- شمولیت
- نومبر 08، 2011
- پیغامات
- 3,416
- ری ایکشن اسکور
- 2,733
- پوائنٹ
- 556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
@مفتی عبداللہ بھائی
جناب علقمہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں ؟ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی اور اپنے ہاتھ صرف ایک ہی بار اٹھائے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر ہے اور ان الفاظ میں صحیح نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 563 – 564 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: أَلاَ أُصَلِّي بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
وَفِي البَابِ عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ. وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ.
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:' کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح صلاۃ نہ پڑھاؤں؟ توانہوں نے صلاۃ پڑھائی اورصرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کابھی قول ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 206 جامع الترمذي مع ترجمه اردو» كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ
امام ترمذی کا حسن کہنا ایک الگ بات ہے، بہر حال امام ترمذی کی تحسین اور امام حاکم کی تصحیح کا جمہور کی تضعیف کے مقابلہ میں اعتبار نہیں! یہ قاعدہ احناف کے ہاں بھی معروف و مقبول ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ امام ترمذی نے اس سے قبل امام عبد اللہ بن مبارک کا درج ذیل قول پیش کیا ہے:
وقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ، وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: جواپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث(دلیل) صحیح ہے، پھرانہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث 'نبی اکرم ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ اپنے ددنوں ہاتھ اٹھائے' والی ثابت نہیں ہے،
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 206 جامع الترمذي مع ترجمه اردو» كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يُعِدْ»
حضرت علقمہ سے روایت ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر آپ اٹھے (نماز شروع کی) پہلی بار رفع الیدین کیا، پھر نہ کیا۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 542 سنن النسائى » كِتَابُ الِافْتِتَاحِ » الرُّخْصَةُ فِي تَرْكِ ذَلِكَ
﴿ قال الْبُخَارِي﴾أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: «أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً»
حضرت علقمہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جیسی نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انھوں نے نماز پڑھی اور ایک دفعہ سے زائد رفع الیدین نہ کیا۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 561 سنن النسائى » كِتَاب التَّطْبِيقِ » الرُّخْصَةُ فِي تَرْكِ ذَلِكَ
اب اس حدیث کی صحت کے متعلق امام بخاری ، امام احمد بن حنبل اور امام أبو حاتم الرازی رحمہ اللہ عنہم نے اس حدیث کو شاذ و معلول یعنی کہ ضعیف قرار دیا ہے؛ ملاحظہ فرمائیں:
وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: نَظَرْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.
فَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الْكِتَابَ أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِأَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا حَدَّثَ بِشَيْءٍ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْكِتَابِ فَيَكُونُ كَمَا فِي الْكِتَابِ.
سفیان (الثوری) سے عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمٰن بن الأسود عن علقمہ (کی سند) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن مسعود نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو ایک دفعہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کیا۔
اور احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے بیان کیا کہ: میں نے عبد اللہ بن ادریس کی عاصم بن کلیب سے کتاب میں دیکھا ہے۔ اس میں پھر دوبارہ نہیں کیا، کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور (عبد اللہ بن ادریس کی) یہ روایت زیادہ صحیح ہے کیونکہ علماء کے نزدیک کتاب زیادہ محفوظ ہوتی ہے، کیونکہ آدمی بعض أوقات کوئی بات کرتا ہے پھر جب (اپنی کتاب) کی طرف رجوع کرتا ہے تو (صحیح) وہی ہوتا ہے جو کتاب میں ہے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 57 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 28 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْهُ قَالَ: " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ: فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ رَكَعَ , فَطَبَّقَ يَدَيْهِ جَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا ".
قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَهَذَا الْمَحْفُوظُ عِنْدَ أَهْلِ النَّظَرِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
ہمیں الحسن بن الربیع نے حدیث بیان کی: ہمیں اب ادریس نے حدیث بیان کی عاصم بن کلیب سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن الأسود سے: ہمیں علقمہ نے حدیث بیان کی۔ بے شک عبد اللہ (بن مسعود) نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سکھلائی ہے۔ پس وہ کھڑے ہوئے تو تکبیر کہی اور رفع الیدین کیا۔ پھر رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو تطبیق کرتے ہوئے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ دیا۔
پھر سعد (بن ابی وقاص) کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا: میرے بھائی نے سچ کہا ہے۔ ہم اسلام کے ابتدائی دور میں اسی طرح کرتے تھے پھر ہمیں اس کا حکم دیا گیا (کہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں)
امام بخاری نے کہا: محقق علماء کے نزدیک عبد اللہ بن مسعود کی حدیث میں سے یہی روایت محفوظ ہے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 57 – 58 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 28- 29 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
709 - قُلْتُ لِأَبِي حَدِيثُ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَاهُ وَكِيعٌ فِي الْجَمَاعَةِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ بن مَسْعُود أَلا أُصَلِّي بكم صَلَاة رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً حَدثنِي أبي قَالَ حدّثنَاهُ وَكِيع مرّة أُخْرَى بِإِسْنَادِهِ سَوَاء فَقَالَ قَالَ عبد الله أُصَلِّي بكم صَلَاة رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَرفع يَدَيْهِ فِي أول
710 - حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا أَبُو عبد الرَّحْمَن الضَّرِير قَالَ كَانَ وَكِيع رُبمَا قَالَ يَعْنِي ثمَّ لَا يعود قَالَ أبي كَانَ وَكِيع يَقُول هَذَا من قبل نَفسه يَعْنِي ثمَّ لَا يعود
711 - قَالَ أبي وَقَالَ الْأَشْجَعِيّ فَرفع يَدَيْهِ فِي أول شَيْء
712 - وَذَكَرْتُ لأَبِي حَدِيثَ الثَّوْرِيِّ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ الصَّلاةِ ثُمَّ لَا يَعُودُ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَجُزْ بِهِ إِبْرَاهِيمُ وَهُشَيْمٌ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ حُصَيْنٍ
713 - قَالَ أبي حَدِيث عَاصِم بن كُلَيْب رَوَاهُ بن إِدْرِيس فَلم يقل ثمَّ لَا يعود
714 - حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ مِنْ كِتَابِهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ يَدَيْهِ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا وَأَخَذَ بِرُكْبَتَيْهِ حَدثنِي عَاصِم بن كُلَيْب هَكَذَا قَالَ أبي هَذَا لفظ غير لفظ وَكِيع، وَكِيع يثبج الحَدِيث لِأَنَّهُ كَانَ يحمل نَفسه فِي حفظ الحَدِيث
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 369 – 371جلد 01 العلل ومعرفة الرجال - أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) - دار الخاني، الرياض
258 - وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيب، عن عبد الرحمن بْنِ الأسود، عَنْ عَلْقَمَة، عَنْ عبد الله: أنَّ النبيَّ (ص) قَامَ، فكبَّر فَرَفَعَ يدَيه، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ؟
قَالَ أَبِي: هَذَا خطأٌ؛ يُقَالُ: وَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ، وَرَوَى هَذَا الحديثَ عَنْ عاصمٍ جماعةٌ، فَقَالُوا كلُّهم: إنَّ النبيَّ (ص) افتتَحَ، فَرَفَعَ يدَيه، ثُمَّ رَكَعَ، فطبَّق، وجَعَلَها بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ. وَلَمْ يقُلْ أحدٌ ما رواه الثوريُّ.
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 123 – 124 جلد 02 العلل لابن أبي حاتم - أبو محمد عبد الرحمن بن محمد، ابن أبي حاتم الرازي (المتوفى: 327هـ) - مكتبة الملك فهد الوطنية
@مفتی عبداللہ بھائی
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِحدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ:
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہارے سامنے حضور علیہ السلام کینماز نہ پڑھوں؟ پس آپ نے نماز پڑھی اس میں سوائے تکبیر تحریمہ کے کبھی ہاتھ نہ اٹھائے۔ (جامع ترمذی،سنن أبو داؤد، نسائی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے پھر نماز میں کہیں نہ اٹھاتے۔ (طحاوی)
جناب علقمہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں ؟ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی اور اپنے ہاتھ صرف ایک ہی بار اٹھائے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر ہے اور ان الفاظ میں صحیح نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 563 – 564 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: أَلاَ أُصَلِّي بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
وَفِي البَابِ عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ. وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ.
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:' کیا میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح صلاۃ نہ پڑھاؤں؟ توانہوں نے صلاۃ پڑھائی اورصرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کابھی قول ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 206 جامع الترمذي مع ترجمه اردو» كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ
امام ترمذی کا حسن کہنا ایک الگ بات ہے، بہر حال امام ترمذی کی تحسین اور امام حاکم کی تصحیح کا جمہور کی تضعیف کے مقابلہ میں اعتبار نہیں! یہ قاعدہ احناف کے ہاں بھی معروف و مقبول ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ امام ترمذی نے اس سے قبل امام عبد اللہ بن مبارک کا درج ذیل قول پیش کیا ہے:
وقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ، وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ إِلاَّ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: جواپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث(دلیل) صحیح ہے، پھرانہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث 'نبی اکرم ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ اپنے ددنوں ہاتھ اٹھائے' والی ثابت نہیں ہے،
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 206 جامع الترمذي مع ترجمه اردو» كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب مَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ لَمْ يُعِدْ»
حضرت علقمہ سے روایت ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر آپ اٹھے (نماز شروع کی) پہلی بار رفع الیدین کیا، پھر نہ کیا۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 542 سنن النسائى » كِتَابُ الِافْتِتَاحِ » الرُّخْصَةُ فِي تَرْكِ ذَلِكَ
﴿ قال الْبُخَارِي﴾أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: «أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً»
حضرت علقمہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جیسی نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انھوں نے نماز پڑھی اور ایک دفعہ سے زائد رفع الیدین نہ کیا۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 561 سنن النسائى » كِتَاب التَّطْبِيقِ » الرُّخْصَةُ فِي تَرْكِ ذَلِكَ
اب اس حدیث کی صحت کے متعلق امام بخاری ، امام احمد بن حنبل اور امام أبو حاتم الرازی رحمہ اللہ عنہم نے اس حدیث کو شاذ و معلول یعنی کہ ضعیف قرار دیا ہے؛ ملاحظہ فرمائیں:
وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ: نَظَرْتُ فِي كِتَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.
فَهَذَا أَصَحُّ لِأَنَّ الْكِتَابَ أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِأَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا حَدَّثَ بِشَيْءٍ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْكِتَابِ فَيَكُونُ كَمَا فِي الْكِتَابِ.
سفیان (الثوری) سے عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمٰن بن الأسود عن علقمہ (کی سند) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن مسعود نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو ایک دفعہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کیا۔
اور احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے بیان کیا کہ: میں نے عبد اللہ بن ادریس کی عاصم بن کلیب سے کتاب میں دیکھا ہے۔ اس میں پھر دوبارہ نہیں کیا، کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور (عبد اللہ بن ادریس کی) یہ روایت زیادہ صحیح ہے کیونکہ علماء کے نزدیک کتاب زیادہ محفوظ ہوتی ہے، کیونکہ آدمی بعض أوقات کوئی بات کرتا ہے پھر جب (اپنی کتاب) کی طرف رجوع کرتا ہے تو (صحیح) وہی ہوتا ہے جو کتاب میں ہے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 57 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 28 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْهُ قَالَ: " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ: فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ رَكَعَ , فَطَبَّقَ يَدَيْهِ جَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا ".
قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَهَذَا الْمَحْفُوظُ عِنْدَ أَهْلِ النَّظَرِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
ہمیں الحسن بن الربیع نے حدیث بیان کی: ہمیں اب ادریس نے حدیث بیان کی عاصم بن کلیب سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن الأسود سے: ہمیں علقمہ نے حدیث بیان کی۔ بے شک عبد اللہ (بن مسعود) نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سکھلائی ہے۔ پس وہ کھڑے ہوئے تو تکبیر کہی اور رفع الیدین کیا۔ پھر رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو تطبیق کرتے ہوئے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ دیا۔
پھر سعد (بن ابی وقاص) کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا: میرے بھائی نے سچ کہا ہے۔ ہم اسلام کے ابتدائی دور میں اسی طرح کرتے تھے پھر ہمیں اس کا حکم دیا گیا (کہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں)
امام بخاری نے کہا: محقق علماء کے نزدیک عبد اللہ بن مسعود کی حدیث میں سے یہی روایت محفوظ ہے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 57 – 58 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 28- 29 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
709 - قُلْتُ لِأَبِي حَدِيثُ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَاهُ وَكِيعٌ فِي الْجَمَاعَةِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ بن مَسْعُود أَلا أُصَلِّي بكم صَلَاة رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً حَدثنِي أبي قَالَ حدّثنَاهُ وَكِيع مرّة أُخْرَى بِإِسْنَادِهِ سَوَاء فَقَالَ قَالَ عبد الله أُصَلِّي بكم صَلَاة رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَرفع يَدَيْهِ فِي أول
710 - حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا أَبُو عبد الرَّحْمَن الضَّرِير قَالَ كَانَ وَكِيع رُبمَا قَالَ يَعْنِي ثمَّ لَا يعود قَالَ أبي كَانَ وَكِيع يَقُول هَذَا من قبل نَفسه يَعْنِي ثمَّ لَا يعود
711 - قَالَ أبي وَقَالَ الْأَشْجَعِيّ فَرفع يَدَيْهِ فِي أول شَيْء
712 - وَذَكَرْتُ لأَبِي حَدِيثَ الثَّوْرِيِّ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ الصَّلاةِ ثُمَّ لَا يَعُودُ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَجُزْ بِهِ إِبْرَاهِيمُ وَهُشَيْمٌ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ حُصَيْنٍ
713 - قَالَ أبي حَدِيث عَاصِم بن كُلَيْب رَوَاهُ بن إِدْرِيس فَلم يقل ثمَّ لَا يعود
714 - حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ مِنْ كِتَابِهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ يَدَيْهِ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ أَمَرَنَا بِهَذَا وَأَخَذَ بِرُكْبَتَيْهِ حَدثنِي عَاصِم بن كُلَيْب هَكَذَا قَالَ أبي هَذَا لفظ غير لفظ وَكِيع، وَكِيع يثبج الحَدِيث لِأَنَّهُ كَانَ يحمل نَفسه فِي حفظ الحَدِيث
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 369 – 371جلد 01 العلل ومعرفة الرجال - أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) - دار الخاني، الرياض
258 - وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيب، عن عبد الرحمن بْنِ الأسود، عَنْ عَلْقَمَة، عَنْ عبد الله: أنَّ النبيَّ (ص) قَامَ، فكبَّر فَرَفَعَ يدَيه، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ؟
قَالَ أَبِي: هَذَا خطأٌ؛ يُقَالُ: وَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ، وَرَوَى هَذَا الحديثَ عَنْ عاصمٍ جماعةٌ، فَقَالُوا كلُّهم: إنَّ النبيَّ (ص) افتتَحَ، فَرَفَعَ يدَيه، ثُمَّ رَكَعَ، فطبَّق، وجَعَلَها بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ. وَلَمْ يقُلْ أحدٌ ما رواه الثوريُّ.
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 123 – 124 جلد 02 العلل لابن أبي حاتم - أبو محمد عبد الرحمن بن محمد، ابن أبي حاتم الرازي (المتوفى: 327هـ) - مكتبة الملك فهد الوطنية
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں میں نے حضور علیہ السلام کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز شروع کی تو دونوں ہاتھ اٹھائے پھر نماز سے فارغ ہونے تک ہاتھ نہ اٹھائے۔ (سنن ابی داؤد)
749 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ لَا يَعُودُ»،
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک اٹھاتے ، پھر دوبارہ نہ اٹھاتے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 565 – 566 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
اس حدیث کے متعلق امام أبو داؤد رحمہ اللہ کا ہی کلام ملاحظہ فرمائیں:
750 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ، نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لَمْ يَقُلْ: «ثُمَّ لَا يَعُودُ»، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ لَنَا بِالْكُوفَةِ بَعْدُ «ثُمَّ لَا يَعُودُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ، لَمْ يَذْكُرُوا «ثُمَّ لَا يَعُودُ»،
عبداللہ بن محمد زہری کی سند سے ، یزید سے شریک کی مانند مروی ہے اور «ثُمَّ لَا يَعُودُ»کے لفظ ذکر نہیں کیے (یعنی ” پھر دوبارہ نہ اٹھاتے “ کے لفظ نقل نہیں کیے ) ۔ سفیان نے کہا : بعد میں کوفہ میں ہم کو «ثُمَّ لَا يَعُودُ»کے لفظ بیان کیے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : اس حدیث کو ہشیم ، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے مگر ان حضرات نے «ثُمَّ لَا يَعُودُ» کا لفظ روایت نہیں کیا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 566 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
751 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو حُذَيْفَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ: «فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ»، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «مَرَّةً وَاحِدَةً»
جناب سفیان نے اسی سند سے اس حدیث کو بیان کیا ۔ کہا : پس آپ نے پہلی ہی بار اپنے ہاتھ اٹھائے ۔ اور بعض نے کہا : ایک ہی بار اٹھائے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 564 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
752 - حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے ۔ پھر فارغ ہونے تک نہیں اٹھائے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 566 – 567 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
اس حدیث کے متعلق امام بخاری اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کلام ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ هَهُنَا عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ» قَالَ سُفْيَانُ: لَمَّا كَبُرَ الشَّيْخُ لَقَّنُوهُ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ. فَقَالَ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَكَذَلِكَ رَوَى الْحُفَّاظُ مَنْ سَمِعَ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَدِيمًا مِنْهُمُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَزُهَيْرٌ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ
ہمیں حمیدی نے حدیث بیان کی: ہميں سفیان (بن عیینہ ) نے یزید بن ابی زیاد سے حدیث بیان کی یہاں (عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔
سفیان (بن عیینہ) نے کیا: جب (یزید بن ابی زیاد) بوڑھا شخص بن گیا تو (نامعلوم) لوگوں نے اسے ''پھر دوبارہ نہیں کیا'' کے الفاظ بذریعہ تلقین رٹا دیئے۔
امام بخاری نے کہا: اس طرح، یزید بن ابی زیاد سے قدیم زمانے میں سننے والے حفاظِ حدیث (مثلاً) ثوری، شعبہ اور زہیر نے روایت بیان کی ہے۔ انہوں نے ''پھر دوبارہ نہیں کیا'' کے الفاظ بیان نہیں کئے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 58 - 59 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 29 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ حَذْوَ أُذُنَيْهِ»
ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی: ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے یزید بن ابی زیاد سے حدیث بیان کی، اس نے (عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو کانوں تک رفع الیدین کرتے تھے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 59 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 30 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى، وَكِيعٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ
قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَإِنَّمَا رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا مِنْ حِفْظِهِ فَأَمَّا مَنْ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ كِتَابِهِ فَإِنَّمَا حَدَّثَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ يَزِيدَ فَرَجَعَ الْحَدِيثُ إِلَى تَلْقِينِ يَزِيدَ، وَالْمَحْفُوظُ مَا رَوَى عَنْهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ قَدِيمًا
امام بخاری نے کہا: اور وکیع نے (محمد بن عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے روایت بیان کی، اس نے اپنے بھائی عیسیٰ اور حکم بن عتیبہ سے انہوں نے (عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے آپ جب تکبیر کہتے تو رفع الیدین کرتے۔ پھر رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
امام بخاری نے کہا: (محمد بن ابی لیلیٰ نے یہ روایت صرف اپنے حافظے سے (زبانی) بیان کی ہے۔ جس شخص نے (محمد) بن ابی لیلیٰ کی کتاب سے حدیث بیان کی ہے تو اس نے (محمد) بن ابی لیلیٰ سے صرف یزید (بن ابی زیاد) سے یہ روایت بیان کی ہے پس یہ حدیث یزید (بن ابی زیاد) کی تلقین تک واپس لوٹ گئی ہے۔ اور محفوظ وہی ہے جو ثوری، شعبہ اور ابن عیینہ نے (يزید سے اس کے) قدیم زمانے میں بیان کیا ہے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 60 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 30 - 31 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
708 - سَأَلْتُ أَبِي عَنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِي الرَّفْعِ فَقَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ سَمِعت بن أَبِي لَيْلَى يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ قَوْمًا فِيهِمْ كَعْبُ بْنُ عَجْرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صله الله عَلَيْهِ وَسلم حِين فتح الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَالَ أبي وَكَانَ سُفْيَان بن عُيَيْنَة يَقُول سمعناه من يزِيد هَكَذَا قَالَ سُفْيَان ثمَّ قدمت الْكُوفَة قدمة فَإِذا هُوَ يَقُول ثمَّ لم يعد حَدثنِي أبي عَن مُحَمَّد بن عبد الله بن نمير قَالَ نظرت فِي كتاب بن أبي ليلى فَإِذا هُوَ يرويهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ أبي وحدثناه وَكِيع سَمعه من بن أبي ليلى عَن الحكم وَعِيسَى عَن عبد الرَّحْمَن بن أبي ليلى وَكَانَ أبي يذكر حَدِيث الحكم وَعِيسَى يَقُول إِنَّمَا هُوَ حَدِيث يزِيد بن أبي زِيَاد كَمَا رَآهُ بن نمير فِي كتاب بن أبي ليلى قَالَ أبي بن أبي ليلى كَانَ سيء الْحِفْظ وَلم يكن يزِيد بن أبي زِيَاد بِالْحَافِظِ.
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 368 - 369 جلد 01 العلل ومعرفة الرجال - أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) - دار الخاني، الرياض
715 - حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن أَبِيه عَن يزِيد عَن بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم نَحوه يَعْنِي حَدِيث شُعْبَة عَن يزِيد وَلم يقل ثمَّ لَا يعود
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 372 - 373 جلد 01 العلل ومعرفة الرجال - أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) - دار الخاني، الرياض
اللہ تعالیٰ ہمیں دین میں دھوکہ و فریب کاری کرنے والوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!
ویسے اگر آپ کا دوبارہ وہاں جانا ہو تو اتنا ضرور پوچھیئے گا کہ اگر رفع الیدین کرنا منع ہے، تو یہ حضرات وتر میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک اٹھاتے ، پھر دوبارہ نہ اٹھاتے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 565 – 566 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
اس حدیث کے متعلق امام أبو داؤد رحمہ اللہ کا ہی کلام ملاحظہ فرمائیں:
750 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ، نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ، لَمْ يَقُلْ: «ثُمَّ لَا يَعُودُ»، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ لَنَا بِالْكُوفَةِ بَعْدُ «ثُمَّ لَا يَعُودُ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ، لَمْ يَذْكُرُوا «ثُمَّ لَا يَعُودُ»،
عبداللہ بن محمد زہری کی سند سے ، یزید سے شریک کی مانند مروی ہے اور «ثُمَّ لَا يَعُودُ»کے لفظ ذکر نہیں کیے (یعنی ” پھر دوبارہ نہ اٹھاتے “ کے لفظ نقل نہیں کیے ) ۔ سفیان نے کہا : بعد میں کوفہ میں ہم کو «ثُمَّ لَا يَعُودُ»کے لفظ بیان کیے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : اس حدیث کو ہشیم ، خالد اور ابن ادریس نے یزید سے روایت کیا ہے مگر ان حضرات نے «ثُمَّ لَا يَعُودُ» کا لفظ روایت نہیں کیا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 566 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
751 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو حُذَيْفَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ: «فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ»، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «مَرَّةً وَاحِدَةً»
جناب سفیان نے اسی سند سے اس حدیث کو بیان کیا ۔ کہا : پس آپ نے پہلی ہی بار اپنے ہاتھ اٹھائے ۔ اور بعض نے کہا : ایک ہی بار اٹھائے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 564 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
752 - حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ»، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے ۔ پھر فارغ ہونے تک نہیں اٹھائے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 566 – 567 جلد 01 سنن أبي داود مع ترجمه اردو » كِتَاب الصَّلَاةِ » أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ » بَاب مَنْ لَمْ يَذْكُرِ الرَّفْعَ عِنْدَ الرُّكُوعِ
اس حدیث کے متعلق امام بخاری اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کلام ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ هَهُنَا عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ» قَالَ سُفْيَانُ: لَمَّا كَبُرَ الشَّيْخُ لَقَّنُوهُ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ. فَقَالَ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.
قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَكَذَلِكَ رَوَى الْحُفَّاظُ مَنْ سَمِعَ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَدِيمًا مِنْهُمُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَزُهَيْرٌ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَمْ يَعُدْ
ہمیں حمیدی نے حدیث بیان کی: ہميں سفیان (بن عیینہ ) نے یزید بن ابی زیاد سے حدیث بیان کی یہاں (عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔
سفیان (بن عیینہ) نے کیا: جب (یزید بن ابی زیاد) بوڑھا شخص بن گیا تو (نامعلوم) لوگوں نے اسے ''پھر دوبارہ نہیں کیا'' کے الفاظ بذریعہ تلقین رٹا دیئے۔
امام بخاری نے کہا: اس طرح، یزید بن ابی زیاد سے قدیم زمانے میں سننے والے حفاظِ حدیث (مثلاً) ثوری، شعبہ اور زہیر نے روایت بیان کی ہے۔ انہوں نے ''پھر دوبارہ نہیں کیا'' کے الفاظ بیان نہیں کئے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 58 - 59 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 29 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ حَذْوَ أُذُنَيْهِ»
ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی: ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے یزید بن ابی زیاد سے حدیث بیان کی، اس نے (عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو کانوں تک رفع الیدین کرتے تھے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 59 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 30 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى، وَكِيعٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ
قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَإِنَّمَا رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا مِنْ حِفْظِهِ فَأَمَّا مَنْ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ كِتَابِهِ فَإِنَّمَا حَدَّثَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ يَزِيدَ فَرَجَعَ الْحَدِيثُ إِلَى تَلْقِينِ يَزِيدَ، وَالْمَحْفُوظُ مَا رَوَى عَنْهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ قَدِيمًا
امام بخاری نے کہا: اور وکیع نے (محمد بن عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے روایت بیان کی، اس نے اپنے بھائی عیسیٰ اور حکم بن عتیبہ سے انہوں نے (عبد الرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے آپ جب تکبیر کہتے تو رفع الیدین کرتے۔ پھر رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
امام بخاری نے کہا: (محمد بن ابی لیلیٰ نے یہ روایت صرف اپنے حافظے سے (زبانی) بیان کی ہے۔ جس شخص نے (محمد) بن ابی لیلیٰ کی کتاب سے حدیث بیان کی ہے تو اس نے (محمد) بن ابی لیلیٰ سے صرف یزید (بن ابی زیاد) سے یہ روایت بیان کی ہے پس یہ حدیث یزید (بن ابی زیاد) کی تلقین تک واپس لوٹ گئی ہے۔ اور محفوظ وہی ہے جو ثوری، شعبہ اور ابن عیینہ نے (يزید سے اس کے) قدیم زمانے میں بیان کیا ہے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 60 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة مع ترجمه اردو جزء رفع اليدين - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) – مكتبه اسلامیه
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 30 - 31 قرة العينين برفع اليدين في الصلاة - أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، (المتوفى: 256هـ) - دار الأرقم للنشر والتوزيع، الكويت
708 - سَأَلْتُ أَبِي عَنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِي الرَّفْعِ فَقَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ سَمِعت بن أَبِي لَيْلَى يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ قَوْمًا فِيهِمْ كَعْبُ بْنُ عَجْرَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صله الله عَلَيْهِ وَسلم حِين فتح الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَالَ أبي وَكَانَ سُفْيَان بن عُيَيْنَة يَقُول سمعناه من يزِيد هَكَذَا قَالَ سُفْيَان ثمَّ قدمت الْكُوفَة قدمة فَإِذا هُوَ يَقُول ثمَّ لم يعد حَدثنِي أبي عَن مُحَمَّد بن عبد الله بن نمير قَالَ نظرت فِي كتاب بن أبي ليلى فَإِذا هُوَ يرويهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ أبي وحدثناه وَكِيع سَمعه من بن أبي ليلى عَن الحكم وَعِيسَى عَن عبد الرَّحْمَن بن أبي ليلى وَكَانَ أبي يذكر حَدِيث الحكم وَعِيسَى يَقُول إِنَّمَا هُوَ حَدِيث يزِيد بن أبي زِيَاد كَمَا رَآهُ بن نمير فِي كتاب بن أبي ليلى قَالَ أبي بن أبي ليلى كَانَ سيء الْحِفْظ وَلم يكن يزِيد بن أبي زِيَاد بِالْحَافِظِ.
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 368 - 369 جلد 01 العلل ومعرفة الرجال - أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) - دار الخاني، الرياض
715 - حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن أَبِيه عَن يزِيد عَن بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم نَحوه يَعْنِي حَدِيث شُعْبَة عَن يزِيد وَلم يقل ثمَّ لَا يعود
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 372 - 373 جلد 01 العلل ومعرفة الرجال - أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل (المتوفى: 241هـ) - دار الخاني، الرياض
اللہ تعالیٰ ہمیں دین میں دھوکہ و فریب کاری کرنے والوں سے محفوظ رکھے۔ آمین!
ویسے اگر آپ کا دوبارہ وہاں جانا ہو تو اتنا ضرور پوچھیئے گا کہ اگر رفع الیدین کرنا منع ہے، تو یہ حضرات وتر میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟
Last edited: