، میں اسی کو ترجیح دیتا ہوں۔

یہاں ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ میت کا پیٹ چاک کرنا لاش کی بے حرمتی ہے ۔

یہ بات صحیح ہے کہ لاش کا چیرپھاڑ کرنا مثلہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مثلہ سے منع فرمایا ہے :
وعن عبد الله بن يزيد - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى عن النهبة والمثلة۔ (رواه البخاري)
ترجمہ : عبد اللہ بن یزید روایت کرتے ہیں نبی ﷺ نے لوٹ مار اور مثلہ سے منع فرمایا ہے ۔

لہذا کسی میت کے ساتھ چیر پھاڑ نہیں کیا جائے گا لیکن اگر شدید ضرورت پڑے تو میت کو چیرا جا سکتا ہے جیساکہ مذکورہ بالا صورت حال ہے ، پوسٹ مارٹم بھی جواز کے قبیل سے ہے جب شدید ضرورت کے باعث ہو۔ گویا بلا ضرورت یا میت کی توہین کی خاطر چیر پھاڑ حرام ہے کیونکہ ایک مسلمان کا احترام جس طرح زندگی میں تھا وفات کے بعد بھی باقی رہتا ہے ۔
عن أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:كَسْرُ عَظْمِ المَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا۔(صحیح ابو داؤد للالبانی : 3207)
ترجمہ : میت کی ہڈی توڑنا ،زندہ انسان کی ہڈی توڑنے جیسا ہے۔
٭ اس حدیث کو البانی صاحب نے صحیح قرار دیا ہے ۔

حافظ ابن حجر ؒفرماتے ہیں:وَيُستَفَادُ مِنهُ أن حُرمَةَ المؤمِنِ بَعدَ مَوتِهِ بَاقِيَة كَمَا كَانَت فِي حَيَاتِهِ۔(فتح الباری 9/113)
یعنی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مؤمن کی حرمت موت کے بعد موت سے پہلے کی طرح باقی رہتی ہے۔

چند مسائل :
(1) حاملہ میت کے پیٹ میں بچہ حرکت کر رہاہواور بچہ چھ مہینے کا ہوگیا ہو تو جس بھی طریقے سے ہو بچہ نکالاجائے گا۔

(2) میت کا احترام اپنی جگہ باقی ہے صرف مصلحت کی بنا پر زندہ بچہ کے لئے پیٹ چاک کیا جائےگاجوکہ مثلہ میں یا میت کی حرمت کی پامالی میں داخل نہیں ہے۔

(3) ضرورت کى بناپر پوسٹ مارٹم کا بھی یہی حکم ہے ۔

(4)سمندری سفر میں اگر کوئی فوت ہوجائے اور قریبی ساحل یا کسی جزیرے تک رسائی سے پہلے اس میں تعفن کا خدشہ ہو تو اسے سمندر کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔ (المغنی:3/439)

(5) امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا زندگی میں مال نگل گیا اور وہ مر گیا ، پھر صاحب مال اس کا مطالبہ کرےتو اس کا پیٹ چاک کیا جائے گا اور مال واپس کیا جائے گا۔ ( الروضۃ)

(6) حاملہ عورت اگر اکسڈنٹ سے مرے، یا کوئی بھی مسلمان عورت حمل کے سبب مرے اہل علم نے انہیں شہیدہ میں شمار کیا ہے ۔ یہی مفہوم ہے اس حدیث کا :الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فی سَبِیلِ اللَّہِ الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ وَالْغَرِق ُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِیقِ شَہِیدٌ وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ وَالْمَرْاَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شہیدۃٌ(سنن ابو داؤد:3111)
ترجمہ : جابر بن عُتیک رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے عِلاوہ سات شہید ہیں ،مطعون شہید ہےاور ڈوبنے والا شہید ہےاور ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور اورپیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، اور جل کر مرنے والا شہید ہے، اورملبے کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے ، اورحمل کی حالت میں مرنے والی عورت شہیدہ ہے۔
٭ اس حدیث البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔

(7) اگریہودیہ یا نصرانیہ حاملہ عورت مرجائے تو نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے نہ ہی اہل کتاب کے بلکہ الگ سے دفن کیا جائے گا اور اس کی پیٹھ قبلہ جانب کردی جائے گی کیونکہ بچہ مسلمان ہے ۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

محترم مقبول بہت اچھی پوسٹ ھے ہو سکے تو اس پر اپنی علمی قوت سے مفید آراء و خلاصہ بھی پیش کریں کہ آپ کی نظر میں کیا بہتر ھے اور کیوں؟ جزاک اللہ! اس پر دوسرے فاضل دوست و بھائی بھی حصہ لے سکتے ہیں۔

والسلام
 

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
501
پوائنٹ
209
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
میں اس فورم میں ذاتی پوسٹ ہی کرتا ہوں ، اور اس میں میں نے بتلایا ہے "چاروں مسلک کی روشنی میں ابن حزم کی بات اقرب الی الصواب ہے ، میں اسی کو ترجیح دیتا ہوں۔" اوپر دیکھ سکتے ہیں ۔
ہاں اس موضوع پہ دیگر احباب کا تبصرہ بھی ہوناچاہئے تاکہ اس موضوع کی کماحقہ وضاحت ہوسکے ۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

جزاک اللہ خیر! آپکی نظر میں لمبائی میں چاک کرنے میں کیا حکمت ھے اگر مناسب سمجھیں تو اس پر بتائیں، جب عورت مر چکی ھے اور دائیں بائیں لمبائی میں یا اوپر نیچے چوڑائی میں کیا فرق پڑتا ھے۔

والسلام
 
Last edited:

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
501
پوائنٹ
209
میت کا آپریشن اہم مسئلہ ہے نہ کہ لمبائی یا چوڑائی میں آپریشن کرنا۔ میت کے لئے لمبائی یا چوڑائی کسی بھی طرح سے آپریشن کرنے میں مجھے کوئی خاص فرق نہیں نظر آتا ،ہوسکتا ہے اس بات کو ابن حزم ؒ نے کسی نظرئے کے تحت کہی ہو ۔ یہ بات شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے بھی لکھی ہے ۔

واللہ اعلم
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

محترم مقبول! اسپائلر میں آئیں۔

پہلے یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ یہ مسئلہ علمی ھے اور اس پر فرینڈلی بات ہو گی جس کا اس سے تعلق ھے۔

میت کا آپریشن اہم مسئلہ ہے نہ کہ لمبائی یا چوڑائی میں آپریشن کرنا۔ میت کے لئے لمبائی یا چوڑائی کسی بھی طرح سے آپریشن کرنے میں مجھے کوئی خاص فرق نہیں نظر آتا ،ہوسکتا ہے اس بات کو ابن حزم ؒ نے کسی نظرئے کے تحت کہی ہو ۔ یہ بات شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے بھی لکھی ہے ۔

واللہ اعلم
محترم مقبول یہاں تک تو آپ یہ بات مان چکے ہیں کہ میت کا آپریشن اہم مسئلہ ہے نہ کہ لمبائی یا چوڑائی میں آپریشن کرنا۔

٭ حنفیہ کا کہنا ہے کہ جب حاملہ عورت مر جائے اور بچہ ماں کے پیٹ میں حرکت کر رہا ہو تو بائیں سے پیٹ کو چاک کرنا جائز ہے تاکہ زندہ بچہ نکالا جا سکے ۔

٭ شافعیہ کے نزدیک بھی یہی حکم ہے ۔

ابن حزم نے بڑی اچھی بات کی کہ اگر حاملہ عورت مر جائے اور بچہ پیٹ میں حرکت کر رہا ہو اور حمل چھ مہینے کا ہو گیا ہو تو لمبائی میں ماں کا پیٹ چاک کیا جائے گا اور بچے کو نکالا جائے گا۔
حنفیہ، شافعیہ اور ابن حزم تینوں کا یہاں تک اتفاق ھے کہ بچہ حرکت کر رہا ہو تو پیٹ چاک کر کے بچہ نکالا جائے گا۔ اور آپکا بھی یہاں تک ان سے اتفاق ھے تو پھر ایسی کیا بات تھی جو آپکو ابن حزم کی بات بہت اچھی لگی؟

دو کی رائے ھے کہ "بائیں سے پیٹ چاک کرنا ھے" جبکہ یہ بھی لمبائی میں ہی چاک ہو گا مگر اس میں سمت ھے۔

ایک کی رائے ھے کہ "لمبائی میں پیٹ چاک کیا جائے گا" اس میں سمت نہیں تو یہ درمیانی حصہ بنتا ھے۔ مجھے اس پر اختلاف ھے کیونکہ ایسا ہونا بچہ کے لئے خطرناک ھے اس لئے شائد ایسا ہوتا نہیں، سمت جسے آپ اگنور کر رہے ہیں وہ بہت معنی خیز ھے۔

اس پر کوشش کروں گا کہ چھٹی والے دن مکمل رائے پیش کروں۔

والسلام
 
Top