• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول اللہﷺکی نصرت و توقیر۔۔۔چند تجاویز

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
رسول اللہﷺکی نصرت و توقیر۔۔۔چند تجاویز

حافظ جاسم ادریس سلفی​
الحمد ﷲ رب العالمین والصلاة والسلام علی سید ولد آدم،محمد قائد المرسلین وإمام النبیین، وعلیٰ آله وأصحابه أجمعین،وبعد!
ایک مؤمن و مسلم جس طرح اپنے آقا و رب تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اسی طرح اپنے مطاع و رسول کریم1 سے بھی محبت کرتاہے۔فرمان الٰہی ہے:
﴿وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا أَشَدُّ حُبًّا ﷲِ ﴾ (البقرة:۱۶۵)
’’کہ ایمان والے اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرنے والے ہیں۔‘‘
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
قرآن کریم ایمان والوں کی یہ صفت بھی بتاتا ہے:
﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلَی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ﴾ (الأحزاب:۶)
’’کہ نبی، مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘
یعنی جس میں بھی ’ایمان‘ ہوگا، وہ اپنے آپ سے بھی زیادہ رسول امینﷺسے محبت رکھے گا اور ان کے معاملے کو مقدم جانے گا۔دراصل ’محبت‘ کے اس جذبے کے بغیر،ایمان کا تصورہی نہیں ہے۔
حدیث مبارکہ میں ہے:
«ثلاث من کن فيه،وجد حلاوة الإيمان:من کان اﷲ ورسوله أحب إليه مما سواهما»
’’تین باتیں جس میں ہوں تو اس نے ایمان کی مٹھاس پالی: (سرفہرست) جس کو اللہ اور اس کے رسولﷺسے اتنی محبت ہوگئی، جتنی ان کے علاوہ کسی سے نہیں۔‘‘ (صحیح البخاري :۲۱)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
ایک اور روایت میں ہے:
«لايؤمن أحدکم حتی أکون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين»(صحيح البخاري:۱۵)
’’ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن، نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، اس کے والد، بچے اور تمام لوگوں سے بھی زیادہ۔‘‘
اسی محبت و اِیمان کے دیگر تقاضاجات (مثلاً آپﷺکی اِطاعت واِتباع،سنت کی پیروی اور اس سے لگاؤ، سیرت مبارکہ کا مطالعہ اور اس کو اپنانا وغیرہ) میں سے ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ کے سچے اور آخری نبی ہونے پر یقین رکھا جائے، آپﷺکی حمایت و نصرت کی جائے، آپﷺ کی عزت و توقیر اور احترام کیا جائے، یہ آپﷺ کی بعثت کے اَہم مقاصد میں سے ہیں۔ قرآن کریم اس کی شہادت اس طرح دیتا ہے:
﴿إنَّا اَرْسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ﴾ (الفتح:۸،۹﴾
’’ہم نے آپﷺکو بشیرونذیر بناکربھیجاہے تاکہ تم سب لوگ اللہ پر ایمان لاؤ، اس کے رسولﷺپر یقین رکھو، اُن کی مدد و حمایت کرو اور ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھو۔‘‘
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
ہمارے پیارے نبیﷺکو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپﷺ کی حمایت و نصرت اور عزت و تکریم، ہر ایماندار و دیانتدار شخص کرتا ہے (چاہے وہ اسلام کی نعمت سے ابھی تک سرفراز نہ ہوا ہو)
ہر منصف مزاج انسان آپﷺ کی تعریف و حمایت کیوں نہ کرے؟ جبکہ آپﷺمسلمانوں کے لئے ’رحمت‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ساری انسانیت، سارے عالم، بلکہ تمام جہانوں کے لئے، پیکر رحمت و شفقت ہیں۔ (مفہوم آیات سورۃ التوبۃ :۶۱، سورۃ الأنبیاء:۱۰۷)
پھر آپﷺکی حمایت و نصرت کا اعلان و اِقرار تو حضرت عیسیٰ ، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد و سلیمان اور حضرت ابراہیم (عليهم السلام) سمیت تمام انبیاء کرام نے کیا تھا۔(مفہوم آیت آل عمران:۸۱)
اس لحاظ سے پیارے حبیب نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہﷺوخاتم النبیّین ﷺ کی حمایت و نصرت کرے بغیر، ہریہودی، (حضرت) ابراہیم، اسحق، داؤد، سلیمان اور موسیٰ کے ’عہد‘کو توڑنے والا ہے، ہر عیسائی، عیسیٰ بن مریم﷤کی ’بشارت‘ کوٹھکرانے والا ہے، (کچھ احتمالات کے ساتھ) بُدھ مت، ہندومت اور سکھ مت (وغیرہ) کا نام لینے والے اپنے (مزعومہ) انبیاء کے وعدے، ’وچن‘ اور تعلیمات کو مٹی میں ملا کر پامال کرنے والے ہیں۔ ان باتوں کا سرا اب (باوجود تحریف و تبدیل کے) مذاہب عالم کی کتب میں موجود ہے۔ جس کی گواہی قرآن مجید، اَحادیث مبارکہ کے علاوہ تاریخ میں بھی ملتی ہے اور یہ گواہی دینے والے خود ان مذاہب کے علماء (اسکالرز) و محققین ہیں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپﷺتمام اَدیان و مذاہب کی رو سے محترم ہیں تو پھر ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں جن میں آپﷺاور آپﷺکے لائے ہوئے دین کے ساتھ ’استہزاء‘ و گستاخی کا پہلو ہو یا صراحۃً ’اہانت‘ کی کوشش کی گئی ہو۔یقیناً اس ناکام و نامراد منصوبے میں شیطان لعین کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو نہ صرف مسلمانوں سے بیر رکھتا ہے بلکہ ہر انسان اور بنی آدم کو وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم نے جہاں شیطان کی دشمنی کا ذکر فرمایا، وہاں ’یاایہا الناس‘ (اے لوگو!) کا صیغہ استعمال کیا۔(سورۃ فاطر:۵،۶)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے اسباب ہیں جن کا تدارک لازمی ہے۔ مثلاً :
1- متعلقہ اَفراد (مجرمین) کا لا علم و جاہل ہونا اور ’کسی ‘ کے اُکسانے پر ایسے قبیح اَمر میں شرکت کرنا۔ قرآن مجید نے اس بات کو بھی ’توہین‘ کا سبب قرار دیا ہے ۔اللہ کا فرمان:( ۔۔۔ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ۔۔۔) (الأنعام:۱۰۹)
2- کسی ناداں شخص کی نادانی بھی کبھی اس کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی لئے قرآن نے دو ٹوک اَنداز میں یہ حکم فرمایا ہے:
﴿وَلَا تَسُبُّوْا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَيَسُبُّوا اﷲَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ…﴾(حوالہ سابقہ)
’’کہ یہ لوگ جن معبودان باطلہ کو اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں، انہیں تم برا نہ کہو (گالی نہ دو) کہ پھر وہ بھی اللہ کو گالی دیں گے حد سے تجاوز کرتے ہوئے اور لاعلمی کے سبب سے۔‘‘
رسول اللہﷺکے دور میں بھی ایک مسلمان اور یہودی میں اپنے اپنے نبی سے متعلق، ان کی فضیلت اور فوقیت میں جھگڑا ہوا تو آپﷺنے یہ فرما دیا:
«لا تُخَیِّرُونِی من بَیْنِ الأنبیائِ» (صحیح البخاري:۴۶۲۸)
’’کہ مجھے دیگر انبیاء پر مقابلۃً فضیلت نہ دو۔‘‘
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
3- مسلمانوں کی مجموعی بے عملی، قرآن و حدیث سے روگردانی اور خراب حالات زار بھی ان واقعات کی اہم وجوہات میں سے ہیں۔
4- اور اکثر ایسے حادثات کفر کی غلاظت،کفار کے نفوس و دلوں کے ’خبث‘ اور حسد و بغض کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔﴿قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْضِکُمْ﴾ (آل عمران:۱۱۹)
5- یا پھر سرداری و حکمرانی (پوری دنیا کی نام نہاد ٹھیکیداری و جاگیرداری) کے چھن جانے کا خوف ہوتا ہے۔
ان باتوں کے تدارک و علاج کے لئے موثرقدم اٹھانا پڑے گا۔ جیسے شریعت کی نظر میں ’جہاد‘ کہا گیا ہے۔ یہ جہاد اپنے نفس ’امارہ‘ کے خلاف شروع ہوگا تو انتہاء «فقاتلوا أئمة الکفر» پر ختم ہوگا۔
بلا شبہ اَسباب مذکورہ میں سے آخر الذکر دو سبب بغیر ’قتال‘ (مسلح کارروائی) کے دور نہیں ہوسکتے۔ اس لئے رب تعالیٰ کا سچا قرآن گویا ہوتا ہے :
’’اور یہ لوگ اگر اپنے عہد و پیمان کو توڑیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے سرداروں اور پیشواؤں سے لڑ پڑو۔ان کی قسموں اور یقین دہانیوں کا کوئی اعتبار نہیں، اسی طرح یہ (اپنی مذموم حرکتوں سے) باز آجائیں گے۔‘‘(التوبۃ:۱۲)
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
ذیل میں اس اہم مسئلے کے تدارک، طعن فی الدین اور اہانت رسول کی کوششوں کی روک تھام کچھ تجاویز اور ہر مسلمان کے لئے کچھ نصیحتیں پیش کی جارہی ہیں ۔
1- دین الٰہی، اسلام کی حقانیت اور رسول اکرمﷺ کے اُسوۂ حسنہ و سیرت طیبہ کے بارے میں صحیح معلومات عام کی جائیں اور اس سلسلے میں نشرواِشاعت کو تیز تر کیا جائے۔
2- پورا عالم اسلام جس طرح اس نازک معاملے میں زبانی و جذباتی اور بیانات کے لحاظ سے ایک نظر آرہا ہے، عملی طور پر بھی متحد ہوجائے۔ کیا ہم قرآن حکیم کے بیان کردہ ﴿فَاعْتَبِرُوْا یَا أُوْلِیْ الأَبْصَارِ﴾ ﴿وَمَایَذَّکَرُ إلَّا اُوْلُوْا الأَلْبَابِ﴾ (وغیرہ) میں شمار ہونے کے لائق نہیں بن سکتے؟ کم از کم اسی معاملے میں کفار سے سبق حاصل کرلینا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے ایک دوسرے کی حمایت کردی اور «الکفر ملة واحدۃ» کا کتنا بڑا ثبوت دے دیا ہے۔ مسلمانوں اور خصوصاً بلادِ اِسلامیہ کے حکمرانوں کو چاہئے کہ ﴿وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعًا﴾کا عملی مظہر بنیں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
عالم کفر کو دوبارہ یقین آجائے«المؤمن للمؤمن کالبیان،یشد بعضه بعضاً»(صحیح البخاري:۴۸۱) ’’کہ ایک مؤمن و مسلم دوسرے ساتھیوں کے لئے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کے لئے سہارا اور قوت و مضبوطی کا باعث ہوتے ہیں۔‘‘یقین جانئے کہ کفار، مسلمانوں میں سے کچھ،’بندے‘ توڑے بغیر ان کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے۔
3- کفار کی مصنوعات کا بائیکاٹ ضرور کیا جائے (جیسا کہ ثمامہ﷜بن اَثال نے یمامہ کی بہترین گندم کی ترسیل روک کر رسول اللہﷺ کی حمایت و نصرت کا اعلان کیا تھا) لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی مصنوعات کو اس معیار کا بنائیں کہ وہ کفار کی ان مصنوعات سے ہر کس و ناکس کو بے پرواہ کردے۔بائیکاٹ کا مقصد صرف ان کی درآمدات کو روکنا نہیں بلکہ برآمدات کے سلسلے میں بھی لاتعلقی ہے۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
رسول اللہﷺکی یہ حدیث بھی ذہن میں رکھنی چاہئے:
«لا تحدثوا حلفاً فی الاسلام» (رواہ الترمذی :۱۵۸۸) ’’کہ کفار سے مزید معاہدات نہ کرنا۔‘‘
4- جہاد اِسلامی کے لئے مجاہدین کو مربوط کیا جائے اور اس کی بے ترتیبی پر غور کیا جائے۔ نیز ’جہاد‘ کو قطعۂ ارض اور اس کے حصول سے منسلک کرنے کے بجائے ’اعلاء کلمۃ اﷲ‘ کے ساتھ خاص کیا جائے۔ منظم ’جہاد‘ ’فلسطین یا کشمیر‘ کی آزادی تک نہیں، قیامت تک جاری رہنے والی کوشش و سعی کا نظریہ اجاگر کیا جائے۔
5- اوآئی سی(OIC)اگر واقعی اسلامی تنظیم ہے تو اسے خلافت اِسلامیہ کے نہج پر چلایا جائے۔ ﴿وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ﴾(الأنفال:۶۰) کے پیش نظر اس تنظیم کا فوجی و دفاعی شعبہ قائم کیا جائے۔ جس کے ذریعے مسلمانوں کی ’اتحادی‘ افواج ، دنیا میں حقیقی ’امن‘ قائم کرکے دکھائیں۔
 
Top