ہدایت اللہ فارس
رکن
- شمولیت
- فروری 21، 2019
- پیغامات
- 61
- ری ایکشن اسکور
- 13
- پوائنٹ
- 56
بہت سارے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ حرف عطف واو اور معطوف کے درمیان فاصلہ رکھ دیتے ہیں
اسی تعلق سے یہ چند سطور آپ کی نظر کررہا ہوں کہ آیا دونوں کے بیچ فاصلہ درست ہے یا نہیں
پہلی چیز یہ یاد رہے کہ "حرف عطف واو" حروف معانی میں سے ہے
حروفِ معانی ان حروف کو کہتے ہیں جو جملے میں داخل ہوکر معنی میں اثر ڈالتے ہیں۔
جیسے: حروف جر، حروف نصب، حروف جزم وتوکید، حروف نداء وغیرہ ہیں
یہ سب حروف معانی ہیں۔
دوسری بات یہ یاد رہے کہ حروفِ معانی میں کچھ حروف ایسے ہیں جو ایک حرف ہجائی سے بنے ہوتے ہیں جنھیں بنفسہ اپنے ما بعد سے منفصل نہیں لکھا جاتا
مثال کے طور پر حرف عطف فاء ہے اسی طرح حرف جر باء، کاف اور لام ہیں، انھیں کبھی بھی اپنے ما بعد سے منفصل نہیں لکھا جاتا
بلکہ متصل لکھا جاتا ہے، کچھ اس طرح: فأنت، بالقلم، کالقمر، للأرض وغیرہ
نہ کہ اس طرح: ف أنت، ب القلم، ك القمر، ل الأرض وھکذا
جبکہ وہ حروفِ معانی جو ایک سے زائد حروف سے بنتے ہیں انھیں فاصلہ کے ساتھ مستقل لکھا جاتا ہے۔
جیسے: من، أن، بل، ھل، ثم، فی، علی وغیرہ
یعنی: من الأرض، فی السماء، یا رب وھکذا
الا یہ کہ ان حروف کا ما بعد "ضمائر نصب وجر، اور حروف ناسخ ہوں تو ایسی صورت میں متصل ہی لکھنا ہوگا
مثلا: فيك، إليك، عليك، إنك وغیرہ
اچھا! یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ واو عطف سے دھوکہ کیوں کھا جاتے ہیں؟
تو اس کی وجہ مختصر یہ ہے کہ واو عطف ایسا حرف ہے جو اگرچہ ایک حرف سے بنا ہے لیکن اسے کسی لفظ کے ساتھ بالکل متصل لکھنا ممکن نہیں ہوتا جس طرح فاء، باء ولام وغیرہ کے لیے ممکن ہے
اسی وجہ سے لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ واو عطف مستقل کلمہ ہے، لہذا اس کے اور معطوف کے درمیان فاصلہ رکھ دیتے ہیں!
جبکہ ایسا درست نہیں ہے، بلکہ واو عطف کو معطوف کے ساتھ متصل لکھنا چاہیے کیوں کہ یہ "واو" معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان واسطہ بنتا ہے، گویا یہ معطوف کو معطوف علیہ سے جوڑنے کا کام کرتا ہے، لہذا جو جوڑنے کا کام رہا ہو اسے اسی کے ساتھ ہونا چاہیے نہ کے اس سے الگ تھلگ۔
اللیل والنھار
اللیل و النھار
*نوٹ:* یہاں اردو کی بات نہیں کی گئی ہے کیوں کہ وہ موضوع بحث نہیں ہے۔
(ہدایت اللہ فارس)
اسی تعلق سے یہ چند سطور آپ کی نظر کررہا ہوں کہ آیا دونوں کے بیچ فاصلہ درست ہے یا نہیں
پہلی چیز یہ یاد رہے کہ "حرف عطف واو" حروف معانی میں سے ہے
حروفِ معانی ان حروف کو کہتے ہیں جو جملے میں داخل ہوکر معنی میں اثر ڈالتے ہیں۔
جیسے: حروف جر، حروف نصب، حروف جزم وتوکید، حروف نداء وغیرہ ہیں
یہ سب حروف معانی ہیں۔
دوسری بات یہ یاد رہے کہ حروفِ معانی میں کچھ حروف ایسے ہیں جو ایک حرف ہجائی سے بنے ہوتے ہیں جنھیں بنفسہ اپنے ما بعد سے منفصل نہیں لکھا جاتا
مثال کے طور پر حرف عطف فاء ہے اسی طرح حرف جر باء، کاف اور لام ہیں، انھیں کبھی بھی اپنے ما بعد سے منفصل نہیں لکھا جاتا
بلکہ متصل لکھا جاتا ہے، کچھ اس طرح: فأنت، بالقلم، کالقمر، للأرض وغیرہ
نہ کہ اس طرح: ف أنت، ب القلم، ك القمر، ل الأرض وھکذا
جبکہ وہ حروفِ معانی جو ایک سے زائد حروف سے بنتے ہیں انھیں فاصلہ کے ساتھ مستقل لکھا جاتا ہے۔
جیسے: من، أن، بل، ھل، ثم، فی، علی وغیرہ
یعنی: من الأرض، فی السماء، یا رب وھکذا
الا یہ کہ ان حروف کا ما بعد "ضمائر نصب وجر، اور حروف ناسخ ہوں تو ایسی صورت میں متصل ہی لکھنا ہوگا
مثلا: فيك، إليك، عليك، إنك وغیرہ
اچھا! یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگ واو عطف سے دھوکہ کیوں کھا جاتے ہیں؟
تو اس کی وجہ مختصر یہ ہے کہ واو عطف ایسا حرف ہے جو اگرچہ ایک حرف سے بنا ہے لیکن اسے کسی لفظ کے ساتھ بالکل متصل لکھنا ممکن نہیں ہوتا جس طرح فاء، باء ولام وغیرہ کے لیے ممکن ہے
اسی وجہ سے لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ واو عطف مستقل کلمہ ہے، لہذا اس کے اور معطوف کے درمیان فاصلہ رکھ دیتے ہیں!
جبکہ ایسا درست نہیں ہے، بلکہ واو عطف کو معطوف کے ساتھ متصل لکھنا چاہیے کیوں کہ یہ "واو" معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان واسطہ بنتا ہے، گویا یہ معطوف کو معطوف علیہ سے جوڑنے کا کام کرتا ہے، لہذا جو جوڑنے کا کام رہا ہو اسے اسی کے ساتھ ہونا چاہیے نہ کے اس سے الگ تھلگ۔
اللیل والنھار
اللیل و النھار
*نوٹ:* یہاں اردو کی بات نہیں کی گئی ہے کیوں کہ وہ موضوع بحث نہیں ہے۔
(ہدایت اللہ فارس)