• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سایہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
شاید آپ اس آیہ کا پوچھ رہے ہیں :
وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ ۭكَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ ۔۔النحل81؀
اور اللہ ہی نے بنادیے تمہارے لیے سائے (ا ان چیزوں ) سے جو اس نے پیدا کیں اور اس نے بنائیں تمہارے لیے پہاڑوں میں غاریں اور اس نے بنائیں تمہارے لیے قمیصیں وہ بچاتی ہیں تمہیں گرمی سے اور وہ قمیصیں (زرہیں) جو بچاتی ہیں تمہیں تمہاری جنگ میں اسی طرح وہ پوری کرتا ہےاپنی نعمت تم پر تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں اور (ایسے) کرتے (بھی) جو تم کو (اسلحہ) جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں ۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرماں بردار بنو ۔
 
شمولیت
دسمبر 10، 2013
پیغامات
389
ری ایکشن اسکور
141
پوائنٹ
91
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
شیخ یعنی اس کا مطلب ہے کہ اس آیت سے مراد یقنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
جو بھی زمین و آسمان میں رہتا ہے ،وہ اللہ کو کسی نہ کسی صورت سجدہ کرتا ہے ۔۔اور جو بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے ،اس کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے ؛
اور انبیاء کرام بھی انہی میں شامل ہیں ؛
’’ وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ‘‘ (الرعد ۔ 15)

ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے ۔چارو ناچار اللہ کو سجدہ کر رہا ہے ۔ (اسی طرح) ان کے سائے صبح و شام سجدہ ریز ہوتے ہیں؛
اس کی تفسیر میں علامہ ابو السعودحنفی لکھتے ہیں:
{مَن فِى السماوات والارض} من الملائكةِ والثَّقلين {طَوْعًا وَكَرْهًا} أي الطائعين وكارهين‘
اس آیت میں (جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے) سےمراد فرشتے اور ثقلین ۔۔یعنی ۔۔جن و انس ۔۔ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
15-13 اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے اللہ ہی کو سجدہ کر رہا ہے، خوشی اور ناخوشی سے ۔اور ان کے سائے بھی پہلے اور پچھلے پہر(سجدہ کرتے ہیں)۔( شیخ عبد السلام بھٹوی )

علامہ ابن کثیر ؒ اس آیہ کے ذیل میں لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت وسلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے ۔ ان کی پرچھائیں (سائے ) صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے ۔ اصال جمع ہے اصیل کی ۔

اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے ۔ فرمان ہے آیت ( اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48؀) 16- النحل :48) یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ۔( تفسیر ابن کثیر )
 
Last edited:
شمولیت
مئی 09، 2014
پیغامات
50
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
48
میرے خیال سے نبی کریم صلی االلہ علیہ وسلم کا سایہ اس لئے نہیں تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ نہیں پڑتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہمیشہ ایک بادل کا ٹکڑا رہتا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ بنائے رہتا تھا۔ اور سایہ دھوپ پڑنے سے ہی بنتا ہے۔
یہ میراذاتی خیال ہے حقیقت اللہ بہتر جانے۔
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
318
پوائنٹ
127
عمار شمسی صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت حقیقی ہے خیالی نہیں اسی طرح آپ حقیقی انسان ہیں کوئی خیالی نہیں صحابہ کرام ،تابعین وتبع تابعین۔ ائمہ اربعہ ۔محدثین کرام وغیرھم کے یہاں کبھی یہ مسءلہ نہیں اٹھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا یا نہیں کیونکہ یہ بدیہی مسئلہ ہے کہ ھر مخلوق کا سایہ ہوتا ہے اور مخلوق میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی شامل ہیں لہذا آپکا بھی سایہ تھا صرف چوندہوی صدی میں ایک مخصوص طبقہ جس کے یہاں عقیدہ توحید اور اتباع نبی کا کوئی تصور نہیں صرف اسی کے یہاں اس جیسا فرضی مسئلہ ہے لہذا حقیقی اسلام معلوم کرنے کی کوشش کیجئے تاکہ اس پر عمل کرکے دنیا و آخرت میں اللہ کی رضا حاصل کرسکیں۔
 

Abdul Haseeb

مبتدی
شمولیت
اگست 14، 2016
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
3
پوائنٹ
18
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور تھے؟ اور کیا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سایا مبارک تھا۔
علامہ جلال الدین قاسمی
 

khalil rana

رکن
شمولیت
دسمبر 05، 2015
پیغامات
218
ری ایکشن اسکور
32
پوائنٹ
52
عدم سایہ کی احادیث ضعیف ہیں ؟ یا موضوع ہیں ؟
کیا ضعیف حدیث ،حدیث بھی ہوتی ہے یا نہیں ؟
کیا ضعیف حدیث فضائل بیان کرنے میں کام دیتی ہے یا نہیں ؟
کیا موضوع حدیث فضائل میں بیان کی جا سکتی ہے؟
ضعیف حدیث اور موضوع حدیث کا حکم ایک ہے یا الگ الگ ہے ؟
 
شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
میرے خیال سے نبی کریم صلی االلہ علیہ وسلم کا سایہ اس لئے نہیں تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ نہیں پڑتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہمیشہ ایک بادل کا ٹکڑا رہتا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ بنائے رہتا تھا۔ اور سایہ دھوپ پڑنے سے ہی بنتا ہے۔
یہ میراذاتی خیال ہے حقیقت اللہ بہتر جانے۔
السلام علیکم !
سورۃ الانبیائ 21۔ اُن رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں ، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے۔ (8)
سورۃ الحجر15۔پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ ’’ میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔ (28)
سورۃ الروم30۔اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔(20)
سورۃ ص 38۔جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا ’’ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں ۔‘‘ (71)
سورۃ السجدہ 41۔اے نبی ﷺ ، ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسامجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک خدا ہے ، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو، اور اس سے معافی چاہو ۔ تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے (6)
سورۃ النحل 16۔اور کیایہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے ؟ سب کی سب اس طرح اظہارِ عجز کر رہے ہیں۔(48)

٭تمام پیغمبر بشر تھے ۔ آدم علیہ السلام بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے ۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھی والدہ تھیں لیکن والد نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن تمام بشر تھے ۔ انسان تھے ۔
گوشت تھا،ہڈیاں تھیں،ناخن تھے،ہاتھ،پائوں،آنکھیں،بال،زبان،دانت،اندرونی اعضائ تھے ۔دل تھا خون تھا،سوتے تھے ، کھانا کھاتے تھے ، بھوک لگتی تھی۔ اولاد پیدا کرتے تھے۔ پاکی پلیدی ساتھ تھی یعنی باتھ بھی جاتے تھے ۔ سب نے وفات پائی کوئی بھی موت سے نہیں بچا۔۔۔
لیکن
بشر انسان تھے جنتی تھے معصوم تھے ۔ بشر تھے بشر تھے بشر تھے ۔۔۔۔

سورۃ الکھف 18۔
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیرے اور (ظالم )اس برے انجام کو بھول جائے جس کا سرو سامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟(جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) اُن کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور ان کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے۔ تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلائو ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔(57)
 
شمولیت
جون 11، 2015
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
مقبول احمدصاحب نے بہت اچھا جواب دیا ہے جو یہاں میں لگانا چہتا ہوں۔
نبی ﷺ کا سایہ مبارک
آپ ﷺ کا سایہ تھا ، یہ بات عقلا اور نقلا دونوں سے ثابت ہے ۔ شرعی دلائل ملاحظہ ہوں ۔
(1) ﴿أَوَلَم يَرَ‌وا إِلىٰ ما خَلَقَ اللَّ
ـهُ مِن شَيءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلالُهُ عَنِ اليَمينِ وَالشَّمائِلِ سُجَّدًا لِلَّـهِ وَهُم داخِر‌ونَ ﴾ (النحل : 48)
کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا ؟کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہیں اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ۔
(2) ﴿وَلِلَّهِ يَسجُدُ مَن فِي السَّماواتِ وَالأَر‌ضِ طَوعًا وَكَر‌هًا وَظِلالُهُم بِالغُدُوِّ وَالآصالِ ﴾ (الرعد: 15)
اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی سب مخلوق خوشی اور نا خوشی سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح و شام ۔
ان دونوں آیات مقدسہ سے ثابت ہوا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ نے جتنی اور جتنی اقسام کی مخلوق پیدا فرمائی ہے ان کا سایہ بھی ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی تو بہر حال اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ۔ لہذا دوسری تمام مخلوق کی طرح لا محالہ آپ کا بھی سایہ تھا ۔
(3) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور عین نماز کے دوران آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اچانک آگے بڑھایا ، پھر جلد ہی پیچھے ہٹا لیا ۔ ہم نے آپ ﷺسے آپ کے اس خلاف معمول نماز میں جدید عمل کے اضافہ کی وجہ دریافت کی تو ہمارے اس سوال کے جواب میں آپ ﷺنے فرمایا کہ میرے سامنے ابھی ابھی جنت لائی گئی ۔ میں نے اس میں بڑے اچھے پھل دیکھے تو میں نے چاہا کہ اس میں سے کوئی گچھا توڑلوں ۔ مگر معاحکم ملا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں پیچھے پلٹ گیا ۔ پھر اسی طرح جہنم بھی دکھائی گئی ۔ حتى رأيت ظلى وظلكم میں نے اس کی روشنی میں اپنا اور آپ لوگوں سایہ دیکھا ۔ دیکھتے ہی میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔(مستدرك الحاكم ج4ص 456) حديث صحيح
(4) حضرت صفیہ بنت حیی فرماتی ہیں کہ ہم حج کی سعادت حاصل کر کے واپس آ رہے تھے کہ میری سواری بہک گئی جب کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک اونٹ زائد تھا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا :افقرى اختك صفية جملك -آپ اپنا اونٹ سواری کے لئے عاریتا صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دو ۔تو حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں اپنا اونٹ یہود یہ عورت کو کیوں دوں؟اس تلخ بات پر رسول اللہ ﷺسیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ناراض ہو گئے اور تین ماہ تک ان کے گھر بھی تشریف نہ لائے حضرت زینب فرماتی ہیں :
فلما كان شهر ربيع الأول دخل عليها فرأت ظله فقالت: إن هذا لظل رجل وما يدخل علي النبي - صلى الله عليه وسلم - فمن هذا؟ دخل النبي صلى الله عليه وسلم. (مجمع الزوائد ج4 ص 324)
سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ جب ناراضگی میں محرم اور صفر گزر گئے اور ربیع الاول کا مہینہ آ پہنچا تو رسول اللہ ﷺمیرے ہاں تشریف لائے ہوا یوں کہ میں نے آپ سے پہلے آپ کا سایہ دیکھا تو میں نے کہا کہ یہ تو انسانی سایہ ہے جو میرے گھر میں گھس رہا ہے۔
(5) حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد بزرگوار حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہادت پا گئے تو ان کے اہل و عیال ان کے پاس اکٹھے ہو کر رونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مازالت الملائكة تظله باجنحتها حتى دفعتموها»(بخارى كتاب الجنائز)
جب تک تم لوگ اس کو یہاں سے اٹھا نہیں لیتے اس وقت تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کرتے رہیں گے۔"
اس حدیث سے نوری کا بھی سایہ ثابت ہورہا ہے تو بشر کا سایہ درجہ اولی ۔
 
Top