• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

داعش کی حقیقت ؟

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
چلین بات کو ختم کرتیں ہیں
امریکی صدر اوبامہ نے بچوں کے قتل عام پر اسرائیل کو تنبیہ کی تو صدر کو امریکی ایوانوں سے کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا آپ بھی جانتے ہیں۔
آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم کیا ہے خاص کر بچوں پر۔۔
تو امریکہ جس طرح دوسرے ممالک کو پریشر ڈال کر پریشان کرتا ہے خاص کر پاکستان ، افغانستان ، ایران وغیرہ بلکل اسی طرح اسرائیل کو بھی پریشر ڈالے کہ وہ اپنی خونی ناخن کٹوائے۔۔ اسرائیلی ائٹمی پروگرام کی جس طرح صدر کینیڈی نے مخالفت کی تھی اسی طرح مخالفت کی جائے ۔۔ (کینیڈی کی طرح اوبامہ یا نیا صدر قتل ہوتا ہے تو وہ مظلوموں کی خاطر قتل ہوگا)
ایسٹ تیمور کی طرح فلسطین (جو فلسطین فلسطینی کہیں) میں بھی ھنگامی طور پر اقوام متحدہ کی امن افواج تائینات کی جائیں
اور دو ٹوک الفاظ میں کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے۔۔اور کشمیر پر بھارت کو سفارتی محاظ پر بلکل بھی سپورٹ نہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔

دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اگر آپ کی حکومت منافقت چھوڑ کم سے کم یہ کردیتے ہے تو آپ یہاں آکر ہمیں قائل کرنے کی کوشش کرنا ورنہ آپ کی کوشش وقت کا زیان ہے۔چاہے امریکی آپ جیسوں کی خدمات ہی کیوں نہ لین وہ اپنا بھیڑیے والا منھن چھپا نہیں سکتے۔ کیوں کہ اس وقت تک امریکی اور ان کی حکومت جو بھی ری ایکٹ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے خلاف ہے۔۔۔ ان کے صدارتی امیدوار تک مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکہ کشمير اور فلسطين کے تنازعات کو اہم اور حل طلب ايشو کے حوالے سے تسليم کرتا ہے اور يقينی طور پر يہ خواہش رکھتا ہے کہ ان مسائل کواس طريقے حل کيا جانا چاہیے جو تمام فريقین کے ليے قابل قبول ہو۔

تاہم امريکی حکومت کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ تن تنہا خودمختار ممالک کو ان کی مرضی کے برخلاف ان مسائل کے حل اور اس ضمن میں شرائط پر مجبورکرے۔ ايسا اقدام نقصان دہ ثابت ہو گا۔

اس ضمن ميں کوششوں کا آغاز براہراست فريقين کی جانب سے ہی کيا جانا چائيے​
ايک جانب تو کچھ راۓ دہندگان اس بنياد پر امريکہ کے خلاف نفرت کو درست قرار ديتے ہیں کہ امريکہ ايک طاغوتی قوت ہے جو دنيا بھر ميں اپنے سياسی حل مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری جانب کئ دہائيوں پرانے فلسطین اور کشمير جيسے عالمی مسائل کا حوالہ دے کر امريکہ پر يہ الزام لگايا جاتا ہے کہ ہم اپنی مبينہ کٹھ پتلی رياستوں کی پشت پناہی کر کے اور کوئ کاروائ نا کر کے براہ راست ان انسانی زيادتيوں اور ان مسائل کو حل نہ کرنے کے ليے ذمہ دار ہیں۔

کشمير اور فلسطين سميت ديگر علاقائ اور عالمی تنازعات اور دہشت گردی کی موجودہ لہر ميں اہم ترين فرق يہ ہے کہ تمام عالمی برادری بشمول پاکستان کے اس حقيقت کا ادارک بھی رکھتی ہے اور اس کو تسليم بھی کرتی ہے کہ دہشت گردی ايک عالمی عفريت ہے جس کا خاتمہ تمام فريقین کے ليے اہم ہے۔ اس کے مقابلے ميں ديگر تنازعات میں فریقين کے مابين اختلافی موقف اور نقطہ نظر کا ٹکراؤ ہے

اس ميں کوئ شک نہيں کہ اسرائيل اور فلسطين کا جاری تنازعہ اور اس ميں بے گناہ انسانی جانوں کا نقصان امريکہ سميت تمام انسانی برادری کے ليے لمحہ فکريہ ہے۔ ليکن اس معاملے ميں بھی امريکی حکومت تشدد کی محرک يا وجہ نہيں بلکہ مسلۓ کے ديرپا حل کی جانب جاری عمل کا حصہ ہے۔ خطے ميں پائيدار امن کے حصول اور تمام متعلقہ فريقين کے مابين کدورتيں کم کرنے کے ليے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں۔ ہمارے موقف اور اور نقطہ نظر کو بے شمار عرب ممالک کی حمايت بھی حاصل ہے۔

ميں يہ بالکل واضح کر دينا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت نا تو کسی مخصوص ملٹری آپريشن يا اسرائيل سميت کسی بھی ملک کی فوج کے مجموعی رويے کے ليے ذمہ دار ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 
شمولیت
دسمبر 10، 2013
پیغامات
386
ری ایکشن اسکور
136
پوائنٹ
91
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکہ کشمير اور فلسطين کے تنازعات کو اہم اور حل طلب ايشو کے حوالے سے تسليم کرتا ہے اور يقينی طور پر يہ خواہش رکھتا ہے کہ ان مسائل کواس طريقے حل کيا جانا چاہیے جو تمام فريقین کے ليے قابل قبول ہو۔

تاہم امريکی حکومت کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ تن تنہا خودمختار ممالک کو ان کی مرضی کے برخلاف ان مسائل کے حل اور اس ضمن میں شرائط پر مجبورکرے۔ ايسا اقدام نقصان دہ ثابت ہو گا۔

اس ضمن ميں کوششوں کا آغاز براہراست فريقين کی جانب سے ہی کيا جانا چائيے​
ايک جانب تو کچھ راۓ دہندگان اس بنياد پر امريکہ کے خلاف نفرت کو درست قرار ديتے ہیں کہ امريکہ ايک طاغوتی قوت ہے جو دنيا بھر ميں اپنے سياسی حل مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری جانب کئ دہائيوں پرانے فلسطین اور کشمير جيسے عالمی مسائل کا حوالہ دے کر امريکہ پر يہ الزام لگايا جاتا ہے کہ ہم اپنی مبينہ کٹھ پتلی رياستوں کی پشت پناہی کر کے اور کوئ کاروائ نا کر کے براہ راست ان انسانی زيادتيوں اور ان مسائل کو حل نہ کرنے کے ليے ذمہ دار ہیں۔

کشمير اور فلسطين سميت ديگر علاقائ اور عالمی تنازعات اور دہشت گردی کی موجودہ لہر ميں اہم ترين فرق يہ ہے کہ تمام عالمی برادری بشمول پاکستان کے اس حقيقت کا ادارک بھی رکھتی ہے اور اس کو تسليم بھی کرتی ہے کہ دہشت گردی ايک عالمی عفريت ہے جس کا خاتمہ تمام فريقین کے ليے اہم ہے۔ اس کے مقابلے ميں ديگر تنازعات میں فریقين کے مابين اختلافی موقف اور نقطہ نظر کا ٹکراؤ ہے

اس ميں کوئ شک نہيں کہ اسرائيل اور فلسطين کا جاری تنازعہ اور اس ميں بے گناہ انسانی جانوں کا نقصان امريکہ سميت تمام انسانی برادری کے ليے لمحہ فکريہ ہے۔ ليکن اس معاملے ميں بھی امريکی حکومت تشدد کی محرک يا وجہ نہيں بلکہ مسلۓ کے ديرپا حل کی جانب جاری عمل کا حصہ ہے۔ خطے ميں پائيدار امن کے حصول اور تمام متعلقہ فريقين کے مابين کدورتيں کم کرنے کے ليے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں۔ ہمارے موقف اور اور نقطہ نظر کو بے شمار عرب ممالک کی حمايت بھی حاصل ہے۔

ميں يہ بالکل واضح کر دينا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت نا تو کسی مخصوص ملٹری آپريشن يا اسرائيل سميت کسی بھی ملک کی فوج کے مجموعی رويے کے ليے ذمہ دار ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
بھائی لمبی چوڑی تقریر لکھنے کے بجائے آپ سیدہا امریکی حکومت کو کہیں کہ وہ کشمیر میں جاری ظلم اور پیلیٹ گن کے استعمال کی مذمت کرے۔۔ دیکھتے ہین کہ وہ مسلمانوں پر جاری اس ظلم پر وہ مذمت کرتے ہیں ؟؟؟ ابھی تک نہیں کی۔۔
اور
ایسٹ تیمور کی طرح فلسطین (جو فلسطین فلسطینی کہیں) میں بھی ھنگامی طور پر اقوام متحدہ کی امن افواج تائینات کی جائیں
اور دو ٹوک الفاظ میں کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے۔۔اور کشمیر پر بھارت کو سفارتی محاظ پر بلکل بھی سپورٹ نہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔

دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
بھائی لمبی چوڑی تقریر لکھنے کے بجائے آپ سیدہا امریکی حکومت کو کہیں کہ وہ کشمیر میں جاری ظلم اور پیلیٹ گن کے استعمال کی مذمت کرے۔۔ دیکھتے ہین کہ وہ مسلمانوں پر جاری اس ظلم پر وہ مذمت کرتے ہیں ؟؟؟ ابھی تک نہیں کی۔۔
اور
ایسٹ تیمور کی طرح فلسطین (جو فلسطین فلسطینی کہیں) میں بھی ھنگامی طور پر اقوام متحدہ کی امن افواج تائینات کی جائیں
اور دو ٹوک الفاظ میں کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے۔۔اور کشمیر پر بھارت کو سفارتی محاظ پر بلکل بھی سپورٹ نہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔

دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکی حکومت نے ہميشہ اس حقيقت کو تسليم کيا ہے کہ کشمير کے تنازعے کے سبب گزشتہ چند دہائيوں کے دوران انگنت انسانی جانيں ضائع ہوئ ہيں اور يقينی طور پر يہ ايک ايسا ايشو ہے جس کا حل خطے ميں پائيدار امن اور استحکام کے ليے اشد ضروری ہے۔ تاہم اس ضمن ميں ہمارا موقف مستقل اور خطے ميں اپنے دونوں اہم ترين اتحاديوں سے مربوط روابط کی ہماری خواہش اور عزم کے عين مطابق ہے۔

امريکی حکومت نے ہميشہ يہ بات کہی ہے کہ جہاں تک کشمير ايشو کا تعلق ہے تو اس ضمن میں يہ امريکہ کی صوابدید پر نہيں ہے کہ وہ معاملے کے کسی بھی فريق کے نقطہ نظر پر اس وقت تک کوئ فيصلہ يا راۓ دے جب تک کہ اس مسلۓ سے وابسطہ تمام پارٹياں کسے تيسرے ملک کو معاملات کے سلجھاؤ کے ضمن ميں کوئ کردار ادا کرنے پر راضی نہ ہو جائيں۔

اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ امريکہ فلسطين کے مسلۓ کے ضمن ميں جاری عالمی کوششوں کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ بلکہ امريکی حکومت نے تو اس مقصد کے ليے ايک خصوصی ايلچی بھی مقرر کر رکھا ہے۔ ليکن امريکہ نے يہ رول اور ذمہ داری اس وقت سنبھالی تھی جب تمام فريقین نے اس مسلۓ کے حل کے لیے امريکہ کے کردار پر اپنی آمادگی ظاہر کی تھی۔

مسلہ کشمير کے ضمن ميں صورتحال ايسی نہيں ہے۔

امريکی حکومت اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ خطے ميں پائيدار امن کے لیے بھارت اور پاکستان کو کشمير سميت تمام حل طلب معاملات کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں امريکی حکومت دونوں فريقين کو بات چيت کی ترغيب ديتی ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے دونوں ممالک کو مذاکرات کی ميز پر لانے کی کوششوں کی حمايت کرتی ہے تا کہ کئ دہائيوں سے جاری اس مسلۓ کا پرامن حل تلاش کيا جا سکے۔

يہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ انڈيا سے متعلق ہيومن رائٹس سے متعلق رپورٹ ميں کشمير ميں انسانی حقوق سے متعلق معاملات کی نشاندہی کی گئ ہے۔

http://www.state.gov/j/drl/rls/hrrpt/humanrightsreport/index.htm#wrapper

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
اتنا ذہن میں رکھیں کہ مشرق وسطہ کے حکمرانوں اپنے جال میں پھنسائے رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ سی آئے ئی دھشت کا کوئی نیا روپ سامنے لائے بس داعش نکل آیا جس کا سربراہ نیویارک کا فیض یافتہ بھی ہے ۔۔ اللہ تعالی مشرق وسطہ کے حکمرانوں کو سمجھ دے اس جال سے انہیں نکالے قوی امید ہے کہ وہ اس صورتحال کو سمجھتے ہونگے ۔۔ صدام اور قذافی کا فورن مارہ جانا اور لبیا پر فضائی پابندیا ں فورن لگادینا اور پھر بشر اسد کو کھلا چھوڑ دینا کہ شام کے شہریوں پر جہازوں سے بم برسائے ۔۔ اورپر سعودی اتحاد کے حمایت یافتہ اپوزیشن کو نام نہاد خلیفہ کی طرف جہاد کا سامنا رہنا اور دوسریطرف بشر اسد کے جہازوں کے زد میں آنا یہی بتا رہا ہے کہ اصل ٹارگیٹ طاقتور تیل والے ممالک ہیں۔ اللہ تعالی ان کی حفاظت فرمائے داعش کا جہاں بھی مبارک ظہور ہوتا ہے وہ مجاہدین کو ہی نشانہ بناتی ہے۔۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکی حکومت کی قيادت ميں داعش کے خلاف جاری عالمی کاوشيں محض زبانی خرچ نہيں يا تشہير تک ہی محدود نہيں ہيں جنھيں محض چند افراد اپنی مرضی سے کنٹرول کر سکيں۔ دنيا بھر کی درجنوں حکومتوں نے داعش کے عفريت سے عام شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کرنے کے ليے مربوط اقدامات کيے ہيں۔ ذيل ميں داعش کے چند قائدين کے نام اور کوائف پيش ہيں جو حاليہ دنوں ميں امريکی حکومت کے تعاون اور باہم شراکت سے جاری عالمی کاوشوں کے نتيجے ميں ہلاک ہو‎ۓ ہيں۔

عبدالقادر حکيم

فروری بيس 2016 کو عراق کے شہر موصل ميں اتحادی افواج کی فضائ بمباری کے نتيجے ميں ہلاک ہونے والا داعش کے بيرونی حملوں کے ضمن ميں اہم سہولت کار تھا۔ حکيم پرانا جنگجو اور جعلی سازی کے ضمن ميں ماہر تصور کيا جاتا تھا۔ پيرس ميں داعش کے جس نيٹ ورک کی جانب سے حملے کی منصوبہ بندی کی گئ تھی، اس کے حکيم ساتھ اہم روابط تھے۔ يہ اس نيٹ ورک کا اہم حصہ تھا جس کے ذمہ مغربی ممالک ميں داعش کی دہشت گردی کی کاروائيوں کی منصوبہ بندی شامل تھی۔ اس کی موت سے ايک ايسے اہم سہولت کار کا خاتمہ ممکن ہو سکا جس کے يورپ ميں بے شمار روابط تھے۔

عصمت صالح ياسين

عراق ظيقط ميں داعش کا امير مارچ 13 2016 کو فضائ بمباری کے دوران ہلاک ہوا۔ صالح ياسين شريعہ کونسل کا سينير رکن اور داعش کی سرکردہ قيادت کا قابل اعتماد ساتھی تھا۔

عبدالرحيم عبد اللہ

جزيرہ رياست ميں داعش کا ولی اور شريعہ کونسل کا چيرمين مارچ 13 2016 کو عراق ميں ظرقی گاؤں ميں تلعفر کے مغرب ميں اتحاديوں کی جانب سے کی جانے والی فضائ بمباری کے نتيجے ميں ہلاک ہوا ۔ الرقۃ کے داعش کے قانونی نظام ميں اس کا بڑا اثرورسوخ تھا۔ اس کے موت کے بعد سے پيدا ہونے والے خلا کے نتيجے ميں داعش کی جانب سے تلعفر پر کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحيت اور اہليت ميں خاطر خواہ کمی واقع ہوئ ہے۔

عبد اللہ ياسيم سليمان الجبوری

اپريل 7 2016 کو عراق ميں موصل ميں ہونے والی فضائ بمباری کے نتيجے ميں ياسيم سليمان الجبوری کی ہلاکت ہوئ جو موصل ميں داعش کے اينٹی ائر کرافٹ ہتھياروں کا کمانڈر تھا۔ اس کے ہلاکت سے موصل ميں داعش کے ہتھياروں سے متعلق اہم سہولت کار کا خاتمہ ہوا جس سے علاقے ميں داعش کی گرفت کمزور پڑ گئ ہے۔

ابو صریا

موصل عراق ميں اپريل 9 2016 کو داعش کا عسکری امير فضائ بمباری کے نتيجے ميں ہلاک ہوا۔ اسی روز ابو صريا کا نائب بھی فضائ حملے ميں مارا گيا۔ اس ہلاکت کے نتيجے ميں موصل ميں داعش کا اہم عسکری ليڈر منظر سے ہٹ گيا اور داعش کی جنگی کونسل پر شديد دباؤ آ گيا جو اب کسی تجربہ کار اور سينير ليڈر کی تلاش ميں ہے جسے وہی ذمہ دارياں سونپی جا سکيں۔

عبد العزير عرف حاجی سلمان

عراق ميں القعارت کے قريب مئ 18 کو فضائ بمباری کے نتيجے ميں موصل ميں داعش کا انتظامی امير عبد العزير عرف حاجی سلمان اپنے انجام کو پہنچا جس کے نتيجے ميں داعش کی قائدانہ اہليت اور انتظامی امور کی انجام دہی جيسے معاملات کو شديد نقصان پہنچا۔

عبدالعزيم

موصل عراق ميں جون 8 کو فضائ حملوں کے دوران داعش کا جنگی منتظم ہلاک ہوا۔ اس کی ہلاکت سے داعش کے جنگجوؤں اور قيادت کے درميان اہم رابطے کا خاتمہ ہوا جس کے نتيجے ميں داعش کی فوجی منصوبہ بندی اور کاروائيوں کو شديد زک پہنچی۔ اس فضائ حملے ميں داعش کے نو جنگجو ہلاک ہوۓ جن ميں موصل ميں داعش کا پوليس چيف اور اہم فيلڈ کمانڈر ابراہيم الميدانی بھی شامل تھا۔

سعد خاطير

داعش کا ملٹری کمانڈر عراق ميں موصل کے نزديک جون 29 کو فضائ حملے ميں ہلاک ہوا۔ اس کے ہلاکت سے داعش ايک اہم اور سينير ملٹری کمانڈر سے محروم ہو گئ اور داعش کی قیادت پر دباؤ مزيد بڑھ گيا۔

ابو خطاب الراوی

شام ميں جولائ 3 کو فضائ حملوں کے دوران داعش کا فوجی امير ہلاک ہوا۔ ابو خطاب الراوی کی ہلاکت سے منبج شہر کے دفاع کے ليے مزيد فوجيوں کی کمک تک رسائ داعش کے ليے درد سر بن گئ ہے۔

احمد طالب حسن الحمدانی

عراق ميں موصل کے مقام پر جولائ 15 کو ہونے والی فضائ بمباری کے نتيجے ميں داعش کا قبائلی معاملات کا امير اور الحمدانی قبيلے کا سردار ہلاک ہوا۔ اس کی ہلاکت سے شمالی عراق ميں داعش کی قيادت پر مزيد دباؤ پڑے گا۔

کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ امريکی حکومت داعش کے اہم جنگجوؤں اور قائدين کا تعاقب کر رہی ہوتی اگر کچھ راۓ دہندگان کے تجزيے کے مطابق داعش کا وجود اور کاروائياں کسی بھی طور خطے ميں امريکی مفادات کے ليے نيک شکون ہيں؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 
Top