ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 863
- ری ایکشن اسکور
- 228
- پوائنٹ
- 111
دنیا سے بے رغبتی اور اللہ کی راہ میں جہاد: امیر المؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایمان افروز فرمان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔ اما بعد!
زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے رغبتی اہل ایمان کے اعلیٰ اوصاف میں سے ہیں۔ سلف صالحین کے نزدیک دنیا کی حقیقت یہ تھی کہ اسے آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ اسے انسان کا مقصود حیات بنا لیا جائے۔ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا کی ظاہری چمک دمک کے بجائے ایمان، اخلاص، عبادت اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کو اصل فضیلت سمجھتے تھے۔
اسی معنی کی نہایت بلیغ ترجمانی امیر المؤمنین سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے اس قول میں ملتی ہے، جسے امام ابو داود سليمان السجستانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «الزهد» میں روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَصْبَغِ، قَالَ: نا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيَّ، يَقُولُ: قَالَ مُعَاوِيَةُ عَلَى مِنْبَرِ دِمَشْقَ: وَاللَّهِ، مَا أَنَا لِأَحَدٍ أَغْبَطُ مِنِّي لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ مُقِلٍّ مِنَ الدُّنْيَا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے کسی شخص پر اس مسلمان سے زیادہ رشک نہیں آتا جو دنیا کے مال و متاع میں کم حصہ رکھتا ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو۔
[الزهد لأبي داود، ص : ٣٤٢، حدیث: ٤١٩]
یہ حدیث سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زہد، آخرت پسندی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی عظمت پر نہایت بلیغ دلیل ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: «وَاللَّهِ» یعنی اللہ کی قسم! یہ قسم اس بات کی تاکید کے لیے ہے کہ جو بات آگے بیان کی جا رہی ہے وہ محض زبان کی بات نہیں، بلکہ دل کے یقین اور بصیرت سے نکلی ہوئی بات ہے۔
فرمایا: «مَا أَنَا لِأَحَدٍ أَغْبَطُ مِنِّي» یعنی مجھے کسی شخص پر اس قدر رشک نہیں آتا جتنا اس شخص پر آتا ہے۔ یہاں غبطہ سے مراد کسی دوسرے کے پاس موجود خیر کو دیکھ کر یہ خواہش کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس خیر سے نواز دے، بغیر اس کے کہ دوسرے شخص سے وہ نعمت چھن جانے کی خواہش ہو۔ پس یہ حسد نہیں بلکہ نیکی اور فضیلت میں آگے بڑھنے کی خواہش ہے۔
پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی صفت بیان فرمائی: «لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ مُقِلٍّ مِنَ الدُّنْيَا» یعنی ایسا مسلمان جو دنیا کے مال و اسباب میں کم نصیب ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں حلال مال رکھنا یا مال دار ہونا مذموم ہے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ دنیا اس کے دل کی غرض اور مطلوب نہ ہو۔ جس قدر دنیا اس کے پاس ہو، وہ اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرے، اور اگر دنیا کم ہو تو اس پر افسوس اور آخرت سے غفلت میں مبتلا نہ ہو۔
اہل زہد کا یہی طریق ہے کہ وہ دنیا کو ہاتھ میں رکھتے ہیں، دل میں نہیں۔ مال کی کثرت آدمی کے لیے اس وقت نقصان دہ ہوتی ہے جب وہ اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل اور آخرت سے بے رغبت کر دے۔
اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی سب سے بڑی فضیلت بیان فرمائی: «يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» یعنی وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ گویا ان کے نزدیک حقیقی قابل رشک شخص وہ نہیں جس کے پاس دنیا کی دولت، جاہ و منصب اور آسائشیں زیادہ ہوں، بلکہ وہ شخص ہے جس کے پاس دنیا کا سامان کم ہو، مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت، آخرت کی طلب اور اللہ کی راہ میں جہاد کا عظیم شرف ہو۔
یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کے لائق ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے منصب پر فائز تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے دنیاوی اقتدار کو قابل رشک چیز قرار نہیں دیا، بلکہ اس شخص کو قابل رشک قرار دیا جو دنیا کے اعتبار سے کم نصیب ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ زہد کا اصل تعلق مال کی قلت سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت سے ہے۔
کسی کے پاس مال کم ہو مگر دل دنیا کا غلام ہو تو وہ زاہد نہیں، اور کسی کے پاس مال زیادہ ہو مگر دل اللہ تعالیٰ کی محبت، اطاعت اور آخرت کی طلب میں لگا ہو تو محض مال کی کثرت اس کے زہد کے منافی نہیں۔
اس مختصر قول میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کی حقیقت اور آخرت کی قدر و منزلت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ عقل مند مسلمان اپنی نگاہ اس چیز پر رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں باقی رہنے والی ہے، نہ کہ اس فانی دنیا پر جس کا مال و جاہ آخرکار ختم ہو جانے والا ہے۔
پس مومن کو چاہیے کہ وہ دنیا کے مال، منصب، شہرت اور آسائشوں کو اپنا مقصود نہ بنائے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی عبادت، تقویٰ، جہاد، اخلاص اور آخرت کی کامیابی کو اپنا اصل مطلوب بنائے۔ یہی زہد شرعی ہے کہ دنیا کو بالکل چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دینا۔
اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اسی حقیقت کی نہایت عمدہ ترجمانی کرتا ہے کہ قابل رشک وہ نہیں جس نے دنیا جمع کرلی، بلکہ وہ ہے جس نے دنیا سے اپنا دامن ہلکا رکھا اور اپنی جان و مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے لگا دیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلنے، دنیا کی فانی حقیقت کو سمجھنے، آخرت کو اپنا اصل مقصد بنانے، اخلاص و تقویٰ کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔