• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حواب کے کتوں والی روایت کی تحقیق

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,985
ری ایکشن اسکور
1,535
پوائنٹ
304
بالکل نظر آئی تھی تبھی انہوں نے واپس جانا چاہا اور اپنے اس اقدام پر زندگی بھر نادم رہی زیاد تفصیل سی پڑھنا ہے تو سلسلہ الصحیحہ البانی رقم ٤٧٤ پڑھ لیں

أيتكن تنبح عليها كلاب الحوأب " .

قال الألباني في "السلسلة الصحيحة" 1 / 767 :

أخرجه أحمد ( 6 / 52 ) عن يحيى و هو ابن سعيد , و ( 6 / 97 ) عن شعبة ,
و أبو إسحاق الحربي في " غريب الحديث " ( 5 / 78 / 1 ) عن عبدة , و ابن حبان
في " صحيحه " ( 1831 - موارد ) عن وكيع و علي بن مسهر و ابن عدي في " الكامل "
( ق 223 / 2 ) عن ابن فضيل , و الحاكم ( 3 / 120 ) عن يعلى بن عبيد , كلهم عن
إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم أن # عائشة # لما أتت على الحوأب سمعت
نباح الكلاب , فقالت :
" ما أظنني إلا راجعة , إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا : ( فذكره )
.فقال لها الزبير : ترجعين عسى الله عز و جل أن يصلح بك بين الناس " .

هذا لفظ شعبة . و مثله لفظ يعلى بن عبيد .
و لفظ يحيى قال : " لما أقبلت عائشة بلغت مياه بني عامر ليلا نبحت الكلاب ,
قالت : أي ماء هذا ? قالوا : ماء الحوأب , قالت : ما أظنني إلا أني راجعة ,
فقال بعض من كان معها , بل تقدمين فيراك المسلمون فيصلح الله ذات بينهم ,
قالت : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها ذات يوم :
كيف بإحداكن تنبح

.

و العقل يقطع بأنه لا مناص من القول بتخطئة إحدى الطائفتين المتقاتلتين اللتين
وقع فيهما مئات القتلى و لا شك أن عائشة رضي الله عنها المخطئة لأسباب كثيرة
و أدلة واضحة , و منها ندمها على خروجها , و ذلك هو اللائق بفضلها و كمالها ,
و ذلك مما يدل على أن خطأها من الخطأ المغفور بل المأجور .

قال الإمام الزيلعي في " نصب الراية " ( 4 / 69 - 70 ) :
" و قد أظهرت عائشة الندم , كما أخرجه ابن عبد البر في " كتاب الإستيعاب "
عن ابن أبي عتيق و هو عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق قال :
قالت عائشة لابن عمر : يا أبا عبد الرحمن ما منعك أن تنهاني عن مسيري ? قال :
رأيت رجلا غلب عليك - يعني ابن الزبير - فقالت : أما و الله لو نهيتني ما خرجت

اس تفصیل سے معلوم ہوا اماں عائشہ رضی الله عنہ اپنے اس فعل پر نادم تھی کے خلیفہ کے خلاف کیوں ہوئی .
حواب کے کتوں والی روایت جھوٹی ہے اور ام المومنین عائشہ رضی الله عنہ پر تبرّا ہے-
الله ہمیں صحابہ و صحابیات کی ناموس کی حفاظت کرنے والا بنا اور اہل بیعت کے غلو سے بچا (آمین)-

البانی کتاب "سلسلة الأحاديث الصحيحة" میں اس روایت کو صحیح کہتے ہیں -لیکن یہ افک ہے عائشہ رضی الله عنہما پر-

لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرً*ا وَقَالُوا هَـٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ
جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا - اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے - (سورة النور:١٢)

اس کی سند میں قيس بن ابی حازم ہے
الذھبی تلخیص میں اس پر سکوت کرتے ہیں - الذھبی سير اعلام النبلاء میں قيس بن ابی حازم کے ترجمے میں لکھتے ہیں کہ امام یحیی بن سعید اس روایت کو منکر کہتے ہیں -

علي بن المديني أن يحيى بن سعيد قال له : قيس بن أبي حازم منكر الحديث ، قال : ثم ذكر له يحيى أحاديث مناكير ، منها حديث كلاب الحوأب

علی ابن المدينى ، يحيى بن سعيد سے نقل کرتے ہیں کہ قیس منکر الحدیث ہے پھر انہوں نے اسکی الحواب کے کتوں والی روایت بیان کی - (سير اعلام النبلاء: بقية الطبقة الأولى من كبراء التابعين: قيس بن أبي حازم)

کتاب "من تكلم فيه الدارقطني في كتاب السنن من الضعفاء والمتروكين والمجهولين" از ابن زريق (المتوفى: 803هـ) کے مطابق الدارقطنی اس کو "ليس بقوي" قوی نہیں کہتے ہیں
ليس بقوي. قاله الدارقطني - (جلد ٣ ، صفحہ ١١٣ ، رقم ٣٢٧ ، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر)

تاریخ بغداد از الخطيب البغدادی (المتوفى: 463هـ) کے مطابق:
وقد كان نزل الكوفة وحضر حرب الخوارج بالنهروان مع علي بْن أبي طالب
قیس کوفہ گیا اور علی رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ خوارج سے قتال بھی کیا - (جلد ١٢ ، صفحہ ٤٤٨ ، دار الكتب العلمية - بيروت)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ موضوع یہاں سے الگ کیا گیا ہے ۔ انتظامیہ
 
Last edited by a moderator:

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
حواب کے کتوں والی روایت جھوٹی ہے اور ام المومنین عائشہ رضی الله عنہ پر تبرّا ہے-
الله ہمیں صحابہ و صحابیات کی ناموس کی حفاظت کرنے والا بنا اور اہل بیعت کے غلو سے بچا (آمین)-

البانی کتاب "سلسلة الأحاديث الصحيحة" میں اس روایت کو صحیح کہتے ہیں -لیکن یہ افک ہے عائشہ رضی الله عنہما پر-

لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرً*ا وَقَالُوا هَـٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ
جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا - اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے - (سورة النور:١٢)

اس کی سند میں قيس بن ابی حازم ہے
الذھبی تلخیص میں اس پر سکوت کرتے ہیں - الذھبی سير اعلام النبلاء میں قيس بن ابی حازم کے ترجمے میں لکھتے ہیں کہ امام یحیی بن سعید اس روایت کو منکر کہتے ہیں -

علي بن المديني أن يحيى بن سعيد قال له : قيس بن أبي حازم منكر الحديث ، قال : ثم ذكر له يحيى أحاديث مناكير ، منها حديث كلاب الحوأب

علی ابن المدينى ، يحيى بن سعيد سے نقل کرتے ہیں کہ قیس منکر الحدیث ہے پھر انہوں نے اسکی الحواب کے کتوں والی روایت بیان کی - (سير اعلام النبلاء: بقية الطبقة الأولى من كبراء التابعين: قيس بن أبي حازم)

کتاب "من تكلم فيه الدارقطني في كتاب السنن من الضعفاء والمتروكين والمجهولين" از ابن زريق (المتوفى: 803هـ) کے مطابق الدارقطنی اس کو "ليس بقوي" قوی نہیں کہتے ہیں
ليس بقوي. قاله الدارقطني - (جلد ٣ ، صفحہ ١١٣ ، رقم ٣٢٧ ، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر)

تاریخ بغداد از الخطيب البغدادی (المتوفى: 463هـ) کے مطابق:
وقد كان نزل الكوفة وحضر حرب الخوارج بالنهروان مع علي بْن أبي طالب
قیس کوفہ گیا اور علی رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ خوارج سے قتال بھی کیا - (جلد ١٢ ، صفحہ ٤٤٨ ، دار الكتب العلمية - بيروت)

[FONT=simplified arabic, serif]محترم ،[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]سب سے پہلے تو یہ عرض کردوں کہ قیس بن ابی حازم پر یہ جرح منفرد ہے اس سے جمہور نے احتجاج کیا ہے اور اس کی منفرد روایت کا بھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت کی ہے اس میں اختلاف ہے بہرحال یہ راوی ثقه ہے اور اس پر یہ جرح مردود ہے چانچہ حافظ ابن حجر نے اس کو تقریب میں ثقه کہا ہے اور امام ذہبی کے حوالے سے جو اپ نے یحییٰ بن سعید کا قول نقل کیا ہے اس کی امام ذہبی کے نزدیک کیا حثیت ہے یہ بھی پڑھ لیں دونوں اسکین لگ رہا ہوں [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]آخری بات ان روایات کی ہی بنیاد پر اہل علم کا اجماع ہے کہ علی رضی الله عنہ اپنی تمام جنگوں میں حق پر تھے جمل کے بارے میں یہ قول ہے کہ وہ خطا اجتہادی پر تھے کیوں کہ ان کا عین جنگ سے واپس ہونا کہ جب ان کو اپنی اس خطا کا احساس ہو گیا ثابت ہے مگر جنگ صفین کے بارے میں دو رائے ہے ایک یہ ان کی اجتہاد خطا تھی دوسری رائے یہ ہے کہ باطل پر اصرار تھا [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]اس کے لئے اپ جنگ صفین پر میری یہ پوسٹ دیکھ سکتے ہیں الله سب کو ہدایت دے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]
qes bn hazim.png
[/FONT]

[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]
qes bn hazim(zahbi).png
[/FONT]

qes bn hazim(zahbi 1).png

[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]http://forum.mohaddis.com/conversations/حدیث-ویح-عمار-تقتلہ-الفئۃ-الباغیۃ-کا-مصداق-کون.6499/[/FONT]
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,985
ری ایکشن اسکور
1,535
پوائنٹ
304
[FONT=simplified arabic, serif]محترم ،[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]سب سے پہلے تو یہ عرض کردوں کہ قیس بن ابی حازم پر یہ جرح منفرد ہے اس سے جمہور نے احتجاج کیا ہے اور اس کی منفرد روایت کا بھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت کی ہے اس میں اختلاف ہے بہرحال یہ راوی ثقه ہے اور اس پر یہ جرح مردود ہے چانچہ حافظ ابن حجر نے اس کو تقریب میں ثقه کہا ہے اور امام ذہبی کے حوالے سے جو اپ نے یحییٰ بن سعید کا قول نقل کیا ہے اس کی امام ذہبی کے نزدیک کیا حثیت ہے یہ بھی پڑھ لیں دونوں اسکین لگ رہا ہوں [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]آخری بات ان روایات کی ہی بنیاد پر اہل علم کا اجماع ہے کہ علی رضی الله عنہ اپنی تمام جنگوں میں حق پر تھے جمل کے بارے میں یہ قول ہے کہ وہ خطا اجتہادی پر تھے کیوں کہ ان کا عین جنگ سے واپس ہونا کہ جب ان کو اپنی اس خطا کا احساس ہو گیا ثابت ہے مگر جنگ صفین کے بارے میں دو رائے ہے ایک یہ ان کی اجتہاد خطا تھی دوسری رائے یہ ہے کہ باطل پر اصرار تھا [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]اس کے لئے اپ جنگ صفین پر میری یہ پوسٹ دیکھ سکتے ہیں الله سب کو ہدایت دے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]17876 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں[/FONT]

[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]17878 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں [/FONT]

17877 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
[FONT=simplified arabic, serif][/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]http://forum.mohaddis.com/conversations/حدیث-ویح-عمار-تقتلہ-الفئۃ-الباغیۃ-کا-مصداق-کون.6499/[/FONT]
آپ نے ابن حجر کا حوالہ دیا ہے جب کہ ابن حجر رحم الله اس روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں :

قال ابن المدینی قال لی یحیی بن سعید: قیس بن ابی حازم منکر الحدیث ثم ذکر لہ یحیی احادیث مناکیر منہا حدیث کلاب الحوآب.

( تہذیب التہذیب ج8ص388 تحت قیس بن ابی حازم )-

محقق مولانا محمد نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس واقعہ کی عام روایات عموما عند المحدثین سقیم پائی جاتی ہیں اور بیشتر علماء کےنزدیک اس واقعہ کی روایت منکر و مجروح ہیں۔
( سیرت سید علی المرتضی ص241)-

مزید یہ کہ درایت کی رو سے بھی یہ روایت سخت جھوٹی ہے اور ام المومنین عائشہ رضی الله عنھما پر تبرّا ہے -

حواب کے مقام پر موجود کتوں کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہ ہیں اور یہ حضرت علی رضی الله عنہ سے قصاص کا مطالبہ کرنے بصرہ کی طرح عازم سفر ہیں؟؟ -جن پر کتے بھونکتے ہیں کیا وہ اجتہادی غلطی پر ہوتے ہیں ؟؟ اس کے برعکس نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم نے تو ان توہمات میں پڑنے سے سختی سے منع فرمایا ہے- جیسے الو کا بولنا یا کالی جیز کا سامنے سے گزرنا اور ان پر نحوست یا کام غلط ہونےکا عقیدہ وغیرہ- تو کیا نبی کریم اپنی ازواج سے اس قسم کی بات کہہ سکتے ہیں کہ-" اس کا کیا حال ہوگا جس پر حوآب کے کتے بھونکیں گے اور وہ غلطی پر ہو گی ؟؟"۔

باقی جنگ جمل و صفین کی تاریخی پس منظر اور اس کی وجوہات پر تبصرے کے لئے ابھی مرے پاس ٹائم نہیں ہے- اس پر بعد میں بات ہو گی -
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
آپ نے ابن حجر کا حوالہ دیا ہے جب کہ ابن حجر رحم الله اس روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں :

قال ابن المدینی قال لی یحیی بن سعید: قیس بن ابی حازم منکر الحدیث ثم ذکر لہ یحیی احادیث مناکیر منہا حدیث کلاب الحوآب.

( تہذیب التہذیب ج8ص388 تحت قیس بن ابی حازم )-

محقق مولانا محمد نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس واقعہ کی عام روایات عموما عند المحدثین سقیم پائی جاتی ہیں اور بیشتر علماء کےنزدیک اس واقعہ کی روایت منکر و مجروح ہیں۔
( سیرت سید علی المرتضی ص241)-

مزید یہ کہ درایت کی رو سے بھی یہ روایت سخت جھوٹی ہے اور ام المومنین عائشہ رضی الله عنھما پر تبرّا ہے -

حواب کے مقام پر موجود کتوں کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہ ہیں اور یہ حضرت علی رضی الله عنہ سے قصاص کا مطالبہ کرنے بصرہ کی طرح عازم سفر ہیں؟؟ -جن پر کتے بھونکتے ہیں کیا وہ اجتہادی غلطی پر ہوتے ہیں ؟؟ اس کے برعکس نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم نے تو ان توہمات میں پڑنے سے سختی سے منع فرمایا ہے- جیسے الو کا بولنا یا کالی جیز کا سامنے سے گزرنا اور ان پر نحوست یا کام غلط ہونےکا عقیدہ وغیرہ- تو کیا نبی کریم اپنی ازواج سے اس قسم کی بات کہہ سکتے ہیں کہ-" اس کا کیا حال ہوگا جس پر حوآب کے کتے بھونکیں گے اور وہ غلطی پر ہو گی ؟؟"۔

باقی جنگ جمل و صفین کی تاریخی پس منظر اور اس کی وجوہات پر تبصرے کے لئے ابھی مرے پاس ٹائم نہیں ہے- اس پر بعد میں بات ہو گی -

[FONT=simplified arabic, serif]محترم ،[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]لکھا تو اس کو امام ذہبی نے بھی ہے مگر اس پر تبصرہ کیا کیا ہےکہ ایسا کچھ نہی کے اس کی منفرد قبول نہ کی جائے یہ بھی میزان الاعتدال کے اسکین میں پڑھ لیں کہ اس پر اجماع بتایا ہے کے اس راوی سے حجت لی گئی ہے اور جمہور کے قول کے اگے ایک آدھ جرح کی کوئی حثیت نہیں ہوتی ہے اور یہ جرح جو اپ کر رہے ہیں اس پر البانی صاحب کی بھی نظر تھی اور انہوں نے نقل کی ہے کے ٥ بڑے محدثین نے اس کو صحیح کہا ہے [/FONT]

قلت : و قد تأول الحافظ في " التهذيب " قول يحيى بن سعيد و هو القطان :
" منكر الحديث " بأن مراده الفرد المطلق .

قلت : فإن صح هذا التأويل فيه , و إلا فهو مردود لأنه جرح غير مفسر , لاسيما
و هو معارض لإطباق الجميع على توثيقه و الإحتجاج به , و في مقدمتهم صاحبه
إسماعيل بن أبي خالد , فقد وصفه بأنه ثبت كما تقدم و لا يضره وصفه إياه بأنه
خرف , لأن الظاهر أنه لم يحدث في هذه الحالة , و لذلك احتجوا به مطلقا , و لئن
كان حدث فيها , فإسماعيل أعرف الناس به , فلا يروي عنه و الحالة هذه , و على
هذا فالحديث من أصح الأحاديث , و لذلك تتابع الأئمة على تصحيحه قديما و حديثا .

الأول : ابن حبان فقد أخرجه في صحيحه كما سبق .

الثاني : الحاكم بإخراجه إياه في " المستدرك " كما تقدم و لم يقع في المطبوع
منه التصريح بالتصحيح منه , و لا من الذهبي , فالظاهر أنه سقط من الطابع
أو الناسخ , فقد نقل الحافظ في " الفتح " ( 13 / 45 ) عن الحاكم أنه صححه ,
و هو اللائق به لوضوح صحته .

الثالث : الذهبي فقد قال في ترجمة السيدة عائشة من كتابه العظيم " سير النبلاء
" ( ص 60 بتعليق الأستاذ الأفغاني ) :
" هذا حديث صحيح الإسناد , و لم يخرجوه " .

الرابع : الحافظ ابن كثير , فقال في " البداية " بعد أن عزاه كالذهبي لأحمد في
" المسند " : " و هذا إسناد على شرط الشيخين , و لم يخرجوه " .

الخامس : الحافظ ابن حجر فقد قال في " الفتح " بعد أن عزاه لأحمد و أبي يعلى
و البزار : " و صححه ابن حبان و الحاكم , و سنده على شرط الصحيح " .

فهؤلاء خمسة من كبار أئمة الحديث صرحوا بصحة هذا الحديث , و ذلك ما يدل عليه
النقد العلمي الحديثي كما سبق تحقيقه , و لا أعلم أحدا خالفهم ممن يعتد بعلمهم
و معرفتهم في هذا الميدان سوى يحيى بن سعيد القطان في كلمته المتقدمة , و قد
عرفت جواب الحافظين الذهبي و العسقلاني عليه , فلا نعيده .

[FONT=simplified arabic, serif]اس کو پڑھ لیں اس سے اپ کو تشفی ہو جائے گی کہ یہ روایت صحیح ہے اور جو اپ نے لکھا کہ کتے کیسے بھونکے ان کو کیسے پتا چلا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا فرمان حق ہے اس کو ہونا ہے اس میں شک نہیں ہونا چاہیے [/FONT]
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,985
ری ایکشن اسکور
1,535
پوائنٹ
304
[FONT=simplified arabic, serif]محترم ،[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]لکھا تو اس کو امام ذہبی نے بھی ہے مگر اس پر تبصرہ کیا کیا ہےکہ ایسا کچھ نہی کے اس کی منفرد قبول نہ کی جائے یہ بھی میزان الاعتدال کے اسکین میں پڑھ لیں کہ اس پر اجماع بتایا ہے کے اس راوی سے حجت لی گئی ہے اور جمہور کے قول کے اگے ایک آدھ جرح کی کوئی حثیت نہیں ہوتی ہے اور یہ جرح جو اپ کر رہے ہیں اس پر البانی صاحب کی بھی نظر تھی اور انہوں نے نقل کی ہے کے ٥ بڑے محدثین نے اس کو صحیح کہا ہے [/FONT]

قلت : و قد تأول الحافظ في " التهذيب " قول يحيى بن سعيد و هو القطان :
" منكر الحديث " بأن مراده الفرد المطلق .

قلت : فإن صح هذا التأويل فيه , و إلا فهو مردود لأنه جرح غير مفسر , لاسيما
و هو معارض لإطباق الجميع على توثيقه و الإحتجاج به , و في مقدمتهم صاحبه
إسماعيل بن أبي خالد , فقد وصفه بأنه ثبت كما تقدم و لا يضره وصفه إياه بأنه
خرف , لأن الظاهر أنه لم يحدث في هذه الحالة , و لذلك احتجوا به مطلقا , و لئن
كان حدث فيها , فإسماعيل أعرف الناس به , فلا يروي عنه و الحالة هذه , و على
هذا فالحديث من أصح الأحاديث , و لذلك تتابع الأئمة على تصحيحه قديما و حديثا .

الأول : ابن حبان فقد أخرجه في صحيحه كما سبق .

الثاني : الحاكم بإخراجه إياه في " المستدرك " كما تقدم و لم يقع في المطبوع
منه التصريح بالتصحيح منه , و لا من الذهبي , فالظاهر أنه سقط من الطابع
أو الناسخ , فقد نقل الحافظ في " الفتح " ( 13 / 45 ) عن الحاكم أنه صححه ,
و هو اللائق به لوضوح صحته .

الثالث : الذهبي فقد قال في ترجمة السيدة عائشة من كتابه العظيم " سير النبلاء
" ( ص 60 بتعليق الأستاذ الأفغاني ) :
" هذا حديث صحيح الإسناد , و لم يخرجوه " .

الرابع : الحافظ ابن كثير , فقال في " البداية " بعد أن عزاه كالذهبي لأحمد في
" المسند " : " و هذا إسناد على شرط الشيخين , و لم يخرجوه " .

الخامس : الحافظ ابن حجر فقد قال في " الفتح " بعد أن عزاه لأحمد و أبي يعلى
و البزار : " و صححه ابن حبان و الحاكم , و سنده على شرط الصحيح " .

فهؤلاء خمسة من كبار أئمة الحديث صرحوا بصحة هذا الحديث , و ذلك ما يدل عليه
النقد العلمي الحديثي كما سبق تحقيقه , و لا أعلم أحدا خالفهم ممن يعتد بعلمهم
و معرفتهم في هذا الميدان سوى يحيى بن سعيد القطان في كلمته المتقدمة , و قد
عرفت جواب الحافظين الذهبي و العسقلاني عليه , فلا نعيده .

[FONT=simplified arabic, serif]اس کو پڑھ لیں اس سے اپ کو تشفی ہو جائے گی کہ یہ روایت صحیح ہے اور جو اپ نے لکھا کہ کتے کیسے بھونکے ان کو کیسے پتا چلا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا فرمان حق ہے اس کو ہونا ہے اس میں شک نہیں ہونا چاہیے [/FONT]
روایت حوآب مورخین کے نزدیک کوئی متفق علیہ امر نہیں ہے کہ جس کا انکار کرنا مشکل ہو کیونکہ قدیمی مورخین میں سے اکثر نے اس واقعہ کو اس مقام میں ذکر ہی نہیں کیا -شہادت کے طور پر ہم فریقین کے یہاں موجود ہیں:

1: خلیفہ بن خیاط م240ھ
2: صاحب اخبار الطوال احمد بن داود دینوری شیعی م282ھ
بعض مورخین نے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے لیکن اس کی سند انتہائی کمزور اور مجروح ہے مثلا مورخ الطبری نے اپنی تاریخ میں اپنی سند کے ساتھ اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور اس کی سند علماء فن کے نزدیک مجروح ہے۔ مثلا:
1: طبری کا استاد اسماعیل بن موسی فزاری ہے جو غالی شیعہ ہے
2: پھر اس کا استاد علی بن عابس الرزاق بالکل غیر معتبر ہے۔
3: اس کے بعد دو راوی ابو الخطاب الہجری اور صفوان بن قبیصہ الاحمسی دونوں مجہول ہیں

طبری کی یہ روایت مذکورہ بالا کوائف کی وجہ سے بالکل بے حکم ہے ہرگز قابل اعتماد نہیں ہے، بعد والے لوگوں نے طبری سے ہی نقل کی ہے۔

نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی ہر بات حق ہے لیکن محدثین کے نزدیک نبی کریم کے اقوال میں آپس میں تضاد ہو- یہ ممکن نہیں-
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
روایت حوآب مورخین کے نزدیک کوئی متفق علیہ امر نہیں ہے کہ جس کا انکار کرنا مشکل ہو کیونکہ قدیمی مورخین میں سے اکثر نے اس واقعہ کو اس مقام میں ذکر ہی نہیں کیا -شہادت کے طور پر ہم فریقین کے یہاں موجود ہیں:

1: خلیفہ بن خیاط م240ھ
2: صاحب اخبار الطوال احمد بن داود دینوری شیعی م282ھ
بعض مورخین نے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے لیکن اس کی سند انتہائی کمزور اور مجروح ہے مثلا مورخ الطبری نے اپنی تاریخ میں اپنی سند کے ساتھ اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور اس کی سند علماء فن کے نزدیک مجروح ہے۔ مثلا:
1: طبری کا استاد اسماعیل بن موسی فزاری ہے جو غالی شیعہ ہے
2: پھر اس کا استاد علی بن عابس الرزاق بالکل غیر معتبر ہے۔
3: اس کے بعد دو راوی ابو الخطاب الہجری اور صفوان بن قبیصہ الاحمسی دونوں مجہول ہیں

طبری کی یہ روایت مذکورہ بالا کوائف کی وجہ سے بالکل بے حکم ہے ہرگز قابل اعتماد نہیں ہے، بعد والے لوگوں نے طبری سے ہی نقل کی ہے۔

نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی ہر بات حق ہے لیکن محدثین کے نزدیک نبی کریم کے اقوال میں آپس میں تضاد ہو- یہ ممکن نہیں-
محترم ،
اپ نے اس روایت کو غور سے نہیں پڑھا ہے اماں عائشہ رضی الله عنہا نے یہ حدیث حوب کے مقام پر ہی سنائی ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے تو اماں عائشہ رضی الله عنہ کا حوب جانا ثابت ہے اگر مورخین نے نقل نہیں کیا تو کیا حقیقت بدل جائے گی عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق سب سے پہلی حدیث کی کتب موطا امام مالک میں کوئی ذکر نہیں ہے تو کیا ان کا نزول کا انکاری ہو جائے گے اور یہ حدیث کسی کے متضاد نہیں ہے وہ ایک عمومی حکم ہے اور یہ ایک خاص حالات سے تعلق رکھتی ہے الله سب کو ہدایت دے
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,985
ری ایکشن اسکور
1,535
پوائنٹ
304
محترم ،
اپ نے اس روایت کو غور سے نہیں پڑھا ہے اماں عائشہ رضی الله عنہا نے یہ حدیث حوب کے مقام پر ہی سنائی ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے تو اماں عائشہ رضی الله عنہ کا حوب جانا ثابت ہے اگر مورخین نے نقل نہیں کیا تو کیا حقیقت بدل جائے گی عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق سب سے پہلی حدیث کی کتب موطا امام مالک میں کوئی ذکر نہیں ہے تو کیا ان کا نزول کا انکاری ہو جائے گے اور یہ حدیث کسی کے متضاد نہیں ہے وہ ایک عمومی حکم ہے اور یہ ایک خاص حالات سے تعلق رکھتی ہے الله سب کو ہدایت دے
محترم -

پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ اس روایت کو اولین طور پر طبری نے قلم بند کیا - اور بعد میں بعض محدثین نے اس کو صحیح تسلیم کر لیا- دوسری و تیسری صدی ہجری میں حجاز و عراق میں عباسی چھاے ہوے تھے اور مصر میں فاطمید خلافت قائم ہونے کو تھی-خاندان بنو بویہ کا اثر و رسوخ مکہ و مدینہ تک جا پہنچا-(یہ وہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے امیر معاویہ رضی الله عنہ کو برا کہا اور ان پر لعنت بھیجی اور سب سے پہلے حسین رضی الله عنہ کی شہادت پر ماتم کی رسم ڈالی) ایسے ماحول میں جب غالی شیعان علی بنو امیہ پر تبرّا اپنا ایمان سمجھ کرکرتے تھے- مورخین و محدثین پر بھی اس کا اثر ہونا فطری تھا- اور علی رضی الله عنہ کے مناقب میں کئی منگھڑت روایتوں کو من و عن قبول کیا گیا -جب کہ حضرت علی رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں کئی اجتہادی غلطیاں کیں جن کا خمیازہ بعد میں امّت کو برداشت کرنا پڑا -
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,985
ری ایکشن اسکور
1,535
پوائنٹ
304
[FONT=simplified arabic, serif]محترم ،[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]اپ کی یہ غلط فہمی دور کرنے کے لئے چند حوالے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](١) امام عبدالرازق نے سب سے پہلے یہ روایت نقل کی ہے (مصنف عبدالرزاق رقم ٢٠٧٥٣)ولد ١٢٦ہجری وفات ٢١١ ہجری [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]امام طبری کے ١٠٠ سال پہلے[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٢)امام ابن ابی شیبہ ولد ١٥٩ہجری وفات ٢٣٥ ہجری امام طبری سے ٧٠ سال پہلے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٢) امام احمد بن حنبل جن کی سند بھی صحیح ہے ولد ١٦٤ وفات ٢٢٨ ہجری [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]امام طبری کے ٤ سال بعد [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]یہ سب امام طبری سے کئی سال پہلے پیدا ہوۓ ہے اور انہوں نے وہ روایت اپنی کتب میں درج کی ہے تو اپ کا یہ مغالطہ ہے جو اپ دور ہو جانا چاہیے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]

[FONT=simplified arabic, serif]ماشاء الله [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]اس کا مطلب محدثین اور کے لکھے میں اپ فرق کیسے کریں گے اور دوسری بات اس سے ذخیرہ حدیث تو مشکوک ہو گیا نعوذ باللہ پھر اپ اس بارے میں کیا فرمائیں گے کے بنو امیہ ٩٠ سال حکومت پر قابض رہی تو یزید کے فضائل میں جو روایات اور تاریخ میں جو کچھ ہے محدثین نے وہ متاثر ہو کر لکھا ہے توان سے بھی محدثین کا متاثر ہونا فطری بات ہے کیوں؟[/FONT]

٩٠ سال بنو امیہ کا بھی شام سے لے کر اندلس اور روم تک تسلط تھا اور جہاں تک گالیوں کی بات ہے تو جب عباسیوں نے گالیاں دی ہیں تو بنو امیہ نے ٩٠ سال اپنے منبروں پر اہل بیت میں سے علی رضی الله عنہ کو گالیاں دی ہیں .
یہ ہے پس آئینہ ان باتوں کا جو اپ نے شاید نادانستہ طور پر کر دی ہیں تاریخ روایات اور کتب کے حوالے سے صرف اتنا کہا جاسکتا ہے ان میں راویوں کی چھان پھٹک میں تساہل برتا گیا ہے مگر احادیث وحی خفی ہے اس کے بارے میں ایسے گمان بھی کہاں لیجا سکتےہیں یہ اپ خود سمجھدار ہیں


اس بات پر مجھے بڑا دکھ ہوا ہے

کہ ناصبی افکار کیسے ذہنوں کو متاثر کر رہے ہیں علی رضی الله عنہ بھی بشر تھے ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی الله نے ان کی غلطیاں معاف کر دی اور وہ بلاشبہ جنتی ہے
مگر جس حوالے سے اپ بات کر رہے ہو میرا یقین ہے کہ ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی بلکہ ان کے مقابلے پر باقی سب غلطی پر تھے اپ ایک بھی اجتہادی خطا ثابت نہیں کر سکتے ہیں یہ میرا چلینج ہے اپ کو ١٠ سال کا وقت دیا ڈوب جاؤ کتب میں اور اس حوالے سے ایک غلطی لے آؤ نبی صلی الله علیہ وسلم نے مہر ثبت کی ہے کہ علی رضی الله عنہ حق پر ہیں الله اپ کو سمجھنے کی توفیق دے کہ انھوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کا دین بچانے کی کوشش کی تھی الله سب کو ہدایت دے .


[/FONT]
اگر آپ کی بات مان بھی لی جاتے کہ طبری سے پہلے اس روایت کو عبدالرزاق نے بیان کیا ہے - تب بھی اس میں کئی علتیں ہیں- اب غلو محبّت علی رضی الله عنہ میں آپ جو کہہ رہے ہیں وہ یہی ہے کہ "میں نہ مانوں ہار" - اور آپ قیس بن حازم کو ثقہ ثابت کرنے پر تلے ہوے ہیں- امام بخاری اور مسلم نے قیس کی عائشہ رضی الله عنہا سے مروی کوئی روایت نقل نہیں کی -

اس واقعہ کی بعض روایات میں عبدالرحمان بن صالح ازدی (یہ شخص ابو مخنف کا ہم عصر ہے جس نے سب سے پہلے واقعہ کربلا لکھا) پایا جاتا ہے جس کے بارے میں علماء رجال نے تصریح کی ہے کہ یہ جلنے والا شیعہ ہے اور صحابہ کرام کے حق میں مثالب و مصائب کی بری روایات بیان کرتا ہے اور کوفہ کے مشہور غالی جلنے والے شیعوں میں سے ہے لیکن ان روایت میں حواب نام کا کوئی مقام نہیں ہے ۔
(الکامل لابن عدی ج4ص1627 تحت عبدالرحمان بن صالح، العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیۃ لامام ابن الجوزی ج2ص366)


مزید یہ کہ "حواب " نام کا کوئی مقام قدیم ترین جغرافیعہ کی کتب میں موجود نہیں ہے- ابو مخنف جسے غالی شیعہ نے بھی اپنی کسی کتاب میں اس قسم کے مقام کا ذکر نہیں کیا جب کہ اس کی لکھی گئی کتب کی تعداد اٹھائیس ہے-

اب اگر آپ پر رافضیت کا بھوت سوار ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں- "کتا" ایک جانور ہے اور ہر آنے جانے والے پر بھونکتا ہے - اس سے یہ اخذ کر لینا کہ ام المومنین عائشہ رضی الله عنہ غلط تھیں- ان پر ایک انتہائی لغو قسم کا الزام ہے- ویسے بھی اگر کوئی کہے کہ آپ کی والدہ پر کتے بھونکے گے تو آپ کیسا محسوس کریں گے-؟؟ حضرت عائشہ رضی الله عنہ تو تمام مومنوں کی ماں ہیں ان کے بارے میں ایسی لغو روایت اور وہ بھی نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی زبان مبارک سے -{اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)-

محترم -اور جہاں تک احادیث کی کتب کا تعلق ہے تو جان لیجئے کہ روایت کے ساتھ درایت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہوتا ہے-ورنہ ایسی روایات بھی موجود ہیں جو شیعہ ذہنیت کے افکار کو ہی تقویت دیتی ہیں-

اور پھر ان صحیح روایات کا آپ کیا کریں گے جن میں نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم نے واضح طور پر حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کو ہادی و مہدی ہونے کی دعا دی (مسلم)- اب آپ شاید یہاں یہ کہیں گے کہ یہ روایت ضعیف ہیں یا پھر یہ صرف نبی کی دعا تھی جو بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوئی (فنعوز باللہ من ذالک)؟؟

الله سب کو ہدایت دے (آمین)
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
اگر آپ کی بات مان بھی لی جاتے کہ طبری سے پہلے اس روایت کو عبدالرزاق نے بیان کیا ہے - تب بھی اس میں کئی علتیں ہیں- اب غلو محبّت علی رضی الله عنہ میں آپ جو کہہ رہے ہیں وہ یہی ہے کہ "میں نہ مانوں ہار" - اور آپ قیس بن حازم کو ثقہ ثابت کرنے پر تلے ہوے ہیں
[FONT=simplified arabic, serif]محترم ،[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif]یہی حال مجھے اپ کا معلوم ہوتا ہے کہ اپ حدیث رسول کو جھٹلا رہے ہیں قیس بن ابی حازم کو محدثین نے ثقہ کہا ہے اس حوالے سے میں مختصر ان کے نام پیش کردیتا ہوں[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](١) ابن معین نے ثقه کہا ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٢) ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٣) امام العجلی نے ثقات میں نقل کیا ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٤) امام مسلم نے اس سے روایت لی ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٥) امام بخاری نے اس سے روایت لی ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٦) یعقوب بن شیبہ نے ثقه کہا ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٧) ابن شاہین نے اس کو ثقات میں نقل کیا ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٨) حافظ ابن حجر نے ثقه کہا ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](٩) امام ذھبی (اس سے حجت لینا پر اجماع لکھا ہے )[/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](١٠) امام ابن کثیرنے اس کی روایت کو صحیح کہا ہے [/FONT]
[FONT=simplified arabic, serif](١١) شیخ شعيب الأرنؤوط (شیخین کی شرط پر قرار دیا ہے )[/FONT]
(١٢) شیخ البانی
ان سارے محدثین کے اقوال کے بعد بھی اپ اس کو ثقه نہیں مانتے تو پھر میرے خیال سے کوئی ثقه نہیں بچے گا
 

abdullah786

رکن
شمولیت
نومبر 24، 2015
پیغامات
428
ری ایکشن اسکور
24
پوائنٹ
46
اس واقعہ کی بعض روایات میں عبدالرحمان بن صالح ازدی (یہ شخص ابو مخنف کا ہم عصر ہے جس نے سب سے پہلے واقعہ کربلا لکھا) پایا جاتا ہے جس کے بارے میں علماء رجال نے تصریح کی ہے کہ یہ جلنے والا شیعہ ہے اور صحابہ کرام کے حق میں مثالب و مصائب کی بری روایات بیان کرتا ہے اور کوفہ کے مشہور غالی جلنے والے شیعوں میں سے ہے لیکن ان روایت میں حواب نام کا کوئی مقام نہیں ہے
امام بخاری نے تو یزید کے نیک ہونے والی بھی کوئی راویت نہیں لی کیا وہ سب راویات ضعیف ہیں قیس سے امام بخاری نے اس سے روایت لی ہے اور اصول میں لی ہے اور وہ ثقه ہے میں نقل کر آیا ہوں اور اسی طرح یزید کے نیک ہونے میں بعض روایت ابو مخف وغیرہ سے بھی ہیں تو کیا اس بنیاد پر ان راویات پر بھی طعن جائے یہ ان کو رد کیا جائے کہ ان کے ایک طریق میں ایسا راوی ہے جو منگھڑت روایت بیان کرتا ہیں یہ کسی صحیح حدیث کو رد کرنے کا کوئی اصول نہیں ہیں
اوررہی بات کہ ایسا کوئی مقام نہیں تو جب اماں عائشہ رضی الله عنہ کی حدیث سے ثابت ہو گیا اس کے بعد اور کسی بات کی حاجت نہیں ہے
[FONT=simplified arabic, serif] [/FONT]
 
Top