19- بَاب السُّجُودِ
۱۹- باب: صلاۃ میں سجدے کا بیان
880- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ الأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى يَدَيْهِ، فَلَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۶ (۴۹۷)، د/الصلاۃ ۱۵۸ (۸۹۸)، ن/التطبیق ۵۲ (۱۱۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۳۱، ۳۳۲)، دي/الصلاۃ ۷۹ (۱۳۶۹) (صحیح)
۸۸۰- ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
881- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ، فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ فَأَنَاخُوا بِنَاحِيَةِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ لِي أَبِي: كُنْ فِي بَهْمِكَ حَتَّى آتِيَ هَؤُلاءِ الْقَوْمَ فَأُسَائِلَهُمْ، قَالَ فَخَرَجَ، وَجِئْتُ، يَعْنِي دَنَوْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَحَضَرْتُ الصَّلاةَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَتَيْ إِبْطَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كُلَّمَا سَجَدَ.
قَالَ ابْن مَاجَةَ: النَّاسُ يَقُولُونَ: عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: يَقُولُ النَّاسُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ .
* تخريج: ت/الصلاۃ ۸۹ (۲۷۴)، ن/التطبیق ۵۱ (۱۱۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵) (صحیح)
۸۸۱- عبد اللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ ۱؎ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کران سے پوچھوں (کہ کون لوگ ہیں)، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہیں، میں صلاۃ میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اکرم ﷺ سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ۲؎۔
ابن ماجہ کہتے ہیں: لوگ ''عبیداللہ بن عبداللہ'' کہتے ہیں، اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ ''عبد اللہ بن عبید اللہ'' کہتے ہیں۔
وضاحت۱؎: نمرہ: عرفات سے متصل ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات سے پہلے پڑتا ہے۔
وضاحت۲؎: سجدے میں آپ ﷺ دونوں بازوؤں کو پسلی سے اس قدر دور رکھتے کہ بغل صاف نظر آتی۔
881/أ- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، نَحْوَهُ۔
۸۸۱/أ- اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔
882- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۴۱ (۸۳۸)، ت/الصلاۃ ۸۵ (۲۶۸)، ن/التطبیق ۳۸ (۱۰۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۸۱)، دي/الصلاۃ ۷۴ (۱۳۵۹) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، نیز: ملاحظہ ہو: الإرواء: ۳۵۷، وضعیف أبی داود: ۱۵۱)
۸۸۲- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۱؎۔
وضاحت۱؎: امام دار قطنی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے طریقۂ صلاۃ کو شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان ثقہ راویوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے، اور یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو قطعاً قابل استدلال نہیں، اور صحیح حدیث ابو داود میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں ہے کہ دونوں ہاتھ کو دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے، علامہ ابن القیم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے:
''وليضع ركبتيه قبل يديه'' یعنی مصلی دونوں ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے، لیکن محدث عبد الرحمن مبارکپوری، علامہ احمد شاکر، شیخ ناصر الدین البانی نے ابن القیم کے اس رائے کی تردید کی ہے، اور ابن خزیمہ نے کہا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ روایت:
''كنا نضع اليدين قبل الركبتين فأمرنا بالركبتين قبل اليدين'' یعنی (پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے، پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا) انتہائی ضعیف ہے، اور قطعاً قابل استدلال نہیں۔
مسئلے کی مزید تنقیح اور وضاحت کے لیے ہم یہاں پر اہل علم کے اقوال نقل کرتے ہیں: اہل حدیث کا مذہب ہے کہ سجدے میں جانے کے لیے گھٹنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا جائے گا، یہی صحیح ہے اس لیے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے فعل اور حکم دونوں سے ثابت ہے، رہا فعل تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو گھٹنے سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے اس حدیث کی تخریج ایک جماعت نے کی ہے جن میں حاکم بھی ہیں، حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور جیسا کہ ان دونوں نے کہا ایسا ہی ہے، اس کی تصحیح ابن خزیمہ (۶۲۷) نے بھی کی ہے (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل ۲/۷۷-۷۸)، رہ گیا امر نبوی تو وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے ثابت ہے:
''إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير و ليضع يديه قبل ركبتيه'' یعنی: (جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کے بیٹھنے کی طرح زمین پر نہ بیٹھے، گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھے)، اس حدیث کی تخریج ابو داود، نسائی اور جماعت نے کی ہے، اور اس کی سند نووی اور زرقانی کے بقول جید ہے، اور یہی حافظ ابن حجر کا قول ہے، اوران دونوں حدیثوں کے معارض صرف وائل بن حجر کی حدیث ہے، اور یہ راوی حدیث شریک بن عبد اللہ القاضی کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ وہ سیٔ الحفظ (کمزور حافظہ کے) ہیں، تو جب وہ تفرد کی حالت میں ناقابل حجت ہیں تو جب ثقات کی مخالفت کریں گے تو کیا حال ہو گا، اسی لیے حافظ ابن حجر بلوغ المرام میں فرماتے ہیں کہ ابو ہریرہ کی حدیث وائل کی حدیث سے زیادہ قوی ہے، اور اس کو عبد الحق اشبیلی نے ذکر کیا ہے۔
طحاوی شرح معانی الآثار (۱/۱۵۰) میں فرماتے ہیں کہ اونٹ کے گھٹنے اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، ایسی ہی دوسرے چوپایوں کے اور انسان کا معاملہ ایسے نہیں تو ارشاد نبوی ہوا کہ مصلی اپنے گھٹنوں پر نہ بیٹھے جو کہ اس کے پاؤں میں ہوتے ہیں، جیسا کہ اونٹ اپنے گھٹنوں پر (جو اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں) بیٹھتا ہے، لیکن بیٹھنے کی ابتداء ایسے کرے کہ پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے جس میں اس کے گھٹنے نہیں ہیں پھر اپنے گھٹنوں کو رکھے تو اپنے اس فعل میں وہ اونٹ کے بیٹھنے کے خلاف کرے گا، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس سنت میں وارد حکم بظاہر واجب ہے، ابن حزم نے محلی میں اس کو واجب کہا ہے (۴/۱۲۸)، واجب کہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے الٹا ناجائز ہے، اور اس میں اس اتفاق کی تردید ہے جس کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فتاویٰ میں نقل کیا ہے کہ دونوں طرح جائز ہے، (فتاوی ابن تیمیہ ۱/۸۸)، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس متروک سنت پر تنبیہ ہونی چاہئے تاکہ اس پر عمل کرنے کا اہتمام ہو، اور یہی چیز ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی دس صحابہ رسول کے ساتھ حدیث میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ زمین کی طرف جاتے تھے اور آپ کے دونوں ہاتھ پہلو سے دور ہوتے تھے پھر سجدہ کرتے تھے، اور سبھوں نے ابو حمید سے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا، نبی اکرم ﷺ ایسے ہی صلاۃ پڑھتے تھے، اس کی روایت ابن خزیمہ (صحیح ابن خزیمہ ۱/۳۱۷-۳۱۸) وغیرہ نے صحیح سند سے کی ہے۔
جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا اور آپ نے میرے ساتھ لفظ (هوى) کے معنی پر غور کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ پہلو سے دونوں ہاتھ کو الگ کرتے ہوئے زمین پر جانا تو آپ پر بغیر کسی غموض کے یہ واضح ہو جائے گا کہ ایسا عادۃً اسی وقت ممکن ہے جب کہ دونوں ہاتھ کو آدمی زمین پر لے جائے نہ کہ گھٹنوں کو اور اس میں وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ضعف پر ایک دوسری دلیل ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، ابن حزم اور ایک روایت میں احمد کا ہے، (ملاحظہ ہو: الاختیارات الفقہیہ للإمام الالبانی، ۹۰-۹۱)
البانی صاحب ''صفۃ صلاۃ النبی ﷺ'' میں دونوں ہاتھوں کو زمین پرسجدہ کے لیے آگے کرنے کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سجدہ میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے تھے، اور اس کے کرنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے۔ پہلی حدیث کی تخریج میں فرماتے ہیں کہ اس کی تخریج ابن خزیمہ، دارقطنی اور حاکم نے کی ہے، اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور اس کے خلاف وارد حدیث صحیح نہیں ہے، اس کے قائل مالک ہیں، اور احمد سے اسی طرح مروی ہے کما فی التحقیق لابن الجوزی، اور مروزی نے مسائل میں امام اوزاعی سے صحیح سند سے یہ روایت کی ہے کہ میں نے لوگوں کو اپنے ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے پایا ہے۔
اور دوسری حدیث جس میں دونوں ہاتھوں کو پہلے زمین پر رکھنے کا حکم ہے، اس کی تخریج میں لکھتے ہیں: ابو داود، تمام فی الفوائد، سنن النسائی صغریٰ و کبریٰ صحیح سند کے ساتھ، عبد الحق نے احکام کبریٰ میں اس کی تصحیح کی ہے اور کتاب التہجد میں کہا کہ یہ اس سے پہلی یعنی اس کی مخالف وائل والی حدیث کی سند سے زیادہ بہترہے، بلکہ وائل کی حدیث اس صحیح حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ سند کے اعتبارسے بھی ضعیف ہے، اوراس معنی کی جو حدیثیں ہیں، وہ بھی ضعیف ہیں جیسا کہ میں نے
سلسلۃ الا ٔحادیث الضعیفۃ (۹۲۹) اور ارواء الغلیل (۳۵۷) میں اس کی وضاحت کی ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جان لیں کہ اونٹ کی مخالفت کی صورت یہ ہے کہ سجدے میں جاتے وقت دونوں ہاتھوں کو زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھا جائے، کیونکہ سب سے پہلے اونٹ بیٹھتے وقت اپنے گھٹنے کو جو اس کے ہاتھوں (یعنی اس کے دونوں پیر) میں ہوتے ہیں، زمین پر رکھتا ہے، جیسا کہ لسان العرب وغیرہ میں آیا ہے، اور امام طحاوی نے ''مشکل الآثار'' اور ''شرح معانی الآثار'' میں ایسے ہی ذکر کیا ہے، اور ایسے ہی امام قاسم سرقسطی رحمہ اللہ کا قول ہے، چنانچہ انہوں نے ''غریب الحدیث'' میں صحیح سند کے ساتھ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کوئی شخص صلاۃ میں اڑیل اونٹ کی طرح قطعاً نہ بیٹھے، (امام سرقسطی کہتے ہیں کہ یہ سجدہ میں جانے کی صورت میں ہے) یعنی وہ اپنے آپ کو زمین پر اس طرح نہ پھینکے جس طرح اڑیل اونٹ بے اطمینانی سے بیٹھتا ہے، بلکہ اطمینان کے ساتھ نیچے جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے، پھر اس کے بعد اپنے گھٹنوں کو، اس سلسلے میں ایک مرفوع حدیث مروی ہے جس میں یہ تفصیل موجود ہے، پھر قاسم سرقسطی نے اوپر والی حدیث ذکر کی، ابن القیم کایہ کہنا عجیب ہے کہ یہ بات عقل سے دور ہے، اور اہل زبان کے یہاں غیر معروف بھی ہے۔ ہم نے جن مراجع کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے بہت سارے مراجع میں ان کی تردید ہے، جس کی طرف رجوع کیا جانا چاہئے، ہم نے اس مسئلہ کو شیخ حمود تویجری پر اپنے رد میں تفصیل سے بیان کیا ہے (ملاحظہ ہو: صفۃ الصلاۃ، ۱۴۰-۱۴۱)
883- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: «قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ»۔
* تخريج:خ/الأذان ۱۳۳ (۸۰۹)، ۱۳۴ (۸۱۰)، ۱۳۷ (۱۱۵)، ۱۳۸ (۸۱۶)، م/الصلاۃ ۴۴ (۴۹۰)، د/الصلاۃ ۱۵۵ (۸۸۹، ۸۹۰)، ت/الصلاۃ ۸۸ (۲۷۳)، ن/التطبیق ۴۰ (۱۰۹۴)، ۴۳ (۱۰۹۷)، ۴۵ (۱۰۹۹)، ۵۶ (۱۱۱۴)، ۵۸ (۱۱۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۱، ۲۲۲، ۲۵۵، ۲۷۰، ۲۷۹، ۲۸۰، ۲۸۵، ۲۸۶، ۲۹۰، ۳۰۵، ۳۲۴)، دي/الصلاۃ ۷۳ (۱۳۵۷) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۱۰۴۰) (صحیح)
۸۸۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے''۔
884- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَلا أَكُفَّ شَعَرًا وَلا ثَوْبًا>، قَالَ ابْنُ طاوُسٍ: فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، وَكَانَ يَعُدُّ الْجَبْهَةَ وَالأَنْفَ وَاحِدًا۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۳۴ (۸۱۲)، م/الصلاۃ ۴۴ (۴۹۰)، ن/التطبیق ۴۳ (۱۰۹۷)، ۴۵ (۱۰۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۲، ۲۹۲، ۳۰۵) (صحیح)
۸۸۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات (اعضاء) پر سجدہ کروں، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں''۔
ابن طاوس کہتے ہیں کہ (وہ سات اعضاء یہ ہیں): دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے۔
885- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ: وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۴ (۴۹۰)، د/الصلاۃ ۱۵۵ (۸۹۱)، ت/الصلاۃ ۸۸ (۲۷۲)، ن/التطبیق ۴۱ (۱۰۹۵)، ۴۶ (۱۱۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۱ /۲۰۶، ۲۰۸، ۱۰۹۸) (صحیح)
۸۸۵- عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم''۔
886- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَأْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِمَّا يُجَافِي بِيَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، إِذَا سَجَدَ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۵۸ (۹۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۴۲، ۵/۳۱) (صحیح)
۸۸۶- صحابی رسول احمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ پہ رحم آتا تھا۱؎، جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلوؤں سے الگ رکھتے۔
وضاحت۱؎: کیونکہ الگ رکھنے کی وجہ سے آپ کو کافی مشقت اٹھانی پڑتی تھی۔