جیسے کہ کتنے ایسے مسائل یا باتیں ہیں ، جنھیں ہم جانتے ہیں ، لیکن بسا اوقات انھیں سامنے لے آنا شدید فتنے کا باعث بن جاتا ہے۔تو کیا ایسے مسائل یا باتیں اگرچہ وہ صداقت پر مبنی ہوں تب بھی ہمیں انھیں سامنے نہیں لانا چاہیئے ، کہ کہیں یہ عوام الناس کے لیے انتہائی فتنہ کا باعث نہ بن جائیں۔نیز میں نے علماء اکرام کی کچھ کتب سے اخذ کیا کہ بعض ایسے مسائل ہیں جن میں مصلحت کے پیش نظر انھوں نے خاموشی اختیار کر لی، تاکہ مذکورہ حکم کہیں فتنہ کا سبب نہ بن جائے۔دوسری جانب صحیح بخاری میں آپ کی نظر سے شاید حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی گزرا ہو ،
" حدثو ا الناس بما یعرفون ، اتریدون ان یکذب اللہ و رسولہ؟!
اور
مصنف عبد الرزاق ۔۔۔عن ابن عباس رضی اللہ عنہما : انہ راءی رجلا انتقض لما سمع حدیثا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الصفات ، استنکاراََ لذلک ، فقال: ما فرق ھولاء ؟؟ یجدون رقۃََ عند محکمہ ، ویھلکون عند متشابہ۔۔۔۔انتھی !
اس متعلق کیا کیا جائے گا؟ کیا فقہ قرآن وسنت سے کچھ ایسے اصول بھی اخذ کیئے گئے ہیں ؟
قال الشيخ محمد بن صالح العثيمين – رحمه الله – :
قوله في أثر علي رضي الله عنه : " حدِّثوا النَّاس " ، أي : كلِّموهم بالمواعظ وغير المواعظ .
قوله : " بما يعرفون " ، أي : بما يمكن أن يعرفوه ، وتبلغه عقولهم ؛ حتى لا يفتنوا ، ولهذا جاء عن ابن مسعود رضي الله عنه ، قال : " إنك لن تحدث قوما حديثا لا تبلغه عقولهم إلا كان لبعضهم فتنة " - رواه البخاري -
ولهذا كان من الحكمة في الدعوة ألا تباغت الناس بما لا يمكنهم إدراكه ، بل تدعوهم رويداً ، رويداً ، حتى تستقر عقولهم ، وليس معنى " بما يعرفون " ، أي : بما يعرفون من قبل ؛ لأن الذي يعرفونه من قبل يكون التحديث به من تحصيل الحاصل .ولهذا كان من الحكمة في الدعوة ألا تباغت الناس بما لا يمكنهم إدراكه ، بل تدعوهم رويداً ، رويداً ، حتى تستقر عقولهم ، وليس معنى " بما يعرفون " ، أي : بما يعرفون من قبل ؛ لأن الذي يعرفونه من قبل يكون التحديث به من تحصيل الحاصل
قوله : " أتريدون أن يكذب الله ورسوله ؟! " الاستفهام للإنكار ، أي : أتريدون إذا حدثتم الناس بما لا يعرفون أن يكذب الله ورسوله ، لأنك إذا قلت : قال الله ، وقال رسوله : كذا وكذا ، قالوا : هذا كذب ، إذا كانت عقولهم لا تبلغه ، وهم لا يكذِّبون الله ورسوله ، ولكن يكذبونك ، بحديث تنسبه إلى الله ، ورسوله ، فيكونون مكذِّبين لله ورسوله ، لا مباشرة ، ولكن بواسطة الناقل .
فإن قيل : هل ندع الحديث بما لا تبلغه عقول الناس وإن كانوا محتاجين لذلك ؟ .
أجيب : لا ندعه ، ولكن نحدثهم بطريقة تبلغه عقولهم ، وذلك بأن ننقلهم رويداً ، رويدا ، حتى يتقبلوا هذا الحديث ، ويطمئنوا إليه ، ولا ندع ما لا تبلغه عقولهم ، ونقول : هذا شي مستنكر لا نتكلم به
یعنی یہ موقوف اثر ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والی آیت کے مطابق ہے جس کی شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ نہ تو اس سے یہ مراد ہے کہ حق بات بتائی ہی نہ جائے اور نہ اس سے یہ مراد ہے کہ جو بات وہ پہلے جانتا ہے صرف وہی بتائی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو بات وہ نہیں جانتا اس بات کو اسکے ذہن میں آہستہ آہستہ رکھا جائے
اصل میں ہر بات جو کسی کو بیان کی جاتی ہے اسکے درست ہونے کے کچھ خارجی دلائل ہوتے ہیں اب اگر وہ خٓرجی دلائل اس مخاطب پر پہلے واضح ہو چکے ہیں تو پھر اس بات کو ان دلائل کے مطابق پرکھ کر درست تسلیم کرنا آسان ہو جائے گا لیکن اگر وہ خارجی دلائل ہی اس پر واضح نہ ہوں تو معاملہ اس پر خلط ملط ہو جائے گا اور وہ اس بات کا انکار کر دے گا اور وہ بات جو آپ نے بتائی ہے وہ اللہ اور رسول کی ہی بات ہے تو حاصل یہ ہو گا کہ وہ اللہ اور رسول کو درپردہ جھٹلا رہا ہو گا
مثلا اگر کسی کو تقلید کی خرابیاں واضح کرنی ہیں تو پہلے سنت کی اہمیت اسکے اندر واضح کرنا پڑے گی اور احادیث اور اسناد کا تعارف اور اسکا دین میں سے ہونا اور بے سند بات کے غلط ہونا اور نیک لوگوں سے بھی غلطی ہونے کے امکان ہونا یہ سب کچھ اسکو بتانا پڑے گا ورنہ جب ڈائریکٹ اسکے سامنے کہیں گے کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بات کو دیوار پر دے مارو تو وہ نہیں مانے گا
اسی طرح توحید کی دعوت میں مندرجہ ذیل تھریڈ میں میں نے اپنی کمزور سی کوشش کی ہے کہ ایک بریلوی کو کس طرح باقی چیزوں سے متعارف کروایا جائے جس سے وہ ہماری توحید والی دلیل کو پرکھنے کے قابل ہو جائے
مخلص بریلوی کے لئے حقائق
اسکی مثال ایک بچے سے بھی لی جا سکتی ہے کہ جس طرح ایک بچہ کوئی سوال کرتا ہے تو ہم جواب دیتے ہوئے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ اسکے بارے اسکی معلومات کیا ہے مثلا میرے بچے کو گھر کے ماحول کی وجہ سے مجاہد سے محبت ہے تو ایک دن کسی اور بڑے بچے سے اللہ کی بڑائی پر بات ہو رہی تھی تو ہو معصوم کہنے بھی اس بڑے بچے کو بتانے لگا کہ اللہ مجاہد سے بھی بڑا ہے یعنی اس وقت اس بچے کے پاس بڑائی کا سکیل مجاہد موجود تھا تو اسنے اسکے حوالے سے بتایا
آپ کا سوال
جہاں تک ہمارے کسی بارے خآموش رہنے یا نہ رہنے کا معاملہ ہے تو اگر یہ سوال صرف دعوت کے میدان تک کا ہے تو یاد رکھیں اوپر شیخ عثیمین رحمہ اللہ کی وضاحت کے مطابق ہم ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ کے تحت حق دعوت نہیں روکیں گےکہ حق بات کو اس تک پہنچانا لازمی ہے لیکن دھیرے دھیرے اور زیادہ اہم چیز کو پہلے اور کم اہم چیز کو بعد میں پہنچانا جیسا کہ صحیح بخآری والی معاذ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت ہے کہ فلیکن اول ما تدعوھم الیہ -----
اور اگر دعوت سے ہٹ کر اور معاملات کا ہے تو ہمیں اس میں مصلحت اور مفسدہ کو دیکھ کر چلنا ہو گا کہ اس کام میں دین کا فائدہ کتنا ہے اور نقصان کتنا ہے اس سلسلے میں کہ یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر کوئی مفسدہ اور مصلحت کو ایک جیسا نہیں جانتا بلکہ جس قسم کا مسئلہ ہوتا ہے اس سے متعلقہ بندہ اور دوسرا دین کا زیادہ علم رکھنے والا انسان زیادہ اچھا جج کر سکتا ہے جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فتوی بھی اس سلسلے میں کہیں پڑھا تھا تو ہم پھر کسی معتبر عالم اور اس کیس سے متعلقہ عالم کی اتباع بھی کر سکتے ہیں واللہ اعلم