• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم حجۃ الوداع

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حجۃ الوداع

دعوت و تبلیغ کا کام پورا ہو گیا۔ اور اللہ کی الوہیت کے اثبات، اس کے ماسوا کی الوہیت کی نفی اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی بنیاد پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر و تشکیل عمل میں آ گئی۔ اب گویا غیبی ہاتف آپ کے قلب و شعور کو یہ احساس دلا رہا تھا کہ دنیا میں آپ ﷺ کے قیام کا زمانہ اختتام کے قریب ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو ۱۰ھ میں یمن کا گورنر بنا کر روانہ فرمایا تو رخصت کرتے ہوئے منجملہ اور باتوں کے فرمایا: اے معاذ! غالباً تم مجھ سے میرے اس سال کے بعد نہ مل سکو گے۔ بلکہ غالباً میری اس مسجد اور میری اس قبر کے پاس سے گزرو گے۔ اور حضرت معاذؓ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کی جدائی کے غم سے رونے لگے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
درحقیقت اللہ چاہتا تھا کہ اپنے پیغمبر ﷺ کو اس دعوت کے ثمرات دکھلادے جس کی راہ میں آپ ﷺ نے بیس برس سے زیادہ عرصہ تک طرح طرح کی مشکلات اور مشقتیں برداشت کی تھیں۔ اور اس کی صورت یہ ہو کہ آپ ﷺ حج کے موقع پر اطرافِ مکہ میں قبائلِ عرب کے افراد و نمائندگان کے ساتھ جمع ہوں۔ پھر وہ آپ ﷺ سے دین کے احکام و شرائع حاصل کریں۔ اور آپ ﷺ ان سے یہ شہادت لیں کہ آپ ﷺ نے امانت ادا کر دی۔ پیغامِ رب کی تبلیغ فرما دی۔ اور امّت کی خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔ اس مَشیّتِ ایزدی کے مطابق نبی ﷺ نے جب اس تاریخی حجِ مبرور کے لیے اپنے ارادے کا اعلان فرمایا۔ تو مسلمانانِ عرب جوق در جوق پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہر ایک کی آرزو تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نقشِ پا کو اپنے لیے نشانِ راہ بنائے۔ اور آپ ﷺ کی اقتدا کرے۔ (یہ بات صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے۔ دیکھئے باب حجۃ النبی ﷺ ۱/۳۹۴) پھر سنیچر کے دن جبکہ ذی قعدہ میں چار دن باقی تھے رسول اللہ ﷺ نے کوچ کی تیاری فرمائی۔ (حافظ ابن حجر نے اس کی بہت عمدہ تحقیق کی ہے۔ اور بعض روایات میں جو یہ آیا ہے کہ ذیقعدہ کے پانچ دن باقی تھے، تب آپ روانہ ہوئے اس کی تصحیح بھی کی ہے۔ دیکھئے فتح الباری ۸/۱۰۴) بالوں میں کنگھی کی۔ تیل لگایا۔ تہبند پہنا، چادر اوڑھی، قربانی کے جانوروں کو قَلادَہ پہنایا۔ اور ظہر کے بعد کوچ فرمایا۔ اور عصر سے پہلے ذو الحلیفہ پہنچ گئے۔ وہاں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔ اور رات بھر خیمہ زن رہے۔ صبح ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: رات میرے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والے نے آ کر کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو۔ اور کہو: حج میں عمرہ ہے۔ (اسے بخاری نے حضرت عمرؓ سے روایت کیا ہے۔ ۱/۲۰۷)
پھر ظہر کی نماز سے پہلے آپ ﷺ نے اِحْرام کے لیے غسل فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آپ ﷺ کے جسمِ اطہر اور سر مبارک میں اپنے ہاتھ سے ذَرِیْرَہ اور مُشک آمیز خوشبو لگائی۔ خوشبو کی چمک آپ ﷺ کی مانگ اور داڑھی میں دکھائی پڑتی تھی۔ مگر آپ ﷺ نے یہ خوشبو دھوئی نہیں۔ بلکہ برقرار رکھی، پھر اپنا تہبند پہنا، چادر اوڑھی اور دو رکعت ظہر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد مصلے ہی پر حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھتے ہوئے صدائے لَبَّیک بلند کی۔ پھر باہر تشریف لائے۔ قَصْوَاء اُونٹنی پر سوار ہوئے۔ اور دوبارہ صدائے لبیک بلند کی۔ اس کے بعد اُونٹنی پر سوار کھلے میدان میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی لبَّیک پُکارا۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ ہفتہ بھر بعد جب آپ ﷺ سر شام مکہ کے قریب پہنچے تو ذی طویٰ میں ٹھہر گئے۔ وہیں رات گذاری اور فجر کی نماز پڑھ کر غسل فرمایا۔ پھر مکہ میں صبح دم داخل ہوئے۔ یہ اتوار ۴ ذی الحجہ ۱۰ھ کا دن تھا۔ راستے میں آٹھ راتیں گذری تھیں - اوسط رفتار سے اس مسافت کا یہی حساب بھی ہے - مسجد حرام پہنچ کر آپ ﷺ نے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ پھر صفا مروہ کے درمیان سعی کی، مگر احرام نہیں کھولا۔ کیونکہ آپ ﷺ نے حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا۔ اور اپنے ساتھ ہَدْی (قربانی کے جانور) لائے تھے۔ طواف وسَعْی سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے بالائی مکہ میں حجون کے پاس قیام فرمایا لیکن دوبارہ طواف حج کے سِوا کوئی اور طواف نہیں کیا۔
آپ ﷺ کے جو صحابہ کرام رضی عنہم اپنے ساتھ ہَدْی (قربانی کا جانور) نہیں لائے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اپنا احرام عمرہ میں تبدیل کر دیں۔ اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سَعْی کر کے پُوری طرح حلال ہو جائیں لیکن چونکہ آپ ﷺ خود حلال نہیں ہو رہے تھے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تردّد ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں اپنے معاملے کی وہ بات پہلے جان گیا ہوتا جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہَدْی نہ لاتا۔ اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سرِ اطاعت خَم کر دیا اور جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے۔
آٹھ ذی الحجہ - تَرویہ کے دن - آپ مِنی ٰتشریف لے گئے۔ اور وہاں ۹ ذی الحجہ کی صبح تک قیام فرمایا۔ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر (پانچ وقت) کی نمازیں وہیں پڑھیں۔ پھر اتنی دیر توقف فرمایا کہ سورج طلوع ہو گیا۔ اس کے بعد عرفہ کوچل پڑے۔ وہاں پہنچے تو وادی نِمرَہ میں قبہ تیار تھا۔ اسی میں نزول فرمایا۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ کے حکم سے قَصْواء پر کجاوہ کسا گیا۔ اور آپ ﷺ بطن وادی میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ ﷺ کے گرد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے درمیان ایک جامع خطبہ ارشاد فرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا:
لوگو! میری بات سن لو، کیونکہ میں نہیں جانتا غالباً اپنے اس سال کے بعد اس مقام پر تم سے کبھی نہ مل سکوں گا۔ (ابن ہشام ۲/۶۰۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے، جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کر دیے گئے۔ اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے - یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہی ایّام میں قبیلہ ہُذَیْل نے اسے قتل کر دیا اور جاہلیت کا سود ختم کر دیا گیا۔ اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، اب یہ سارا کا سارا سود ختم ہے۔
ہاں! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے۔ اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں گوارا نہیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن سخت مار نہ مارنا اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاؤ اور پہناؤ۔
اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہاہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑ ے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے اور وہ ہے اللہ کی کتاب۔ (صحیح مسلم باب حجۃ النبیﷺ ۱/۳۹۷)
لوگو! یاد رکھو! میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ لہٰذا اپنے رب کی عبادت کرنا۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنا۔ رمضان کے روزے رکھنا۔ خوشی خوشی اپنے مال کی زکوٰۃ دینا، اپنے پروردگار کے گھر کا حج کرنا اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا۔ ایسا کرو گے تو اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو گے۔ (معدن الاعمال حدیث نمبر ۱۱۰۸، ۱۱۰٩، ابن جریر، ابن عساکر، رحمۃ للعالمین ۱/۲۶۳)
اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا۔ اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔
یہ سن کر آپ ﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔ (صحیح مسلم ۱/ ۳۹۷)
آپ ﷺ کے ارشادات کو ربیعہ بن امیہ بن خلف اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ (ابن ہشام ۲/۶۰۵) جب آپ ﷺ خطبہ سے فارغ ہو چکے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (۵: ۳)
''آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمرؓ رونے لگے۔ نبی ﷺ نے دریافت کیا: کیوں روتے ہو؟ کہا کہ ہم لوگ اپنے دین کے تعلق سے زیادتی میں تھے لیکن اب جبکہ وہ مکمل ہو گیا ہے تو جو چیز مکمل ہو جاتی ہے گھٹنے لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے سچ کہا۔ (اسے ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: تفسیر ابن کثیر ۲/۱۵، اور الدرالمنثور ۲/۴۵۶)
خطبہ کے بعد حضرت بلالؓ نے اذان اور پھر اقامت کہی۔ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد حضرت بلالؓ نے پھر اقامت کہی اور آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد سوار ہو کر آپ ﷺ جائے وقوف پر تشریف لے گئے۔ اپنی اونٹنی قَصْواء کا شکم چٹانوں کی جانب کیا۔ اور حبل مشاۃ (پیدل چلنے والوں کی راہ میں واقع ریتیلے تودے) کو سامنے کیا۔ اور قبلہ رُ خ مسلسل (اسی حالت میں) وقوف فرمایا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔ تھوڑی زردی ختم ہوئی، پھر سورج کی ٹکیہ غائب ہو گئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت اسامہؓ کو پیچھے بٹھایا۔ اور وہاں سے روانہ ہو کر مُزْدَلْفہ تشریف لائے۔ مُزْدَلْفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامت سے پڑھیں۔ درمیان میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد آپ ﷺ لیٹ گئے۔ اور طلوع فجر تک لیٹے رہے۔ البتہ صبح نمودار ہوتے ہی اذان و اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد قَصْواء پر سوار ہو کر مَشْعَر حَرَام تشریف لائے۔ اور قبلہ رخ ہو کر اللہ سے دعا کی۔ اور اس کی تکبیر و تہلیل اور توحید کے کلمات کہے۔ یہاں اتنی دیر تک ٹھہرے رہے کہ خوب اجالا ہو گیا۔ اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے منیٰ کے لیے روانہ ہو گئے۔ اور اب کی بار حضرت فضل بن عباسؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ بَطنِ مُحسر میں پہنچے تو سواری کو ذرا تیزی سے دوڑایا۔ پھر جو درمیانی راستہ جمرۂ کبریٰ پر نکلتا تھا۔ اس سے چل کر جمرۂ کبریٰ پر پہنچے ... اس زمانے میں وہاں ایک درخت بھی تھا۔ اور جمرۂ کبریٰ اس درخت کی نسبت سے بھی معروف تھا۔ اس کے علاوہ جمرۂ کبریٰ کو جمرہ عقبہ اور جمرۂ اُوْلیٰ بھی کہتے ہیں ... پھر آپ ﷺ نے جمرۂ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے جاتے تھے۔ کنکریاں چھوٹی چھوٹی تھیں۔ جنہیں چٹکی میں لے کر چلایا جا سکتا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ کنکریاں بطن وادی میں کھڑے ہو کر ماری تھیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ قربان گاہ تشریف لے گئے۔ اور اپنے دست مبارک سے ۶۳ اُونٹ ذبح کیے۔ پھر حضرت علیؓ کو سونپ دیا۔ اور انہوں نے بقیہ ۳۷ اونٹ ذبح کیے۔ اس طرح سو اونٹ کی تعداد پوری ہو گئی۔ آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو بھی اپنی ہَدْی (قربانی) میں شریک فرما لیا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے حکم سے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے اور حضرت علیؓ نے اس گوشت میں سے کچھ تناول فرمایا، اور اس کا شوربا پیا۔
بعد ازاں رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر مکہ تشریف لے گئے۔ بیت اللہ کا طواف فرمایا - اسے طوافِ افاضہ کہتے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ہیں- اور مکہ ہی میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر (چاہ زمزم پر) بنو عبد المطلب کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلارہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بنو عبد المطلب تم لوگ پانی کھینچو۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ پانی پلانے کے اس کام میں لوگ تمہیں مغلوب کر دیں گے تو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ کھینچتا - یعنی اگر صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کو خود پانی کھینچتے ہوئے دیکھتے تو ہر صحابی خود پانی کھینچنے کی کوشش کرتا۔ اور اس طرح حجاج کو زمزم پلانے کا جو شرف بنو عبد المطلب کو حاصل تھا اس کا نظم ان کے قابو میں نہ رہ جاتا - چنانچہ بنو عبد المطلب نے آپ ﷺ کو ایک ڈول پانی دیا۔ اور آپ ﷺ نے اس میں سے حسبِ خواہش پیا۔ (مسلم عن جابر باب حجۃ النبی ﷺ ۱/۳۹۷ تا ۴۰۰)
آج یوم النحر تھا۔ یعنی ذی الحجہ کی دس تاریخ تھی۔ نبی ﷺ نے آج بھی دن چڑھے (چاشت کے وقت) ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ خطبہ کے وقت آپ ﷺ خچر پر سوار تھے۔ اور حضرت علیؓ آپ ﷺ کے ارشادات صحابہ کو سنا رہے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کچھ بیٹھے اور کچھ کھڑے تھے۔ (ابو داؤد: باب اَیّ وقت یخطب یوم النحر ۱/۲۷۰) آپ ﷺ نے آج کے خطبے میں بھی کل کی کئی باتیں دہرائیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو بکرہؓ کا یہ بیان مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کو خطبہ دیا۔ فرمایا:
''زمانہ گھوم پھر کر اپنی اسی دن کی ہیئت پر پہنچ گیا ہے جس دن اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے۔ جن میں سے چار مہینے حرام ہیں، تین پے در پے، یعنی ذی قعدہ ذی الحجہ اور محرم اور ایک رجب مُضَر جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے درمیان ہے۔''
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ مگر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تو یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا آپ ﷺ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ مگر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ یوم النحر (قربانی کا دن، یعنی دس ذی الحجہ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تو سنو کہ تمہارا مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے۔
اور تم لوگ بہت جلد اپنے پروردگار سے ملو گے۔ اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا، لہٰذا دیکھو!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ بتاؤ! کیا میں نے تبلیغ کر دی؟ صحابہ نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ۔ جو شخص موجود ہے وہ غیر موجود تک (میری باتیں) پہنچا دے۔ کیونکہ بعض وہ افراد جن تک (یہ باتیں) پہنچائی جائیں گی وہ بعض (موجودہ) سننے والے سے کہیں زیادہ ان باتوں کے دَر و بست کو سمجھ سکیں گے۔ (صحیح بخاری: باب الخطبہ ایام منیٰ ۱/۲۳۴)
ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا: یادر کھو! کوئی بھی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر جرم نہیں کرتا۔ (یعنی اس جرم کی پاداش میں کوئی اور نہیں بلکہ خود مجرم ہی پکڑا جائے گا) یاد رکھو! کوئی جرم کرنے والا اپنے بیٹے پر یا کوئی بیٹا اپنے باپ پر جرم نہیں کرتا۔ (یعنی باپ کے جرم میں بیٹے کو یا بیٹے کے جرم میں باپ کو نہیں پکڑا جائے گا) یاد رکھو! شیطان مایوس ہو چکا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی بھی اس کی پوجا کی جائے، لیکن اپنے جن اعمال کو تم لوگ حقیر سمجھتے ہو ان میں اس کی اطاعت کی جائے گی اور وہ اسی سے راضی ہو گا۔ (ترمذی ۲/۳۸، ۱۳۵، ابن ماجہ کتاب الحج، مشکوٰۃ ۱/۲۳۴)
اس کے بعد آپ ﷺ ایام تشریق (۱۱۔ ۱۲۔ ۱۳۔ ذی الحجہ کو) منیٰ میں مقیم رہے۔ اس دوران آپ ﷺ حج کے مناسک بھی ادا فرما رہے تھے، اور لوگوں کو شریعت کے احکام بھی سکھا رہے تھے۔ اللہ کا ذکر بھی فرما رہے تھے۔ سنت ابراہیمی کے سنن ہدی بھی قائم کر رہے تھے۔ اور شرک کے آثار و نشانات کا صفایا بھی فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ایام تشریق میں بھی ایک دن خطبہ دیا۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں بہ سند حسن مروی ہے کہ حضرت سراء بنت نبہانؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رؤس کے دن (یعنی ۱۲/ ذی الحجہ (عون المعبود ۲/۱۴۳) خطبہ دیا۔ اور فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے۔ (ابو داؤد باب ایّ یوم یخطب بمنی ۱/۲۶۹) آپ ﷺ کا آج کا خطبہ بھی کل (یوم النحر) کے خطبے جیسا تھا، اور یہ خطبہ سورہ نصر کے نزول کے بعد دیا گیا تھا۔
ایام تشریق کے خاتمے پر دوسرے یوم النفر یعنی ۱۳ ذی الحجہ کو نبی ﷺ نے منیٰ سے کوچ فرمایا۔ اور وادی اَبْطح کے خیف بنی کنانہ میں فروکش ہوئے۔ دن کا باقی ماندہ حصہ اور رات وہیں گذاری۔ اور ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں وہیں پڑھیں۔ البتہ عشاء کے بعد ایک نیند سو کر اٹھے پھر سوار ہو کر بیت اللہ تشریف لے گئے اور طوافِ وداع فرما آئے۔ اور اب تمام مناسکِ حج سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے سواری کا رُخ مدینہ منورہ کی راہ پر ڈال دیا۔ اس لیے نہیں کہ وہاں پہنچ کر راحت فرمائیں، بلکہ اس لیے کہ اب پھر اللہ کی خاطر اللہ کی راہ میں ایک نئی جد و جہد کا آغاز فرمائیں۔ (حجۃ الوداع کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو۔ صحیح بخاری کتاب المناسک ج ۱ و ج ۲/۶۳۱، صحیح مسلم باب حجۃ النبی ﷺ، فتح الباری ج ۳۔ شرح کتاب المناسک اور ج ۸/۱۰۳ تا ۱۱۰ ابن ہشام ۲/۶۰۱ تا ۶۰۵ زاد المعاد ۱/۱۹۶، ۲۱۸ تا ۲۴۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آخری فوجی مہم

رومن امپائر کی کبریائی کو گوارا نہ تھا کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کرے۔ اسی لیے اس کے قلمرو میں رہنے والا کوئی شخص اسلام کا حلقۂ بگوش ہو جاتا تو اس کے جان کی خیر نہ رہتی، جیسا کہ معان کے رومی گورنر حضرت فروہ بن عمرو جذامیؓ کے ساتھ پیش آچکا تھا۔
اس جرأت بے محابا اور اس غرور بے جا کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے صفر ۱۱ھ میں ایک بڑے لشکر کی تیاری شروع فرمائی اور حضرت اسامہ بن زید بن حارثہؓ کو اس کاسپہ سالار مقرر فرماتے ہوئے حکم دیا کہ بلقاء کا علاقہ اور داروم کی فلسطینی سر زمین سواروں کے ذریعہ روند آؤ۔ اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ رومیوں کو خوف زدہ کرتے ہوئے ان کی حدود پر واقع عرب قبائل کا اعتماد بحال کیا جائے۔ اور کسی کو یہ تصور کرنے کی گنجائش نہ دی جائے کہ کلیسا کے تشدد پر کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اپنی موت کو دعوت دی جا رہی ہے۔
اس موقع پر کچھ لوگوں نے سپہ سالار کی نو عمری کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔ اور اس مہم کے اندر شمولیت میں تاخیر کی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ان کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کر رہے ہو تو ان سے پہلے ان کے والد کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کر چکے ہو۔ حالانکہ وہ اللہ کی قسم! سپہ سالاری کے اہل تھے۔ اور میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھے۔ اور یہ بھی ان کے بعد میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہیں۔ (صحیح بخاری :باب بعث النبی ﷺ اُسامۃ ۲/۶۱۲)
بہرحال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت اسامہ ؓ کے گردا گرد جمع ہو کر ان کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ اور لشکر روانہ ہو کر مدینہ سے تین میل دور مقام جرف میں خیمہ زن بھی ہو گیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے متعلق تشویشناک خبروں کے سبب آگے نہ بڑھ سکا بلکہ اللہ کے فیصلے کے انتظار میں وہیں ٹھہرنے پر مجبور ہو گیا۔ اور اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ یہ لشکر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دور خلافت کی پہلی فوجی مہم قرار پائے۔ (ایضا صحیح بخاری، وابن ہشام ۲/۶۰۶، ۶۵۰)
****​
 
Top