• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سائنس اور باری تعالیٰ کی کبریائی

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207


قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ‌ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَ‌بِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ‌ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَ‌بِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ﴿١٠٩
فرما دیجئے اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی ہوجائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کی مثل اور (سمندر یا روشنائی) مدد کے لئے لے آئیں۔ (الکہف: 109)

وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن شَجَرَ‌ةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ‌ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ‌ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٢٧
اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں (سب) قلم ہوں اور سمندر (روشنائی ہو) اس کے بعد اور سات سمندر اسے بڑھاتے چلے جائیں تو اﷲ کے کلمات (تب بھی) ختم نہیں ہوں گے۔ بیشک اﷲ غالب ہے حکمت والا ہے۔ (لقمان: 27)

ان دونوں آیات میں ایک ہی موضوع بیان کیا گیا ہے اور وہ موضوع ذات باری تعالیٰ کی عظمت اور شان ہے۔ مذکورہ بالا قرآنی آیات میں خالق کائنات کی کبریائی ایک مثال سے واضح کی گئی ہے کہ اگر روئے زمین کے سمندروں کی سیاہی بنا کے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے اظہار، اس کی حکمتیں اور اس کی باتیں لکھنی شروع کی جائیں تو یہ سیاہی ختم ہو جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ پھر ایسے ہی مزید سمندر لائے جائیں اور پھر اور لائے جائیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ اللہ کی قدرتیں، اس کی حکمتیں، اس کی دلیلیں ختم ہو جائیں۔ اس بات پر مزید زور دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر دنیا بھر کے درختوں کے قلم بنا لئے جائیں لیکن اللہ کی حکمتیں اور باتیں لکھتے لکھتے یہ قلم بھی ختم ہو جائیں گے لیکن باری تعالیٰ کی شان احاطہ تحریر میں نہیں لائی جا سکے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تفسیر ابن کثیر کے مطابق تمام انسانوں کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں اتنا بھی نہیں ہے جتنا سمندر کے مقابلے میں قطرہ۔ تمام درختوں کی قلمیں گھس گھس کر ختم ہو جائیں تمام سمندروں کی سیاہیاں نبڑ جائیں لیکن کلمات الٰہی ویسے ہی رہ جائیں گے جیسے تھے۔ کلمات الٰہی ان گنت ہیں، بےشمار ہیں۔ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت سے ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائب ختم ہوں، نہ اس کی حکمت کی انتہا، نہ اس کی صفت اور نہ اس کے علم کا آخر ہوگا۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قرآن کا فرمان برحق ہے، ذرا تصور کیجیے کہ تمام دنیا کے درختوں کے قلموں کی تعداد کس قدر ہوگی۔ اور یہ سمندر جو ابد سے ازل تک کے انسانوں کی ضروریات کو کافی ہے کی سیاہی کی مقدار کس قدر ہوگی۔ اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ کسی بھی پرنٹر کے اسٹینڈر Cartridge میں صرف سولہ ملی لیٹر سیاہی ہوتی ہےاور اس سے دو سو سے زیادہ صفحات چھاپے جا سکتے ہیں۔ سولہ ملی لیٹر سیاہی مقدار میں کتنی ہوگی؟ اس کے لئے بس اتنا بتانا کافی ہوگا کہ یہ کھانا کھانے والے ایک چمچے میں سما جا ئے گی۔ گویا جب ایک چمچہ سیاہی سے دو سو سے زائد صفحات لکھے جا سکتے ہوں توپھر دنیا بھر کے سمندروں کی سیاہی سے کتنے ہی صفحات لکھے جا سکیں گے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنے سارے صفحات جن کو گننا بھی محال ہو پر لکھنے کے معلومات اور باتیں کہاں سے آئیں گی۔ ۔۔۔؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ڈاکٹر ذاکر نائک کے مطابق قرآن سائنس کی نہیں بلکہ نشانیوں کی کتاب ہے۔ اس میں جا بجا اشارے دئے گئے ہیں اور انسان کو غور و فکر کرنے کی دعوت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کردہ کائنات کے مظاہر کا کئی جگہ ذکر کیا ہے۔ ایک ایک سطر میں معلومات کا خزانہ موجود ہے۔ قرآن پاک میں انسان کی پیدائش کے مراحل بیان کرنے سے لے کر کائنات میں تیرتے اجسام تک کا ذکر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ڈاکٹر شاہد مسعود کے مطابق ہم آج جس دور میں جی رہے ہیں اسے علمی سیلاب کا دور کہا جاتا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد معلومات کا وہ سیلاب آیا ہے جس کے آگے انسان بےبس نظر آتا ہے۔ موجودہ دور سائنسی ترقی کا دور ہے۔ حیران کن ایجادات ، دریافات اور معلومات دن بدن سامنے آتی جا رہی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے لندن میں ایک سیمینار ہوا جس کا عنوان تھا Information overload اس میں مختلف علمی شعبوں کے ماہرین نے مقالے پڑھے۔ اس سیمینار میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا میں اب تک جتنے سائنسدان کسی بھی زمانے میں پیدا ہوئے ان کی مجموعی تعداد سے زیادہ سائنسدان آج زندہ ہیں اور وہ سائنس کی معلومات میں دو ہزار صفحات فی منٹ کے حساب سے اضافہ کر رہے ہیں۔ آج قریباً تیس کروڑ صفحات کے برابر تحریری مواد ہر روز انٹر نیٹ پر جاری ہو رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ان تحقیقات کے نتیجے میں انسان کی معلومات کے ذخیرے میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس موجودہ دور کے انسان کا علم، ماضی کے انسان سے بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ آج کرہ ارض پہ بسنے والے حشرات الارض اور جرثوموں سے لے کر بڑے بڑے ڈائنو سارز کی تاریخ، رہن سہن، شکار کرنے کے طریقے وغیرہ کے بارے میں معلومات ڈھونڈی اور جمع کی جا رہی ہیں۔ دنیا میں موجود ہزار ہا قسم کے درخت، جڑی بوٹیاں، زمینی و سمندری نباتات کو نا صرف تلاش کیا جا رہا ہے بلکہ ان سے فوائد حاصل کرنے کے طریقے بھی کھوجے جا رہے ہیں۔ انسانی جسم کے نظام کو سمجھا جا رہا ہے۔ جینز کی دریافت کے بعد سے تحقیق کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ ڈی این اے میں انسانی جسم کا مکمل بلیوپرنٹ موجود ہوتا ہے اس کو پڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم سائنس کے مطابق یہ نقطہ آغاز ہے۔ ڈی این اے پر لکھے گئے کوڈ کو مکمل طور پر پڑھنے اور سمجھنے کے لئے ابھی بڑی محنت اور لمبی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد شاید انسانی جسم اور اس کے افعال کو مکمل طور پر سمجھنے کا دعویٰ کیا جا سکے۔ اسی طرح سمندروں، صحراؤں، اور دیگر علاقوں میں پائے جانے والے نباتات، حیوانات اور جمادات پر اگرچہ بہت کام ہوا ہے بہت سی اقسام دریافت کی گئی ہیں، کئی فوائد ڈھونڈے گئے ہیں لیکن یہ سلسلہ بھی ہنوز نامکمل ہے اور اس کو مکمل کرنے کے لئے ایک لمبا عرصہ اور تحقیق درکار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسی بات کو سمجھنے کے لئے کائنات کے سب سے چھوٹے ذرے کی تلاش کا معاملہ لیجئے۔ کچھ عرصہ قبل تک سمجھا جاتا تھا کہ انسان جس کائنات میں سانس لے رہا ہے وہ مادے سے بنی ہوئی ہے اور اس کائنات کا سب سے چھوٹا حصہ ہے ایٹم۔ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ کائنات کا سب سے چھوٹا حصہ ایٹم نہیں ہے بلکہ ایٹم بذات خود الیکٹران، پروٹان، نیوٹران اور اسی طرح کے سو سے زیادہ ذرات پر مشتمل ہے۔ سائنسی کھوج کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہا۔ نتیجتاً نئی تحقیق سامنے آئی جس سے یہ معلوم ہوا کہ الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان بھی مادے کے سب سے چھوٹے ذرات نہیں ہیں۔ ان سے چھوٹے جز بھی موجود ہیں ان کو “کوارک” کہا جاتا ہے۔ یہ کوارکس الیکٹرون، پروٹون، نیوٹرون اور دیگر چھوٹے ذرات کو بناتے ہیں۔ اسی موضوع پر ہونے والی ریسرچ سے اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوارک سے بھی اربوں گنا چھوٹا مادہ موجود ہے اور اس کو “اسٹرنگز” کا نام دیا گیا ہے۔ گویا یہ معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں ہے جتنا آغاز میں نظر آتا تھا۔ عین ممکن ہے کہ آئندہ ہونے والی تحقیق سے اسٹرنگز سے چھوٹا بھی کچھ دریافت کر لیا جائے۔ الغرض سائنسی تحقیق اتنی ترقی کے باوجود ابھی تک نامکمل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سائنسی مثالوں کو پیش کرنے کے بعد یہ جاننا دلچسپ محسوس ہوتا ہے کہ اس تحقیق کو لکھنے اور محفوظ کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ آج الیکٹرانکس میں ترقی کی وجہ سے ڈیٹا کی بڑی مقدار ایک انتہائی چھوٹی جگہ میں محفوظ کی جا سکتی ہے۔ کمپیوٹر میں انفارمیشن جمع کرنے کی پیمائش روایتی طور پر کلو بائٹس پھر میگا بائٹس اور اب عموماً گیگا بائٹس میں کی جاتی رہی ہے۔ اس کے بعد ٹیرا بائٹس، پیٹا بائٹس اور اب ایکسا بائٹس آ گیا ہے اور ایک ایکسا بائٹ ایک بلین گیگا بائٹس کے برابر ہے۔سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2007 تک دنیا میں سٹور ہونے والا ڈیٹا 295 ایکسا بائٹ ہے جو اوسطاً بارہ ملین ہارڈ ڈرائیو کے مساوی ہے۔ تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی معلومات سی ڈیز پر جمع کی جائے تو سی ڈیز کا انبار چاند سے بھی اوپر پہنچ جائے گا۔ جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ہلبرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ہم یہ تمام اطلاعات لے کر انہیں کتابوں میں جمع کریں تو ان کتابوں کا انبار امریکہ یا چین کے برابر کے رقبے میں پھیل جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابھی انسانی معلومات کا دائرہ صرف روئے زمین کے مظاہر تک محدود ہے۔ انسان نے بمشکل زمین سے باہر نکل کر چاند پر قدم رکھا ہے۔ لیکن سی ڈیز کے ڈھیر کا چاند تک پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے مریخ اور زحل جیسے ستاروں پہ جانے کی ابھی صرف باتیں ہو رہی ہیں۔ باقی تمام کائنات تو بہت دور کی بات ہے۔ بالفاظ دیگر موجودہ علم کا زیادہ تر حصہ صرف زمینی معلومات پر مشتمل ہے، دھیان رہے کہ اس دو ہزار صفحات فی منٹ کے حساب سے مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے، یعنی معلومات میں اضافے کا عمل ساقط نہیں ہوا بلکہ جاری ہے اور سی ڈیز کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ۔۔ لیکن اگر صرف یہ زمینی معلومات ہی چین کے رقبے کے برابر ہو سکتی ہیں تو اندازہ لگائے کہ کیا پوری کائنات کا علم “زمین” میں سما سکے گا؟؟؟۔ یاد رہے کہ کائنات میں سو ارب کہکشائیں موجود ہیں۔ ہر ایک کہکشاں میں لاکھوں سے لے کر کھربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہو سکتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کائنات میں 300 سیکٹیلین (دس کے ساتھ 23 صفر) ستارے موجود ہیں۔ کیا کل کائنات کے علم کو احاطہ تحریر میں لانے کے لئے زمین پہ موجود وسائل کافی ہوں گے۔۔؟؟؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غور کیجئے کہ یہ تمام ستارے، کہکشائیں، بلیک ہولز، نیوٹرون اسٹارز اور اب تو متوازی کائناتوں کے تصورات بھی آ چکے ہیں، کس کی تخلیق ہیں۔؟ کس نے انہیں پیدا کیا، کس نے انہیں کائنات میں ان کی جگہوں پر ٹانگا، کس نے ان کی گردش اور پھیلاؤ کے اصول و قوانین بنائے، ان کو روشن کرنے کے لئے کس نے ایندھن مہیا کیا۔؟ سائنس کہتی ہے کہ ستاروں پر ایندھن کے جلنے میں فیوژن کا عمل ہوتا ہے۔ وہ کون ہے جس نے فیوژن کا عمل پیدا کیا۔؟ آج سائنسدان کتابوں پہ کتابیں لکھ رہے ہیں، تحقیقی مقالہ جات شائع ہو رہے ہیں، انہی اصولوں کو دریافت کرنے، سمجھنے اور بیان کرنے کے لئے۔۔۔ لیکن یہ اصول، یہ باتیں یہ تخلیقات دراصل اللہ تعالیٰ کی خدائی کے کرشمے ہیں۔ ۔
 
Top