• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
37- بَابُ ذِكْرِ الشَّفَاعَةِ
۳۷-باب: شفاعت کا بیان​


4307- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي، فَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا "۔
* تخريج: م/الإیمان ۸۶ (۱۹۹)، ت/الدعوات ۱۳۱(۳۶۰۲)، (تحفۃ الأشراف:۱۲۵۱۲)، وقدأخرجہ: خ/الدعوات ۱ (۶۳۰۴)، حم (۲/۲۷۵)، ط/القرآن ۸ (۲۶)، دي/الرقاق ۸۵ (۲۸۴۷) (صحیح)
۴۳۰۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر نبی کی ( اپنی امت کے سلسلے میں) ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے، تو ہر نبی نے جلدی سے دنیا ہی میں اپنی دعا پوری کرلی، اور میں نے اپنی دعا کو چھپا کر اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑا ہے، تو میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرا ہو کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتارہا'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : یعنی عقیدئہ تو حید پر موت ہو، اگر شرک میں مبتلا رہ کر مرا تو نبی اکرم ﷺ کی شفاعت سے محروم رہے گا، دوسری روایت میں ہے کہ میری شفاعت میری امت میں سے ان لوگوں کے لئے ہوگی جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے ہیں ۔


4308- حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى وَأَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ الأَرْضُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلافَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلا فَخْرَ وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ "۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۱۸ (۳۱۴۸)، المناقب ۱ (۳۶۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲) (صحیح)
۴۳۰۸- ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں اولاد آدم کا سردار ہوں اوریہ فخریہ نہیں کہتا ، قیامت کے دن زمین سب سے پہلے میرے لئے پھٹے گی ،اور میں یہ فخر یہ نہیں کہتا، میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی، اور میں فخر یہ نہیں کہتا ،حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا ''۔


4309- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَلايَمُوتُونَ فِيهَا وَلا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمْ نَارٌ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَتْهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا أُذِنَ لَهُمْ فِي الشَّفَاعَةِ، فَجِيئَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ، فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَقِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ " قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ كَانَ فِي الْبَادِيَةِ۔
* تخريج: م/الإیمان ۸۲ (۱۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۵، ۱۱، ۲۰، ۷۸)، دي/الرقاق ۹۶ (۲۸۵۹) (صحیح)
۴۳۰۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جہنم والے جن کا ٹھکانا جہنم ہی ہے، وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم کی آگ پکڑلے گی، اور ان کو مار ڈالے گی یہاں تک کہ جب وہ کو ئلہ ہوجائیں گے، تو ان کی شفاعت کا حکم ہوگا،پھروہ گروہ در گروہ لائے جائیں گے اورجنت کی نہروں پرپھیلائے جائیں گے، کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی ڈالو تو وہ نالی میں دانے کے اگنے کی طرح اگیں گے''، راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا :گویا رسو ل اللہ ﷺ بادیہ (دیہات) میں بھی رہ چکے ہیں ۔


4310- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " إِنَّ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي "۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۱۱ (۲۴۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۰۸) (صحیح)
۴۳۱۰- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' میری شفاعت قیامت کے دن میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہوگی ''۔


4311- حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ، لأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى، أَتُرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ؟ لا. وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ،الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۲) (ضعیف)
(سند میں اضطراب کی وجہ سے یہ سیاق ضعیف ہے، اول حدیث '' خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ '' دوسرے طریق سے صحیح ہے لیکن ''لأَنَّهَا أَعَمُّ الخ'' ضعیف ہے ، ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۳۵۸۵ و السنۃ لابن أبی عاصم : ۸۹۱)
۴۳۱۱- ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیوں کہ وہ عام ہوگی اور کافی ہوگی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لئے ہے ؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہ گارو ں کے لئے ہے جو غلطی کرنے والے اورگنا ہوں سے آلودہ ہوں گے'' ۔


4312- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلْهَمُونَ ـأَوْ يَهُمُّونَ، شَكَّ سَعِيدٌـ فَيَقُولُونَ: لَوْ تَشَفَّعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا! فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ أَبُو النَّاسِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلائِكَتَهُ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ يُرِحْنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ ( وَيَذْكُرُ وَيَشْكُو إِلَيْهِمْ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ) وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ (وَيَذْكُرُ سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ، وَيَسْتَحْيِي مِنْ ذَلِكَ) وَلَكِنِ ائْتُوا خَلِيلَ الرَّحْمَنِ إِبْرَاهِيمَ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ (وَيَذْكُرُ قَتْلَهُ النَّفْسَ بِغَيْرِ النَّفْسِ) وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى، عَبْدَاللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ، فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا، عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: فَيَأْتُونِي فَأَنْطَلِقُ،( قَالَ: فَذَكَرَ هَذَا الْحَرْفَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: فَأَمْشِي بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ) قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ، قَالَ: " فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي، فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ يَا مُحَمَّدُ! وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّانِيَةَ فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ لِي: ارْفَعْ مُحَمَّدُ! قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ! قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا بَقِيَ إِلا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ "، قَالَ: يَقُولُ قَتَادَةُ عَلَى أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ: وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ".
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۱ (۴۴۷۶)، م/الإیمان ۸۴ (۱۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۱، ۱۱۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۶، ۲۴۴) (صحیح)
۴۳۱۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا،یاوہ سوچنے لگیں گے، ( یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے)، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حا لت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں،سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا ،تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے، آپ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں - آپ اپنے کئے ہو ئے گناہ کو یاد کر کے اس کا شکوہ ان لوگوں کے سامنے کریں گے، اور اس بات سے شرمند ہ ہوں گے، پھر فرمائیں گے: لیکن تم سب نوح کے پاس جائو اس لئے کہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالی نے اہل زمین کے پاس بھیجا ،وہ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو آپ ان سے کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اللہ کے حضور جائوں ، اور آپ اپنے اس سوال کو یاد کر کے شرمند ہ ہو ں گے جو آپ نے اپنے رب سے اس چیز کے بارے میں کیا تھا جس کا آپ کو علم نہیں تھا - پھر کہیں گے کہ لیکن تم سب ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جائو ، وہ سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، تو آپ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں ،لیکن تم سب موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائو، وہ ایسے بندے ہیں جن سے اللہ تعالی نے گفتگو کی، اور ان کو تورات عطا کی، وہ سب ان کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ( وہ اپنا وہ قتل یاد کریں گے جو ان سے بغیر کسی خون کے مقابل ہو گیا تھا) ، لیکن تم سب عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائو ،جو اللہ کے بندے ،اس کے رسول ،اور اس کا کلمہ وروح ہیں ، وہ سب ان کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ،لیکن تم سب محمد ﷺ کے پاس جائو، جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو اللہ تعالی نے معاف کردیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: '' پھر وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چلوں گا ( حسن کی روایت کے مطابق مومنوں کی دونوں صفوں کے درمیان چلوں گا ) میں اپنے رب سے اجازت مانگوںگا، تو مجھے اجازت دے دی جائے گی ، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑو ں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوںگا جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہوگا: اے محمد ! سر اٹھائو، اور کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اس کی حمد بیان کروں گا جس طرح وہ مجھے سکھائے گا ، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لئے حد مقرر کردی جائے گی، اللہ تعالی ان سب کو جنت میں داخل کردے گا، پھر میں دو بارہ لوٹوں گا ، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا ،پھر مجھ سے کہا جائے گا :اے محمد! سر اٹھائو، تم کہو ، تمہاری بات سنی جائے گی ، مانگو دیا جائے گا ، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہوگی ، میں اپنا سر اٹھا ئوں گا، اس کی تعریف کروں گا، جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لئے حد مقرر کردی جائے گی، اور وہ ان کو جنت میں داخل کر دے گا،پھر میں تیسری بار لوٹوں گا ، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑ وں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہوگا کہ اے محمد! سر اٹھا ئو، کہو تمہاری بات سنی جائے گی ، مانگو تمہیں دیا جائے گا ،اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہوگی ، میں اپنا سر اٹھائوں گا ، اس کے سکھا ئے ہوئے طریقے سے اس کی حمد کروں گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لئے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، پھر ان کو اللہ تعالی جنت میں داخل کردے گا، پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا ،اور کہوں گا: اے میرے رب! اب تو کوئی باقی نہیں ہے، سوائے اس کے جس کو قرآن نے روکا ہے یعنی جو قرآن کی تعلیمات کی رو سے جہنم کے لائق ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جہنم سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے''لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ '' کہا، اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہوگی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے ''لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ '' کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دا نہ برا بر نیکی ہوگی ، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے ''لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ '' کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہوگی '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : غرض اللہ تعالی کے فضل سے اور رسول اکرم ﷺ کی شفاعت سے بڑی امید ہے کہ کوئی موحد بھی جس کے دل میں رتی برابر ایمان ہو ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا۔


4313- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَلَّاقِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاثَةٌ: الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْعُلَمَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۸۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۳) (موضوع)
(سند میں عنبسہ وضع حدیث میں متہم ہے، اور علاق مجہول ، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۱۹۷۸)
۴۳۱۳- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کرسکیں گے : انبیاء ، علماء پھر شہداء '' ۔


4314- حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ، غَيْرَ فَخْرٍ "۔
* تخريج: ت/المناقب ۱ (۳۶۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۳۷، ۱۳۸) (حسن)
۴۳۱۴- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب قیامت کا دن ہوگا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب مقرر ہوں گا، اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں '' ۔


4315- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي رَجَائٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي، يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ "۔
* تخريج: خ/الرقاق ۵۱ (۶۵۶۶)، د/السنۃ ۲۳ (۴۷۴۰)، ت/صفۃ جہنم ۱۰(۲۶۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۳۴) (صحیح)
۴۳۱۵- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا ،ان کا نام جہنمی ہوگا ''۔


4316- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: "لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ، بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي، أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! سِوَاكَ ؟ قَالَ: " سِوَايَ " قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ۔
* تخريج: ت/صفۃ القیامۃ ۱۲ (۲۴۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۶۹، ۴۷۰، ۵/۳۶۶) دي/الرقاق ۸۷ (۲۸۵۰) (صحیح)
۴۳۱۶- عبداللہ بن ابی الجدعاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرما تے ہوئے سنا: '' میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کے نتیجہ میں بنو تمیم سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہو ں گے ، لوگوں نے کہا :اللہ کے رسول ! آپ کے علاوہ ( یعنی وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا : '' ہاں''، میرے علاوہ، ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی الجد عاء رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بات آپ نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے آپ ہی سے سنی ہے۔


4317- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَتَدْرُونَ مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ؟ " قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ،وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ: " هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۰۹)، وقد أخرجہ: ت/صفۃ القیامۃ ۱۳ (۲۴۴۱) (صحیح)
۴۳۱۷- عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' کیا تم جانتے ہوکہ آج رات میرے رب نے مجھے کس بات کا اختیار دیا ہے''؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، فرمایا: ''اللہ تعالی نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا''،ہم نے کہا: اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ شفاعت ہر مسلما ن کو شامل ہے ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
38- بَاب صِفَةِ النَّارِ
۳۸-باب: جہنم کے احوال وصفات کا بیان​


4318- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَيَعْلَى قَالا: حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْئًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَلَوْلا أَنَّهَا أُطْفِئَتْ بِالْمَاءِ مَرَّتَيْنِ، مَا انْتَفَعْتُمْ بِهَا، وَإِنَّهَا لَتَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لا يُعِيدَهَا فِيهَا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۴) (ضعیف جدا)
(سند میں نفیع ابوداود متروک راوی ہے، لیکن صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث ثابت ہے،آخری ٹکڑا '' وَإِنَّهَا لَتَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لا يُعِيدَهَا فِيهَا '' ثابت نہیں ہے)
۴۳۱۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ر سول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور اگر یہ دو مرتبہ پانی سے نہ بجھا ئی جاتی تو تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے، اور یہ آگ اللہ تعالی سے دعاکرتی ہے کہ دو بارہ اس کو جہنم میں نہ ڈالا جائے''۔


4319- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَارَبِّ! أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ: نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ، فَشِدَّةُ مَاتَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ، مِنْ زَمْهَرِيرِهَا، وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، مِنْ سَمُومِهَا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۱۶)، وقد أخرجہ: خ/المواقیت ۹ (۵۳۶)، م/المساجد ۳۲ (۶۱۵)، د/الصلاۃ ۴ (۴۰۲)، ت/الصلاۃ ۷ (۱۵۷)، ن/المواقیت ۴ (۵۰۱)، ط/وقوت الصلاۃ ۷ (۲۹)، حم (۲/۲۲۹، ۲۳۸، ۲۵۶، ۲۶۶، ۲۴۸، ۳۷۷، ۳۹۳، ۴۰۰، ۴۱۱، ۴۶۲)، دي/الصلاۃ ۱۴ (۱۲۴۳)، الرقاق ۱۱۹ (۲۸۸۸) (صحیح)
۴۳۱۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصہ نے بعض حصے کو کھالیا ہے، تو اللہ تعالی نے اس کو دو سانسیں عطا کیں: ایک سانس سردی میں، دوسری گرمی میں ، تو سردی کی جو شدت تم پاتے ہو وہ اسی کی سخت سردی کی وجہ سے ہے، اور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو یہ اس کی گرم ہوا سے ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اہل حدیث نے اس حدیث کو اپنے ظاہری معنی پر رکھا اور کہا کہ جہنم پیدا ہوچکی ہے ، اہل سنت کے نزدیک اور کوئی مانع نہیں اس سے کہ اس میں نفس اور عقل ہو اور دوسرے لوگوں نے اس کی تاویل کی ہے کہ یہ بطور تشبیہ کے ہے۔


4320- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: " أُوقِدَتِ النَّارُ أَلْفَ سَنَةٍ فَابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاحْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاسْوَدَّتْ، فَهِيَ سَوْدَاءُ كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ "۔
* تخريج: ت/صفۃ جہنم (۲۵۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۰۷) (ضعیف)
( سند میں شریک ضعیف راوی ہیں)
۴۳۲۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جہنم ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو اس کی آگ سفید ہو گئی ، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی ، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تووہ سیا ہ ہو گئی ، اب وہ تاریک رات کی طرح سیاہ ہے'' ۔


4321- حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنَ الْكُفَّارِ، فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً، فَيُغْمَسُ فِيهَا، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: أَيْ فُلانُ! هَلْ أَصَابَكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لا مَا أَصَابَنِي نَعِيمٌ قَطُّ، وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلائً، فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ، فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً، فَيُقَالُ لَهُ: أَيْ فُلانُ! هَلْ أَصَابَكَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلائٌ؟ فَيَقُولُ: مَا أَصَابَنِي قَطُّ ضُرٌّ وَلا بَلائٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۱) (صحیح)
۴۳۲۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' قیامت کے دن کافروں میں سے وہ شخص لایا جائے گا ، جس نے دنیا میں بہت عیش کیا ہو گا، اور کہا جائے گا:اس کو جہنم میں ایک غوطہ دو، اس کو ایک غوطہ جہنم میں دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے فلاں ! کیا تم نے کبھی راحت بھی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا:نہیں، میں نے کبھی کو ئی راحت نہیں دیکھی اور مومنوں میں سے ایک ایسے مومن کو لایا جائے گا، جو سخت تکلیف اور مصیبت میں رہا ہوگا،اس کو جنت کا ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی دیکھی ؟ وہ کہے گا: مجھے کبھی بھی کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچی ''۔


4322- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ الْكَافِرَ لَيَعْظُمُ حَتَّى إِنَّ ضِرْسَهُ لأَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ، وَفَضِيلَةُ جَسَدِهِ عَلَى ضِرْسِهِ، كَفَضِيلَةِ جَسَدِ أَحَدِكُمْ عَلَى ضِرْسِهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۴۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۵) (ضعیف)
(عطیہ العوفی اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن پہلا ٹکڑا ثابت ہے، '' وَفَضِيلَةُ جَسَدِهِ '' الخ ثابت نہیں ہے)
۴۳۲۲- ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہوگا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہو جائے گا ، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہو گا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہو تا ہے'' ۔


4323- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا الْحَارِثُ بْنُ أُقَيْشٍ، فَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ لَيْلَتَئِذٍ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا "۔
* تخريج: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۷۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۱۲) (ضعیف)
(سند میں عبد اللہ بن قیس مجہول راوی ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا '' إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ'' صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۴۸۲۳ و الصحیحہ : ۲۱۷۸)
۴۳۲۳- عبد اللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں ایک رات ابو بر دہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، تو ہمارے پاس حارث بن اُقیش رضی اللہ عنہ آئے ، اس رات حارث نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' میری امت میں ایسا شخص بھی ہو گا جس کی شفاعت سے مضرقبیلے سے زیادہ لو گ جنت میں جائیں گے، اور میری امت میں سے ایسا شخص ہو گا جوجہنم کے لئے اتنا بڑا ہو جائے گا کہ وہ جہنم کا ایک کو نہ ہو جائے گا ''۔


4324- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَالرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يُرْسَلُ الْبُكَاءُ عَلَى أَهْلِ النَّارِ، فَيَبْكُونَ حَتَّى يَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ، ثُمَّ يَبْكُونَ الدَّمَ حَتَّى يَصِيرَ فِي وُجُوهِهِمْ كَهَيْئَةِ الأُخْدُودِ، لَوْأُرْسِلَتْ فِيهَا السُّفُنُ لَجَرَتْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۷) (ضعیف)
(سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن مختصرا یہ حدیث مستدرک الحاکم میں عبد اللہ بن قیس سے ثابت ہے، '' ثُمَّ يَبْكُونَ حَتَّى يَصِيرَ فِي وُجُوهِهِمْ كَهَيْئَةِ الأُخْدُودِ'' (۴/۶۰۵) کالفظ ثابت نہیں ہے)
۴۳۲۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' جہنمیوں پر رونا آزاد چھوڑ دیا جائے گا ،وہ روئیں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے ، پھر وہ خون روئیں گے یہاں تک کہ ان کے چہروں پر گڑھے بن جائیں گے، اگر ان میں کشتیاں چھو ڑ دی جائیں تو وہ تیرنے لگیں'' ۔


4325- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاتَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} " وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قَطَرَتْ فِي الأَرْضِ لأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ ؟ "۔
* تخريج: ت/صفۃ جہنم ۴ (۲۵۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۰۱، ۳۳۸) (ضعیف)
(سلیمان الأعمش مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۷۸۲ وضعیف الترغیب و الترھیب: ۲۱۵۹)
۴۳۲۵- عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاتَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ }(آل عمران: ۱۰۲) (اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ) تلا وت کی اور فرمایا: '' زقوم (تھوہڑ) کا ایک قطرہ (جہنمیوں کی خوراک ) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والو ں کی زندگی تباہ کر دے ، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا'' ۔


4326- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلا أَثَرَ السُّجُودِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۱۵)، وقد أخرجہ:خ/الأذان ۱۲۹ (۸۰۶)، الرقاق ۵۲ (۶۵۷۳)، التوحید ۲۶ (۷۴۳۷)، م/الإیمان ۸۱ (۱۸۲)، حم (۲/۲۷۶، ۲۹۳، ۵۳۴، ۳/۹۴) (صحیح)
۴۳۲۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ''جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالی نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے '' ۔


4327- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمِ الَّذِي هُمْ فِيهِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ فَرِحِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمِ الَّذِي هُمْ فِيهِ، فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلاهُمَا: خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ، لا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۰۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۸)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۵۰ (۶۵۴۵)، حم (۲/۲۶۱، ۳۷۷، ۵۱۳)، دي/الرقاق ۹۰ (۲۸۵۳) (حسن صحیح)
۴۳۲۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، اور پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا :اے جنت والو ! تو وہ خوف زدہ اور ڈرے ہوئے اوپر چڑھیں گے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے ، پھر پکارا جائے گا: اے جہنم والو ! تووہ خوش خوش اوپر آئیں گے کہ وہ اپنے مقام سے نکالے جارہے ہیں ، پھر کہا جائے گا: کیا تم اس کو جانتے ہو ؟ وہ کہیں گے: ہاں،یہ مو ت ہے ،فرمایا: پھر حکم ہوگا تو وہ پل صراط پر ذبح کر دی جائے گی ، پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا: اب دونوں گروہ اپنے اپنے مقام میں ہمیشہ رہیں گے، اور موت کبھی نہیں آئے گی ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
39-بَاب صِفَةِ الْجَنَّةِ
۳۹-باب: جنت کے احوال وصفات کا بیان​


4328- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " قَالَ أَبُوهُرَيْرَةَ: وَمِنْ بَلْهَ مَا قَدْ أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ، اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ ( فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَائً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) قَالَ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْرَؤُهَا: مِنْ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ ۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۸ (۳۲۴۴)، م/الجنۃ (۲۸۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۰۹)، وقد أخرجہ: ت/تفسیر القرآن ۳۳ (۳۱۹۷) (صحیح)
۴۳۲۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' اللہ عز و جل فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ نعمت تیا ر کررکھی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی آدمی کے دل میں اس کا خیال آیا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو تم کو اللہ تعالی نے بتائی ہیں اور بھی نعمتیں ہیں، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: {فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَائً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} (سورۃ السجدۃ: ۱۷) (کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے ، یہ بدلہ ہے اس کے نیک اعمال کا)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو ''قُرَّاتِ أَعْيُنٍ '' (یعنی جمع کا صیغہ) پڑھتے تھے۔


4329- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " لَشِبْرٌ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الأَرْضِ وَمَا عَلَيْهَا (الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ) "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۹۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۴۹) (ضعیف)
(سندمیں حجاج اور عطیہ العوفی ضعیف ہیں)
۴۳۲۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : '' جنت میں ایک با لشت کی جگہ زمین یا زمین پر موجود تمام چیزوں میں یعنی دنیا ومافیہا سے بہتر ہے ''۔


4330- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُوحَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ،خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۴۶۷۴، ومصباح الزجاجۃ:۱۵۵۰)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۷۳ (۲۸۹۲)، بدء الخلق ۸ (۳۲۵۰)، ت/فضائل الجہاد ۱۷ (۱۶۴۸) (صحیح)
(سند میں زکریا ضعیف ہیں لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کما فی التخریج )
۴۳۳۰- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :'' جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے''۔


4331- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ: قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ، كُلُّ دَرَجَةٍ مِنْهَا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَإِنَّ أَعْلاهَا الْفِرْدَوْسُ، وَإِنَّ أَوْسَطَهَا الْفِرْدَوْسُ، وَإِنَّ الْعَرْشَ عَلَى الْفِرْدَوْسِ، مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، فَإِذَا مَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۵۰ )، وقد أخرجہ: ت/صفۃ الجنۃ ۴ (۲۵۳۰)، حم (۵/۲۳۲، ۲۴۰) (صحیح)
۴۳۳۱- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا:'' جنت کے سو درجے ہیں ، ہر درجے کا فاصلہ زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر ہے، اور اس کا سب سے اونچا درجہ فردوس ہے ،اور سب سے عمدہ بھی فردوس ہے اور عرش بھی فردوس پر ہے، اسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ، تو جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو فردوس مانگو''۔


4332- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ذَاتَ يَوْمٍ لأَصْحَابِهِ: " أَلا مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ؟ فَإِنَّ الْجَنَّةَ لا خَطَرَ لَهَا، هِيَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! نُورٌ يَتَلأْلأُ، وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ، وَقَصْرٌ مَشِيدٌ، وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ، وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ نَضِيجَةٌ، وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ، وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ، فِي مَقَامٍ أَبَدًا، فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ، فِي دُورٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ " قَالُوا: نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " قُولُوا: إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۵۱) (ضعیف)
(سند میں ضحاک معافری لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں)
۴۳۳۲- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا : '' کیا کوئی جنت کے لئے کمر نہیں باندھتا ؟ اس لئے کہ جنت جیسی کو ئی اور چیز نہیں ہے ، رب کعبہ کی قسم، وہ چمکتا ہو ا نور ہے ، خوشبو دار پھول ہے جو جھوم رہا ہے ، مضبوط محل ہے، بہتی نہر ہے ، وہا ں بہت سارے پکے ہو ئے میوے اور تیار پھل ہیں ، خوب صورت اور خوش اخلاق بیویاںہیں، کپڑوں کے بہت سارے جوڑے ہیں ، ہمیشگی کا مقام ہے ، جہاں سدا بہار اور تازگی ہے ، اونچا ، محفوظ اورروشن محل ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم اس کے لئے کمر باندھتے ہیں ،توآپ نے فرمایا: '' کہو، ان شاء اللہ، پھر جہاد کا ذکر کیا، اور اس کی رغبت دلائی '' ۔


4333- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى ضَوْءِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَائَةً، لا يَبُولُونَ وَلا يَتَغَوَّطُونَ وَلا يَمْتَخِطُونَ وَلا يَتْفُلُونَ، أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ،أَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ، أَخْلاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ،سِتُّونَ ذِرَاعًا ".
* تخريج: خ/بدء الخلق ۸ (۳۳۲۷)، م/الجنۃ وصفۃ نعیمہا ۶ (۲۸۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۰۳)، وقد أخرجہ: ت/صفۃ الجنۃ ۷ (۲۵۳۷) (صحیح)
۴۳۳۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگی ، پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے آسمان میں سب سے زیادہ روشن تارے کی طرح چمکتے ہوں گے، نہ وہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ ، نہ وہ ناک صاف کریں گے نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہو ں گی اور پسینہ مشک کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی، ان کی بیو یا ں بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی ، سارے جنتیوں کی عادت ایک شخص جیسی ہو گی، سب اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ہوں گے، ساٹھ ہا تھ کے لمبے ''۔


4333/أ- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ۔
* تخريج: م/الجنۃ وصفۃ نعیمہا ۶ (۲۸۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۱، ۲۵۳) (صحیح)
۴۳۳۳/أ- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے عمارہ کی حدیث کے مثل مر وی ہے۔


4334- حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ؛ قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، مَجْرَاهُ عَلَى الْيَاقُوتِ وَالدُّرِّ، تُرْبَتُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَمَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ "۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۸۹ (۳۳۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۱۲) (صحیح)
۴۳۳۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' کوثر جنت میں ایک نہر ہے ، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں ،اور اس کی پانی بہنے کی نالی یا قوت و مو تی پر ہوگی، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفیدہے ۔


4335- حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ،لا يَقْطَعُهَا " وَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۳۶)، وقد أخرجہ: خ/تفسیر القرآن ۵۶ (۴۸۸۱)، م/الجنۃ ۱ (۲۸۲۶)، ت/صفۃ الجنۃ ۱ (۲۵۲۳)، دي/الرقاق ۱۱۴ (۲۸۸۰) (صحیح)
۴۳۳۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' جنت میں ایک درخت ہے، اس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہو گا، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} (سورة الواقعة: 3) (جنت میں دراز اور لمبا سایہ ہے) ''۔


4336- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، قَالَ سَعِيدٌ: أَوَ فِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِذَا دَخَلُوهَا، نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، فَيَزُورُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ، وَيَتَبَدَّى لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، فَتُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ،وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ،وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ،(وَمَا فِيهِمْ دَنِيئٌ) عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ، مَا يُرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا، قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ : قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ: " نَعَمْ، هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ " قُلْنَا: لا، قَالَ: "كَذَلِكَ، لا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، وَلا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ أَحَدٌ إِلا حَاضَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُحَاضَرَةً، حَتَّى إِنَّهُ يَقُولُ لِلرَّجُلِ مِنْكُمْ: أَلا تَذْكُرُ، يَا فُلانُ! يَوْمَ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ (يُذَكِّرُهُ بَعْضَ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا) فَيَقُولُ: يَا رَبِّ ! أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ،غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ،ثُمَّ يَقُولُ: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ، فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، (قَالَ) فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حُفَّتْ بِهِ الْمَلائِكَةُ، فِيهِ مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ، وَلَمْ تَسْمَعِ الآذَانُ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، (قَالَ) فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا، لَيْسَ يُبَاعُ فِيهِ شَيْئٌ وَلا يُشْتَرَى، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ،فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ (وَمَا فِيهِمْ دَنِيئٌ) فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَمَثَّلَ لَهُ عَلَيْهِ أَحْسَنُ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا "، قَالَ: " ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، فَتَلْقَانَا أَزْوَاجُنَا،فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلا، لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ وَالطِّيبِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، فَنَقُولُ إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا "۔
* تخريج: ت/صفۃ الجنۃ ۱۵ (۲۵۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۹۱) (ضعیف)
(سندمیں عبد الحمید ضعیف ہیں ، ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۱۷۲۲)
۴۳۳۶- سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہوں نے کہا:میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں ملادے، سعید بن مسیب نے کہا: کیا وہاں بازار بھی ہو گا؟ فرمایا: ہاں، مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے کہ '' اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے توان کے مراتب اعمال کے مطابق ان کو جگہ ملے گی،پھر ان کو دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر اجازت دی جائے گی، وہ اللہ عز و جل کی زیا رت کریں گے ، اللہ تعالی ان کے لئے اپنا عرش ظاہر کرے گا، اور ان کے سامنے جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں جلوہ افروز ہوگا،ان کے لئے منبر رکھے جائیں گے، نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر ، زبر جد کے منبر، سونے اور چاندی کے منبراور ان میں سے کم تر درجے والا (حالانکہ ان میں کم تر کوئی نہ ہوگا) مشک و کا فور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا ، اور ان کو یہ خیال نہ ہو گا کہ کرسیوں والے ان سے زیادہ اچھی جگہ بیٹھے ہیں''۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ فرمایا : ''ہا ں،کیا تم سورج اور چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں جھگڑتے ہو''؟ ہم نے کہا: نہیں ، فرمایا: '' اسی طرح تم اپنے رب عزو جل کو دیکھنے میں جھگڑا نہیں کروگے اور اس مجلس میں کوئی شخص نہیں بچے گا مگر اللہ تعالی ہر شخص سے گفتگو کرے گا، یہاں تک کہ وہ ان میں سے ایک شخص سے کہے گا: اے فلا ں !کیا تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے ایسا ایسا کیا تھا ؟(اس کو دنیا کی بعض غلطیاں یاد دلائے گا) تو وہ کہے گا: اے میرے رب! کیاتم نے مجھے معاف نہیں کیا ؟ اللہ تعالی فرمائے گا: کیوں نہیں، میری وسیع مغفرت ہی کی وجہ سے تو اس درجے کو پہنچاہے ، وہ سب اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کو اوپر سے ایک بادل ڈھانپ لے گا ،اور ایسی خو شبو برسا ئے گا جو انہوں نے کبھی نہ سونگھی ہوگی، پھر فرمائے گا: اب اٹھو اور جو کچھ تمہاری مہمان نوازی کے لئے میں نے تیار کیا ہے اس میں سے جو چا ہو لے لو، فرمایا: پھرہم ایک بازار میں آئیں گے جس کو فرشتوں نے گھیر رکھا ہوگا، اس میں وہ چیزیں ہوں گی جن کے مثل نہ آنکھوں نے دیکھا ، نہ کانوں نے سنا، اور نہ دلوں نے سوچا، (فرمایا) ہم جو چاہیں گے ہمارے لئے پیش کر دیا جائے گا، اس میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہ ہوگی ، اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملیں گے، ایک اونچے مرتبے والا شخص آگے بڑھے گا اور اپنے سے نیچے درجے والے سے ملے گا ( حالانکہ ان میں کوئی کم درجے کا نہ ہو گا) وہ اس کے لباس کو دیکھ کر مر عوب ہو گا، لیکن یہ دوسرا شخص اپنی گفتگو پوری نہ کر پائے گا کہ اس پر اس سے بہتر لباس آجائے گا ، ایسا اس لئے ہے کہ جنت میں کسی کو کسی چیز کا غم نہ رہے''۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر ہم اپنے گھروں کو لوٹیں گے ، تو ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی، اورخوش آمدید کہیںگی، اور کہیں گی کہ تم آگئے اور تمہاری خوب صورتی اور خوشبو اس سے کہیں عمدہ ہے جس میں تم ہمیں چھوڑ کر گئے تھے ، تو ہم کہیں گے: آج ہم اپنے رب کے پاس بیٹھے، اور یہ ضروری تھا کہ ہم اسی حال میں لوٹتے۔


4337- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: وَسَلَّمَ " مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ،إِلا زَوَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً: ثِنْتَيْنِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَسَبْعِينَ مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، مَا مِنْهُنَّ وَاحِدَةٌ إِلا وَلَهَا قُبُلٌ شَهِيٌّ، وَلَهُ ذَكَرٌ لا يَنْثَنِي " قَالَ هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ: مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَعْنِي: رِجَالا دَخَلُوا النَّارَ، فَوَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ نِسَائَهُمْ،كَمَا وُرِثَتِ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۵۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۵۲) (ضعیف جدا)
(سند میں خالد بن یزید ضعیف ہیں)
۴۳۳۷- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالی بہتر (۷۲) بیویوں سے اس کی شادی کردے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستّر(۷۰) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوںگی، ان میں سے ہر ایک کی شرم گاہ خوب شہوت والی ہوگی ،اوراس کا ذکر ایسا ہوگا جس میں کبھی کجی نہیں ہوگی''،ہشام بن خالد نے کہا : اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔


4338- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ، كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ، كَمَا يَشْتَهِي "۔
* تخريج: ت/صفۃ الجنۃ ۲۳ (۲۵۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۸۰۰۹)، دي/الرقاق ۱۱۰ (۲۸۷۶) (صحیح)
۴۳۳۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا، تو حمل اوروضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہو جائے گا '' ۔


4339- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنِّي لأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، دُخُولا الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَيُقَالُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ،فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! وَجَدْتُهَا مَلأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: سُبْحَانَهُ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! إِنَّهَا مَلأَى،فَيَقُولُ اللَّهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا،(أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا) فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي (أَوْ أَتَضْحَكُ بِي) وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟" قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَكَانَ يُقَالُ: هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلا۔
* تخريج: خ/الرقاق ۵۱ (۶۵۷۱)، التوحید ۳۶ (۷۵۱۱)، م/الإیمان ۸۳ (۱۸۶)، ت/صفۃ جھنم ۱۰ (۲۵۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۰، ۳۷۶، ۳۷۸، ۴۶۰) (صحیح)
۴۳۳۹- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں جانتا ہوں اس کو جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا، وہ شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا ، اس سے کہا جائے گا : جاؤاور جنت میں داخل ہو جاؤ وہ جنت تک آئے گا تو اس کو لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے، وہ لوٹ جائے گا اس پر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو بھری ہوئی پایا ،اللہ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت تک آئے گا تو اس کو بھری ہوئی سمجھ کر پھر واپس چلا جائے گا ، لوٹ کر کہے گا: اے میرے رب! وہ تو بھری ہوئی ہے ، اللہ تعالی فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جا ؤ،تمہارے لئے دنیا اور اس کے مثل دس دنیائوں کی جگہ (جنت میں ) ہے، وہ کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟، یہ حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اتنا ہنسے کہ آپ کے اخیر کے دانت ظاہر ہو گئے، (یعنی کھل کھلا کر ہنس پڑے) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص جنتیوں میں سب سے کم درجے والا ہوگا۔


4340- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ سَأَلَ الْجَنَّةَ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ! أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ! أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ "۔
* تخريج: ت/صفۃ الجنۃ ۲۷ (۲۵۷۲)،ن/ الاستعاذۃ ۵۵ (۵۵۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۳) (صحیح)
۴۳۴۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' جس نے تین بار جنت مانگی تو جنت نے کہا : اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما، اور جس نے تین بار جہنم سے پنا ہ ما نگی تو جہنم نے کہا: اے اللہ ! اس کو جہنم سے پناہ دے''۔


4341- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا لَهُ مَنْزِلانِ: مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ، فَإِذَا مَاتَ، فَدَخَلَ النَّارَ، وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ }"۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۴۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۵۳) (صحیح)
۴۳۴۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :'' تم میں سے ہر ایک کے دو ٹھکانے ہیں: ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک ٹھکاناجہنم میں، جب وہ مرتا ہے اور جہنم میں چلا جاتا ہے تو جنت والے اس کے حصے کو لاوارث سمجھ کر لے لیتے ہیں، اللہ تعالی کے قول: {أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ}[سورة المومنون:1](یہی لو گ وارث ہوں گے) کایہی مطلب ہے۔


* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
الحمدللہ​
سنن ابن ماجہ اردو ترجمہ کے ساتھ مکمل ہوئی۔ محمد آصف مغل بھائی کو اللہ تعالی جزائے خیر دے جنہوں نے اس کی یونیکوڈ فائلز مہیا کیں۔ آمین۔
کسی بھائی یا بہن کو اس میں کوئی غلطی نظر آئے تو برائے مہربانی مطلع کریں تاکہ تصحیح کی جاسکے۔
محدث فورم کے مالکان و انتظامیہ کو اللہ تعالی بہترین جزاء دے۔ آمین یا رب العالمین۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,405
ری ایکشن اسکور
26,350
پوائنٹ
995
الحمدللہ​
سنن ابن ماجہ اردو ترجمہ کے ساتھ مکمل ہوئی۔ محمد آصف مغل بھائی کو اللہ تعالی جزائے خیر دے جنہوں نے اس کی یونیکوڈ فائلز مہیا کیں۔ آمین۔
کسی بھائی یا بہن کو اس میں کوئی غلطی نظر آئے تو برائے مہربانی مطلع کریں تاکہ تصحیح کی جاسکے۔
محدث فورم کے مالکان و انتظامیہ کو اللہ تعالی بہترین جزاء دے۔ آمین یا رب العالمین۔
جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
 

قاری مصطفی راسخ

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 07، 2012
پیغامات
664
ری ایکشن اسکور
738
پوائنٹ
301
الحمدللہ​
سنن ابن ماجہ اردو ترجمہ کے ساتھ مکمل ہوئی۔ محمد آصف مغل بھائی کو اللہ تعالی جزائے خیر دے جنہوں نے اس کی یونیکوڈ فائلز مہیا کیں۔ آمین۔
کسی بھائی یا بہن کو اس میں کوئی غلطی نظر آئے تو برائے مہربانی مطلع کریں تاکہ تصحیح کی جاسکے۔
محدث فورم کے مالکان و انتظامیہ کو اللہ تعالی بہترین جزاء دے۔ آمین یا رب العالمین۔
ماشاء اللہ آپ حضرات نے بڑا مبارک کام انجام دیا ہے،اللہ اپنی بارگاہ میں اسے قبول فرماءے اور اس کو سب مسلمانوں کے لءے باعث نجات بناءے ۔آمین
 
شمولیت
نومبر 17، 2014
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
68
1198- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۰۹)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۴ (۶۲۶)، التہجد ۲۳ (۱۱۶۰)، ۲۴ (۱۱۶۱)، الدعوات ۵ (۶۳۱۰)، ت/الصلاۃ ۲۰۸ (۴۴۰)، ن/قیام اللیل ۴۹ (۱۷۶۳)، حم (۶/۳۴، ۳۵)، دي/الصلاۃ ۱۶۵ (۱۵۱۴) (حسن صحیح)
[/arb]۱۱۹۸- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : یہ ذرا آرام کرنے کے لئے ایک خفیف سا لیٹنا تھا، یہ آپ کا فعل ہے، جس کو دلیل بنا کر بعض اہل علم نے اس کو مسنون کہا ہے اور یہ واضح رہے کہ اس سلسلہ میں آپ سے قول ثابت نہیں ہے۔
 
شمولیت
نومبر 17، 2014
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
68
اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّهِ الْاَيْمَنِ
’جب تم میں سے ایک فجر کی دو رکعتیں پڑھے تو چاہیے کہ وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے
ترمذی
 

ابو حسن

رکن
شمولیت
اپریل 09، 2018
پیغامات
154
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
76
تمہارے لئے عود ہندی کا استعمال لازمی ہے کست کا اس لئے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے
یہ نہایت ہی عمدہ دوائی ہے ،دو برس ایک بیماری میں مبتلا رہا اور اس کے استعمال سے اللہ تعالی نے شفا عطاء فرمائی ،الحمدللہ
 
Top