• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزے کا مذاق مت اڑائو

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
روزے کا مذاق مت اڑائو


السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:۔


رمضان وہ مقدس مہینہ ہے جس میں قرآن پاک کو اُتارا گیا۔ ایک ایسی کتاب جو تا قیامت انسان کے لیے اصلاح کا کام کرتی رہے گی۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم نے اپنے ہنسی و مذاق کے اندر اس پاک مقدس مہینے کو بھی گھیرا ہوا ہے اور اپنے موبائل سے فضول ایس ایم ایس کر کے اس مہینے کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کچھ روزہ رکھ کر اس مہینے کا مذاق اڑاتے پھرتے ہیں اور بعض بے روزے دار ہو کر مذاق بناتے ہیں‌۔ فضول ایس ایم کر کے ہم اس بابرکت مہینے کا مذاق اڑا کر اپنی طرف سے دوسروں کو ہنسا رہے ہیں مگر ہم یہ بھول بیٹھے ہیں کہ دین کے ساتھ کوئی مذاق یا گستاخی برادشت نہ ہو گی۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:

لَمَّا کَانَ اَوَّلُ لَیْلَۃٍ مِّنْ شَہْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْہَا بَابٌ وَّفُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْہَا بَابٌ وَ یُنَادِیْ مُنَادٍ یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ اَقْبِلْ وَ یَا بَاغِیَ الشَّرِّ اَقْصِرْ وَلِلہِ عُتَقَآئُ مِنَ النَّارِ وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ۔ (حاکم)

یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب رمضان المبارک کی اول رات ہوتی ہے تو بڑے بڑے سرکش جن اور شیطان قید کیے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں پھر ان میں سے کوئی دروازہ کھلتا نہیں، اور جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں پھر ان سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا، اور اللہ کی طرف سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی کی تلاش کرنے والے آگے بڑھ، یعنی اب وقت ہے جو کچھ کرنا ہے کرلے اور گناہ کرنے والے اب پیچھے ہٹ جا، یعنی اس خیر و برکت کے وقت کی شرم کر، اور گناہوں سے باز آ۔ اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کر دیتا ہے، جو آزادی کے مستحق ہیں، اور یہ معاملہ ہر رات ہوتا ہے۔


ہم موبائل میسجز میں‌کس طرح اس بابرکت مہینے کا مذاق اڑاتے ہیں ملاحظہ کیجیئے:۔


میسج نمبر 1


" کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ سحری ویلے اِک ہور پراٹھا کھا لیندا تے میری اے حالت نہیں ہونی سی۔ ٹائم دسو یارو کی ہویا وے
اس میسج کے نیچے ایک تصویر بنی ہوتی ہے جس پر ایک آدمی بُری حالت سے دو چار اپنے بستر پر لیٹا ہوا ہے"

میں پوچھنا چاہتا ہوں ایسے لوگوں سے کہ سحری میں اگر تھوڑا کھا لیا جاتا ہے کبھی کبھی تو ایسی کیا حالت ہوتی ہے اُن کی جان نکل رہی ہوتی ہے اور وہ افطاری کے لیے بے صبرے ہو رہے ہوتے ہیں۔ روزے رکھ کر انسان کتنی بُرائیوں سے دور ہو جاتا ہے اور وہ جنت کے کتنے قریب اور دوزخ سے کتنا دور ہوجاتا ہے یہ ہم کبھی نہیں سوچتے۔


میسج نمبر 2


" ہیلو جی ایسے ہی پوچھنا تھا کہ روزوں میں ‌اتوار کی چھٹی ہوتی ہے یا نہیں یا سارے کے سارے رکھنے پڑتے ہیں"


فلمیں دیکھنے میں ، بُری بات کہنے میں ، چغلی کرنے میں ، غیبت کرنے میں ، گالی دینے میں ، چوری کرنے میں ، جھوٹ بولنے میں، مکاری کرنے میں، دھوکہ دینے میں، زنا کرنے میں ، بدیانتی کرنے میں کیا ہم کوئی چھٹی کی طلب کرتے ہیں یا یہ کبھی یہ سوچتے ہیں کہ کیوں نہ ایک دن ان تمام چیزوں سے چھٹی کر لیں۔ نیک کام کرنے میں ہی ہم چھٹیوں کی بات کیوں کرتے ہیں اپنے اندر پائی جانے والی کو بُرائیوں دور کرنے میں ایسا کیوں نہیں کہتے یا کرتے ؟


میسج نمر 3


" ابھی 2 روزے گزریں ہیں ماں صدقے جاوے کیسی شکل نکل آئی ہے
اس میسج کے نیچے عجیب سا کارٹون بنایا ہوا ہے جس کا منہ ٹیڑھا دکھایا گیا ہے "


مومن جب روزہ رکھتا ہے تو وہ پانچ اوقات کی نماز پابندی سے پڑھتا ہے، قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے ، سچی بات کرنے اور سننے کی کوشش کرتا ہے ، اپنے آپ کو ہر بُرائی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی کے آگے خالص نیت سے سجدہ ریز ہونے والے کی شکل کارٹون جیسی نہیں بنتی اور نہ ہی منہ کوئی ٹیڑھا ہوتا ہے بلکہ اس کا چہرہ اللہ تعالی کی رحمت سے نور سے بھر جاتا ہے۔


میسج نمبر 4


" روزے دارو حوصلہ رکھو ابھی بہت ٹائم پڑا ہوا ہے "

روزہ دار جب خالص اللہ کی نیت سے روزہ رکھتا ہے تو اُسے لوگوں کے دلاسے یا کسی قسم کے حوصلے کی ضرورت نہیں بلکہ جب اللہ تعالی کسی کو روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرماتا ہے تو وہ اپنے بندے پر صبر بھی ضرور بھرتا ہے۔


میسج نمبر 5


" لوگو! دیکھو سورج ڈوبا کہ نہیں ؟ لگتا ہے کہ اے سانو مار کے ہی ڈوبے گا "


سورج ، چاند ، ستارے ، ہوا ، پانی ، درخت ، پہاڑ اور دنیا میں موجود ہر ایک چیز اللہ تعالی کے تابع ہے کوئی بھی ذرہ اللہ تعالی کے حکم کے بغیر ہل نہیں سکتا۔ سورج کے طلوع ہونے اور غروب ہونے کا ایک وقت مقرر ہے نہ وہ ایک سیکنڈ آگے ہو سکتا ہے اور نہ ایک سیکنڈ پیچھے جب تک اللہ کی مرضی نہیں ہوتی۔ اگر ہمیں روزہ اتنا ہی لگتا ہے تو ہم روزہ رکھ کیوں رہے ہیں؟ کیا روزہ صرف بھوکا رہنے کا ہی ہوتا ہے؟ صبح سے شام تک ہم اس انتظار میں رہتے ہیں کہ سورج حرکت کرتا ہوا کہاں تک پہنچ رہا ہے؟


میسج نمبر 6


" اگر روزہ لگے تو یہ دُعا پڑھیں

الکباب الکیچپ و سموستھ الچٹنی اِن چپس الپیزا
یا پانی یا پانی یا پانی تیری مہربانی "


پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کام کو شروع کرنے کی کوئی نہ کوئی دُعا پڑھی ہوئی ہے۔ دُعائوں اللہ کی مدد ، اُس کی رحمت ، اُس کی واحدانیت یا کوئی نہ کوئی حمد و ثنا موجود ہوتی ہے اور ہر دُعا میں اللہ تعالی کو ہی مخاطب کیا جاتا ہے۔ کیونکہ دُعائوں کا سننے والا اور اُسے پورا کرنے والا صرف اللہ ہی ہے۔ لیکن اس میسج میں جس طرح ہم نے روزے کا اور مسنون دُعائوں کا مذاق اڑایا ہے وہ نہایت شرمناک بات ہے ہمارے لیے۔


میسج نمبر 7


" مولوی صاحب نے سحری کے لیے دودھ میں جلیبیاں بھگو کر رکھیں۔ جب سحری کا وقت ہوا تو تو مولوی صاحب نے اپنی بیوی سے کہا کہ جا کر جلیبیوں والا پیالا لائو۔ بیوی نے دیکھا کہ وہ دودھ والا پیالا تو بلی کھا گئی ہے اُس نے مولوی صاحب کو بتایا، مولوی صاحب نے چادر اوڑتے ہوئے کہا فیر روزہ وہ بلی ہی رکھے"


کسی بھی میسج میں کسی کو خاص نشانہ بنانا یہ بات بلکل بھی ٹھیک نہیں مولویوں سے مُراد ہر وہ شخص آجاتا ہے جس نے داڑھی رکھی ہوتی ہے اور ان داڑھی میں ہمارے قاری ، اور عالم بھائی بھی شامل ہوتے ہیں جو ہمیں دین کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور ہمارے اندر کو دین کو لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم اُن کی اچھی چیزوں کو کبھی بھی نہیں اپناتے بلکہ الٹا میسجز کر کے اُن کا مذاق اڑاتے ہیں۔


رمضان کا مہینہ مومن مسلمانوں کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے اس کا اندازہ بخوبی وہی لگا سکتا ہے جو اپنے دین کو سمجھتا اور اس پر خلوص نیت کے ساتھ عمل کرتا ہو گا۔ ہنسی مذاق میں دوسروں کو ہنسا کر ہم تھوڑی دیر کے لیے جھوٹی ہنسی ہنس لیتے ہیں مگر ہم کتنے گناہ کما جاتے ہیں اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہو پاتا۔ روزے کی اہمیت کو جاننے کے لیے چند آیات اور احادیث آپ سب کے سامنے رکھتا ہوں۔ ملاحظہ کیجیئے۔


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۸۳ۙ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ۝۰ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَہٗ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ۝۰ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَہُوَخَيْرٌ لَّہٗ۝۰ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۱۸۴ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۝۰ۭ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۝۰ۡ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللہَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۱۸۵(البقرۃ:۱۸ ۳تا۱۸۵)
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ، گنتی کے چند دنوں میں، لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہوجائے یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں اس کی گنتی کو پورا کرلے، طاقت نہ رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اس کے لیے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں افضل کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم جانتے ہو، ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن مجید اُتارا گیا، حق جُو لوگوں کو ہدایت کرنے والا اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینے میں مقیم ہو، اسے روزے رکھنا چاہیے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو، اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرو، اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور اس کا شکر کرو۔


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

فَاِذَا اَنَا بِقَوْمٍ مُّعَلَّقِیْنَ بِعَرَاقِیْبِھِمْ مُشَقَّۃً اَشْدَاقُھُمْ یَسِیْلُ اَشْدَاقُھُمْ دَمًا قَالَ قُلْتُ مَنْ ھٰٓؤُلَا ٓئِ قَالَ الَّذِیْنَ یُفْطَرُوْنَ قَبْلَ تَحِلَّۃِ صَوْمِھِمْ۔ (ابن حبان۔ ابن خزیمۃ)

میں نے معراج میں ایسے لوگوں کو دیکھا، جو الٹے لٹکائے ہوئے ہیں، اور ان کے منہ کو چیر دیا گیا ہے، جس سے خون بہتا ہے، میں نے کہا، یہ کون لوگ ہیں، فرمایا: وہ لوگ ہیں جو روزے کو پہلے افطار کرلیا کرتے تھے۔


ذَاکِرُ اللہِ فِیْ رَمَضَانَ مَغْفُوْرٌ لَہٗ وَسَآئِلُ اللہِ فِیْہِ لَا یُخِیْبُ۔ (طبرانی، ترغیب)

آپ نے فرمایا: رمضان میں ذکر کرنے والا بخشا جاتا ہے، اور اللہ سے مانگنے والا محروم نہیں رہتا۔


اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (بخاری، مسلم)

جس نے شب قدر میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ قیام کرلیا تو اس کے پہلے گناہ سب معاف ہوجائیں گے اور جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھ لئے، اس کے پہلے سب گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔


نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لَوْ یَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِیْ رَمَضَانَ لَتَمَنَّتْ اُمَّتِیْ اَنْ تَکُوْنَ السَّنَّۃُ کُلُّھَا رَمَضَانَ۔(بیہقی، ترغیب)

اگر اللہ کے بندے رمضان کی فضیلت جان لیں تو میری امت تمام سال روزہ سے رہنے کی خواہش مند ہوتی۔



رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَابًا یُّقَالُ لَھَارَیَّانُ یَدْخُلُ مِنْہُ الصَّآئِمُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَا یَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ فَاِذَا دَخَلُوْا اُغْلِقَ فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ اَحَدٌ۔ (بخاری)

جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہا جاتا ہے، اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے اور دوسرے لوگ داخل نہیں ہوں گے، جب وہ لوگ داخل ہوجائیں گے تو دروازہ بند ہوجائے گا، ان کے بعد کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا۔


اور آپﷺ نے فرمایا:

اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ وَحِصْنٌ حَصِیْنٌ مِنَ النَّارِ۔ (احمد)

روزہ جہنم سے ڈھال اور مضبوط قلعہ کی طرح ہے۔



نبی کریم ﷺ نے فرمایا:


اَلصِّیَامُ وَالْقُرْاٰنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَقُوْلُ الصِّیَامُ اَیْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَ الشَّھْوَۃَ فَشَفِّعْنِیْ فِیْہِ وَیَقُوْلُ الْقُرْاٰنُ مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بَاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِیْ قَالَ فَیُشَفَّعَانِ۔(احمد۔ ترغیب)

روزہ اور قرآن مجید دونوں بندہ کے لیے قیامت کے دن سفارش کریں گے، روزہ کہے گا، الٰہی روزہ دار کو میں نے کھانے پینے اور خواہش سے روکا تھا، تو میری سفارش اس کے بارے میں قبول فرما۔ اور قرآن مجید کہے گا، پروردگار میں نے اس کو رات میں نیند سے روک دیا تھا، یہ رات کو کلام الٰہی پڑھتا رہتا تھا، تو اس کو بخش دے، ان دنوں کی سفارش منظور ہوگی۔


رسول خدا ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَامَ یَوْمًا اِبْتِغَآئَ وَجْہِ اللہِ بَاعَدَہُ اللہُ مِنْ جَھَنَّمَ۔ (بیھقی)

جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے ایک دن کا روزہ رکھے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے دُور رکھے گا۔



پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا:

(۱۲) مَنْ قَالَ لَا ٓ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ خُتِمَ لَہٗ بِھَا دَخَلَ الْجَنَّۃ وَمَنْ صَامَ یَوْمًا اِبْتِغَآئَ وَجْہِ اللہِ خُتِمَ لَہٗ بِہٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ اِبْتِغَآئَ وَجْہِ اللہِ خُتِمَ لَہٗ بِھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔

جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوجائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ایک دن کا روزہ رکھے گا، اور وہ اسی پر مرجائے گا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے صدقہ و خیرات کرے اور اسی پر اس کا خاتمہ ہو، وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔ (احمد۔ ترغیب)


حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ لَہٗ اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّہٗ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ۔ الخ۔ (بخاری)

یعنی انسان کے ہر عمل کا ایک مقرر کیا ہوا ثواب ملے گا لیکن روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
وہ کھانے پینے اور دیگر نفسانی خواہشات کو میری خاطر چھوڑ دیتا ہے، یہ روزہ قیامت کے دن دوزخ سے بچانے کے لیے ڈھال بن جائے گا، اس لیے روزہ دار جہنم میں داخل نہیں ہوگا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور روزہ داروں کے لیے دو خوشی کے وقت ہیں کہ ان دونوں وقتوں میں بہت خوشی ہوتی ہے، اول افطار یعنی روزہ کھولنے کے وقت، دوم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلہِ حَاجَۃً فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ۔

جو شخص جھوٹ بات اور برے کام پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اس کے کھانے پینے کو چھوڑ دینے کی اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (بخاری۔ مسلم)




فَاِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ اَحَدِکُمْ فَلَا یَرْفَثْ وَلَا یَصْخَبْ فَاِنْ سَابَہٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ صَآئِمٌ۔
جب کوئی روزے سے ہو تو لغو اور بے ہودہ بات نہ کہے ، اگر کوئی جھگڑے یا گالی گلوچ پر اُتر آئے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ (بخاری)


اوپر بیان کی گئی قرآنی آیات اور احادیث سے ہم رمضان کے مہینے کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ روزہ صرف کھانے پینے اور سونے کا نہیں ہوتا بلکہ روزہ رکھنے کا مقصد انسان کو صبر کروانا ہے ، بُرے کاموں سے باز رکھنا ہے ، نماز کی پابندی کروانا ہے ، خود اچھے کام کرنے اور دوسروں کو بُرے کام سے روکنا ہے۔ کھا پی کر ہم کون سا اللہ تعالی پر احسان کرتے ہیں یہ مبارک مہینہ ہماری مغفرت کر لیے ہی ہے جس پر اللہ تعالی جنت کے اور اپنی رحمت کے تمام تر دروازے کھول دیتا ہے اور اپنے بندے سے مخاطب ہوتا ہے کہ مانگ مجھ سے میرے بندے میں تیری دُعا قبول کروں گا۔

غور کریں تو جو میسجز ہم لوگ ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں اپنے مختلف دوستوں کو سینڈ کرتے ہیں کیا ایسے میسجز کر کے ہم اپنے دین کا خودی مذاق نہیں‌اڑاتے؟ ہم کسی کو اچھے کام کی کیا تلقین کریں یا اپنے دین کے بارے میں‌کیا بتلائیں جس کا ہم خود بے دردی سے مذاق بناتے اور اڑاتے ہیں۔‌‌‌ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں اور یہ کام دنیا میں نام بنانے یا لوگوں کے آگے اپنا وقار بلند کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ ہر نیک کام کو خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے جائے اور جو کام کیا جائے اُس کا صلہ انسان سے مت مانگے۔ انسان کے ہر اچھے اور بُرے کام کا بدلہ صرف اللہ تعالی کے پاس ہے۔

تحریر: ساجد تاج​
 
Top