• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دل فریب زدہ ، دعوتِ نظر پہ نہ جا

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
​
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا ہے بدن

سلگ رہی ہیں نجانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن

دل فریب زدہ ، دعوتِ نظر پہ نہ جا
یہ آج کے قدوگیسو ہیں کل کے دارورسن

غریبِ شہر کسی سایہ شجر میں نہ بیٹھ
کہ اپنی چھاؤں میں خود جل رہے ہیں سروسمن

بہارِ قرب سے پہلے اجاڑ دیتی ہیں
جدایوں کی ہوایں محبتوں کے چمن

وہ ایک رات گزر بھی گیی مگر اب تک
وصالِ یار کی لذت سے ٹوٹتا ہے بدن

پھر آج شب ترے قدموں کی چاپ کے ہمراہ
سنائی دی ہے دلِ نا مراد کی دھڑکن

یہ ظلم دیکھ کہ تُو جانِ شاعری ہے مگر
مری غزل میں ترا نام بھی ہے جرمِ سخن

امیرِ شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہِ مذہب ، کبھی بنامِ وطن

ہوائے دہر سے دل کا چراغ کیا بجھتا
مگر فراز سلامت ہے یار کا دامن
​
احمد فراز کی کتاب درد آشوب سے انتخاب
 

makki pakistani

سینئر رکن
شمولیت
مئی 25، 2011
پیغامات
1,323
ری ایکشن اسکور
3,040
پوائنٹ
282
امیرِ شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہِ مذہب ، کبھی بنامِ وطن

یعنی

سلطانی بھی عیاری ھے درویشی بھی عیاری ھے۔
 
Top