• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حقيقت اجماع

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
جزاك الله شيخ صاحب
اجماع كى تعلق سى عبدالعلام صاحب كو فراهم كرده لنك مى آنجناب مفيد نكات زير بحث لائى هين
عموما سوره نساء آيت 115 اجماع كى حجيت مى سامنى لائي جاتى هئ. استدلال 4 طرح كياجاتا هئ. عبارة النص, اشارةالنص , دلالةالنص اور اقتضاءالنص سى
همين سمجهان كى غرض سى ان 4 اصطلاحات كى مختصر تشريح كرين اور ساته ساته ان اصطلاحات كى روشنى مى متذكره بالا آيت سى حجيت اجماع كيونكر ثابت نهي كى ؟ رهنمائ فرمايىن.
لغت سے معانی ومفاہیم کا اخذ یعنی نص کی عبارۃ ‘ اشارہ‘ اقتضاء‘ وغیرہ کو کیسے سمجھا جاتا ہے یہ اس کا محل نہیں کیونکہ موضوع صرف اجماع سے متعلق ہے ۔


اس آیت سے حجیت اجماع کیوں ثابت نہیں ہوتی اس بات کی وضاحت بھی میں نے وہیں پر کی ہوئی ہے ۔
میں نے لکھا ہے :
(وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۘ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَؕ وَسَآءَتْ مَصِیْراً)
اورجو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد ، رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو جدھر وہ پھرتا ہے ہم اُسے اُسی طرف پھیر دیتے ہیں اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ (جہنم) برا ٹھکانہ ہے۔( النسآء:۱۱۵)

یہاں سبیل مؤمنین سے موصوف اجماع مراد لے رہے ہیں جبکہ سبیل مؤمنین رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی موجود تھا اور اس وقت یہ نام نہاد اجماع یعنی کتاب وسنت کی کسی بھی نص سے مسئلہ استنباط کیے بغیر مجتہدین کا اجماع موجود نہ تھا ۔
یعنی یہ آیت کریمہ تو واضح کر رہی ہے کہ حجت وشریعت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہے کیونکہ اس دور کے مؤمنین صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ہی مسائل اخذ کرتے تھے ۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ سبیل مؤمنین اجماع نہیں بلکہ کتاب وسنت سے استنباط واجتہاد ہے !
اور موصوف نے "سبیل المؤمنین" کا معنى "اجماع" ثابت کرنے کے لیے ایسے قیل وقال کا سہارا لیا ہے جو خود حجت نہیں ہیں ۔
جبکہ اسی لفظ کا معنى "رجوع إلى الکتاب والسنہ" اسی آیت کی دلالت میں موجود ہے ۔
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
واضح ہو کہ صحا بہ کرام مسمانون کے زکوہ نہ دینے پر ، انکے خلاف جھاد پر خود بھی یقینی نہ تھے۔ جیسا کہ صحیح بخاری مین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی گفتگو سے ثابت ہوتا ہے -(دیکھیے حدیث نمبر ١٣٩٩)۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا اجماع قران کریم اور حدیث کے معنی پر تھا۔ یعنی مسلمانون کے زکوہ ادا نہ کرنے پر جھاد ہوسکتا ہے۔ یہی صحابہ کا اجماع تھا- صحابہ کرام کا قرآن کریم کی کسی آیت یا حدیث کے مطلب یا معنی پر اتفاق ہوجاے یعنی اجماع ہوجاے تو اسکی مخالفت درست نہین ہے ۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ کسی صحابی کی دلیل کی بنیاد پر یعنی قرآن و حدیث کی بنیاد پر مخالفت کی جا سکتی ہے - مگر جس مسلہ مین صحابہ متفق ہون ،انکی مخالفت دلیل کی بنییاد پر بھی نہین کی جا سکتی- کیونکہ صحا بہ ہی حق پر ہین ۔ معلوم ہوا کہ اجماع صحابہ حجت ہے- دوسری بات یہ کہ قرآن کریم کیلیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ رسم عثمانی کے مطابق ہو۔ رسم عثمانی پر صحابہ کا اجماع کرنا اور اختلافی قراءتون کو ختم کرنا ، اور قرآن کو مصاحف عثمانی مین محصور سمجھنا صحابہ کے ساتھ خاص ہے۔ کیو نکہ قرآن کو مصف عثمانی مین محصور سمجھنا ، اسکی کوی نص نہین ہے بلکہ یہ اجماع صحابہ سے ثابت ہے - واللہ اعلم والسلام
یہ بات درست ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی لیکن بعد میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سمجھانے سے سمجھ آگئی ‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ‘ کیونکہ ہر بات ہر وقت ہر کسی کو سمجھ نہیں آیا کرتی ۔ لیکن بہر حال سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ان سے اتفاق ایک دلیل یعنی کتاب وسنت کی بناء پر تھا ۔
اور جس چیز پر کتاب وسنت سے دلیل موجود ہو وہاں کسی قسم کے اجماع کی ضرورت نہیں رہتی کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کے بارہ صحابہ کرام کا اجماع نہیں تھا لیکن پھر بھی یہ عمل درست ہے !

رہی بات کہ مصحف عثمانی میں قرآن کو محصور سمجھنا صحابہ کا اجماع تو یہ دعوى بالکل باطل ہے ۔ کیونکہ صحابہ نے مصحف عثمانی میں قرآن کو محصور نہیں سمجھا بلکہ باقی تمام تر قراءات کو برحق مانا ہے اور صحابہ وتابعین وتبع تابعین قراءت حفص میں موجود آیات قرآنیہ کی دیگر قراءات کی مدد سے تفسیر و توضیح کرتے رہے ہیں ۔ اسکی مثالیں صحیح بخاری کتاب التفسیر میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
Mohtaram aap ne lan tajtameo ummaty se istidlal karte huwe ye bat kahi ke is se maalum hota hai ke ijmaa hoga hi nahi. Hala ke is ke baad alazzalalah bhi to hai ke gumrahi par ijmaa nahi hoga. Ab kisi ijmaai masaale ki mukhalefat kya is bat ki dalil nahi ke mukhalefat karne wala use ijmaa alazzalalah qarar de raha hai.
نہیں کسی بھی اجماعی مسئلہ(یاد رہے کہ آج تک نام نہاد اجماع ہوا ہی نہیں ہے ) کی دلیل کی بنیاد پر مخالفت اسے اجماع على الضلالہ قرار نہیں دیتی ہاں اجماع على الخطأ قرار دیتی ہے !
جیسا کہ بدر کے قیدیوں کے بارہ میں ہوا !!!
 
شمولیت
اگست 08، 2012
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
519
پوائنٹ
57
واضح ہو کہ صحابہ کرام کا اجماع ، زکوہ کے مسئلے پر قران وحدیث کے مطلب و معنی پر تھا- اس مسئلہ مین قرآن کریم اور حدیث کے معنی کو یقینی بنانے والی چیز صحابہ کا اجماع ہے- جسکا خلاف درست نہین ہے۔ شرعی معنی کو یقینی بنانا ہی اجماع صحابہ کی دلیل ہے -
علماء نے قرآن کےلے رسم عثمانی کی شرط بیان کی ہے ۔ ایسی قراءت جو قرآن ہو اور رسم عثمانی کے موافق نہ ہو، بیان کیجئے؟؟
صحابہ وتابعین کی تفیسر اگر شاذ قراءت سے ہے تو علماء نے اسے درست کہا ہے ۔ مگر شاذ قراءت ،قرآن نہین ہوتی-
صحابہ کرام کے اجماع کی چند مثالین، جنکی بنیاد نص نہین ہے ۔
١- حضرت ابوبکر و عمر و عثمان کی خلافت پراجماع -
٢- حضرت عمر کا تین طلاق کو نافذ کرنا-
٣- صحابہ کا جمعہ کی دوسری آذان پر اجماع-
واللہ اعلم
والسلام
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
مانعین زکاۃ کے خلاف قتال روا رکھنا نص قرآنی میں مذکور ہے " فإن تابوا وأقاموا الصلاۃ وآتوا الزکاۃ فخلوا سبیلھم" لہذا اسے اجماع قرار دینا اجماع کی تعریف کے خلاف ہے ۔
آپ روایت ورش والا مصحف اٹھالیں ‘ جوکہ روایت نافع سے نہایت قریب تر ہے لیکن اسکی رسم ‘ نقاط وغیرہ وغیرہ کا اختلاف نظر آجائے گا ۔
خبردار ! قراء جن روایات کو عموما شاذ کہتے ہیں ان میں سے بہت سی شاذ نہیں ہوتیں ! ‘ ہاں اصول محدثین کے مطابق جو قراءت شاذ ہوگی وہ قرآن قرار نہیں پائے گی ۔ فافہم !
ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تو سنت نبویہ سے بہت سے دلائل موجود ہیں ۔ اور عمر وعثمان وحیدر رضی اللہ عنہم کی خلافت پر مجتمع ہونا بھی حدیث میں مذکور حکم کی بناء پر ہے ۔
تین طلاق کو نافذ کرنے پر اجماع نہیں ہوا ۔ اور اگر فرض محال مان بھی لیں تو بھی حجت نہیں کیونکہ سنت نبویہ کے خلاف ہے ۔
جمعہ کی تیسری آذان پر بھی اجماع نہیں ہوا ‘ بلکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تو اسے بدعت کہتے تھے !!!
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,550
پوائنٹ
641
شمولیت
اگست 08، 2012
پیغامات
115
ری ایکشن اسکور
519
پوائنٹ
57
واضح ہو کہ علماء کے نزدیک " نص" کا مطلب ہے ، ایسی آیت یا حدیث جسکا مطلب ومعنی بالکل واضح ہو، اور اس آیت یا حدیث کا کؤی اور معنی کرنا نا ممکن ہو ، جیسے روزہ کی فرضیت یا جیسے اسلام کے پانچ ارکان - یہی وجہ ہے کہ جہان "نص" موجود ہو وہان اجتھاد نہین ہوتا - اور جہان اجتہاد ہو ، وہان لازما نص موجود نہ ہوگی۔

جس آیت سے ، زکوہ کے مسئلہ مین مسمانون کے خلاف جہاد کی دلیل لی جاتی ہے (سورہ توبہ،آیت#٥) صحابہ کے نزدیک اسکا مطلب واضح نہ تھا ۔ اس کی دلیل حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی گفتگو ہے (صحیح بخاری،حدیث#١٣٩٩) ۔
معلوم ہوا کہ جس آیت سے مسمانون کے خلاف جہاد کی دلیل لی جاتی ہے ، اسے " نص" کہنا محل نظر ہے - کیونکہ اس مسئلہ مین صحابہ نے اجتہاد کیا - اور اجتہاد وہین ہوتا ہے ، جہان " نص" موجود نہ ہو۔
معلوم ہوا کہ یہ صحابہ کا اجتہاد تھا- اور اسی اجتہاد پر انھون نے اجماع کیا- لہذا محترم رفیق طاھر کا اسے اجماع کی تعریف کے خلاف کہنا ،درست نہین ہے۔
روایت حفص اور روایت ورش ، دونون متواتر اور مشہور قراءآت ہین - اور دونون رسم عثمانی کے مطابق ہین- کوی بھی قراءت جسکا رسم ، حضرت عثمان کے ٧ مصحفون کے مطابق ہو ، اسے رسم عثمانی مین شامل سمجھا جاے گا۔ نقاط رسم عثمانی مین شامل نہین ہین۔
علم قراءت مین شاذ کی تعریف ، علم حدیث کی شاذ سے مختلف ہے- علم قراءت مین شاذ مین مندرجہ ذیل شرطون کی کمی ہوتی ہے ۔
١۔ سندا ثابت ہونا۔
٢۔ رسم عثمانی کے مطابق ہونا-
٣۔ لغت عرب کے موافق ہونا۔
حضرت ابوبکر کی خلافت پر کوی نص موجود نہین ہے- اسکی دلیل حضرت ابوبکر کو خلیفہ منتخب کرنے سے پہلے صحابہ کا اختلاف ہے ۔ حتی کے حضرت عباس نے حضرت علی سے بیعت کا بھی کہا- مگر حضرت علی نے منع فرما دیا-(فتح الباری)
اسی طرح حضرت عمر کا خلیفہ کلیے ٦ رکنی کمیٹی بنانا ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیفہ کی حدیث مین کوی صراحت نہ تھی-
طلاق ثلاثہ کے نفاذ کو سنت نبویہ کے خلاف کہنا ، خود خلاف سنت ہے- کیونکہ اللہ تعالی نے صحابہ کے ایمان کو معیار بنایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کی اقتداء کا حکم دیا ہے-
حضرت ابن عمر کا جمعہ کی دوسری آذان کو بدعت کہنا ،کچھ حیثیت نہین رکھتا- کیونکہ جس طرف خلفاءراشدین اور صحابہ ہون، وہان کسی ایک صحابی کی مخالفت کچھ اثر نہین رکھتی-
اور اس مخالفت سے اجماع صحابہ پر بھی کوی اثر نہین پڑتا - اسکی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس "معوذتین" کو اپنے مصحف مین لکھا نہ کرتے تھے-( تفسیر ابن کثیر)
جبکہ خلفاء راشدین اور باقی تمام صحابہ " معوذتین " کو مصحف مین لکھا کرتے تھے -
معلوم ہوا کہ کسی ایک صحابی کی مخالفت ، اجماع صحا بہ کو متاثر نہین کرتی ہے -
واللہ اعلم
والسلام
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,403
پوائنٹ
562
ارشادِ نبوی ہے:
"إِنَّ اللَّهَ لَايَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْقَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍﷺ عَلَى ضَلَالَةٍ وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ"۔
(ترمذی، كِتَاب الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ ، بَاب مَا جَاءَ فِي لُزُومِ الْجَمَاعَةِ، حدیث نمبر:۲۰۹۳، شاملہ، موقع الإسلام)

میری امت کسی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی یاآپﷺ نے فرمایا کہ اللہ میری امت کو کسی گمراہی پر متفق نہیں کرےگا (بلکہ اتفاق واجتماعیت کی وجہ سے اللہ کی نصرت وتائید آتی رہے گی)۔

اجماع کے حق میں عموماً اس حدیث کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی تبصرہ؟
 
Top