• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خارجیت

سلفی منہج

مبتدی
شمولیت
جولائی 24، 2011
پیغامات
39
ری ایکشن اسکور
117
پوائنٹ
0
دین کے اصولی باتوں میں جہالت عذر نہیں بن سکتی

دین کے اصولی باتوں میں جہالت عذر نہیں بن سکتی
ابوعبدالرحمن الاثری سلطان بن بجاد العتیبی الشہید رحمہ اللہ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : جس نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین یا کسی ایک کو گالی دی ( ان کی توہین یا ان کی شان میں گستاخی کی) اور اس نے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی مذمت و توہین کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ جناب علی رضی اللہ عنہ خدا ہیں یا نبی ہیں یا یہ کہا کہ جبریل علیہ السلام غلطی پر تھا (اس نے علی رضی اللہ عنہ کے بجائے غلطی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کردی) ایسا کہنے والے کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے بلکہ اس شخص کے کافر ہونے میں شک نہیں ہے جو اس کے کفر میں شک کرتا ہے یا اس کو کافر کہنے میں توقف کرتا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ جس نے یہ کہا کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہوئے سوائے چند افراد کے یا یہ کہے کہ صحابہ فاسق تھے ایسا کہنے والے کے کفر میں شک نہیں ہے اس کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جہالت کو عذر نہیں سمجھتے تھے ان کی یہ عبارتیں ان کے موقف کو واضح کرتی ہیں کہ اس بارے میں جاہل مستثنٰی نہیں ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جہمیہ کو کافر نہیں سمجھتے تھے تو اس کا جواب ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسماء وصفات کے بارے میں جہمیہ کو کافر نہیں سمجھتے اس لئے کہ یہ مخفی مسائل ہیں جہاں تک ظاہری امور ہیں مثلاً اولیاء کو پکارنا یا قبروں کا طواف یا غیر اللہ کے لئے ذبح کرنا ان مسائل میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ جہل کو عذر نہیں سمجھتے تھے دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے لئے دلیل کتاب وسنت ہے جبکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ودیگر علماء معصوم عن الخطاء نہیں ہیں ۔

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعبُدُوا اِلَّا اِیَّاہُ ۔ (الاسراء)
تیرے رب نے حکم کیا ہے کہ عبادت صرف اسی اللہ کی کرو۔

اگر کسی شخص کا خیال ہو کہ اس آیت میں قضٰی کا معنی ہے مقرر کرنا۔ تقدیر لکھ دینا اور اللہ نے جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے وہ ہو کر رہتا ہے لہٰذا جو لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ بھی دراصل اللہ کی عبادت کرتے ہیں (اس لیے کہ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے اسی کو پورا کررہے ہیں) اس طرح کہنے والا سب سے بڑے کفر کا ارتکاب کررہا ہے تمام کتب آسمانی کا انکار کررہا ہے ۔ اس طرح کی باتیں کرنے والے اگرچہ عبادت گزار وپرہیز گار لوگ ہی ہیں مگر ان کا یہ قول دراصل جہالت کی وجہ سے ہے اللہ تعالٰی نے کافروں کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ رسولوں کی لائی ہوئی شریعت کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا تھے اور آخرت میں اٹھائے جانے پر بھی انہیں یقین نہیں تھا انہوں نے رسولوں سے کہا تھا۔

وَاِنّا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدعُونَنَا اِلَیہِ مُرِیبٍ ۔ (مریم)
ان باتوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں جن کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو۔

وَاِنَّھُم لَفِی شَکٍّ مِّنہُ مُرِیبٍ ۔ (ھود)
یہ لوگ اس (دین) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔

دوسری جگہ اللہ تعالٰی نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے تھے ۔

اِن نَّظُنُّ اِلَّا ظَنَّا وَّمَا وَنَحنُ بِمُستَیقِنِینَ ۔ (جاثیۃ)
ہم صرف ایک خیال کررہے ہیں ہمیں یقین نہیں ہے۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے ۔

اِتَّخَذُوا الشَّیطٰنَ اَولِیَآءَ مِن دُونِ اللہِ وَیَحسَبُونَ اَنَّھُم مُھتَدُونَ ۔ (اعراف)
ان لوگوں نے شیاطین کو دوست بنالیا ہے اللہ کو چھوڑ کر اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔

اللہ تعالٰی کا فرمان ہے ۔

قُل ھَل نُنَبِّئُکُم بِالاَخسَرِینَ اَعمَالًا o الَّذِینَ ضَلَّ سَعیُھُم فِی الحَیوٰۃِ الدُّنیَا وَھُم یَحسَبُونَ اَنَّھُم یُحسِنُونَ صُنعًا۔ (الکہف)
کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں جو اعمال کے لحاظ سے خسارے میں ہیں جن کی سعی و کوشش دنیا میں اکارت گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہترین عمل کررہے ہیں ۔

ایسے لوگوں کو اللہ تعالٰی نے بہت زیاہ جاہل قرار دیا ہے ۔

لَھُم قُلُوبٌ لَّا یَفقَہُونَ بِھَا وَلَھُم اَعیُنٌ لَّا یُبصِرُونَ بِھَا وَلَھُم اٰذَانٌ لَّا یَسمَعُونَ بِھَا اُولٰئکَ کَالاَنعَامِ بَل ھُم اَضَلُّ ۔ (اعراف)
ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے کام نہیں لیتے آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں کان ہیں مگر سنتے نہیں یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ۔ یہ لوگ غافل بے خبر ہیں۔

مقلدین کی مذمت کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے یہ کہتے ہیں کہ ۔

اِنَّا وَجَدنَا اٰبَآءَنَا عَلٰی اُمَّۃٍ وَّاَنَا عَلٰی اٰثٰرِھِم مُھتَدُونَ ۔ (زخرف)
ہم نے اپنے آباواجداد کو ایک طریقے پر پایا تو ہم ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔

اس کے باوجود انہیں کافر کہا ہے ۔

شیخ موفق الدین ابومحمد بن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : کیا ہر مجتہد صحیح اجتہاد کرتا ہے؟ پھر جمہور کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے فرماتے ہیں ہر مجتہد صحیح اجتہاد ہر وقت نہیں کرسکتا بلکہ مجتہدین کے اقوال میں ایک قول حق ہوتا ہے کہتے ہیں جاحظ کا یہ قول باطل ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص خلاف اسلام عمل کرے اور پھر غور وخوض کرے مگر حق کے ادراک سے عاجز آجائے تو اس کا عذر قبول ہے جاحظ کا قول ہر لحاظ سے باطل بلکہ اللہ کے ساتھ کفر کے مترادف ہے اللہ اور اس کے فرامین کا ردّ ہے اس لیے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ کو دعوت دی اسلام لانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرنے کی اور سابقہ دین پر قائم رہنے کی مذمت کی ان سب سے جنگ کی جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے اسلام دشمنی وبغض رکھنے والے وہ تھے جنہیں کچھ علم وسمجھ تھی اور بقیہ مقلدین تھے جنہوں نے اپنے باپ دادا کا دین اپنایا ہوا تھا انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اورمعجزے کا معلوم نہ تھا ہماری اس بات پر دلالت کرنے والی بہت سی قرآنی آیات ہیں مثلاً :

ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِینَ کَفَرُوا ۔ (ص)
یہ ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں۔

وَذٰلِکُم ظَنُّکُمُ الَّذِی ظَنَنتُم بِرَبِّکُم اَردٰکُم ۔ (حٰم السجدۃ)
یہ تمہارا وہ خیال ہے جو تم نے اپنے رب سے متعلق رکھا اس نے تمہیں غارت کیا۔

اِن ھُم اِلَّا یَظُنُّونَ ۔ (جاثیہ)
یہ لوگ صرف خیال ہی کرتے رہتے ہیں۔

وَیَحسَبُونَ اَنَّھُم عَلٰی شَیءٍ ۔ (مجادلۃ)
ان کا خیال ہے کہ وہ کسی چیز پر ہیں ۔

وَیَحسَبُونَ اَنَّھُم مُھتَدُونَ ۔ (الزخرف)
وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔

قُل ھَل نُنَبِّئُکُم بِالاَخسَرِینَ اَعمَالًا o اَلَّذِینَ ضَلَّ سَعیُھُم فِی الحَیٰوۃِ الدُّنیَا وَھُم یَحسَبُونَ اَنَّھُم یُحسِنُونَ صُنعًا ۔ (الکہف)
کیا تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاؤں جو اعمال کے لحاظ سے نقصان میں ہیں دنیا میں جن کی محنت رائیگاں گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔

خلاصہ یہ ہے کہ رسول کو جھٹلانے والوں کی مذمت میں آیات واحادیث لاتعداد و بے شمار ہیں علماء کہتے ہیں جس نے پانچ عبادات میں سے کسی ایک کے متعلق کہا کہ یہ سنت سے واجب نہیں ہے اس کا انکار کیا ۔ یا روٹی کے حلال ہونے کا انکار کیا یا شراب کی حرمت کا انکار کیا یا ان باتوں میں سے کسی میں شک کیا اگر جہالت کی وجہ سے کیا تو کفر کا حکم لگے گا ۔ اگر تعریف ان کی جانتا ہو تو اس سے تعریف کروائی جائے گی تعریف کے بعد اگر اصرار کرتا رہا تو کافر ہے ۔ قتل کیا جائے گا۔ علماء نے یہ نہیں کہا کہ کسی کے سامنے حق واضح ہوجائے اور پھر وہ عناد کی وجہ سے انکار کرے تو کافر ہے ۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ہم کسی کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں کہ وہ عناد نہیں رکھتا؟ جب تک خود نہ کہے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے مگر میں اس کو نہیں اپناتا ایسا ہونا ممکن نہیں ہر مذہب کے علماء نے کچھ چیزوں کا تذکرہ کیا ہے جن کا شمار کرنا مشکل ہے ایسے اقوال ، افعال اور اعتقادات ہیں جن کے اپنانے والے یا ارتکاب کرنے والے کو کافر کہاجاتا ہے مگر یہ شرط کسی عالم نے نہیں لگائی کہ ان میں سے کوئی چیز عناد کی وجہ سے پائی جائے تو شرک ہے ورنہ نہیں لہٰذا اب اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ کفر کا ارتکاب کرنے والا اگر غلطی ، لاعلمی ، تقلید یا تاویل کی وجہ سے کفر کرتا ہے تو اس کا عذر قابل قبول ہے ایسا کہنے والا کتاب وسنت کا مخالف ہے اجماع کے خلاف بات کرتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت میں شک کیا تو وہ بھی کافر ہے۔ (الدررالسنیۃ : ۱۲/۷۳،۲۹)
 

سلفی منہج

مبتدی
شمولیت
جولائی 24، 2011
پیغامات
39
ری ایکشن اسکور
117
پوائنٹ
0
شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ان حضرات سے کوئی پوچھے کہ کیا کسی صنم کی عبادت کرنے والا کافر نہیں۔۔۔۔؟ اگر کافر ہے تو شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کا اصول کہ جو کافر کو کافر نہ مانے وہ بھی کافر کہ تحت اس قول پر کیا حکم لگتا ہے۔۔۔؟
نوٹ: یہ بات صرف ان نام نہاد سلفی حضرات کی خارجیت و جہالت کا معیار جانچنے کے لئے پیش کی گئی ہے۔ ان شاء اللہ اس قول کی وضاحت پیش کر دی جائے گی کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے اس قول کا صحیح انطباق کیا ہے اور یہ دور حاضر کے خارجیوں کی جہالت کو کیسے واضح کرتا ہے۔۔۔؟
ان شاء اللہ ہم اس پر ضرور تبصرہ کریں گے ۔ لیکن پہلے جو موضوع چل رھا ھے اس کا فیصلہ ہوجائے
 

طالب نور

رکن مجلس شوریٰ
شمولیت
اپریل 04، 2011
پیغامات
361
ری ایکشن اسکور
2,311
پوائنٹ
220
ان شاء اللہ ہم اس پر ضرور تبصرہ کریں گے ۔ لیکن پہلے جو موضوع چل رھا ھے اس کا فیصلہ ہوجائے
موضوع سے فرار حاصل کرنے کے لئے کاپی پیسٹ نہ کریں اور جو سوال پوچھا گیا ہے اس کا جواب دیں۔
 

سلفی منہج

مبتدی
شمولیت
جولائی 24، 2011
پیغامات
39
ری ایکشن اسکور
117
پوائنٹ
0
موضوع سے فرار حاصل کرنے کے لئے کاپی پیسٹ نہ کریں اور جو سوال پوچھا گیا ہے اس کا جواب دیں۔
طالب نور صاحب فرار میں حاصل نہیں کررھا ہوں ۔ دراصل فرار تو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ موضوع چل رہا ہے جماعۃ الدعوۃ کے مبشر احمد ربانی کی جہمیت اور ارجائیت اور آپ موضوع کو اس سے ہٹا کر العذر بالجہل کی طرف لے جارھے ہیں ۔ اسی موضوع پر رہیے پہلے اس کو ختم کیجیے پھر آگے چلیں گے ان شاء اللہ
ہم نے شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی اصل عبارت کو حاصل کرلیا ھے وہ یہ ہے :
وأما الكذب والبهتان، فمثل قولهم : إنا نكفر بالعموم، ونوجب الهجرة إلينا على من قدر على إظهار دينه، وإنا نكفر من لم يكفر، ومن لم يقاتل، ومثل هذا وأضعاف أضعافه ؛ فكل هذا من الكذب والبهتان، الذي يصدون به الناس عن دين الله ورسوله .
وإذا كنا : لا نكفر من عبد الصنم، الذي على عبد القادر ؛ والصنم الذي على قبر أحمد البدوي، وأمثالهما، لأجل جهلهم، وعدم من ينبههم، فكيف نكفر من لم يشرك بالله ؟! إذا لم يهاجر إلينا، أو لم يكفر ويقاتل ( سبحانك هذا بهتان عظيم ) [النور:16]
بل نكفر تلك الأنواع الأربعة، لأجل محادتهم لله ورسوله، فرحم الله امرءاً نظر نفسه، وعرف أنه ملاق الله، الذي عنده الجنة، والنار ؛ وصلى الله على محمد وآله، وصحبه، وسلم .
شیخ عثیمین رحمہ اللہ کا کلام اس سے متعلق :
***

س67: هل يعذر الإنسان بالجهل فيما يتعلق بالعقيدة؟

الجواب: الاختلاف في مسألة العذر بالجهل كغيره من الاختلافات الفقهية الاجتهادية، وربما يكون اختلافاً لفظياً في بعض الأحيان من أجل تطبيق الحكم على الشخص المعين أي أن الجميع يتفقون على أن هذا القول كفر، أو هذا الفعل كفر، أو هذا الترك كفر، ولكن هل يصدق الحكم على هذا الشخص المعين لقيام المقتضى في حقه وانتفاء المانع، أو لا ينطبق لفوات بعض المقتضيات، أو وجود بعض الموانع . وذلك أن الجهل بالمكفر على نوعين:

الأول: أن يكون من شخص يدين بغير الإسلام أو لا يدين بشيء ولم يكن يخطر بباله أن ديناً يخالف ما هو عليه فهذا تجري عليه أحكام الظاهر في الدنيا، وأما في الآخرة فأمره إلى الله –تعالى- والقول الراجح أنه يمتحن في الآخرة بما يشاء الله –عز وجل- والله أعلم بما كانوا عاملين، لكننا نعلم أنه لن يدخل النار إلا بذنب لقوله –تعالى-: ( وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً) (الكهف: من الآية49) .

وإنما قلنا تجرى عليه أحكام الظاهر في الدنيا وهي أحكام الكفر، لأنه يدين بالإسلام فلا يمكن أن يعطى حكمه، وإنما قلنا بأن الراجح أنه يمتحن في الآخرة لأنه جاء في ذلك آثار كثيرة ذكرها ابن القيم –رحمه الله تعالى- في كتابه: ((طريق الهجرتين)) عند كلامه على المذهب الثامن في أطفال المشركين تحت الكلام على الطبقة الرابعة عشرة .

النوع الثاني: أن يكون من شخص يدين بالإسلام ولكنه عاش على هذا المكفر ولم يكن يخطر بباله أنه مخالف للإسلام، ولا نبهه أحد على ذلك فهذا تجرى عليه أحكام الإسلام ظاهراً، أما في ا لآخرة فأمره إلى الله –عز وجل- . وقد دل على ذلك الكتاب، والسنة، وأقوال أهل العلم .

فمن أدلة الكتاب: قوله -تعالى-: ( وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً)(الإسراء: من الآية15) وقوله: (وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلاَّ وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ) (القصص:59) وقوله: (رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ )(النساء: من الآية165) وقوله: (وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ)(إبراهيم: من الآية4) وقوله: (وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ)(التوبة: من الآية115) وقوله: (وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ) (الأنعام:155) (أَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَإِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ) (156) (أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدىً وَرَحْمَةٌ ) (الأنعام الآيات: 156، 157) إلى غير ذلك من الآيات الدالة على أن الحجة لا تقوم إلا بعد العلم والبيان .

وأما السنة: ففي صحيح مسلم 1/134 عن أبي هريرة –رضي الله عنه- أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ((والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة –يعني أمة الدعوة- يهودي ولا نصراني ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار)) .

وأما كلام أهل العلم: فقال في المغني 8/131: ((فإن كان ممن لا يعرف الوجوب كحديث الإسلام، والناشئ بغير دار الإسلام، أو بادية بعيدة عن الأمصار وأهل العلم لم يحكم بكفره)) . وقال شيخ الإسلام ابن تيمية في الفتاوى 3/229 مجموع ابن قاسم: ((إني دائماً –ومن جالسني يعلم ذلك مني- من أعظم الناس نهياً عن أن ينسب معين إلى تكفير، وتفسيق، ومعصية إلا إذا علم أنه قد قامت عليه الحجة الرسالية التي من خالفها كان كافراً تارة، وفاسقاً أخرى، وعاصياً أخرى، وأني أقرر أن الله –تعالى- قد غفر لهذه الأمة خطأها، وذلك يعمي الخطأ في المسائل الخبرية القولية، والمسائل العملية، وما زال السلف يتنازعون في كثير من هذه المسائل، ولم يشهد أحد منهم على أحد لا بكفر، ولا بفسق، ولا بمعصية –إلى أن قال- وكنت أبين أن ما نقل عن السلف والأئمة من إطلاق القول بتكفير من يقول كذا وكذا فهو أيضاً حق لكن يجب التفريق بين الإطلاق والتعيين –إلى أن قال- والتكفير هو من الوعيد فإنه وإن كان القول تكذيباً لما قاله الرسول صلى الله عليه وسلم، لكن الرجل قد يكون حديث عهد بإسلام، أو نشأ ببادية بعيدة، ومثل هذا لا يكفر بجحد ما يجحده حتى تقوم عليه الحجة، وقد يكون الرجل لم يسمع تلك النصوص أو سمعها ولم تثبت عنده، أو عارضها عنده معارض آخر أوجب تأويلها وإن كان مخطئاً)) أ.هـ. وقال شيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب 1/56 من الدرر السنية: ((وأما التكفير فأنا أكفر من عرف دين الرسول، ثم بعدما عرفه سبه، ونهى الناس عنه، وعادى من فعله فهذا هو الذي أكفره)) . ((وأما الكذب والبهتان فقولهم إنا نكفر بالعموم ونوجب الهجرة إلينا على من قدر على إظهار دينه، فكل هذا من الكذب والبهتان الذي يصدون به الناس عن دين الله ورسوله، وإذا كنا لا نكفر من عبد الصنم الذي على عبد القادر، والصنم الذي على أحمد البدوي وأمثالهما لأجل جهلهم، وعدم من ينبههم، فكيف نكفر من لم يشرك بالله إذا لم يهاجر إلينا ولم يكفر ويقاتل)) أ.هـ.
ان شاء اللہ اس پر بھی بات ہوگی مناسب موقع پر
 

ابو تراب

مبتدی
شمولیت
مارچ 29، 2011
پیغامات
102
ری ایکشن اسکور
537
پوائنٹ
0
طالب نور صاحب فرار میں حاصل نہیں کررھا ہوں ۔ دراصل فرار تو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ موضوع چل رہا ہے جماعۃ الدعوۃ کے مبشر احمد ربانی کی جہمیت اور ارجائیت اور آپ موضوع کو اس سے ہٹا کر العذر بالجہل کی طرف لے جارھے ہیں ۔ اسی موضوع پر رہیے پہلے اس کو ختم کیجیے پھر آگے چلیں گے ان شاء اللہ
ہم نے شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی اصل عبارت کو حاصل کرلیا ھے وہ یہ ہے :


شیخ عثیمین رحمہ اللہ کا کلام اس سے متعلق :
***


ان شاء اللہ اس پر بھی بات ہوگی مناسب موقع پر
سلفی منہج بھائی، مرجعہ و جہمیہ فرقہ والے کون ہیں؟کیا یہ اسلام سے خارج ہیں، اس فرقے کے بارےمیں تفصیل سے رہنمائی فرمادیں۔

جزاک اللہ
 

سلفی منہج

مبتدی
شمولیت
جولائی 24، 2011
پیغامات
39
ری ایکشن اسکور
117
پوائنٹ
0
سلفی منہج بھائی، مرجعہ و جہمیہ فرقہ والے کون ہیں؟کیا یہ اسلام سے خارج ہیں، اس فرقے کے بارےمیں تفصیل سے رہنمائی فرمادیں۔

جزاک اللہ
برادر جہمیہ اور مرجئہ یہ دونوں فرقے اہل بدعۃ میں سے ہیں اور علماء اہل السنۃ والجماعۃ نے ان دونوں فرقوں کو اہل السنۃ سے خارج فرقے قرار دیا ہے۔ اس بارے میں تفصیلات آپ کو علماء اہل السنۃ کی کتب میں مل جائے گی ۔ ان شاء اللہ
 

Aamir Aziz

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 09، 2011
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
0
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اسلام اور اہل اسلام سے محبت ،کفراوراہل کفر سے بغاوت کا اظہار کرنے والے مومنین وصادقین ک

[video=youtube;3Y4qx1bjrhU]http://www.youtube.com/watch?v=3Y4qx1bjrhU[/video]
 

Aamir Aziz

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 09، 2011
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
0
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اسلام اور اہل اسلام سے محبت ،کفراوراہل کفر سے بغاوت کا اظہار کرنے والے مومنین وصادقین ک

ISLAM HE MUQADDAR ISLAM HE NASEEB
 

Aamir Aziz

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 09، 2011
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
0
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اسلام اور اہل اسلام سے محبت ،کفراوراہل کفر سے بغاوت کا اظہار کرنے والے مومنین وصادقین ک

ٓاسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف جاری اس معرکے میں ہمارا مقابلہ اہل کفر کے ساتھ ساتھ ان کے اتحادیوں سے بھی ہے بلکہ یہ انکے اتحادیوں سے مقابلہ تو ان سے بھی سخت تر ہے کیونکہ وہ اتنی دوربیٹھے ہوئے اسلام کے ساتھ اپنے کفر اور بغض کا اظہار کرنے میں کامیاب اسی لیے ہیں کہ ان کے اتحادی چاہے وہ کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں وہ ان کی تمام باتوں کو مان کر اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف اپنی شب وروز کی محنت میں مصروف ہیں ۔ایسے حالات میں جبکہ کفر اور اس کے معاون ذرائع ابلاغ نے اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف جاری اپنی اس جنگ میں اپنے اختلافات کو بھلا کر مسلمانوں پر حملے کیلئے متحد ہوگئے ہیں تو ہمیں بھی اندر اور باہر کے اختلافات بھلا کر کفر اور انکے اتحادیوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوجانا چاہیے اور مومنین وصادقین چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود ہوں،کسی بھی نام سے ہوں ان مخلص مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے اوراپنی دعاؤں میں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہی مخلصین ہی آج امت مسلمہ کا دفاعی حصار بنے کھڑے ہیں اور کفر اور اس کے معاونین کے خلاف اپنی زبان مال جان سے ان کے خلاف مصروفِ عمل ہیں۔
ایسے میں ہمارے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اٹھیے!اور اپنے فرض کو پہچانئے کہیں یہ نہ ہوکہ قافلہ نکل جائے!!!
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
347
ری ایکشن اسکور
1,279
پوائنٹ
140
لیبیا میں دو طرح کے گروپ قذافی کے خلاف ہیں ۔ ایک طرف تمام سیاسی جماعتیں ہیں ۔جن کی مدد نیٹواتحاد کررہا ہے ۔ دوسری طرف مجاہدین القاعدہ ہیں جن کا صلیبیوں سے کسی قسم کا تعاون نہیں ہے اور طاغوت عصر قذافی کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں ۔ اور ان کا تو ایک ہی منہج ہے کہ اللہ کے بندوں کو طواغیت کی غلامی سے نکال کر اللہ رب العزت کی غلامی میں لانا۔
اس بات کی بھی وضاحت کر دیں مہر بانی ہو گی۔
 
Top